نظریہ ارتقا، معاشرتی تبدیلیاں اور مصنوعی ذہانت کی خفیہ سازش


جب ہم تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں تو ہمیں یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ انسان نے صرف دھرتی، دریا، پہاڑ یا ستاروں پر ہی اجارہ داری قائم کرنے کی کوشش نہیں کی، بلکہ وہ یہ کوشش بھی کرتا رہا کہ ”انسانیت“ کی تعریف، بقاء اور رفتار کو بھی خالص سائنسی اصولوں پر سمجھا جائے۔ اٹھارہویں اور انیسویں صدی کی یورپی تہذیب میں جب طبیعیات، کیمیا، فلکیات اور ریاضی انسانی شعور کے آسمان پر نئے سورج طلوع کر رہے تھے، تب ہی سماجی علوم ان کی روشنی میں کسی چشمے کی طرح پھوٹ رہے تھے۔ اس علمی ہیجان میں ایک بے حد دل چسپ منظرنامہ دکھائی دیتا ہے : ”طبیعی علوم کے اُصول و ضوابط کو سماجی علوم پر منطبق کرنے کی بے تابی“ ۔

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ معاشیات، سماجیات یا سیاسیات کو محض ایسے اذہان نے ترتیب دیا جو ’بنیادی طور پر‘ ان کے آفاقی اصول خود گھڑ رہے تھے، تو معاف کیجئے گا، آپ مغربی سائنسی فکر سے نابلد ہیں۔ کیوں کہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ہمارے کئی محترم سماجی مفکرین اپنی علمی بنیادوں کی مستحکم کرنے کے لیے حیاتیات (بیالوجی) سے قرض لے رہے تھے، خود چاہے وہ اس کا باضابطہ اعتراف کریں یا نہ کریں۔

آئیے ذرا اس داستان کو آسان زبان میں سمجھیں جب سماج کو طبعی علوم کی کسوٹی پر پرکھا گیا۔

سترہویں صدی میں آنے والے سائنسی انقلاب نے یورپ کے دماغوں میں دنیا کو ایک مشینی نظام کے طور پر دیکھنے کا چلن پیدا کیا۔ گلیلیو، نیوٹن اور ہاروے نے بتا دیا تھا کہ نظامِ قدرت میکانکی اصولوں (قوانینِ حرکت و مادہ) کے تحت چلتا ہے۔ اس وقت یہ مفروضہ اپنے شباب پر پہنچ گیا جب مغربی سوچ کا دھارا اس سمت بہنا شروع ہوا کہ اگر ستاروں کی گردش، سیّاروں کی رفتار، روشنی کا شکستہ ہونا اور خون کی روانی کے مطلق ایسے آفاقی اصولوں کے تحت پیش گوئی کی جا سکتی ہے تو کیا سماج اس سے مستثنیٰ ہے؟ کیا انسان کا باہمی میل جول، آپسی تعلقات، اس کی سیاست اور معاشیات، حتیٰ کہ اس کے تمدنی ادارے بھی کسی ایسے ہی ’طبعی قوانین‘ کی پیروی نہیں کرتے؟

ابتدائی سماجی مفکرین کو یہ خیال مسحور کن لگا۔ گویا انسان صرف ’حیوانِ ناطق‘ ہی نہیں، بلکہ ’سماجی حیوان‘ بھی ٹھہرا جس پر قدرتی قوانین کی تقلید کے اطوار لاگو ہو سکتے ہیں۔ چنانچہ سیاسی معیشت دان (اقتصادیات کے ابتدائی ماہرین) ہوں، یا ابتدائی عمرانیات کے مفکرین، سب ایک نہج پر طبعی سائنس کے اثرات سے فیض یاب ہونے لگے۔

بائیولوجی کے سائے میں سماجی علوم کی پیدائش

انیسویں صدی کے وسط میں ڈارون کا نظریہ ارتقا (Theory of Evolution) سامنے آیا۔ اس نظریے نے نہ صرف حیاتیات، بلکہ سماجی سوچ کو بھی جھنجھوڑ دیا۔ ڈارون کے نظریے کا محور یہ تھا کہ انواع و اجناس وقت کے ساتھ قدرتی انتخاب (نیچرل سلیکشن) کے ذریعے تبدیلی کے مراحل طے کرتی ہیں۔ یوں حیات کو ایک مسلسل تبدیلی کے دھارے میں بہتا پایا گیا۔ لیکن سماجی مفکرین کو ڈارون کے نظریہ ارتقا میں جس خیال نے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ یہ تھا کہ ارتقا کوئی اچانک چھلانگ نہیں لگاتا بلکہ چھوٹے چھوٹے قدم لے کر نئی اشکال اور ڈھانچے مرتب کرتا ہے۔

