سانحہ آرمی پبلک سکول
آج کے اس دردناک کالم کا آغاز ملک کے نامور شاعر جناب جلیل عالی کے اس شعر سے جو خاص 16 دسمبر کی مناسبت سے انہوں نے تحریر کیا۔
اس دن ایسی سرخی تھی اخباروں پر
گونگے ہو گئے شہر کے سارے ہاکر بھی
16 دسمبر کو نہ جانے کن کن حوالوں سے یاد کیا جائے سقوط مشرقی پاکستان یا سانحہ اے پی ایس سے۔ 1971 میں میرا ملک دولخت ہوا تو ہم نے اس سانحے سے کچھ نہ سیکھا۔ 2014 میں معصوم کلیوں کو خون کے دریا میں نہلا دیا گیا اتنے معصوم اور چھوٹے بچوں کا قتل عام شاید ہی کہیں انسانی تاریخ میں ملتا ہو جس کی بھیانک تاریخ پشاور میں رقم کی گئی۔
بچہ سکول جائے اور پھر واپس نہ آئے
خدا کرے ایسا دن پھر کبھی نہ آئے
میں اس سانحہ کا ذمہ دار صرف ارباب اختیار کو قرار نہیں دیتا بلکہ اس انسانیت سوز ظلم کا ذمہ دار اپنے سمیت ہر ذی شعور انسان کو قرار دیتا ہوں جو ہر سانحہ کے بعد دو چار دن کے غم کا پرچار کر کے پھر اپنی اپنی راہ ہو جاتے ہیں اور اس بات کا خیال کیے بغیر کہ یہ آگ ایک دن ہمارے گھروں تک بھی پھیلے گی رات گئی بات گئی کی طرح قصہ ماضی کا حصہ بنا دیتے ہیں۔ انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ اور سماجی جانور کا درجہ اس لیے نہیں دیا گیاکہ وہ اپنی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کھو بیٹھے اور جانوروں کی طرح زندگی کا مقصد صرف اور صرف کھانا سونا اور اپنی آسائشوں کو بنا لے بلکہ اسے اپنے سماج کی بہتری کے لیے بہتر کردار ادا کرنا چاہیے۔ جب عوام الناس کے کردار کی بات آتی ہے تو عوام اپنا کردار بھول کر سارا ملبہ حکومت پر ڈال دیتے ہیں جبکہ حکومت ہمیشہ عوام کی نا اہلی سے اپنے مفادات حاصل کرنے میں لگ جاتی ہے۔ ایسے سانحوں کی ذمہ داری متاثرین پر بھی عائد ہوتی ہے کیونکہ وہ بھی دلبرداشتہ ہو کر اپنی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کرتے ہیں۔ جبکہ ان کی سب سے اہم ذمہ داری یہ بنتی ہے کہ تمام متاثرین اپنا اکٹھ بنا کر تمام مسائل بالائے طاق رکھ کر اس سانحے کے خلاف کھڑے ہو جائیں۔ لیکن بدقسمتی کا عالم یہ ہے کہ متاثرین سانحہ کے ذمہ داروں کا گریبان پکڑنے کے بجائے آپس کی چپقلشوں میں مصروف عمل ہو جاتے ہیں۔ اس کالم سے میرا مقصد ہرگز بھی کسی انسان کی دل آزاری نہیں ہے بلکہ ہمارے بے حس معاشرے کا اصل چہرہ عیاں کرنا ہے۔
اب تو یہ حالت ہو گئی ہے اتنے سانحوں کے بعد اب تو یہ اک معمولی سی باتیں لگتی ہیں لیکن اس بات سے ہرگز جان خلاصی نہیں کرنی چاہیے کہ بحیثیت ایک شعوری سماج وہ دن دور نہیں جب ہماری یہ بے حسی ہمارے ہی گلے پڑی ہو گی۔
آج سانحہ پشاور کو گزرے دس برس بیت گئے لیکن ہماری اجتماعی طور پہ بے حسی کا یہ عالم ہے کہ ان دس برسوں میں ہم دہشتگردی کے خلاف کوئی ٹھوس حکمت عملی نہیں بنا سکے۔ کیونکہ ہم فطرتاً بے حس ہو چکے ہیں اور ہم سال میں کئی دفعہ اس جیسے کئی سانحوں کی تاک میں رہتے ہیں تاکہ اک ہنگامہ برپا ہو اور ہمارے جمودی بدنوں میں ہلچل پیدا ہو۔ انتہائی معذرت کے ساتھ اسے میں غم نہیں جشن کہوں گا، میں اسے عقیدت نہیں طوفان بدتمیزی کہوں گا جو ہمارے مین سٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا پہ نظر آتا ہے جو ننھے شہیدوں کی لاشوں پہ نغمے اور ویڈیو گرافی کرتے نظر آتے ہیں۔ جو ان ماؤں کے زخموں پہ نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ خدارا اب بھی وقت ہے کہ ہم اجتماعی طور پر اپنے گریبانوں میں جھانکنے کی تکلیف کر لیں اس سے پہلے کہ خدا نہ کرے کہ ہر گھر سے معصوم کلیوں کے لاشے نکلنے شروع ہو جائیں۔ جب تک نیشنل ایکشن پلان پہ عمل درآمد نہیں ہوتا اس وقت تک دہشتگردی پہ قابو نہیں پایا جا سکتا۔
فقط باتیں اندھیروں کی، محض قصے اجالوں کے
چراغ آرزو لے کر نہ تم نکلے نہ ہم نکلے

