وادی سندھ کا تہذیبی سفر
جب کوئی قوم کسی دوسری قوم پہ غلبہ حاصل کر لیتی ہے تو اکثر وہ اپنی ثقافت، زبان اور رسم و رواج کو مفتوحہ قوم پر مسلط کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ جس سے ایک نئی مگر زرخیز تہذیب وجود میں آتی ہے۔ یہی کچھ نارمن نے اینگلو سیکسون کی شکست کے بعد برطانیہ میں کیا تھا۔ اور یہی معاملہ وادی سندھ اور اس کے معاون دریاؤں کی قدیم تہذیب کے ساتھ پیش آیا جب آریاؤں نے قدیم دراوڑ قوم کو شکست دے کر وادی سندھ میں اپنا راج قائم کیا۔ آریا قوم کے لوگ وسطیٰ ایشیا سے تعلق رکھتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ نئی چراگاہوں کی تلاش میں جنوب مغربی ایشیا کے علاقوں کی طرف نکلے اور وادی سندھ میں پہنچے اور یہاں کے وسائل پر قابض ہو گئے۔ یہ جفاکش اور جنگجو مگر گھمنڈی لوگ تھے جن کو اپنی برتری پر بڑا ناز تھا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ اپنے آپ کو آریا کہتے تھے جس کا مطلب ”اونچی ذات“ ہے۔
آریا خانہ بدوش لوگ تھے جن کا آبائی پیشہ گلہ بانی تھا جو بعد میں کھیتی باڑی میں تبدیل ہو گیا۔ یہ ایک یکجا قوم نہیں تھے بلکہ مختلف قبائل کا گروہ تھے۔ یہ لوگ مختلف دیوی دیوتاؤں کی پوجا کرتے تھے۔ ہندو مذہب جو دنیا کا سب سے قدیم اور تیسرا سب سے بڑا مذہب ہے وہ اسی آریا قوم کے مذہب سے ہی نکلا ہے۔ اس کے علاوہ ہندو معاشرے میں ذات پات اور اونچ نیچ کا تصور بھی آریا قوم نے دیا ہے۔ آریا قوم کی زبان سنسکرت تھی جو آج بھی ہندو مذہب کی تعلیمات کی زبان ہے۔ آریا قوم کی تہذیب و تمدن ان کے ادب میں آج تک محفوظ ہے جس میں وید، رامائن اور مہابھارت وغیرہ شامل ہیں۔ اسی آریا قوم نے ہی وادی سندھ کو فتح کیا اور انہوں نے وادی سندھ (برصغیر) کی قدیم مہذب قوم دراوڑ کو جنوب کی طرف دھکیل دیا۔ آریاؤں کے وید اور نظمیں ان کی فتوحات اور جنگی حکمت عملیوں کے ذکر سے بھرے پڑی ہیں کہ کس طرح آریا لوگوں نے بزور طاقت اس علاقے پر اپنا تسلط قائم کیا۔
چونکہ آریا قوم کا ادبی ورثہ، زبان اور مذہب محفوظ اور اب تک زندہ ہے اس لیے پہلے یہی خیال کیا جاتا تھا کہ وادی سندھ میں تہذیب و تمدن کی بنیاد آریاؤں نے ڈالی اور اس سے پہلے یہاں کے باشندے جنگلی اور تہذیب و تمدن سے نا آشنا تھے۔ مگر عظیم گمشدہ شہروں ہڑپہ اور موہنجوداڑو کی دریافت اور جدید تحقیق نے یہ نظریہ غلط ثابت کر دیا۔ ان شہروں کی دریافت سے پہلے دنیا ”انڈس سویلائزیشن“ کی عظمت سے لاعلم تھی۔ چونکہ ہڑپہ شہر پہلے دریافت ہوا تھا اس لیے اسے ہڑپہ کی تہذیب کا نام بھی دیا جاتا ہے۔ یہاں کے لوگ انتہائی مہذب اور تہذیب و تمدن سے آراستہ تھے۔ اس تہذیب کا شمار دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں ہوتا ہے۔ یہ قدیم مصری تہذیب اور میسوپوٹیمیا کی سمیری تہذیب کی ہمعصر تہذیب ہے لیکن اس کا پھیلاؤ ان دونوں تہذیبوں سے کہیں وسیع تھا۔
