پاسکوال ڈوارٹے کا خاندان: ہسپانوی ادب کے شاہکار کا اردو ترجمہ


کامیلو ہوزے چیلا کی تصنیف ’دی فیملی آف پاسکوال ڈوارٹے‘ ایک ایسی کہانی ہے جو تشدد، تقدیر اور مایوسی کے موضوعات کو دیہی ہسپانوی پس منظر میں پیش کرتی ہے۔ کامیلو ہوزے چیلا، اسپین کے اہم ادیبوں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے یہ ناول اس وقت لکھا جب اسپین شدید کشمکش کا شکار تھا۔ 1942 میں شائع ہونے والے اس ناول کا تعلق ہسپانوی خانہ جنگی ( 1936۔ 1939 ) سے ہے، جو اسپین کے معاشرتی تانے بانے پر گہرے زخم چھوڑ گئی۔ کامیلو ہوزے چیلا خود نیشنلسٹ سپاہی رہ چکے تھے، انھوں نے جنگ کی تباہی اور بربادی کو قریب سے دیکھا تھا۔ دی فیملی آف پاسکوال ڈوارٹے میں یہ تجربات جابجا دکھائی دیتے ہیں، جو وجودیت اور لا وجودیت کے عناصر کو باہم ملا کر انسانی فطرت کے تاریک پہلوؤں کو آشکار کرتے ہیں۔

کہانی ایک قیدی پاسکوال ڈوارٹے کے خطوط کی صورت میں بیان کی گئی ہے، جو پھانسی کا منتظر ہے۔ اعترافات کی شکل میں لکھے گئے یہ خطوط قاری کو پاسکوال کی باطنی دنیا سے روشناس کراتے ہیں، جہاں اس کی جدوجہد، اس کا تاسف اور اس کے اپنے اعمال کی وضاحتیں موجود ہیں۔ چیلا کا انداز بے ساختہ اور حقیقت پسندانہ ہے، جو پاسکوال کی زندگی کی تلخی اور سختی کو خوبی سے اجاگر کرتا ہے۔ الفاظ کی سادگی اور کڑواہٹ اس کی زندگی کی مستقل مایوسی کو نمایاں کرتی ہے۔ تشدد اس کہانی میں نہ صرف ایک جسمانی حقیقت ہے بلکہ یہ انسانی فطرت میں چھپے ہوئے تباہ کن عناصر کا استعارہ بھی ہے۔ پاسکوال ایک ایسی دنیا میں پروان چڑھتا ہے جہاں تشدد عام ہے، چاہے وہ اس کے خاندان میں ہو یا معاشرتی سطح پر۔ اس کے وحشیانہ اعمال کو ناگزیر قرار دیا گیا ہے، جیسے یہ اس کے ماحول کا نتیجہ ہو۔ چیلا یہ بتاتے ہیں کہ پاسکوال کے یہ متشدّد رویے نہ صرف اس کی ذات کا حصہ ہیں بلکہ اس کے سماجی حالات کا بھی شاخسانہ ہیں۔ پاسکوال اپنی تقدیر سے مجبور ہو کر تشدد کی راہ اختیار کرتا ہے۔ اس کا خیال ہے کہ اس کی زندگی پر ایک نحوست چھائی ہوئی ہے، اور وہ خود کو ایک ایسے چکر میں پھنسا ہوا محسوس کرتا ہے جس سے وہ نکل نہیں سکتا۔ اس لحاظ سے، یہ ناول وجودیت کے ان خیالات کی عکاسی کرتا ہے جو انسان کی قسمت کے بارے میں سوالات اٹھاتے ہیں اور دکھاتے ہیں کہ پاسکوال کے پرتشدد اعمال اس کے محدود کنٹرول کی کوشش ہیں۔

