چلو اچھا ہوا تم بھول گئے
چلو اچھا ہوا تم بھول گئے۔ ایک بھول ہی تھا میرا پیار۔ ویسے تو یہ ایک گانے کے بول ہیں مگر اس کے پہلے بھول پاکستان کی تاریخ میں نہایت ہی اہم سمجھے جاتے ہیں۔ یہ جملہ صرف ایک طنز نہیں، بلکہ ہماری اجتماعی بے حسی، لاعلمی، اور تاریخ سے سبق نہ سیکھنے کا عکاس ہے۔ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ ہم نے ماضی کی غلطیوں کو یاد رکھنے اور ان سے سیکھنے کے بجائے انہیں بھلا دینے میں ہی عافیت جانی۔ بھول جانے کی یہ داستان ہمارے ملک کے سیاسی اور سماجی ڈھانچے پر گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے ایسے میں ہم اپنے ماضی کے سبق آموز سیاسی واقعات کو بھلا دینے پر مجبور ہو گئے ہیں جبکہ ماضی ہمیشہ آپ کے مستقبل کا ساتھی ہوتا ہے قومیں اپنے ماضی سے سیکھ کے آگے بڑھتی ہیں۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کی تاریخ قربانیوں، جدوجہد اور انمول مواقع سے بھری پڑی ہے۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم نے ان تجربات سے سبق سیکھنے کے بجائے انہیں فراموش کر دیا ہے۔ ہم ہر چند سالوں میں وہی غلطیاں دہراتے ہیں اور پھر انہی غلطیوں کے نتائج کا شکار ہو جاتے ہیں۔
کئی سیاسی رہنماؤں نے اپنی زندگی، آزادی، یا سیاسی کیریئر کی قربانی دی تاکہ ملک میں جمہوریت، انصاف، اور سماجی مساوات کو فروغ دیا جا سکے۔ ان میں سب سے پہلا نام ہمارے قائداعظم محمد علی جناح کا آتا ہے جنہوں نے اپنی صحت کی پروا کیے بغیر تحریک پاکستان کی قیادت کی۔ ٹی بی جیسی بیماری کے باوجود وہ آخر دم تک کام کرتے رہے۔ لیکن ہماری تاریخ بتاتی ہے ہے کیسے ان کی ایمبولینس کو روڈ کنارے چھوڑ دیا گیا یہ کہہ کر کے گاڑی کا پٹرول ختم ہو گیا۔ خیر آگے چلتے ہیں لیاقت علی خان کی طرف پاکستان کے پہلے وزیر اعظم، جنہیں 1951 میں راولپنڈی میں ایک جلسے کے دوران قتل کر دیا گیا۔ وہ پاکستان کی آزادی کے بعد استحکام کے لیے کوشاں رہے۔ مگر شاید ان کی دی ہوئی آزادی عوام کو راس نہیں آئی۔ تاریخ میں آج تک لیاقت علی خان کے قتل کی تحقیقات نہیں کی جا سکیں یا یوں کہیں کہ ہونے نہیں دی گئیں۔ چلو اسے بھی ہم بھول جاتے ہیں آگے بڑھ جاتے ہیں۔ پاکستان کے مشہور سیاستدان اور پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو، جنہیں 1979 میں ایک متنازعہ مقدمے کے بعد پھانسی دی گئی۔ ان کا قصور صرف یہ تھا کہ انہوں نے غریب عوام کے حقوق کے لیے آواز بلند کی۔ مگر یہ آواز یہ ان کی کوشش ہمارے مقتدرہ کو پسند نہیں آئی اور نتیجہ ان کی پھانسی پہ ختم نہیں ہوا بلکہ ان کی بیٹی بینظیر بھٹو پاکستان کی پہلی خاتون وزیر اعظم، جنہوں نے جمہوریت کی بحالی کے لیے اپنی جان دینا پڑی۔ انہیں 2007 میں راولپنڈی میں ایک حملے میں شہید کیا گیا یا کروایا گیا۔ آج تک اس کی تحقیقات نہیں ہوئیں۔ جبکہ پیپلز پارٹی کی اپنی حکومت میں بھی یہ کام نہیں ہو سکا۔ چلو یہ بھی بھول جاتے ہیں۔
آگے نام آتا ہے خان عبدالغفار خان جنہیں ہم باچا خان کے نام سے جانتے ہیں جو عدم تشدد کے فلسفے کے حامی، انہوں نے اپنے حقوق کے لیے طویل قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں اور ہمیشہ مظلوم عوام کے حق میں کھڑے رہے۔ اور آخر میں نتیجہ کیا نکلا ان کی موت۔ چلو آگے بڑھتے ہیں۔ حسین شہید سہروردی ایک مدبر سیاستدان اور پاکستان کے وزیر اعظم، جو جمہوری اصولوں کے حامی تھے۔ ان کی سیاست کو دبانے کے لیے ان پر مختلف الزامات لگائے گئے اور وہ جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے۔ بلکہ یوں کہیے یہ ان کی رہائی کا پروانہ بھی تب جاری ہوا جب ان کی اولاد کے ذریعے ان سے یہ بات منوائی گئی کہ آپ ملک سے باہر چلے جائیں گے اور پاکستان کی سیاست سے دور رہیں گے۔ فاطمہ جناح قائداعظم کی بہن، جنہوں نے نہ صرف تحریک پاکستان میں بلکہ 1965 کے صدارتی انتخابات میں جمہوریت کے لیے قربانی دی اور آمرانہ حکومت کے خلاف جدوجہد کی۔ مگر ان کے ساتھ بھی ہم نے کیا سلوک کیا؟ کردار کشی اور پتا نہیں کیا کیا الزام لگائے گئے ان کو ہرانے کے لیے ایوب خان نے کیا کیا پاپڑ بیلے اور اس ملک پر قابض رہنے کے لیے جمہوری اصولوں کو پسِ پشت ڈال دیا گیا۔ چلیں بھول جاتے ہیں۔
خان عبدالصمد خان اچکزئی ایک نظریاتی رہنما جنہوں نے جمہوری جدوجہد کے لیے طویل عرصہ قید میں گزارا۔ اور اپنے نظریات پر کبھی کمپرومائز نہیں کیا۔ ایسے ہی ایک بہت بڑا نام جن کے نام سے پاکستان کے ایک صوبے کی شناخت ہوتی ہے نواب اکبر بگٹی جنہوں نے بلوچستان کے حقوق کی آواز اٹھانے میں اپنی جان قربان کی۔ وہ صوبے کے وسائل اور خودمختاری کے لیے جدوجہد کرتے رہے۔ ان کی اس جدوجہد کا کس نے مان رکھا آج ان کی اولاد اسمبلی میں اقتدار کے ایوانوں میں موجود ہے مگر شاید وہ بھی اپنے باپ دادا کی قربانیوں کو بھلا چکے ہیں۔ باچا خان کے بیٹے خان عبدالولی خان اپنے باپ کی جدوجہد کو جاری رکھا، جنہوں نے کئی دہائیوں تک جمہوریت اور انسانی حقوق کے لیے جدوجہد کی اور بار بار قید کا سامنا کرنا پڑا۔ ایسے ہی ایک بہت بڑا نام میاں نواز شریف جنہوں نے مختلف ادوار میں جیل کا سامنا کیا اور جمہوریت کی بحالی کے لیے جدوجہد کی، خاص طور پر جنرل مشرف کے دور میں جب وہ جلاوطنی کا شکار رہے۔ مگر جب موقع ملا تو بجائے جمہوریت کو عروج پر پہنچاتے اور اپنا مشہور نعرہ ”ووٹ کو عزت دو“ اس کی بحالی کے لیے کام کرتے۔ پاکستان واپس بھی آئے تو ایک کمپرومائز حالت میں جس میں انہی کی پارٹی کے منسٹر اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہو کر یہ کہتے ہیں کہ آپ ہمارا 2018 والا مینڈیٹ واپس کر دیں ہم آپ کا 2024 والا مینڈیٹ واپس کر دیں گے۔ کہاں ہے جمہوریت۔ اور آخر میں عمران خان، اپنے سیاسی کیریئر کے دوران انہوں نے مختلف الزامات اور مقدمات کا سامنا کیا اور عوامی حقوق اور انصاف کے لیے اپنی آواز بلند رکھی۔ مگر جب موقع ملا تو مقتدرہ کے آگے جھک گئے۔ پاکستان کی تاریخ میں ان رہنماؤں کے علاوہ بھی کئی دیگر سیاستدان اور کارکن ایسے ہیں جنہوں نے اپنے اصولوں اور ملک کے لیے قربانیاں دیں۔ یہ قربانیاں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ ملک کی ترقی اور استحکام کے لیے جدوجہد ضروری ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ قومیں وہی ترقی کرتی ہیں جو اپنے ماضی سے سبق سیکھتی ہیں۔ ہمیں اپنی تاریخ کو یاد رکھنا ہو گا، اپنے لیڈرز کو جواب دہ بنانا ہو گا، اور اپنے سیاسی شعور کو بلند کرنا ہو گا۔ ہمیں یہ عہد کرنا ہو گا کہ ہم ماضی کی غلطیوں کو دوبارہ نہیں دہرائیں گے، جیسے کہ عوامی حقوق کو نظرانداز کرنا، غیر ضروری سیاسی کشیدگیاں پیدا کرنا، اور وسائل کے غیر موثر استعمال جیسے مسائل کو حل نہ کرنا۔ ہم اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کریں گے، اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کریں گے، اور اپنے اداروں کو مضبوط بنانے کے لیے کام کریں گے۔ آیئے، ہم سب مل کر پاکستان کو ایک مضبوط، خود مختار، اور روشن مستقبل کی جانب لے جانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