سماجیات اور معاشیات کے ماہرین کے لیے یہ بڑا دلچسپ پہلو تھا۔ انہوں نے اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ جیسے قدرت میں انواع آہستہ آہستہ بدلتی ہیں، ویسے ہی معاشرے بھی بتدریج بڑھتے، بگڑتے اور بدلتے ہیں۔ ”ارتقائی سماجی“ نظریہ یہاں سے جنم لینے لگا کہ معاشرت یکایک انقلابوں سے کم، بلکہ بتدریج تبدیلی کے ذریعے زیادہ بدلتی ہے۔ یہ سوچ سیاسیات میں بھی سرایت کر گئی۔ گویا ”سماجی ارتقا“ کا ایک منظم تصوّر پیدا ہوا، جس کے تحت معاشروں، قوانین، اداروں اور معیشتوں کو زندہ اجسام کی مانند بڑھتا، پھلتا پھولتا، مرتّب ہوتا دیکھا جانے لگا۔

اس منطق کے خد و خال

تاہم یہاں ایک بڑے ابہام نے جنم لیا۔ ڈارون کا نظریہ تو خالص حیاتیاتی بنیاد رکھتا تھا، جس کے مطابق نسلوں کے جینیاتی تغیرات اور قدرتی انتخاب مل کر انواع میں بتدریج تبدیلی پیدا کرتے ہیں۔ سماجی سائنسدانوں نے اس کی انتہائی آسان تعبیر یہ نکالی کہ معاشرے میں بھی کچھ اسی قسم کا ’مسابقتی انتخاب‘ چلتا ہے۔ اب معاشی مسابقت کو قدرتی انتخاب سے تشبیہ دی جانے لگی۔ کہا گیا کہ بازاروں میں جو تاجر، جو فرم، جو خیال یا اختراع زندہ رہتی ہے وہ گویا ’فِٹ‘ ہونے کی بنیاد پر باقی رہتی ہے (گویا کسی بھی معاشرے میں پائے جانے والے کسی بھی عمل کو خواہ وہ اچھا ہو یا برا ایک جواز فراہم کر دیا گیا) ۔ کچھ نے اسے بڑھاوا دیا اور کہا کہ یہ سراسر ”بقاءِ اصلح“ کی مثال ہے۔ لیکن یہ استعارہ ناقص تھا، کیوں کہ قدرت میں خوراک محدود، فطری ماحول بے رحم اور جینیاتی تبدیلیاں اندھا دھند ہوتی ہیں۔ سماجی اور معاشی دنیا میں انسان پیداوار اور تقسیم کے نئے طریقے ایجاد کرتا رہتا ہے، ماحول کو بدلتا ہے، جینز کی بجائے خیالات کا تبادلہ کرتا ہے۔ یوں یہ مثال جتنی خوشنما نظر آتی تھی، اتنی ہی سطحی بھی تھی۔

یوٹیلٹی اور یوجینکس (Eugenics) کا دلچسپ مگر خوفناک قصہ

انسانی کردار اور سماجی برائیوں کے تدارک کے لیے کچھ لوگوں نے حیاتیاتی اصولوں کو نہایت جذباتی اور غیر اخلاقی حد تک استعمال کیا۔ مثال کے طور پر یوجینکس کا ظہور ہوا۔ یوجینکس دراصل ایک نظریہ تھا جس کے تحت انسانی نسل کو بہتر بنانے کے لیے ”انتخابی افزائش نسل“ (selective breeding) کا تصور ابھرا۔ یعنی اگر ہم جانوروں اور فصلوں کو بہتر کرنے کے لیے نسل کشی کے اصول استعمال کر سکتے ہیں تو انسانوں میں کیوں نہیں؟ یہ وہ بھیانک خیال تھا جس نے کئی سائنسدانوں، دانشوروں اور پالیسی سازوں کو مرعوب کیا۔

