بلوچستان کے سیاستدان اور قبائلی عمائدین
سیاستدان اور قبائلی عمائدین میں فرق پر بات کرنا بلوچستان کی موجودہ سیاسی اور سماجی صورتحال کو سمجھنے کے لیے نہایت اہم ہے۔ بلوچستان میں ہزارہا مسائل موجود ہیں جن پر اگر لکھنا شروع کیا جائے تو کئی کتابیں لکھی جا سکتی ہیں، اور لکھی جا چکی ہیں۔ زیادہ تر تحریریں یک رخی ہوتی ہیں، جن میں ان مسائل کی جڑ ریاست اور وفاقی حکومت کو قرار دیا جاتا ہے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ کم آبادی کے باعث بلوچستان کو وفاق میں کم نمائندگی ملتی ہے، اور جو نمائندے منتخب ہو کر آتے ہیں، ان پر دھاندلی کا الزام لگایا جاتا ہے۔ سینٹ میں 22 میں سے 10 نشستوں پر ایسے افراد براجمان ہوتے ہیں جو اپنے تعلقات کو اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ جوڑ کر فخر محسوس کرتے ہیں۔
یہ تو وفاق کے معاملات ہیں، مگر صوبائی حکومت اور وہاں کی سیاست کچھ اور پیچیدگیوں کا شکار ہے۔ ان مسائل میں سے ایک بڑا مسئلہ قبائلی علاقوں کے نمائندگان کا ہے۔ عموماً یہ نمائندگان قبائلی سردار، چیف یا مخدوم ہوتے ہیں، جو عوام سے ان کی فلاح و بہبود کے لیے نہیں بلکہ اپنے ”قومی نمائندہ“ ہونے کی حیثیت سے ووٹ مانگتے ہیں۔ اگر غور کیا جائے تو قبائلی سربراہان، جنہیں نسلوں قبل لوگوں نے قبائلی مسائل کے حل کے لیے منتخب کیا تھا، اب صرف اپنے سماجی مقام کے بل بوتے پر سیاست میں قدم رکھتے ہیں۔ ماضی میں، یہ سربراہان قبائلی رسوم و رواج کے مطابق عوامی مسائل حل کرتے تھے اور ان کی اہمیت مسلمہ تھی، لیکن اب حالات بدل چکے ہیں۔
آج کل صرف نواب یا چیف ہی نہیں، بلکہ ان کے بیٹے اور رشتہ دار بھی سیاست میں آ چکے ہیں، اور قبائلی عوام انہیں لیڈر تسلیم کرتے ہیں۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب یہ لوگ اپنے علاقوں میں فلاح و بہبود کے لیے کام نہیں کرتے یا ترقیاتی بجٹ کو صحیح طرح استعمال نہیں کرتے۔ اگر یہ اپنے فرائض بخوبی انجام دیں تو کوئی اعتراض نہیں، کیونکہ کسی بھی شخص کو سیاست کرنے کا حق حاصل ہے۔ لیکن جب کام نہ ہونے پر عوام تنقید کرتے ہیں، تو قبائلی روایت کے تحت ان کا سماجی بائیکاٹ یا برا بھلا کہنے کا رویہ اپنایا جاتا ہے۔
یہ تنقید اس لیے نہیں ہوتی کہ ان کی کارکردگی پر سوال اٹھانا غلط ہے، بلکہ اس لیے ہوتی ہے کہ قبائلی آداب اور تعلقات اتنے گہرے ہیں کہ ان سے انحراف کو گناہ تصور کیا جاتا ہے۔ مزید یہ کہ اسٹیبلشمنٹ نے پچھلی تین دہائیوں میں قبائلی نظام کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کی بھرپور کوشش کی ہے، اور ان کے ہی رشتہ داروں کو آگے لا کر قبائلی نظام کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ آج ایک ہی قبیلے میں کئی نواب اور کئی چیف موجود ہیں، جو خود ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔
بلوچ عوام کو اس نکتے پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ سیاستدان اور قبائلی لیڈر شپ کے درمیان فرق کو واضح کریں۔ جب تک یہ فرق نہیں کیا جاتا، قبائلی علاقوں میں ترقی کا خواب پورا ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ باقی وفاقی حکومت کے ساتھ گلے شکوے دو سو فیصد درست ہیں کہ معاشی ترقی کے لیے کوئی اقدامات نہیں اٹھا رہی ہے۔ اس کے برعکس دوبارہ آپریشن کا سوچ رہی ہے۔ آپریشن سے صرف دو ہی لوگوں کو فائدہ پہنچتا ہے ایک سکیورٹی فورسز اور دوسرا علیحدگی پسند تنظیمیں۔ عوام کو ماس گریشن کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اور ان کا ذریعہ معاش ختم ہوجاتی ہے جو کہ مال مویشی ہوتے ہیں۔ ان کو کھلانے اور پانی کے لیے کسی خاص جگہ کی ضرورت ہوتی ہے وہ ان سے چھین لی جاتی۔ پھر مشرف کی طرح ان لاغر مال مویشیوں کو کم داموں میں خرید کر لوگوں کو کھلایا جاتا ہے۔


