نازیبا لیک ویڈیوز، انفرادی فعل، اجتماعی نقصان


پوری دنیا میں ٹیکنالوجی کی ترقی سے بہت سے مسائل کا حل ممکن ہوا ہے، وہیں کچھ ایسے آلات اور جدید ٹیکنالوجی بھی آئیں جس کے بہت سے نقصانات ایسے ہیں جو پورے معاشرے کو تباہ کرنے کے لیے کافی سمجھے جا رہے ہیں، ماہرین کے مطابق کسی بھی ٹیکنالوجی کا استعمال معاشرتی رویوں اور انسانوں کی ذاتی تعلیم و تربیت کے مطابق ہوتا ہے، خرابی ٹیکنالوجی میں نہیں انسانی رویوں اور اعمال پر منحصر ہے۔

جدید ٹیکنالوجی جس میں انٹرنیٹ، موبائل فونز اور کیمرا سر فہرست ہیں، جس نے پوری دنیا کو ایک گلوبل ویلج کا درجہ دے دیا ہے، ان ٹیکنالوجی کے سب سے خطرناک اثرات جنوبی ایشیائی ملکوں میں پڑ رہے ہیں، جن میں پاکستان اور ہندوستان نمایاں ہیں۔

پاکستان میں کیمرا موبائل فونز اور سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال نے بہت سے معاشرتی مسائل کو جنم دیا ہے، یہاں تک کہ ماہرین کے مطابق پاکستانی معاشرہ اپنی روایات اور ثفاقت کو کھو رہا ہے، مغربی معاشرتی اقدار بڑی حد تک پاکستان میں جڑیں پکڑ رہی ہیں، جس کی وجہ سب سے زیادہ متاثرہ فریق خواتین ہیں، جو مغرب میں خواتین کو حاصل آزادیوں کا مطالبہ یہاں پر کر رہی ہیں، وہ چاہتی ہیں کہ جس طرح کی انفرادی آزادی وہاں خواتین کو حاصل ہے وہ ہمیں بھی میسر ہو۔

مغرب میں موجود بوائے فرینڈ، گرل فرینڈ کلچر، SINGLE MOTHER (اکیلی ماں ) کا نظریہ اور جنسی معاملات میں ذاتی آزادی کے تصورات نے پاکستان میں خواتین کو سب سے زیادہ متاثر کر رکھا ہے، ساتھ ہی وہ پاکستانی معاشرے کی قدامت پسندی کو بھی ساتھ لے کر چلنا چاہتی ہیں، جس میں عورت کی عزت کو تمام معاملات سے اونچا سمجھا جاتا ہے۔

پاکستانی خواتین اس معاملے میں خود مغربی جنسی آزادی کے تصور کو اپنا رہی ہیں وہی وہ چاہتی ہیں کہ ان کے جنسی معاملات معاشرے کی نظر سے اوجھل رہیں، کسی کو ان کے ان اعمال کا علم نا ہو، جبکہ یہی وہ سوچ ہے جو آج کے پاکستانی معاشرے کی سب بڑی خرابی، مسئلہ یا تبدیلی سمجھی جا رہی ہے۔

ملک میں چند سالوں سے ایک نیا مسئلہ پیدا ہوا ہے، جو خواتین کی نازیبا اور جنسی لمحات کی ویڈیوز کا لیک ہونا ہے۔ حال ہی میں اسلام آباد کی ایک بڑی یونیورسٹی کی نوجوان طالبہ کی ویڈیو لیک کی گئی، جس پر بہت سے لوگوں کی جانب سے لڑکی کے کردار اور ان کے والدین کی تربیت کو نشانہ بنایا گیا، تو وہیں ایک طبقہ طالبہ کی سپورٹ میں آگے آیا اور اس کے فعل کو انفرادی عمل اور ذاتی زندگی قرار دیا، تنقید کرنے والوں نے لڑکی کو سپورٹ کرنے کا بھی مطالبہ کیا، ایک رائے یہ بھی سامنے آئی کی لیک ویڈیوز کو خواتین کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، اس میں سب سے بڑی وجہ اور خرابی آرٹیفشل انٹیلی جنس ٹیکنالوجی کی ہے۔ جبکہ تنقید کرنے والوں نے جنسی لمحات کی لیک ویڈیوز کو مغربی کلچر کی پیروی اور خواتین کی آزادی کے ساتھ جوڑا، یہ بھی کہا کہ ایسی خواتین خود کو مشہور کرنے کے لیے اپنی ایسی ویڈیوز لیک کر رہی ہیں۔