پاسکوال ڈوارٹے ایک پیچیدہ اور متضاد کردار ہے۔ وہ اپنے اردگرد کے تشدد کا شکار بھی ہے اور مرتکب بھی۔ بچپن سے ہی اسے غربت اور ردعمل نے گھیرے میں لے رکھا ہے، جس سے اس کی نفرت اور انتقام کے جذبات بھڑک اٹھتے ہیں۔ وہ اپنے اعمال کو پہچانتا ہے، لیکن وہ معافی یا سمجھ کا خواہاں بھی ہے۔ اس کے تعلقات، خاص طور پر اس کے خاندان کے ساتھ، بدسلوکی اور ناراضگی سے بھرپور ہیں، جو آخرکار اس کی محبت اور وفاداری کے بارے میں متضاد خیالات کو جنم دیتے ہیں۔ پاسکوال ایک ایسا شخص ہے جو کنٹرول حاصل کرنا چاہتا ہے لیکن بے بسی کے شدید احساسات سے دوچار ہے۔ کبھی وہ اپنی حالت پر غور کرتا ہے اور کبھی تاریک جذبات میں گھرا رہتا ہے۔ اس کی کہانی سکون کی خواہش کو بیان کرتی ہے، لیکن اس کا ماضی اسے باندھے رکھتا ہے اور وہ اس سے آزاد نہیں ہو پاتا۔

ناول کا عنوان، دی فیملی آف پاسکوال ڈوارٹے، اس بات کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ پاسکوال کا خاندان اس کے کردار اور فیصلوں میں کتنی اہمیت رکھتا ہے۔ اس کا خاندان محبت اور اذیت کا ایک ایسا مرکز ہے جہاں بدسلوکی اور بے توجہی کو معمولی سمجھا جاتا ہے۔ اس کے والد ایک بے رحم اور بے حس شخص ہیں، جبکہ اس کی ماں غیر محبت کرنے والی ہے۔ یہ ساری چیزیں پاسکوال کے کردار کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہیں اور اس کے اعمال کو ناپختہ رہنے پر مجبور کرتی ہیں۔ اس کے خاندان سے باہر، پاسکوال کا سماجی ماحول بھی بے رحم ہے۔ دیہی اسپین ایک بے رحم اور غربت زدہ جگہ ہے، جہاں نا امیدی اور مایوسی مسلسل چھائی رہتی ہے۔ اس ناول کا موزانہ اکثر البرٹ کامیو کے دی سٹرینجر کے ساتھ کیا جاتا ہے کیونکہ دونوں ہی ناول اجنبیت کے موضوع کو چھوتے ہیں۔ پاسکوال، کامیو کے میرساؤ کی طرح، خود کو اپنے ماحول سے الگ محسوس کرتا ہے اور روایتی اصولوں پر سوال اٹھاتا ہے۔ تاہم، پاسکوال کے برعکس، میرساؤ زندگی کی بے معنویت کو قبول کر لیتا ہے۔ چیلا کے ناول میں جابجا علامتیں اور استعارے پائے جاتے ہیں، خاص طور پر جانوروں کے حوالے سے۔ پاسکوال اکثر اپنے اردگرد کے جانوروں کو ظالمانہ انداز میں دیکھتا ہے۔ دی فیملی آف پاسکوال ڈوارٹے کی اشاعت کے بعد ، اسے ہسپانوی خانہ جنگی کے بعد کا سب سے اہم ناول قرار دیا گیا، جس نے ”تاریک حقیقت نگاری“ کے رجحان کو جنم دیا۔ اس ناول میں کامیلو ہوزے چیلا نے انسانی مصائب اور اخلاقی ابہام پر گہری نظر ڈالی ہے۔ پاسکوال کے اعترافات کے ذریعے، چیلا نے ایک ایسی کہانی بنی ہیں جو ذاتی اور کائناتی دونوں سطحوں پر اہمیت رکھتی ہے۔

