سانحہ گنانگر شانگلہ


میں نے کل اپنے جسم کو دشمن کی بے رحم گولیوں سے چھلنی ہوتے دیکھا۔ میں نے رات کی تاریکی میں بے بسی سے اپنی جان نکلتے دیکھی۔ میں نے پھر خون میں لت پت اپنی لاش کو دیکھا۔ میں نے اپنے آپ کو شہید ہوتے دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ خون میں لت پت میری لاش کو ہسپتال لے جایا گیا وہاں پر میرے زخموں کی مرہم پٹی کی گئی۔ پھر دیکھتا ہوں کہ مجھے غسل دیا جانے لگا اور پھر میں نے کفن میں اپنی لاش لپٹی دیکھی۔ مجھے سلامی دی گئی میرے تابوت پر پھول رکھے گئے میرا جنازہ پڑھایا گیا اور پھر مجھے دفن کرنے کے لئے گاؤں لے جایا جانے لگا۔ ایمبولینس کے آگے پیچھے پولیس موبائل دیکھیں۔ گھر پہنچتے ہی میں نے اپنی ماں کو اپنے لخت جگر کی جدائی میں روتے دیکھا۔ میں نے اپنے بچّوں یعنی یتیم بچوں کو بابا بابا پکارتے ہوئے روتے دیکھا۔ میں نے میری لاش کے سرہانے کھڑے اپنے بابا کی بی بسی کے آنسو دیکھے۔ میں نے اپنے بھائیوں کو اپنے دوست جیسے بڑے بھائی کی جدائی کے غم میں نڈھال دیکھا۔ پھر مجھے قبرستان لے جایا جانے لگا اور بالآخر مجھے دفنا کر تمام احباب واپس چلے گئے اور پھر میری موت پر تعزیت ہونے لگی۔ کسی نے میرے دشمن کو بددعائیں دیں تو کسی نے افسوس کا اظہار کیا اور یوں میرا قصہ زندگی شہادت کے تمغے کے ساتھ تمام ہوا۔

آخر میں ہوں کون؟

میں کالی شرٹ، خاکی پینٹ پہنے ہوئے خیبر پختونخوا پولیس کا وہ بہادر جوان ہوں جو روز اپنی شہادت اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے اور روز خود کو مرتے ہوئے دیکھتا ہے۔ ہاں میں ہوں بہادر کیونکہ روز روز شہید ہونا اور پھر اپنی لاش کو دفن ہوتے ہوئے دیکھ کر بھی جینے کی ایکٹنگ کرتا ہوں۔ خود اپنی لاش کو کندھا دینے کے بعد میں پھر اپنی ڈیوٹی انجام دینے اپنی سٹیشن آتا ہوں، میں تو بہادر ہوں لیکن دشمن بڑا کم ظرف ملا ہے، بڑا ڈرپوک اور بزدل دشمن ملا ہے جو رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مجھے نہتا جان کر جدید اسلحہ سے لیس ہو کر گیدڑ کی طرح جھنڈ میں آ کر مجھ پر وار کرتا ہیں اور پھر جن کی طرح غائب ہوجاتا ہے۔

کل رات بھی بزدل دشمن نے مجھے اکیلا دیکھ کر مجھے ASI محمد حسن خان اور HC نثار کی صورت میں اکیلا دیکھ کر مجھ پر حملہ آور ہوا اور مجھے شہید کر کے خود غائب ہو گیا اور بڑا کم ظرف دشمن ہیں روز مجھے مارنے کی نئی ترکیب ڈھونڈتے ہوئے بزدلی کی نت نئے مثال قائم کرتا ہے اور میں روز اپنے جنازے کو کندھا دیتے ہوئے بہادری کی داستانیں رقم کر رہا ہوں۔

مجھے تو آج تک پتہ نہیں چلا کہ میرا دشمن آخر ہے کون؟ اور مجھ سے کیا دشمنی ہیں؟ میں تو اپنے عوام کی جان و مال کی حفاظت پر معمور امن کا درس دیتا ہوا معصوم سی جان ہوں پھر مجھ سے بھلا وہ کیوں دشمنی کر رہا ہے۔ ہاں مجھے بس اتنا پتہ ہے کہ میرا دشمن اتنا کم ظرف ہے کہ ہمیشہ پیچھے سے وار کرتا ہے اور کبھی بھی سامنے آنے کی ہمت نہیں کرتا، میرا دشمن اتنا چالاک ہے کہ مجھے مارنے کے بعد جن کی طرح غائب ہونے کا ہنر رکھتا ہے جبکہ میں اس کو ڈھونڈ نکالنے کا سوچ بھی نہیں سکتا بس انتظار میں رہتا ہوں کہ پھر کب کیسے اور کہاں وہ مجھے مارے گا اور پھر مجھے اپنے جنازے کو کندھا دینا پڑے گا۔

لیکن اب میں تھک گیا، یہ روز روز اپنے جنازے کو کندھا دیتے ہوئے، خود کو مرتے ہوئے اب مجھ سے نہیں دیکھا جا رہا۔ وجہ یہ نہیں کہ میں کمزور ہوں، بس دشمن کی کم ظرفی کا جواب نہیں کیونکہ مجھے میری تربیت کم ظرفی پہ اتر آنے کی اجازت نہیں دیتی۔ مجھے تو جنگ بھی ظرف سے کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔

بھائی ASI محمد حسن خان اور بھائی HC نثار احمد کی شہادت سے شانگلہ پولیس اور عوام کو گہرا صدمہ ہوا ہے، اور ان دونوں کی جدائی سے پیدا ہونے والا خلا کبھی پر نہ ہو گا۔ لیکن ہم ان دونوں کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں ہونے دیں گے اور نہ ہمارے حوصلے پست ہوں گے اور انشاء اللہ اعلیٰ ظرفی اور ڈسپلن کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کو دن کے اجالے میں منہ توڑ جواب دیں گے۔ ہم نے دشمن کو یہ پیغام دینا ہے کہ اگر تم ہمیں مارنے کے بعد جن کی طرح غائب ہونے کا ہنر رکھتے ہو تو ہم بھی ڈسپلن میں رہتے ہوئے تمہیں ضرب لگانے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ اللّٰہ ہمارے دونوں بھائیوں کی شہادت قبول فرمائے اور زخمیوں کو کامل صحت سے نوازے۔ امین

Facebook Comments HS