راشد سیال: ایک تعزیت نامہ


تعزیت نامہ تو مر جانے والوں کے لیے لکھا جاتا ہے۔ جانتا ہوں کہ سب سوگوار ہیں۔ اہل خانہ بھی، دوست احباب بھی۔ سوگ، رنج، غم، الم، دکھ، افسوس اور ایسے سارے مترادفات ان کے نقصان سے کم ہیں جو تمہارے اچانک جانے کے بعد لاحق ہیں

مگر وہ فنکار جو اپنے انمٹ قلمی نقوش چھوڑے، اس کے قلم کے نقش پل پل ہمارے ساتھ ہوں اور اپنے فن کے ذریعے مسلسل ہم کلام ہو، اسے آخر جدا کیوں کر سمجھا جائے تو ڈئیر راشد سیال تم اب بھی ہمارے ساتھ ہو۔

مجھے معلوم ہے محمد مختار علی بہت مغموم ہے۔ مختار کا یار بے ریا چلا گیا ہے۔ مختار علی ہی تو راشد سیال سے ہماری ملاقات کا وسیلہ بنا اور بنتا رہا۔ سفر ہو یا قیام، دونوں اکٹھے نظر آتے اور یہ ملاقاتیں صحبتیں نشستیں طویل عرصہ پہ محیط ہیں، راشد سیال اور مختار علی میں ذہنی و فکری ربط، مزاج فہمی ایسی تھی کہ ایسی دوستی کی آرزو کی جا سکتی ہے مگر کیا ستم ہے کہ ہم ان دوستوں کو اکٹھا نہیں دیکھ سکیں گے۔

دو تین ماہ قبل استاد محترم انور جمال صاحب نے یاد کیا اور ہم راشد سیال کے دفتر نزد پل شوالہ گئے۔ امر بلال بھی اس محفل میں شریک تھے۔ کیا بے پناہ خوب صورت گفتگو ہوئی، راشد سیال اور انور جمال صاحب کے مکالمہ نے مجھ ایسے جامد ذہن کے لیے بھی عرفان کے کئی روشن دریچے وا کیے۔ شاید ایک ڈیڑھ ماہ پہلے انور جمال صاحب اور مختار علی کی تحریک پر شہر کی کثیف آب و ہوا سے باہر نکل کر نہر کنارے ملتان کے مخصوص ناشتہ اور اس سے بڑھ کر علم افروز مکالمہ میں شرکت کا جو موقع ملا اور اس محفل میں راشد سیال خوب چہکے۔ ان کی گفتگو آج بھی ذہن میں تروتازہ ہے۔

راشد سیال کی گفتگو ایک سحر تھا جس میں استفساری کیفیت ہوتی تھی۔ وہ اپنے سوالوں سے گفتگو میں رنگ بھرتا تھا۔ مذاہب، مذہبی اداروں، معاشرتی رواجوں اور ان رسومات و رسمیات میں پابند انسان کے دکھڑے اس کے سوالات تھے جن کا جواب بھی انہی سوالوں میں ہوتا تھا۔ اپنی باتوں میں وقفے وقفے سے ایسی لطیف حس مزاح کا اظہار کرتا کہ سب ہی کھلکھلا اٹھتے۔ اچھی شاعری کا دلدادہ تھا اور بلا کا سخن فہم۔ فن کاروں کی بے قدری کا نوحہ گر تھا۔ مجھے یاد ہے اسی ملاقات میں وہ اپنے شہر کے ایسے بڑے مجسمہ ساز صادق علی شہزاد کی آزادہ روی کو یاد کر رہا تھا جس کو ہم فراموش کرتے جا رہے ہیں جس کی وفات کے بعد اس کے تھوڑے بہت مجسمے تو آرٹس کونسل میں محفوظ رہے، باقی مجسموں کو (اس کے مکان کی فروخت کے بعد ) فحش و خلاف اسلام سمجھ کر سڑک پہ ٹکڑے ٹکڑے پھینک دیا گیا۔ اسی محفل میں غالب کے شعر ”لطافت بے کثافت جلوہ پیدا کر نہیں سکتی/ چمن زنگار ہے آئینہ باد بہاری کا“ پر دیر تک راشد سیال سر دھنتے رہے۔