فرانسِس گیلٹن اور دیگر ماہرین نے اس بابت اصرار کیا کہ ذہانت، صلاحیت، کردار سب کچھ جینیاتی ہیں، بس انہیں بہتر بنانے کے لیے مناسب سماجی پالیسی کی ضرورت ہے۔ فطری قوانین کی بنیاد پر معاشرے کو تراشا جائے تو معاشی غربت، جرم، نفسیاتی امراض، سب ختم ہو جائیں گے۔ بالفاظِ دیگر ان فٹ یا مس فٹ افراد کی افزائشِ نسل کی صلاحیت دانستہ طور پر ختم کر کے ان کی نسل کشی کی جائے۔ مگر جلد ہی پتہ چلا کہ یہ خیالات جینیاتی سائنس کی بنیادی پیچیدگیوں کا ادراک کیے بغیر پروان چڑھے تھے۔ جینیات (Genetics) نے ثابت کیا کہ کسی ایک ”وصف“ کو آسانی سے ختم یا بہتر نہیں کیا جا سکتا، کیوں کہ جینیاتی وراثت بہت پیچیدہ شے ہے۔ لہٰذا یوجینکس ایک ڈراؤنا خواب ثابت ہوئی جس کے بھیانک نظارے ہمیں نازی جرمنی کی نسل کش پالیسیوں میں نظر آتے ہیں۔

اسی طرح ڈارون کے فلسفے کو توڑ موڑ کر کچھ حلقوں نے یہ استدلال کیا کہ اگر جینیاتی بنیاد پر کوئی انسانی گروہ بہتر یا کمتر ہے، تو سیاسی طور پر اپنے ’اعلیٰ نسل‘ ہونے کا دعویدار گروہ دیگر قوموں پر حاکمیت کا جواز رکھتا ہے۔ یوں فاشزم اور قوم پرستی نے حیاتیاتی بنیادوں پر نسل پرستی کو جنم دیا۔

ثقافتی ارتقا اور انسانی دماغ کی پیچیدگی

یہ سوال بہت اہمیت اختیار کر گیا کہ کیا ہر سماجی مسئلے کو جینیاتی تبدیلیوں سے سمجھا جا سکتا ہے؟ انسان کا دماغ بے شک جینیاتی عمل کا نتیجہ ہے، لیکن اس کا ثقافتی ارتقا اس قدر تیز رفتار ہے کہ جینیاتی تبدیلیاں اس کی گرَد بھی نہیں پا سکتیں۔ ہزاروں سال سے انسانی دماغ کی جسامت (تقریباً 1650 سی سی) میں کوئی تغیر نہیں آیا، مگر سماج کہاں سے کہاں پہنچ گیا! اس کی ٹیکنالوجی، اقدار، مذہب، سیاست، معیشت سب بدلتے رہے، مگر جینز تقریباً وہی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ثقافتی عناصر (یعنی علم، رسم و رواج، ادارے، قوانین) تیزی سے بدل کر انسانیت کو نئی صورت بخش سکتے ہیں۔ یہ تبدیلی حیاتیاتی ارتقا کی سست رفتار کے برعکس نہایت تیز ہے۔

اگرچہ ایک نئی لہر ”سوشیوبائیولوجی“ کے نام سے بھی اٹھی تھی، جس کے بانی ای او ولسن جیسے محققین نے دعویٰ کیا کہ سماجی phenomena کی تشریح جینیاتی بنیادوں پر کرنی چاہیے، لیکن ان کو وسیع پیمانے پر قبولیت نہیں مل سکی۔ نقادوں کا کہنا ہے کہ انسان کا سماجی ڈھانچہ، ثقافتی روایات، اقتصادی نظام، سیاسی فیصلہ سازی، سب مل کر اس کے اعمال کی صورت گری کرتے ہیں۔ صرف جین میں موجود کسی ”خود غرض جین“ یا ”ایپی جینیٹک قوانین“ کے ذکر سے آپ جرائم، جنگوں، معیشت کے اتار چڑھاؤ یا معاشرتی تنازعات کو سمجھنے سے قاصر رہیں گے۔

اس لیے اب تک کوئی ناقابلِ تردید ثبوت نہیں کہ معاشی عدم مساوات، نسلی امتیاز، عالمی حدّت، یا تعلیمی پسماندگی کسی واحد جینیاتی عنصر سے سمجھ آ سکے۔ سماجی سائنس اپنے روایتی طریقوں سے آہستہ آہستہ ہی سہی، مگر ان مسائل کو معاشی ڈھانچوں، سیاسی اداروں، ثقافتی اقدار اور تاریخی ارتقا کی روشنی میں دیکھ رہی ہے۔ البتہ یہ دعویٰ کرنا بھی غلط ہو گا کہ حیاتیات کا سماجی علوم سے کوئی لینا دینا نہیں۔ انسانی رویوں میں کچھ کردار جینیاتی رجحانات کا بھی ہو گا، مگر یہ شرح کتنی ہے؟ یہ بحث ابھی جاری ہے۔

