پاکستان کی اسلامی شناخت اور سانحہ مشرقی پاکستان کا ایک تنقیدی جائزہ


پاکستان کی ہیئت مقتدرہ نے کثیر اللسان اور متعدد نسلی گروہوں کی حامل پاکستانی ریاست کو متحد اور یکجا رکھنے کے لئے ہی نہیں، بھارت کی غالب ہندو اکثریت کے مقابلے میں پاکستان کی شناخت کو قوی تر بنانے کے لیے بھی، اسلام کو ہی استعمال کرنے کی پالیسی شروع سے جاری رکھی ہے۔ لیکن اس عمل میں اسلامی بھائی چارے، مساوی حقوق، انصاف کی بلا تفریق فراہمی، ایک دوسرے کے لئے ایثار، اور معاشی و سماجی ترقی کے یکساں مواقع کی فراہمی میں اسلامی اصولوں کو بری طرح فراموش کر دیا گیا اور صرف اسی بات پر اکتفا کیا گیا کہ اسلام کے نام پر پاکستان کے تمام نسلی گروہوں کو ایک وحدت میں اکٹھا رکھا جائے۔

دور اندیشی سے عاری اس پالیسی نے دنیائے اسلام کی سب سے بڑی ریاست کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا۔ آج بھی پاکستان کے راہنما اور پالیسی میکرز پاکستان کے تشخص اور شناخت کو قوی تر کرنے کے لئے مذہبی جذبات کو بطور ہتھیار استعمال کر رہے ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ ہم اب بھی تاریخ سے کچھ سبق نہیں سیکھ رہے ہیں اور طاقتور طبقات، حلقے اور ادارے کمزوروں پر من مانے فیصلے مسلط کر رہے ہیں۔ اور ہمارے ملک میں صوبائی، لسانی، معاشی اور سماجی تفریق و خلیج دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔ منافقت اور خود غرضی میں روا رکھی جانے والی ان پالیسیوں نے پاکستان کو داخلی سطح پر مضبوط کرنے کی بجائے کمزور کیا ہے۔ جس کی ایک واضح مثال یہ ہے کہ بنگلہ دیش کے ساتھ جنگی جرائم میں ملوث افراد پر مقدمات نہ چلائے جانے کے معاہدے کے باوجود اس نے 1971 میں پاکستان کی حمایت کرنے والے بنگالیوں کو پے در پے پھانسیاں دیں جب کہ ہم اپنے داخلی مسائل یا روایتی بے حسی کی وجہ سے حسینہ واجد کی حکومت کے خلاف مناسب احتجاج بھی ریکارڈ نہ کروا سکے تاآنکہ دختر مجیب شیخ حسینہ واجد خود مکافات عمل کا شکار نہ ہو گئی۔ جبکہ ترکی سمیت کئی ممالک اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے اس سلسلے میں ہونے والی غیر منصفانہ پھانسیوں کے خلاف آواز بلند کی تھی۔