1942 میں لکھا گیا یہ ناول نفسیاتی کشمکش، تقدیر اور اخلاقی بحران جیسے موضوعات کے باعث اپنے ترجمے کے لحاظ سے بھی کسی چنوتی سے کم نہ رہا ہو گا۔ اردو کے ممتاز شاعر، فکشن نگار اور مترجم سعید نقوی نے اس کا نہایت عمدہ اردو ترجمہ ’پاسکوال ڈوارٹے کا خاندان‘ کے عنوان سے کیا ہے، جو ناول کی روح کو برقرار رکھتے ہوئے قارئین کو ایک دلکش اور اثر انگیز تجربہ فراہم کرتا ہے۔ سعید نقوی کے ترجمے کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ انہوں نے چیلا کے اصل ناول کے کھردرے اور تلخ لہجے کو محفوظ رکھا ہے۔ ’پاسکوال ڈوارٹے کا خاندان‘ کا قصہ ایک بے رحم اور تاریک دنیا کو ظاہر کرتا ہے جو ہسپانوی دیہی ماحول میں پروان چڑھتی ہے۔ سعید نقوی نے سادہ اور براہ راست زبان کا استعمال کیا ہے، جس سے پاسکوال کی زندگی کی تلخی اور اس کے جذبات قارئین کے دل تک پہنچتے ہیں۔ انہوں نے ایسی زبان کا انتخاب کیا ہے جو پاسکوال کے کھرے اور مایوسی بھرے لہجے کو موثر انداز میں بیان کرتی ہے۔ مثال کے طور پر، جب پاسکوال اپنی زندگی اور اعمال پر غور کرتا ہے تو سعید نقوی کے الفاظ میں وہی سادگی جھلکتی ہے جو اس کی شخصیت کو نمایاں کرتی ہے۔ ایک جگہ پاسکوال کہتا ہے، ”میں جناب کوئی برا آدمی نہیں ہوں، اگرچہ سچ تو یہ ہے کہ مجھ میں برا بننے کی وجوہات کی کوئی کمی نہیں۔“ یہ ترجمہ سیدھا اور دو ٹوک ہے، جس میں پاسکوال کے افسردہ خیالات اور اپنی زندگی کے بارے میں اس کے بے باک انداز کو واضح کیا گیا ہے۔ سعید نقوی کے الفاظ چیلا کے نپے تلے انداز کی واضح عکاسی کرتے ہیں، جس سے قاری کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ پاسکوال کے اپنے خیالات کا مشاہدہ کر رہا ہو۔

سعید نقوی کے ترجمے کی ایک اور خوبی یہ ہے کہ انہوں نے چیلا کے ناول میں موجود ثقافتی پہلوؤں کو بھی خوبصورتی سے محفوظ رکھا ہے۔ ’پاسکوال ڈوارٹے کا خاندان‘ کا ماحول ہسپانوی دیہی پس منظر اور اس وقت کے معاشرتی رسم و رواج پر مبنی ہے۔ سعید نقوی نے ان عناصر کو برقرار رکھا اور ثقافتی اصطلاحات کو مختصر وضاحتوں کے ساتھ پیش کیا، جیسے کہ کچھ غیر مترجم الفاظ کا استعمال کیا، جس سے قاری کو ہسپانوی ماحول کا احساس ہوتا ہے۔ سعید نقوی نے کرداروں کی پیچیدگی کو بھی خوبصورتی سے بیان کیا ہے، خاص طور پر پاسکوال کے والد کی ظالمانہ شخصیت کو، جسے بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ”اونچا قد اور پہاڑ کی مانند جسیم۔“ یہ بیان پاسکوال کے اپنے والد کے لیے خوف اور احترام کو واضح کرتا ہے، اور سعید نقوی کے لفظوں کے انتخاب نے قاری کو پاسکوال کے خاندان کی پیچیدگی کو بہتر انداز میں سمجھنے کا موقع فراہم کیا۔

