سول نافرمانی اور مذاکرات کا کھیل
پاکستان تحریک انصاف کا نام ہی تحریک ہے اس لئے گزشتہ تین عشروں سے یہ کوئی مروجہ سیاسی جماعت نہیں بن پائی لہذا اس کے قائد نے سیاسی مخالفین کے خلاف تحاریک چلانا ہی مقصد حیات بنا لیا وہ اپنی راہ میں حائل ہر رکاوٹ کو عبور کرنے کی کوشش کرتے ہیں خواہ اس کے نتیجے میں گڑھے میں ہی کیوں نہ گر جائیں۔ جب کسی سیاسی شخصیت یا جرنیل کی گڈ بک میں ہوتے ہیں تو اس کی تعریف و توصیف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیتے ہیں جب کسی سے بات بگڑ جائے تو پھر اس بارے میں وہ زبان استعمال کرتے ہیں جس کو الفاظ کا پیرہن پہنانا مشکل ہوتا ہے۔ ایک وقت جب وہ جنرل باجوہ کے ”ہم نوالہ و ہم پیالہ“ تھے تو ان کی قصیدہ خوانی میں بڑے بڑے قصیدہ خوانوں کو پیچھے چھوڑ جاتے تھے لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ ان کے اقتدار کا سنگھاسن ڈول رہا ہے تو انہوں نے جنرل باجوہ ”میر جعفر اور میر صادق کہنے سے بھی گریز نہیں کیا۔ تحاریک نے ہی انہیں میدان سیاست میں بام عروج تک پہنچا دیا پھر اپنے انداز سیاست وزارت عظمیٰ سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیے گئے سیاسی مخالفین کی زندگیاں اجیرن بنا دیں انہیں نشان عبرت بناتے بناتے خود نشان عبرت بن گئے ان کا طرز حکمرانی ان کی مخالف سیاسی قوتوں کے اتحاد کا باعث بن گیا۔
عمران خان جن سیاسی رہنماؤں سے جیلیں بھرنا چاہتے تھے انہوں نے انہیں آج جیل کی کال کوٹھری تک پہنچا دیا ہے اگرچہ وہ اڈیالہ جیل میں ”سرکاری مہمان“ کی طرح قید کاٹ رہے ہیں بظاہر انہیں کوئی تکلیف نہیں قید تنہائی ہے اور جیل کی دیواریں۔ ”سیاسی جوتشیوں“ کی عمران خان کے بارے میں تمام پیشگوئیاں غلط ثابت ہو گئی ہیں حکومتی حلقوں میں عمران خان کے ایک سال سے زائد قید کاٹنے پر حیرانی کا اظہار کیا گیا ہے وہ خان عبدالغفار خان المعروف باچا خان، خان عبدالولی خان یا آغا شورش کاشمیری تو ہیں نہیں جن کی پوری زندگی قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے میں گزر گئی۔ ناز و نعم میں پلے ہوئے کرکٹر کے لئے ایک سال کی قید تنہائی عمر قید سے کم نہیں جیل کی دیواریں ان کی ہم راز ہیں تنہائی کی قید نے انہیں اپنا سب کچھ داؤ پر لگانے پر مجبور کر دیا ہے وہ تین بار اسلام آباد پر چڑھائی کرنے کی ناکام کوشش کر چکے ہیں لیکن وہ ایسا ماحول بھی پیدا کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے جو ان کی رہائی میں معاون ثابت ہو۔
بیرسٹر گوہر کے حوالے سے یہ خبر آئی تھی کہ فائنل کال کا رخ موڑ دینے کی صورت میں 15، 20 روز بعد عمران خان کی رہائی کی پیشکش کی گئی لیکن ڈی چوک جانے کے اصرار میں سارا کھیل ہی ختم ہو گیا لیکن اس پیشکش کی کسی جانب سے بھی تصدیق نہیں ہوئی بیرسٹر گوہر نے بھی عمران خان کی رہائی کی پیشکش سے لا علمی کا اظہار کر دیا ہے اب پی ٹی آئی شرائط سے دستبردار ہو کر اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کرنے پر آمادہ نظر آتی ہے لیکن حکومت نے پی ٹی آئی سے مذاکرات کے لئے 9 مئی 2023 اور 24 نومبر 2024 ء کے واقعات پر شرمندگی کے اظہار کی پیشگی شرط عائد کر دی ہے جسے پی ٹی آئی کی قیادت نے مسترد کر دیا ہے۔ سیاسی حلقوں میں 24 نومبر کی فائنل کال کی ناکامی کے بعد عمران خان کی جانب سے ”سول نافرمانی“ کال پر حیرت کا اظہار کیا گیا پارٹی کے لیڈروں نے عمران خان کو کال کی ممکنہ ناکامی سے پیدا ہونے والی صورت حال سے بھی آگاہ کیا۔
