دو نکاتی سوال نامہ


پاکستان کے گمبھیر مسائل کے بارے میں دو ہی سوال ہیں۔ سوال دونوں آسان ہیں۔ البتہ ان کا جواب دینا اتنا آسان نہیں۔ کیوں کہ جن لوگوں کو ان سوالوں کا جواب دینا ہے، وہ سب کے سب اپنی اپنی اناؤں، ضرورتوں یا مفادات کی قید میں ہیں۔

یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ ان سوالوں کے جواب تو ہزاروں ہیں لیکن کوئی انہیں تلاش کرنے کی جستجو نہیں کرنا چاہتا۔ خواہش یہی ہے کہ جیسے مسائل نے ہمیں گھیرا ہے، ویسے ہی ان کا حل بھی پاؤں پاؤں چل کر ہمارے پاس چلا آئے۔ یہ خواہش قوموں کو زندہ رکھنے اور پھلنے پھولنے میں رکاوٹ بنتی ہے لیکن پاکستان کے ہر گلی کی نکڑ اور ہر محلے بازار میں ایسے چورن فروش موجود ہیں جو عوام کو یقین دلاتے رہتے ہیں کہ انہیں کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بس وہ کسی خاص عقیدے یا طریقے پر عمل کریں، ان کے مسئلے وہی حل کرے گا جس نے انہیں اس مشکل میں ڈالا ہے۔ گویا مسئلہ تو ایک ہی ہلے میں ’حل‘ کر دیا گیا۔ نہ اپنی غلطیوں کا ادراک، نہ راستہ کھوٹا ہونے کی خلش اور نہ یہ احساس ذمہ داری کہ غلط کاریوں کی وجہ سے جو معاملات خراب ہوئے ہیں، انہیں درست کرنے کے لیے ہاتھ پاؤں مارے جائیں۔ تاہم جیسا کہ آپ جانتے ہیں ہاتھ پاؤں مارنے کا آغاز اسی وقت ہو سکتا ہے جب یہ احساس پیدا ہو کہ جس راستے پر ہم بگٹٹ بھاگے چلے جا رہے ہیں یہ تو منزل کی طرف جاتا ہی نہیں۔ اس کے آخر میں تو کھائی ہے۔ منزل کا نشان پانے کے لیے یہ تعین تو کرنا پڑے گا کہ ہم بطور قوم آخر چاہتے کیا ہیں؟

مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے محمد علی جناح اور ان کے ساتھیوں نے برصغیر کے مسلمانوں کو بتایا تھا کہ وہ ایک ہزار برس کی مدت تک جن لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہ رہے تھے۔ خوشی غمی کے ساتھی اور نسل در نسل ہاتھ پکڑ کر سہارا بن رہے تھے، وہ تو ہم سے بالکل مختلف ہیں۔ مسلمان تو علیحدہ عقیدہ کے حامل ایک الگ قوم ہیں۔ یہ اس وقت کا سیاسی بیانیہ تھا۔ تاہم اس کے درپردہ انگریزوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی تھی کہ ان کے آنے سے پہلے برصغیر میں جمہوریت نہیں تھی اور نہ ہی انگریز کسی جمہوری طریقے سے یہاں آ کر حکمران بنا تھا۔ اب جب لوگوں کی تقدیر کا فیصلہ عوام کے ووٹ سے ہو گا اور اسمبلیوں میں اکثریت حاصل کرنے والے اکثریتی عقیدہ کے لوگ ہوں گے تو اقلیتی عقیدے والوں کی حق تلفی ہوگی۔ یہ ایک جائز اور سنجیدہ سوال تھا۔ بدقسمتی سے یا تو مسلم لیگ مناسب طریقے سے اپنا مقدمہ ہندوؤں کی سیاسی جماعت کانگرس کے سامنے پیش نہیں کر سکی یا اس کا یہ مقصود ہی نہیں تھا کہ ان لوگوں سے بات کر لی جائے جن کے ساتھ عقیدے اور رہن سہن کے بعض اختلافات کے باوجود ہم سینکڑوں برسوں سے مل جل کر رہتے چلے آئے تھے۔ مسلم لیگ نے بدیسی حکمرانوں سے بات کرنا اور ان سے ہی مسئلہ کا حل طلب کرنا مناسب سمجھا۔ یہ مطالبہ برصغیر میں علیحدہ ملک کے قیام کی صورت میں سامنے آیا۔