مستقبل کا خوف

یہ کہنا بے جا نا ہو گا کہ حیاتیاتی سائنسز نے سماجی علوم کو نئی سمتوں کی طرف راغب کیا۔ کبھی یہ ایک دھوکے میں مبتلا کرتی دکھائی دیتی ہیں (جیسا کہ یوجینکس) ، تو کبھی شماریات اور ریاضیاتی اندازِ فکر کو پروان چڑھا کر حقیقت پسندانہ تجزیہ کی راہ دکھاتی ہیں۔ انسانی معاشرہ اپنی سرشت میں فقط جینیاتی کوڈ کی کہانی نہیں۔ انسان اپنی دانش، علم، اختراع، اخلاقی اقدار، اداروں، قوانین اور ثقافتی تغیرات کے ذریعے اپنی تقدیر کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

مستقبل میں کیا ہو گا؟ شاید جینیاتی تحقیق نئی راہیں کھولے، اور شاید سماجی سائنس کو بھی کچھ بنیادی حقائق از سر نو دریافت کرنا پڑیں۔ لیکن کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی۔ ہم بائیولوجی اور سماجی علوم کی پیچیدہ گتھیاں سلجھانے میں ابھی تک کامیاب نہیں ہو سکے، لیکن ایک نئی قوت بہت تیزی سے ہماری دنیا میں سرایت کر رہی ہے مصنوعی ذہانت۔ ذرا سوچیے اگر یوجینکس جیسے خوفناک نظریات، جو کبھی جینیاتی ’بہتری‘ کے نام پر متعارف کروائے گئے، اب ڈیٹا، الگورتھمز اور پیشگوئیوں کے ذریعے انسانوں کی نفسیات، معاشرت اور انفرادی کردار پر بلا قید و شرط فیصلہ سازی پر تُل جائیں؟ ہم جن نظریات کو ماضی میں ”سائنسی“ سمجھتے تھے، اب مصنوعی ذہانت انہیں نہایت سرعت اور باریک بینی سے ہر ذہن، ہر ثقافت، ہر طبقے پر آزما سکتی ہے۔

آج ہم محض اعداد و شمار اور سماجی ڈھانچوں کے ذریعے مستقبل کا حال بتانے کی کوشش کرتے ہیں، کل کو شاید یہ ’ذہین مشینیں‘ ہماری شخصیت کے مخفی ترین زاویوں، ہمارے حیاتیاتی رجحانات، ہمارے خفیہ ترین تعصبات تک کو سمجھ کر ہمیں ایسی دنیا کی طرف دھکیل دیں جہاں نہ آزادانہ سوچ کا گزر ہو نہ ثقافت میں لچک۔ اگر بائیولوجی سے ماخوذ نسل پرستی، یوجینکس کی کربناک یادیں اور سماجی جبر کبھی محض نظری بحثوں کا حصہ تھے، تو مصنوعی ذہانت کے ہاتھوں یہ سب ایک خدائے باطل بن کر ہمارے سماجی نظاموں میں ازخود بڑھتے اور پھیلتے نظریات کا باعث بن سکتی ہے۔ بے احتیاطی یا غلط سمت کی پروگرامنگ انسانیت کو ایک ایسے مقام پر لا کھڑا کر سکتی ہے جہاں ہمارے اخلاقی معیار، انصاف کے تصورات اور ”انسانی“ اقدار محض ایک بوسیدہ رکاوٹ سمجھ کر بائی پاس کر دیے جائیں۔ اور ممکن ہے کہ مستقبل کا انسان، اپنی جینیاتی، سماجی اور ثقافتی طوالتوں سے گزرتا ہوا، مصنوعی ذہانت کے ہاتھوں تراشے گئے بے چہرہ ہجوم میں بدل جائے۔ یہ انتہائی خوفناک منظر ہے جہاں کوئی بھی یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ اگلا قدم مصنوعی ذہانت کا ہو گا یا انسانیت کا۔ اور اگر یہ قدم غلط پڑ گیا تو شاید نہ سائنسی علوم کی ترقی اور نہ ہی سماجی علوم کی روایات اُس نئی، اجنبی، بے رحم دنیا میں ہماری مدد کر سکیں گی۔

Facebook Comments HS