آریاؤں کی آمد سے پہلے یہ خطہ امن اور بھائی چارے کا گہوارہ تھا۔ قدیم وادی سندھ کے لوگ دراوڑی زبان بولتے تھے، ہندوستان میں آج بھی اس زبان کے اثرات موجود ہیں۔ یہ لوگ کھیتی باڑی کے ہنر سے آراستہ تھے اور کپاس سے کپڑا بنانا جانتے تھے۔ کپاس ان کی ”کیش کراپ“ تھے جس سے یہ زرمبادلہ کماتے تھے لیکن اس کے علاوہ یہ دوسری فصلیں بھی اگاتے تھے جن میں جو، گیہوں اور تل وغیرہ شامل ہیں۔ آریاؤں نے کھیتی باڑی وادی سندھ کے لوگوں سے سیکھی تھی۔ یہ لوگ مٹی کے برتن استعمال کرتے تھے اور ان پر آج کے زمانے جیسے نقش و نگار بناتے تھے۔ یہ امر حیران کن ہے کہ تین ہزار سال گزر جانے کے باوجود بھی ان نقش و نگار میں تبدیلی نہیں آئی۔
یہ لوگ بلند و بالا عمارتیں تو نہیں بناتے تھے لیکن ان کے بنائے گئے شہر اور پختہ طرز تعمیر ہمارے جدید دور کے معیار پر بھی پورا اترتے ہیں۔ یہ قدیم تہذیبوں کے اکلوتے شہر ہیں جو باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ ڈیزائن کیے گئے تھے۔ ان کے شہروں میں سڑکیں چوڑی اور سیدھی تھیں، ہر گھر میں غسل خانہ تھا، نکاسی آب کے لیے زیرزمین نالیاں اور صفائی کا اعلیٰ انتظام تھا۔ ان کے شہروں کو حاصل سہولتیں ہمارے ہاں آج بھی ہر شہر کو حاصل نہیں ہیں۔ قدیم وادی سندھ ایک روشن خیال معاشرہ تھا جہاں گھروں کی سربراہ خواتین تھیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے ہاں عورت کا مقام کتنا بلند تھا۔ یہ لوگ تحریر، پیمائش اور اوزان کے اصولوں سے بھی واقف تھے، ان کی سب سے اہم خوبی ان کا امن پسند ہونا تھا۔ دستیاب شواہد سے پتا چلتا ہے یہ چھوٹے ہتھیار بناتے تھے لیکن جنگ و جدل والے بڑے ہتھیار نہیں بناتے تھے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ لوگ امن پسند اور صلح جو تھے۔ لیکن ان کا امن پسند ہونا ہی ان کا جرم ٹھہرا اور اسی وجہ سے یہ آریا قوم سے شکست کھا کر مغلوب ہو گئے۔
وادی سندھ میں آریاؤں کی آمد کے ساتھ ایک عظیم تہذیب اپنے اختتام کو پہنچی اور نئے دور کا آغاز ہوا۔ لیکن قدیم تہذیب کے اثرات پھر بھی ختم نہ ہو سکے اور آج بھی دراوڑی زبان کے الفاظ برصغیر کی زبانوں میں شامل ہیں۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایک تہذیب دوسری تہذیب میں جذب ہو گئی۔ یہ سلسلہ یہاں نہیں رکا، آنے والے وقتوں میں بھی وادی سندھ یا برصغیر میں غیر ملکی فاتحین کی آمد کا سلسلہ جاری رہا۔ ان فاتحین کی آمد کے علاوہ بدھ مت اور اسلام جیسے بڑے مذاہب کا بھی اثر و رسوخ شامل ہوا اور وادی سندھ کی تہذیب پر مختلف تہذیبوں کے رنگ چڑھتے گئے۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ وادی سندھ کا تہذیبی شعور مختلف تہذیبوں سے مل کر بنا ہے اور یہی چیز اس تہذیب کو بے مثل اور منفرد بناتی ہے۔