مؤرخ اور سیاسی تجزیہ نگار اب سر کھپاتے ہیں کہ آخر ایسا کیا تھا کہ ایک بیرونی طاقت کے خلاف آزادی کی جد و جہد میں ایک ملک کے لوگ ایک دوسرے کا ہاتھ تھامنے کی بجائے آمنے سامنے آ کھڑے ہوئے۔ ہر کوئی اپنی صوابدید اور تفہیم کے مطابق اس صورت حال میں ہیرو اور ولن تلاش کر لیتا ہے۔ کسی کے نزدیک کانگرس کی قیادت نام نہاد سیکولر تھی۔ وہ درحقیقت انگریزوں کے جانے کے بعد مسلمانوں کو ’غلام‘ بنا کر ان سے کئی سو سالہ حکمرانی کا انتقام لینا چاہتے تھے۔ یہ تصور کرتے ہوئے البتہ یہ فراموش کر دیا گیا کہ جب مسلمان حملہ آوروں نے ہندوستان میں حکومتیں قائم کی تھیں، اس وقت حکمرانی کا کوئی دوسرا تصور متعارف نہیں تھا۔ طاقت ہی سب سے بڑا اور فیصلہ کن فیکٹر ٹھہرتا تھا۔ اس کے علاوہ علیحدگی کا مطالبہ کرتے ہوئے بالواسطہ ہی سہی، مسلم لیگی لیڈروں نے یہ اعتراف بھی کیا کہ مسلمان حکمرانوں نے اقلیتی عقیدہ ہونے کے باوجود اکثریتی عقیدہ کی آبادی کو ان کے جائز حقوق سے محروم رکھا۔ حالانکہ ہر دور کی تاریخ اس الزام کی تصدیق نہیں کرتی۔ بیشتر مسلمان حکمرانوں نے عقیدہ و مذہب کی تخصیص کے بغیر لوگوں کو مواقع بھی دیے، سہولت بھی فراہم کی یا ان کے حقوق غصب کیے۔ یعنی وہی طریقہ اختیار کیا جو مطلق العنان حاکم اپناتے تھے۔ جب وہ ظلم کرنے پر آتا ہے تو وہ عقیدہ نہیں اپنی ضرورت دیکھتا ہے۔ مسلمان بادشاہوں کے ان ادوار میں اگر ظلم ہوا تو اس کا نشانہ مسلمان بھی ویسے ہی بنتے رہے جیسا کہ ہندو آبادی یا کسی دوسرے عقیدے کے ماننے والوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

ہندوستان کے مسلمانوں کی نمائندگی کرنے والوں نے بنیادی طور سے مسلمان اقلیت کے معاشی حقوق کی ضمانت اور سیاسی پوزیشن کی حفاظت کو پیش نظر رکھا تھا۔ ہندوؤں کے لیڈر مسلمانوں کے اس عدم تحفظ کو محسوس کرنے میں ناکام رہے۔ یا شاید مسلمانوں میں کسی نہ کسی سطح پر ماضی کی حکمرانی کے سبب احساس جرم بھی موجود ہو کہ انہوں نے ایسا کوئی پلیٹ فارم تلاش کرنے کی اتنی ہی شدت سے کوشش نہیں کی جتنی قوت سے انہوں نے ایک خطہ، دو ممالک کا مطالبہ پیش کرنے اور منوانے کی جد و جہد کی۔ گو کہ جناح نے مسلمانوں کو علیحدہ قوم ثابت کرنے میں ہر دلیل استعمال کی اور زور بیان صرف کیا لیکن پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کے افتتاحی اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے 11 اگست 1947 کو نئی مملکت کے آئین کا جو خاکہ پیش کیا، اس میں عقیدے کی بنیاد پر تقسیم، نفرت اور تعصب کی بجائے مل جل کر کام کرنے اور عقیدے کو سیاسی امور سے دور رکھنے کا سنہری اصول پیش کیا۔ اس تقریر میں بانی پاکستان کا کہنا تھا کہ اب عقیدہ ہر فرد کا ذاتی معاملہ ہے، آج کے بعد ہم سب پاکستانی بن کر ایک ملک تعمیر کریں گے۔