ساری عمر فن خطاطی میں بسر کرنے والے راشد سیال فروری 1970 میں پیدا ہوئے۔ اوائل عمری سے ہی خوش نویسی کی طرف میلان پیدا ہوا۔ اپنے عہد کے معروف خطاط ظہور احمد آزاد سے اس فن کے اسرار رموز سیکھے۔ ان کے علاوہ استاذ شفیق الزماں خان اور استاذ خالد یوسفی جیسے جلیل القدر خطاط سے فیض حاصل کیا۔ یہ وہ دور تھا جب کمپیوٹر آنے سے پہلے اخبارات، رسائل اور کتب کے لیے کاتب بنیادی اہمیت رکھتا تھا۔ اخبارات میں کاتبین کا ایک پورا پینل ہوتا تھا اور کتابت کے لیے ایک بڑا کمرہ وقف کیا جاتا تھا۔ راشد سیال نے بھی اخبارات (آفتاب، سنگ میل، امروز، نوائے وقت وغیرہ ) سے بطور کاتب وابستہ ہو کر اپنا کیرئیر آغاز کیا۔ جب کمپیوٹر آنے کے بعد اخبارات میں خوش نویسی اور کتابت کا دور اختتام کو پہنچنے کے آثار پیدا ہوئے تو راشد سیال نے اس فن خطاطی سے تعلق کو پیشہ سے زیادہ اپنے شوق، لگن اور عشق میں بدل ڈالا اور یوں اس شعبہ میں اتنا آگے بڑھے کہ ان کا شمار پاکستان کے بڑے خطاط کے طور پہ ہونے لگا۔ راشد سیال کی وفات پر نسیم شاہد نے اپنے کالم میں لکھا ہے کہ ”کمپیوٹر کتابت میں انہیں حصہ ڈالنے کا موقع تب ملا جب انہیں کراچی کے ایک ادارے کی طرف سے خط راشد میں سافٹ وئیر بنانے کی پیش کش کی گئی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ابھی ان پیج نہیں آیا تھا۔ اس سافٹ وئیر کی وجہ سے راشد سیال کی شہرت دور دور تک پھیل گئی۔ یہی زمانہ تھا جب راشد سیال خط نستعلیق کے حوالے سے ایک جدت پسند خطاط کے طور پر پورے ملک میں متعارف ہوئے۔“

”خط راشد“ وہ منفرد خط ہے جسے راشد سیال نے وضع کیا، اپنے ایجاد کردہ خط راشد کے اصول و ضوابط و طریق پر کتاب بھی لکھی اور اب اس خط میں قرآن مجید لکھ رہے تھے۔ انہوں نے دو بار مکمل قرآن مجید خط نسخ میں لکھا اور اب خط راشد میں تیسری بار لکھ رہے تھے۔ ان کا تخلیقی وقت زیادہ تر قرآنی خطاطی میں گزرتا۔ وہ خود بھی بتاتے تھے کہ کم وبیش تین چار ہزار مساجد میں ان کی قرآنی خطاطی، اسمائے ربانی و اسمائے رسول کے نقش آویزاں ہیں۔ یہ اعزاز ان کی زندگی کا حاصل ہے۔

سر تا پا فنکار جو عاجزی میں ڈوبا ہوا اپنی گفتگو میں انسان دوستی کا درس دیتا تھا، بارہ دسمبر 2024 کو ہم سے وداع ہوتا ہے۔ اس دلگیر وفات پہ انور جمال صاحب نے کیا خوب صورت جملہ لکھا :

راشد سیال! تمہیں کینوس، قلم، روشنائی سلام کرتے رہیں گے۔
مجھے مختار علی کا یہ شعر یاد آتا ہے تو تعزیت کے سارے قرینے آنسوؤں میں ڈھل جاتے ہیں :

خوش نویسی کے سوا کچھ نہیں آتا ہم کو
ہم ترے نام کو لکھتے ہوئے مر جائیں گے

Facebook Comments HS