سعید نقوی کے ترجمے کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ انہوں نے پاسکوال ڈوارٹے کی داخلی کشمکش کو عمدگی سے پیش کیا ہے۔ ’پاسکوال ڈوارٹے کا خاندان‘ بنیادی طور پر ایک نفسیاتی ناول ہے جو ایک شدید پریشان حال انسان کے خیالات اور احساسات کا تجزیہ کرتا ہے۔ اس طرح کے کردار کے داخلی خیالات کا ترجمہ مشکل ہوتا ہے، کیونکہ اس میں کردار کی زبان کے مخصوص لہجے اور احساسات کی عکاسی کرنا ضروری ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، جب پاسکوال اپنے تشدد آمیز خیالات کا اظہار کرتا ہے تو سعید نقوی نے اسے بہت موثر انداز میں بیان کیا: ”میں نے بندوق اٹھائی اور فائر کر دیا۔ میں نے اسے دوبارہ بھرا اور پھر چلا دیا۔“ اس جملے کی ساخت پاسکوال کے اعمال کی مکینیکل نوعیت اور اس کے سرد رویے کو ظاہر کرتی ہے۔ سعید نقوی نے زبان کو سادہ اور براہ راست رکھا ہے، جس سے قاری کو پاسکوال کے اعمال کا مکمل اثر محسوس ہوتا ہے۔ سعید نقوی کے ترجمے نے ناول کے وجودی پہلو کو بھی خوبصورتی سے محفوظ رکھا ہے۔ دی فیملی آف پاسکوال ڈوارٹے میں بامعنی زندگی اور مایوسی کے موضوعات کو اجاگر کیا گیا ہے، جس میں ایک ایسا کردار پیش کیا گیا ہے جو تقدیر سے مجبور اور گناہ کے بوجھ میں گھرا ہوا ہے۔ سعید نقوی نے وجودیت کے ان خیالات کو برقرار رکھتے ہوئے سادہ زبان کا انتخاب کیا، جس سے پاسکوال کی تاریک دنیا کی عکاسی ہوتی ہے۔ اس ترجمے کا ایک اہم ترین پہلو اس میں موجود ظلم اور علامتی اظہار کو برقرار رکھنا ہے۔ چیلا نے اس ناول میں کثرت سے جابجا موجود گہرے اور گرافک امیجز کا استعمال کیا ہے تاکہ پاسکوال کی زندگی کی تلخی اور بدحالی کو اجاگر کیا جا سکے۔ سعید نقوی نے اپنے ترجمے میں ان مناظر کو ویسا ہی رکھا ہے، تاکہ قارئین اس کے اثرات کو بھرپور طریقے سے محسوس کر سکیں۔ پاسکوال کی کتیا چیسپا کا ذکر، جسے وہ غصے میں قتل کر دیتا ہے، ایک ایسا منظر ہے جو ناول کے مرکزی تھیم کو علامتی طور پر پیش کرتا ہے۔ ایک مثال میں پاسکوال کہتا ہے، ”کتیا کا خون گاڑھا اور سیاہ تھا وہ آہستگی سے خشک زمین پر پھیل گیا۔“ سعید نقوی کے اس ترجمے میں موجود الفاظ جیسے ”گاڑھا اور سیاہ“ اس منظر کی جسمانی حقیقت کو ظاہر کرتے ہیں اور پاسکوال کے اندر چھپی ہوئی مایوسی اور بربادی کے احساس کو اجاگر کرتے ہیں۔ یہ توازن کہانی کے واقعات کو صرف خوفناک بنانے کی بجائے اس کے علامتی معنی کو برقرار رکھتا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاسکوال کی زندگی میں محبت اور بربادی کے جذبات کو الگ الگ رکھنا کتنا مشکل ہے۔

سعید نقوی نے کہانی کی رفتار اور اس کی ساخت کو برقرار رکھنے پر بھی بھرپور توجہ دی ہے۔ ’پاسکوال ڈوارٹے کا خاندان‘ کو میموائرز کی شکل میں لکھا گیا ہے، جس میں ہر حصہ کہانی کے اٹل انجام کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ سعید نقوی نے متن کو اردو میں منتقل کرتے وقت اس کی ہر سطر کو اصل میں بیان کردہ ساخت کے مطابق ترجمہ کیا ہے۔ ان کا یہ ترجمہ ناول کی رفتار کو برقرار رکھتا ہے اور ہر حصے کو ایک تسلسل میں باندھ کر چیلا کی کہانی کو مکمل معنوں میں پیش کرتا ہے۔ سعید نقوی نے بار بار دہرائے گئے مناظر اور موت و تشدد جیسے موضوعات کو بھی ویسے ہی برقرار رکھا ہے، جو کہ پاسکوال کی نفسیات کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ عنصر اس ناول کی ساخت کو برقرار رکھتے ہیں، جس سے یہ سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے کہ کس طرح تقدیر اور ناگزیر نتیجے چیلا کے ناول کے مرکزی موضوعات ہیں۔ سعید نقوی کی زبان اور ساخت پر مکمل گرفت اردو قارئین کو چیلا کی کہانی کے درد، تشدد اور تقدیر کی پیچیدگی کو اس کے اصل معنی میں سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ سعید نقوی کا ترجمہ چیلا کے انسانی مصائب اور اخلاقی ابہام کے موضوعات کو عمیق اور موثر انداز میں ظاہر کرتا ہے اور اردو قارئین کے لیے اس ناول کو اپنی اصل روح میں پیش کرتا ہے۔

Facebook Comments HS