یہ نظریہ، قیام پاکستان کی جد و جہد کے دوران پیش کیے گئے دلائل سے بظاہر مطابقت نہیں رکھتا تھا۔ حتی کہ قائد اعظم کے قریب ترین ساتھیوں کے لیے بھی اس ’تضاد بیانی‘ کو ہضم کرنا ممکن نہیں تھا۔ اس موقع سیاسی جد و جہد کی ضرورتوں اور امور ریاست کے لیے درکار عمل پسندی کے تقاضوں کا فرق واضح نہیں کیا جا سکا۔ سمجھنے سمجھانے کا مرحلہ تو بعد میں آتا۔ محمد علی جناح کو زندگی نے زیادہ مہلت نہیں دی کہ وہ اس فرق کو صراحت سے پیش کر کے نئی مملکت کی راہ متعین کرنے میں رہنمائی کر سکتے۔ ادھر 11 ستمبر 1948 کو ان کی آنکھ بند ہوئی، ادھر دو قومی نظریہ کو ریاستی منشور کے طور پر پیش کرنے کی مہم جوئی پورے زور سے شروع ہو گئی۔ جناح کے انتقال کے ٹھیک 6 ماہ بعد 12 مارچ 1949 کو دستور ساز اسمبلی میں وزیر اعظم لیاقت علی خان کی پیش کی ہوئی ’قرار داد مقاصد‘ تمام اقلیتی ارکان کے شدید احتجاج کے باوجود منظور کرلی گئی۔ قرار داد کی رو سے ’اسلام کے جمہوریت، حریت، مساوات، رواداری اور عدل عمرانی کے اصولوں کا پورا اتباع کیا جائے گا۔ مسلمانوں کو اس قابل بنا دیا جائے گا کہ وہ انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنی زندگی کو قرآن و سنت میں درج اسلامی تعلیمات و مقتضیات کے مطابق ترتیب دے سکیں‘ ۔

اب ’ہندو بھارت‘ کے مقابلے میں مسلمانوں کا پاکستان پورے طمطراق سے وجود میں آ چکا تھا۔ مفاد پرست بیورو کریسی نے روز اول سے اس ’نظریاتی مملکت‘ کی حفاظت کا ایسا بیڑا اٹھایا کہ وہ ایک بار دو لخت ہونے کے بعد اب مزید ٹوٹ پھوٹ سے بچنے کی خواہش و کوشش میں مصروف ہے۔ سیاست امکانات کا کھیل ہے۔ اس عمل میں امکانات کے لیے مواقع پیدا کیے جاتے ہیں اور ان سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ اس میں دلیل، حجت اور وسیع تر ضرورتوں کو پیش نظر رکھا جاتا ہے۔ لیکن یہ سارے اصول عمومی ریاستوں پر لاگو ہوتے ہیں۔ نظریاتی ریاستوں کا معاملہ مختلف ہوتا ہے۔ لہذا جوں جوں پاکستان کو نظریاتی ریاست بنانے، کہنے اور قرار دینے پر اصرار ہوا توں توں یہاں جمہوریت غیر ضروری محسوس ہونے لگی۔ آج تک محسوس کیا جاسکتا ہے کہ ہر آنے والی حکومت نہ مسائل کا سیاسی حل تلاش کرنے پر آمادہ ہوتی ہے اور نہ ہی اختلاف رائے کو برداشت کرنے کا حوصلہ دکھایا جاتا ہے۔ بلکہ منظر نامہ میں تبدیلی و آزادی کے نعرے لگانے والے جتنے عناصر بھی سرگرم دکھائی دیتے ہیں، وہ درحقیقت اپنے موقع کی تلاش میں ہوتے ہیں تاکہ وقت آنے پر مخالفین کا قافیہ تنگ کرسکیں۔

اب اس مشکل سے کیسے نکلا جائے۔ یہ مشکل دو سوالوں میں بیان کی جا سکتی ہے۔ ایک: ملک کو کیسے ٹھیک کیا جاسکتا ہے؟ دوئم: یہ کام کون کر سکتا ہے؟ سوال سادہ اور آسان ہیں۔ ان کا حل مگر پیچیدہ اور صبر آزما ہو سکتا ہے۔ لیکن ملک کو جو قائدین نصیب ہوئے ہیں، عوام کی سہولت کے لیے انہوں نے اسے آسان کر دیا ہے۔ اس کا ایک ہی جواب ہے کہ ’پاکستان کو میں ٹھیک کر سکتا ہوں۔ مجھے اقتدار دے دیا جائے‘ ۔ بس مسئلہ صرف اتنا ہے کہ اس ایک جواب کا پرچم درجنوں لیڈروں نے اپنے ہاتھوں میں اٹھا رکھا ہے۔ معاملہ اگر لیڈروں سے عوام کی سطح تک لایا جائے تو یہ تعداد لاکھوں یا کروڑوں میں بھی ہو سکتی ہے۔