اسلام آباد یونیورسٹی کی طالبہ کی جنسی لمحات کی لیک ویڈیوز پر ان کی یونیورسٹی فیلو کا کہنا ہے کہ لیک ویڈیوز سے صرف ایک لڑکی کی بدنامی نہیں ہوتی، یہ ایک انفرادی فعل تو ضرور ہو سکتا ہے لیکن اس کے نقصانات خاندان، دوستوں اور اس سے منسلک اداروں کو بھی پہنچتے ہیں۔ اس وقت ہمیں اس لڑکی کی بہت فکر ہے، ہم اس کے ساتھ کھڑے ہیں اور اس تمام صورتحال میں غلطی ان لوگوں کی ہے جنھوں نے کسی کی ذاتی زندگی کی ویڈیوز کو لیک کیا ہے، ان لوگوں کو سزا ملنی چاہیے۔ لیک ویڈیوز آئی تو سب سے پہلے اس لڑکی کی یونیورسٹی کو ٹارگٹ کیا گیا۔ دوسری جانب یونیورسٹی میں پڑھنے والوں پر بھی اس واقعہ کا شدید ذہنی تناؤ پڑ رہا ہے۔

طالبہ کی لیک ویڈیو کے معاملے پر جہاں ان کا خاندان اور یونیورسٹی عتاب کا شکار ہے وہیں سب سے بڑا مسئلہ اس کے علاقے اور شہر والوں کو بھی سہنا پڑ رہا ہے، بہت سے لوگ طالبہ کی ویڈیو کو اس کے شہر کے نام کے ساتھ جوڑ کر سوشل میڈیا پر تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ جبکہ لوگوں کی جانب سے اپنی بچیوں کو اعلیٰ تعلیم کے لیے یونیورسٹی میں نا بھیجنے کے بھی باتیں سامنے آ رہی ہیں۔ سارے معاملے میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو کہتا ہے کہ یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے، یہاں جنسی عمل زنا ہے، جس کی سزا شریعت نے طے کر رکھی ہے، حکومت زنا کو روکے یہ اسلامی معاشرے کے تشخص کو تباہ کر رہا ہے، یہ طبقہ یہ بھی سمجھتا ہے کہ اگر ریاست اسلامی قوانین کی پاسداری اور اس پر عمل درآمد میں ناکام ہوتی ہے تو وہ خود سے اسلامی قوانین کا نفاذ کرنا ضروری سمجھتے ہیں، جس میں وہ اپنی عوامی عدالت لگا کر زنا کے مرتکب، مرد اور خاتون کو سرعام سنگسار کریں گے۔

پاکستان میں جنسی لمحات کی لیک ویڈیوز کا یہ مسئلہ سوشل میڈیا پر مشہور افراد میں بہت زیادہ پایا جا رہے، کئی خواتین کی لیک ویڈیوز روز کی بنیادوں پر آ رہی ہیں، جبکہ سارے معاملے پر حکومتی خاموشی اور اداروں کا غیر فعال ہونا خطرناک ہے، ریاست کی ذمہ داری ہونی چاہیے کہ وہ ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کو روکنے میں کردار ادا کرے، جبکہ سارے معاملے میں معاشرے کی بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ طے کرے کہ اسے کس قسم کی طرز معاشرت چاہیے، جہاں ایک طرف مغربی کی آزادی کا نعرہ تو وہیں اسلام کے فروغ کی بھی باتیں ہیں۔ آج ہمارے پاس موقع ہے کہ ہم یہ طے کر لیں کہ ہمیں اپنے لیے کس طرح کی آزادی اور کس قسم کا معاشرہ چاہیے، اگر ہم اسلامی ریاست ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں پھر ہمیں اسلامی قوانین پر بھی عمل یقینی بنانا ہو گا، اگر صرف زبانی کلامی اسلام کی باتیں کریں گے اور معاشرے میں مغربی آزادی کو فروغ دیں گے تو راستے میں لوگوں کی جانیں ہی ملیں گی، کیونکہ ہم بطور معاشرہ مغرب کو تسلیم نہیں کر رہے ہیں لیکن انفرادی عمل مغرب کی آزادی کی طرح کر رہے ہیں۔

Facebook Comments HS