پاکستان اگست 1947 میں ایک آزاد ریاست کے طور پر وجود میں آیا۔ اس وقت سے لے کر آج کے دن تک اس کے اداروں، بالخصوص فوج اور انٹیلی جنس سروسز جیسے قومی و دفاعی اداروں نے مذہب کی بنیاد پر پاکستان کے قومی تشخص کی تعمیر میں اہم کردار ادا کیا۔ خصوصاً یہ تبدیلی 1971 میں لڑی جانے والی مشرقی پاکستان کی جنگ اور اس کے بعد اس وقت رونما ہوئی جب ہماری دفاعی اسٹیبلشمنٹ نے ”اسلام پسند“ کی اصطلاح کا استعمال شروع کیا اور اسلام پسند گروہوں کی مدد سے ان سیکولر مگر منتخب راہنماؤں کو اقتدار سے دور رکھا جنھیں بنگالی بولنے والی پاکستانی آبادی کی واضح حمایت حاصل تھی۔ وہ راہنما بنگالی بولنے والوں ہی کے منتخب کردہ تھے۔ نتیجتاً بنگالیوں نے بغاوت کر دی جسے پاکستانی فوج نے بے رحمانہ طریقے سے کچل ڈالا۔ 16 دسمبر 1971 میں پاکستان دو لخت ہوا اور ”بنگلہ دیش“ کے نام سے ایک آزاد ملک معرض وجود میں آ گیا۔ آزادی کے بعد پاکستان کے مقبول ترین بنگالی سیاسی راہنما حسین شہید سہروردی نے ایک متبادل حکمت عملی تجویز دی۔ وہ پاکستان کے وزیر اعظم بھی رہے لیکن بعد ازاں انھیں ”سول ملٹری امتزاج“ نے اقتدار سے نکال باہر کیا، سہروردی کی سیاست پر ایوب خان نے پابندی عائد کر دی تھی۔ انھوں نے پاکستان کے نظریاتی ریاست ریاست ہونے کے تصور کو ہی چیلنج کر دیا تھا۔ سہروردی نے کہا تھا ”نظریے پر زیادہ زور دینے اور اس پر اصرار کرنے سے پاکستان کے اندر تقسیمی اور گروہی جذبات زندہ رہیں گے۔ وہ جذبات جن کے باعث آزادی سے قبل پورا برصغیر تقسیم کے عمل سے دوچار تھا“ ۔ وہ چاہتے تھے کہ پاکستان کو ایک ایسی قومی ریاست سمجھا جائے جہاں حکومت اور عوام کے درمیان ایک پائیدار تشخص یا شناخت موجود رہے۔ اور اس تشخص یا شناخت کا مآخذ عوام کی رائے، خواہش یا رضا ہو یعنی سیاسی اور جمہوری عمل کے نتیجے میں پاکستان کی پارلیمنٹ کو پالیسی سازی کا اختیار تفویض ہو۔ سہروردی کا یہ بھی موقّف تھا کہ پاکستان ”پان اسلام ازم“ کی ناقابل عمل سوچ کو اپنا کر کوئی فائدہ نہیں حاصل کر سکتا تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ پاکستان کو خفیہ کارروائیاں کرنے کی بجائے عوام کو اپنے غیر ملکی تعلقات میں کارفرما منطق سے آگاہ کرے اور پوری دنیا میں پاکستان جس ملک کے ساتھ بھی اتحاد کرے، حکومت کی سر توڑ کوشش ہونی چاہیے کہ اسے عوامی حمایت حاصل ہو جائے۔ لیکن پاکستان میں ایوب خان کی سوچ ہی کامیاب و کامران رہی اور پاکستان کی فوج نے اپنا سارا وزن نظریاتی ریاست کے تصور کے پلڑے میں ڈال دیا۔ اپنی حکومت کے خلاف کئی ماہ پر محیط متشدّد احتجاجی مظاہروں کے بعد مارچ 1969 میں ایوب نے عہدہ صدارت سے استعفیِ دے دیا۔ ایوب خان کے اپنے بنائے ہوئے 1962 کے آئین کے مطابق ان کے مستعفی ہو جانے کے بعد صدارتی اختیارات قومی اسمبلی کے سپیکر کو منتقل ہونا تھے جو ایک بنگالی تھا۔ لیکن انھوں نے اختیارات یحییٰ خان کو منتقل کر کے ملک کو دوبارہ مارشل لاء کے حوالے کر دیا جو کسی آئین کے بغیر محض فرامین کے ذریعے ملکی نظم و نسق چلانے لگے۔

جنرل یحییٰ کے وزیر اطلاعات جنرل شیر علی خان نے اسلامی سیاست تخلیق کرنے اور یہ باور کرانے کے لئے باقاعدہ پراپیگنڈا مہم چلائی کہ ”اسلام خطرے میں ہے“ اس نے ملک کو دو گروہوں میں تقسیم کر دیا۔ ایک گروہ اسلام پسندوں پر مشتمل تھا اور دوسرے میں کمیونسٹ، سوشلسٹ اور سیکولر عناصر تھے۔ یہ بھی یاد رہے کہ اس دور میں یحییٰ خان اور شیر علی خان جیسے زیادہ تر سینئر فوجی افسران برطانویوں کے تربیت یافتہ تھے اور مذہبی شعائر کا بالکل خیال نہیں رکھتے تھے۔ لیکن اس کے باوجود فوج کی ہائی کمان میں بھی ”نظریہ پاکستان“ اور ”اسلام کی شان و شوکت“ یا ”اسلام کا تزک و احتشام“ جیسی اصطلاحات کا استعمال روز بروز بڑھ رہا تھا۔ شیخ مجیب الرحمان کے ایک قریبی ساتھی اور بعد میں بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ بننے والے ڈاکٹر کامل حسین کے بقول جب یحیی خان نے مذاکرات کے لئے عوامی لیگ کے راہنماؤں کا استقبال کیا تو انھوں نے ہاتھ میں وہسکی کا ایک بڑا گلاس تھام رکھا تھا۔ یحییٰ نے مجیب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ”ہم سب کو چاہیے کہ اسلام کی شان و شوکت اور پاکستان کی سالمیت کے لئے مل کر کام کریں۔“ ڈاکٹر حسین ششدر رہ گئے کہ ہاتھ میں وہسکی کا گلاس تھام کر خدمت اسلام کی ترغیب دی جا رہی تھی حالانکہ اسلام میں شراب کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔

