سقوط ڈھاکہ: جب دیس بٹا دو ٹکڑوں میں


” نصف صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں“ 16 دسمبر 1971 ء کو پاکستان دولخت ہُوا جس نے پاکستانیوں کے دل لخت لخت کر دیے۔ مسجدوں کا شہر ڈھاکہ ہمارا نہ رہا۔ نا اہلی، کج روی اور عوام سے نا انصافی برتنے کے باعث سقوطِ ڈھاکہ، کا منظر ساری دُنیا نے دیکھا۔ متحدہ پاکستان کا دولخت ہو جانا، تاریخِ پاکستان کا ایک ایسا خوں چکاں سانحہ ہے، جو ہمیشہ لہو کے آنسو رُلاتا رہے گا۔ اس سانحے نے علامہ اقبال کا خواب چکنا چور کر دیا، خواب سے پیدا ہونے والی حقیقت خواب ہو کر رہ گئی تو مشیر کاظمی پکار اٹھے۔

پھول لے کر گیا آیا روتا ہوا
بات ایسی ہے کہنے کا یارا نہیں
قبر اقبال سے آ رہی تھی صدا
یہ چمن مجھ کو آدھا گوارا نہیں
شہر ماتم تھا اقبال کا مقبرہ
تھے عدم کے مسافر بھی آئے ہوئے
خون میں لت پت کھڑے تھے لیاقت علی
روح قائد بھی سر کو جھکائے ہوئے
کہہ رہے تھے سبھی کیا غضب ہو گیا
یہ تصور تو ہرگز ہمارا نہیں

سقوطِ ڈھاکہ کے 53 برس بعد جب ہم ماضی کی جانب دیکھتے ہیں تو اس سانحے سے ہماری اشرافیہ نے سبق سیکھنے کے بجائے اسے ذہنوں سے محو کرنے کی مشق ستم جاری رکھی آج نسل نو کو اس سے آگہی ہی نہیں۔ اچھی لیڈر شپ کا کمال یہ ہوتا ہے کہ وہ بڑے سے بڑے سانحے کو بھی دل گداز جذبوں کے ساتھ ہم آہنگ کر کے آفاقی بناتی اور مقتل میں بہنے والے خون سے نئی دنیا کشید کرتی ہے۔

اشرافیہ سے تو یہ نہ ہوا البتہ اہل فکر و نظر نے عوامی احساسات کی ترجمانی اپنے اشعار کے ذریعے کر کے اس سانحے کی سنگینی کو اجاگر کیا جی چاہا کہ انہی کی زبانی اس دل فگار سانحے کی یاد تازہ کی جائے۔ سو ذیل کا احوال انہی کے کلام کے تناظر میں ملاحظہ کیجیے۔ فیض احمد فیض پکار اٹھے ”ہم کہ ٹھہرے اجنبی، اِتنی مداراتوں کے بعد ۔ پھر بنیں گے آشنا، کتنی ملاقاتوں کے بعد ۔ کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار۔ خُون کے دھبّے دُھلیں گے، کتنی برساتوں کے بعد ۔ ناصر کاظمی کو سقوطِ ڈھاکہ نے ہسپتال پہنچا دیا۔ وہ یوں ماتم کُناں نظر آئے۔ ؎“ یہاں تک آئے ہیں، چھینٹے لہو کی بارش کے۔ وہ رَن پڑا ہے، کہیں دوسرے کنارے پر۔ ”

یادوں کے دھندلکے میں وہ یہ کہتے نظر آئے ”جنّت ماہی گیروں کی۔ ٹھنڈی رات جزیروں کی۔ سبز، سنہرے کھیتوں پر۔ پھواریں سُرخ لکیروں کی۔“

احمد ندیم قاسمی کا قلم نوحہ خواں ہوا۔ ”مَیں روتا ہوں۔ مَیں روتا ہوں۔ اے ارضِ وطن۔ مَیں روتا ہوں۔ المیوں کی، تانبے کی طرح تپتی ہوئی زرد فصلوں کے آئینوں میں۔ جب خُود کو مقابل پاتا ہوں۔ مَیں روتا ہوں۔ مَیں جب بھی اکیلا ہوتا ہوں۔ مَیں روتا ہوں۔ اے ارضِ وطن مَیں روتا ہوں۔“

اختر لکھنوی، جنہوں نے پہلی ہجرت بھارت سے ڈھاکہ کی طرف کی اور پھر دوسری ہجرت ڈھاکہ سے کراچی کرنی پڑی، ان کے بقول۔ ”دو نسلوں کی کشتی تھی، وہ پچھلے دنوں جو ڈوب گئی۔ بھیگے جسموں والو! لگے گا تم کو سنبھلتے وقت بہت۔“ پھر رِستے ہوئے زخموں کو کچھ اِس طرح دکھایا ”مفتوح ہے، پامال ہے، تاراج ہے ڈھاکہ۔ دشمن نے شکنجوں میں کَسا، آج ہے ڈھاکہ۔“