قبل ازیں 2014 ء کے لانگ مارچ (جس نے بعد ازاں 126 روزہ دھرنے کی شکل اختیار کر لی تھی ) میں بھی عمران خان نے سول نافرمانی کی کال دی تھی اور کنٹینر پر چڑھ کر یوٹیلٹی بل جلائے لیکن اس تحریک کو عوام میں پذیرائی حاصل نہیں ہوئی اور یہ تحریک اپنی موت آپ مر گئی عمران خان کو مجبوراً دھرنا ختم کر کے بنی گالہ واپس جانا پڑا۔ عمر ایوب نے اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کے بعد جہاں مذاکرات پر آمادگی کا اظہار کیا تھا وہیں انہوں نے مذاکرات نہ ہونے کی صورت میں تحریک نافرمانی کے اگلے مرحلے کے اعلان کی دھمکی دی تھی سیاسی حلقوں میں یہ بات برملا کہی جا رہی ہے لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے اور ان کے خلاف باضابطہ کارروائی شروع ہونے کے خدشے کے پیش نظر پی ٹی آئی کی طرف سے سول نافرمانی کی تحریک شروع کرنے کی دھمکی دی جا رہی تھی لیکن اسٹیبلشمنٹ نے پی ٹی آئی کی سول نافرمانی دھمکی کو درخور اعتنا نہ سمجھا اور لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کے خلاف باضابطہ طور فرد جرم عائد کر دی ہے 12 اگست 2024 ء کو لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کے خلاف پاکستان آرمی ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی کارروائی شروع کی گئی لہذا یہ بات کہی جا سکتی ہے 2024 ء کا سورج غروب ہونے سے قبل ان کے بارے میں کیس کا فیصلہ ہو جائے گا۔
دوسری طرف حکومت نے عمران خان کے خلاف ”خصوصی کمپلینٹ“ پر ایک نیا مقدمہ درج کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے عمران کے خلاف سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں کو ریاست اور ریاستی اداروں کے خلاف بغاوت پر اکسانے کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں سی آر پی سی کی سیکشن 196 کے تحت کمپلینٹ فائل کرنے اور مختلف جرائم کے بارے میں ملزمان کے خلاف کارروائی کے لئے وفاقی کابینہ کی منظوری قانونی تقاضا ہے تازہ ترین خبر یہ ہے کہ پی ٹی آئی نے جارحانہ طرز عمل کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پارلیمنٹ کے ذریعے بات چیت آگے بڑھانے کے لئے سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے کندھوں پر ذمہ داری ڈال دی ہے۔ ایک ہی وقت میں وزیر اعظم شہباز شریف کی سردار ایاز صادق کی ہمشیرہ کی وفات پر تعزیت کے لئے سپیکر ہاؤس آمد ہوئی تو اس وقت اسد قیصر دوسرے کمرے میں چلے گئے جب کہ حکومتی حلقوں کا اصرار ہے کہ وزیر اعظم کی اسد قیصر سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی تاہم بعد ازاں پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کی سردار ایاز صادق سے ملاقات کے دوران وفاقی وزیر قانون اعظم تارڑ موجود تھے۔
حکومتی طرز عمل اور اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے سرد مہری سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے آئندہ چند دنوں عمران خان اور ان کے قریبی ساتھیوں کو کوئی ریلیف نہیں دیا جائے گا اسی طرح اسٹیبلشمنٹ بھی فوج کے کسی بھی ریٹائرڈ افسر کو معافی نہیں دے گی جس پر سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے، ریاست کے مفاد کو نقصان پہنچانے کا الزام ہو۔ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو ان ہی الزامات پر چارج شیٹ کیا گیا ہے۔ وہ 9 مئی 2023 کے حوالے سے تشدد اور بدامنی کے متعدد واقعات میں مذموم سیاسی عناصر کی ایما اور ملی بھگت پر شامل تفتیش ہیں لہذا یہ بات کہی جا سکتی ہے 9 مئی 2023 کے واقعات پر جہاں لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا وہاں عمران خان اور ان کے 143 ساتھیوں کے خلاف فوجی عدالت میں مقدمہ چلائے جانے کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا۔ عمران خان باری باری اپنے تمام کارڈ کھیل چکے ہیں سوشل میڈیا کے ذریعے ان کے آخری کارڈ کو کھیلا جا رہا ہے جس میں فوجی فاؤنڈیشن کی مصنوعات کے بائیکاٹ کی اپیل کی جا رہی ہے اسی طرح بیرون ملک پاکستانیوں کے ترسیلات زر کو بھی روکنے کی کوشش کی جائے گی عمران کی سول نافرمانی کی کال کی کامیابی کا کوئی امکان نہیں ماضی کی طرح یہ کال بھی بری طرح ناکام ہو جائے گی۔