جماعت اسلامی و دیگر چھوٹی بڑی اسلامی جماعتیں جنھیں آج تک عوام نے پارلیمنٹ میں ایک درجن سے زیادہ کبھی نشستیں نہیں دیں کا دعویٰ تھا کہ پاکستان کو بے دین اشتراکیوں اور سیکولر عناصر کی طرف سے شدید خطرات لاحق ہیں۔ خفیہ ایجنسیوں نے مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والے علماء کو آمادہ کیا کہ وہ ایک ایسے مشترکہ فتوے پر دستخط کر دیں جس میں سوشلزم اور سیکولرازم کو کفر قرار دیا گیا ہو۔ اس عمل سے مذہبی بنیاد پرستی اور جدیدیت کے درمیان کشمکش کا آغاز ہوا جس کے بڑے اہداف عوامی لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی تھے۔ اوّل الذکر کا دعوی تھا کہ وہ سیکولر جماعت ہے اور جب کہ آخر الذکر سے منسلک لوگ اسلامی سوشلزم کا پرچار کر رہے تھے۔ 1947 میں پاکستان کی فوج میں صرف ایک فیصد بنگالی تھے۔ 1960 کی دہائی تک یہ تناسب صرف 7 فیصد تک بڑھایا جا سکا۔ افسروں میں یہ تناسب 7 فیصد سے بھی کم تھا۔ اسی طرح پاکستان کی سول بیوروکریسی میں بھی بنگالی افسران کی تعداد مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والے افسران کے مقابلے میں کہیں کم تھی۔ 1966 میں پاکستان کے سرکاری ملازمین کی کل تعداد ایک لاکھ چودہ ہزار دو سو تین تھی۔ ان میں صرف ستائیس ہزار چھ سو اڑتالیس کا تعلق مشرقی پاکستان سے تھا۔ اگرچہ ملکی زر مبادلہ کے حصول میں بڑا حصہ مشرقی پاکستان کا تھا۔ تاہم مرکز کی طرف سے کی جانے والی سرمایہ کاری میں اسے مغربی پاکستان کی نسبت کم حصہ ملتا تھا۔ 1969۔ 70 میں مغربی پاکستان کی فی کس آمدنی مشرقی پاکستان سے 61 فیصد زیادہ تھی۔ مشرقی پاکستان مشتعل تھا لیکن نوآبادیاتی گھمنڈ اور تکبر کے حامل مغربی پاکستانی افسران ان جذبات کی گہرائی کو سمجھنے سے قاصر رہے۔ پاکستان کی حکومت میں بنگالی اکثریت کو قائدانہ کردار ادا کرنے کی اجازت دینے پر کوئی بھی رضا مند نہیں تھا۔

ایک امریکی سفارت کار نے اس صورتحال کا ادراک کیا اور نومبر 1969 میں اپنا مکتوب واشنگٹن بھجوایا جس میں اس نے لکھا ”انتہائی حساس اور باریک مشاہدہ احتجاج کی اس زیریں رو کی نشاندہی کرتا ہے جو مشرقی پاکستان میں دوڑ رہی ہے۔ بنگالیوں کے خیال میں جاگیرداروں، سول بیوروکریسی اور فوج پر مشتمل مغربی پاکستان کی اشرافیہ بنگالیوں کی برتری قبول کرنے کی بجائے پاکستان کو ٹوٹتا دیکھ سکتی ہے۔“ مذہب کا سیاسی استعمال کرنے والی پاکستان کی اس سہ تکونی اشرافیہ کے رویّے جوں کے توں قائم ہیں۔ متحدہ پاکستان کی صورت میں بہت ممکن تھا کہ ہمیں نو آبادیاتی روّیوں کی حامل اشرافیہ یا بدمعاشیہ سے نجات مل جاتی جو پاکستان کے ٹوٹنے کے بعد اور زیادہ مضبوط ہو کر پاکستان کے باقی ماندہ عوام پر جونکوں کی طرح مسلط ہے۔

Facebook Comments HS