جس ریاست میں مل جل کر مسائل سمجھنے اور انہیں حل کرنے کا رویہ ترک کر دیا گیا ہے، اس انوکھی ریاست کا نام پاکستان ہے۔ کہتے ہیں کہ ملک کا آئین جمہوری نظام کا تقاضا کرتا ہے اور ملک میں ایک منتخب پارلیمنٹ کے ذریعے امور حکومت انجام دیے جا رہے ہیں۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

One thought on “دو نکاتی سوال نامہ

  • 17/12/2024 at 8:03 صبح
    Permalink

    آپ کے مطابق:
    مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے محمد علی جناح اور ان کے ساتھیوں نے برصغیر کے مسلمانوں کو بتایا تھا کہ وہ ایک ہزار برس کی مدت تک جن لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہ رہے تھے۔ خوشی غمی کے ساتھی اور نسل در نسل ہاتھ پکڑ کر سہارا بن رہے تھے، وہ تو ہم سے بالکل مختلف ہیں۔ مسلمان تو علیحدہ عقیدہ کے حامل ایک الگ قوم ہیں۔ یہ اس وقت کا سیاسی بیانیہ تھا۔

    حقیقت ایسی نہیں ہے۔ جناح نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز دادا بھائی نوروجی کے معتقد کی حیثیت سے برطانیہ میں ہی کردیا تھا۔
    جس سال مسلم لیگ قائم ہوئی اسی سال یعنی 1906 میں جناح نے کانگریس میں شمولیت اختیار کی۔
    سات سال بعد یعنی 1913 میں جناح نے مسلم لیگ کی رکنیت بھی حاصل کرلی۔
    پہلی جنگ عظیم کے دوران جناح نے ہوم رول لیگ تحریک کے سرخیل راہ نما کی حیثیت سے شہرت حاصل کی۔ یہ تحریک ہندوستان میں رہنے والے لوگوں کو خود پر حکومت کرنے کا مطالبہ کرتی تھی۔ 1913 سے 1920 تک سات سال جناح نے مسلم لیگ اور کانگریس دونوں کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کی اور اسی کا نتیجہ میثاق لکھنو کی شکل میں آیا۔
    میثاق لکھنوء کی کامیابی دونوں پارٹیوں کو نزدیک لے آئی اور جناح کو "ہندو مسلم اتحاد کا سفیر” جیسا خطاب ملا۔
    1920 میں جناح کانگریس سے علیحدہ ہوگئے کیوں کہ وہ ان کی سول نافرمانی جیسی تحریکوں کے خلاف تھے۔
    اگلے بیس سال تک جناح نے کبھی الگ الگ وطن کی بات نہیں کی بلکہ وہ صرف مسلمانوں کے لئے علیحدہ سیٹوں کا مطالبہ کرتے تھے۔
    یہ 1937 کا الیکشن تھا جس کے بعد بننے والی ہندوستان میں حکومت نے جناح کی آنکھیں کھول دیں۔ سااری پالیسیاں ہندو قوم پرستوں کو خوش کرنے کی لئے بنائی گئیں۔ مسلمانوں اور سکھوں کے ساتھ زیادتیاں کی گئیں نتیجہ 1940 کی قرارداد لاہور کی شکل میں آیا جب پہلی بار کسی بڑے پلیٹ فارم پر مسلمانوں کے لئے اسی جناح نے علیحدہ وطن کا مطالبہ کیا جسے ہندو مسلم اتحاد کا سفیر کہا گیا تھا۔
    1946 کے انتخابات کے بعد یہ معاملہ اور شدت اختیار کرگیا کیوں کہ اس الیکشن میں مسلمانوں نے مخصوص نشستوں پر لگ بھگ ہر جگہ مسلم لیگ کو اپنا نمائندہ چنا۔
    باقی قرارداد مقاصد اور جناح کی پہلی تقریر کا معاملہ ہے یہ کچھ بھی نہیں ۔ گلاس آدھا خالی اور آدھا بھرا جیسا ہے۔ جو چاہے مطلب نکال لیں۔

Comments are closed.