جلیل عالی نے سادہ الفاظ میں کہا۔

اس دن ایسی سرخی تھی اخباروں میں
گونگے ہو گئے شہر کے سارے ہاکر بھی

نصیر ترابی نے جو کہا جگر خراش نوحے سے کم نہیں۔ ”وہ ہم سفر تھا، مگر اُس سے ہم نوائی نہ تھی۔ کہ دھوپ چھاؤں کا عالم رہا، جدائی نہ تھی۔ نہ اپنا رنج، نہ اوروں کا دُکھ، نہ تیرا ملال۔ شبِ فراق کبھی ہم نے یوں گنوائی نہ تھی۔ محبّتوں کا سفر، اِس طرح بھی گزرا تھا۔ شکستہ دل تھے مسافر، شکستہ پائی نہ تھی۔ عداوتیں تھیں، تغافل تھا، رنجشیں تھیں بہت۔ بچھڑنے والے میں سب کچھ تھا، بے وفائی نہ تھی۔ کبھی یہ حال کہ دونوں میں یک دِلی تھی بہت۔ کبھی یہ مرحلہ جیسے کہ آشنائی نہ تھی۔

مجید امجد نغمہ خواں ہوتے ہیں۔ ”پھولوں میں سانس لے کہ برستے بموں میں جی۔ اب اپنی زندگی کے مقدّس غموں میں جی۔ جب تک نہ تِری فتح کی فجریں طلوع ہوں۔ بارود سے اَٹی ہوئی اِن شبنموں میں جی۔ حبیب جالبؔ نے اس المیے میں ہونے والی غارت گری کی عکّاسی کی۔“ ہریالی کو آنکھیں ترسیں، بگیا لہو لہان۔ پیار کے گیت سناؤں کس کو، شہر ہوئے ویران۔ ”

امجد اسلام امجد نے اعتراف کیا۔ ”ہم گناہ گار ہیں۔ اے زمینِ وطن۔ ہم تیرے دُکھ سمندر سے غافل رہے۔ تیرے چہرے کی رونق دھواں ہو گئی۔ اور ہم رہینِ حدیثِ غمِ دل رہے۔ ظلم کے رُو برو لب کُشائی نہ کی۔ اِس طرح ظالموں میں بھی شامل رہے۔ حشر آور دِنوں میں جو سوئے رہے۔ ہم وہ بے دار ہیں۔ ہم گنہگار ہیں۔ اے زمین وطنِ۔ ہم گنہگار ہیں

ڈاکٹر فخر عباس نے الم ناک منظر کی روداد اس طرح بیان کی۔ ”جو کام ہوا، ناپاک ہوا۔ دھرتی کا سینہ چاک ہوا۔ وہ پیار نہیں ہے بانہوں میں۔ وہ گیت نہیں ہیں راہوں میں۔ اب ایک نہ ہو گا صدیوں میں۔ جب دیس بَٹا، دو ٹکڑوں میں۔“ محمّد اظہار الحق بتاتے ہیں کہ ہم کیسے کھائی میں گرے۔ ”سر پر کتنے ہی لڑھکتے ہوئے سنگ، آہ! گرے۔ ہم جو چوٹی پہ تھے، کس کھائی میں ناگہاں گرے۔ دل دہکتا ہے تِرے درد کے ہالے کی طرح۔ ایسا لگتا ہے کہ سینے میں شبِ ماہ گِرے۔ قربتیں، حوصلے، رگ رگ میں مچلتا ہوا خون۔ ایک اِک کر کے زمیں پہ مِرے بدخواہ گِرے۔“

نجف علی شاہ بخاری نے دو مصرعوں میں پورے سانحے کی تاریخ سمیٹ دی۔ ”دولخت ہوا ہوں، کبھی تنظیم ہوا ہوں۔ مَیں منفی رویّوں سے ہی تقسم ہوا ہوں۔“

سقوطِ ڈھاکہ کا یہ سبق ہے کہ عدم مفاہمت اور دوسروں کے مینڈیٹ کا احترام نہ کرنا ملک کو دولخت کرنے کا سبب بنتا ہے۔ پاکستان دولخت کرنے میں بھٹو، یحییٰ اور مجیب، سب نے اپنا کردار ادا کیا لیکن شکست درحقیقت صرف اور صرف ملک و قوم کا مقدر ٹھہری۔ ذوالفقار علی بھٹو کا پولینڈ اور دیگر ممالک کی جنگ بندی کی قرارداد طیش میں پھاڑنا اور اجلاس سے واک آؤٹ کرنا آج تک سمجھ سے بالاتر ہے کیونکہ اگر وہ ایسا نہ کرتے تو امید تھی کہ چین اور دیگر عالمی طاقتوں کے دباؤ سے اقوام متحدہ جنگ بندی کے احکامات جاری کر دیتی تاہم قرارداد پھاڑنے کے 2 دن بعد ہی جنرل نیازی نے ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں ہتھیار ڈال دیے۔ پاکستانی تاریخ کے اس سیاہ باب کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ آج پاکستان پھر اسی طرح کے حالات سے دوچار ہے۔ دشمن طاقتیں پاکستان کے خلاف سازشوں کے جال بن رہی ہیں لیکن ایسے کڑے وقت میں بھی حکمران اور سیاستدان اقتدار اور ذاتی مفادات کی جنگ میں مصروف ہیں جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ انہیں ملکی سلامتی سے غرض نہیں۔ افسوس کہ سقوط ڈھاکہ کے 53 سال بعد بھی ہم اپنی سمت طے نہیں کرسکے کہ کرنا کیا ہے۔ اللہ حکمرانوں کو عقل ِ سلیم دے۔ ہمیں کوئی دوسرا سقوط دیکھنے کا یارا نہیں۔ کمزوروں اور بے نواؤں کو ان کا حق دیا جائے، تاکہ پھلا پھولا رہے یہ چمن میری امیدوں کا۔

Facebook Comments HS