” کاغذ“ فیصل خیام کے پہلے شعری مجموعہ ایک ”طبیعاتی“ مطالعہ


کاغذ، بمطابق لغات، قرطاس، پتر، رقعہ، تحریر، دستاویز، مچلکہ، اخبار، اعمال نامہ، خط وغیرہ کے معانی میں مستعمل ہے۔ مقامی طور پر یہ لفظ فیصلے اور ثبوت، حتی کے طلاق نامے کے مترادف بھی سمجھا جاتا ہے ۔ شمس الرحمن فاروقی نے عربی یا فارسی لفظ نہ ہونے پر اس کی جمع کاغذات کی بجائے کواغذ قرار دی ہے۔

کاغذ ابتدائی شکل میں مصریوں نے تین ہزار سال قبل مسیح میں ”پیپرس“ نامی درخت کی چھال اور گودے سے تیار کیا، لیکن باقاعدہ طور پر کاغذ کی ایجاد کا سہرا 105 سال قبل مسیح میں شہنشاہ ہان کے عہد کے چینی باشندے ”تسائی لون“ کے سر ہے۔ چینیوں نے اس اہم ایجاد کی تجارتی پیمانے پر تیاری میں بھی رازداری کو اس قدر ملحوظ رکھا کہ مشرق وسطٰی سے ہوتے ہوئے یورپ پہنچنے میں اسے ایک ہزار سال سے زیادہ عرصہ لگا۔ پہلی بار کاغذ کی مشینی تیاری فرانس میں اٹھارہویں صدی میں شروع ہوئی۔

ہر سال 100 ملین ہیکٹر رقبے کے جنگلات، کاغذ کی تیاری کے لیے کاٹے جاتے ہیں، لکڑی کے گودے کو مختلف کیمیکلز میں پکایا جاتا ہے، کاغذ کی تیاری میں پانی بھی شامل ہوتا ہے جس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اے۔ فور سائز کا ایک کاغذ بنانے کے لیے دو سے تیرہ لٹر تک پانی استعمال ہوتا ہے۔ ہر سال چار سو ملین ٹن کاغذ، اخبارات، کتب وغیرہ کے علاوہ کرنسی نوٹ، پیکنگ میٹیریل، بیکنگ میٹیریل، اور سگریٹ سے لے کر ٹوائلٹ پیپر تک کی تیاری میں استعمال ہوتا ہے، یوں پیپر لیس سوسائٹی کا تصور محال ہے لیکن ہم کیش لیس سوسائٹی کی طرف بھی گام زن ہیں۔

اس وقت ہمیں ماحولیاتی آلودگی کے جس عالم گیر مسئلے کا سامنا ہے اس میں کاغذ کی صنعت کا حصہ دو فی صد تک ہے۔ جنگلات کی کٹائی کی بجائے ری سائیکلنگ کے عمل سے اس پر قابو پانا ممکن ہے جبکہ زیادہ شفاف کاغذ کا استعمال ترک کرنا بھی موثر حل ہے۔ صرف سال 2017 ء میں یورپی ممالک میں 72 فیصد کاغذ ری سائیکل ہوا جبکہ اٹلی میں یہ شرح 57 فی صد کے ساتھ سب سے زیادہ رہی۔ تسلی کی بات یہ ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس یعنی مصنوعی ذہانت تک پہنچنے کے سفر تک کاغذ اب فقط کاغذ نہیں، ایک بھرپور استعارہ ہے۔

منقول مندرجات میں سہو کا امکان سہی لیکن سموگ سے بے حال پاکستان میں کاغذ کی ری سائیکلنگ اور ایندھن کے طور پر ٹھکانے لگانے کی شرح کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ایسے میں فیصل خیام کا ”کاغذ“ ہمارے حوالے کرتے ہوئے ابتدائیے میں اسے ایندھن بنانے کا اختیار بھی سونپنا سخت تشویش ناک ہے۔

”کاغذ“ فیصل خیام کے اس استعمال سے پہلے مذکر کاٹھ کا لفظ ہوا کرتا تھا۔ اب اس کی مردانگی فقط اس قدر ہے کہ یہ فیصل خیام کا پہلا شعری مجموعہ ہے۔ حرف و معنی کے اعتبار سے یہ نام بے حد وسعت کا حامل ہے۔ عمومی روایت تو یہی ہے کہ شعری مجموعے کا نام کسی اپنے پرائے مصرعے سے مناسبت رکھتا ہو، لیکن لفظ کاغذ اس مجموعے کی منظومات میں شامل نہیں ہے۔ گردپوش کے ساتھ جاذب نظر سرورق سے بہار و خزاں اور سوگوار حسن کا سا ملتا جلتا تاثر پیدا ہوتا ہے۔

چار بڑے، چار چھوٹے پتوں اور اردگرد پھیلی سفیدی کے ساتھ برفباری اور عروج سرما کا تاثر بھی محسوس جا سکتا ہے۔ آخر میں بدیسی زبان میں غالباً کسی نظم کے چند الفاظ ہیں جو کتاب کو الٹا کرنے پر ”صاف چھپتے بھی نہیں، سامنے آتے بھی نہیں“ یعنی پڑھے نہیں جا رہے، البتہ خوب صورتی ضرور بڑھا رہے ہیں۔ پس سر ورق شاعر کی قدرے اداس تصویر کے نیچے چار ہی اشعار درج ہیں۔ اسے اتفاق کہا جا سکتا ہے کہ کاغذ، فیصل اور خیام کی طرح فلیپ پر موجود تبصرہ نگار شعراء کے اسماء اور تخلص بھی چارحرفی ہیں یعنی عباس تابش اور اظہر فراغ۔

” کاغذ کھولنا“ محاورتاً سر عام عیوب بیان کرنے کے لیے بولا جاتا ہے لیکن فیصل خیام کے ”کاغذ“ کھولنے پر پروف ریڈنگ میں پارس مزاری اور انتخاب میں اظہر فراغ جیسے شعراء کے ناموں کی موجودگی کے بعد روایتی طور پر کہنے کو ہم ایسوں کے پاس بچتا ہی کیا ہے؟ شاید وہی، جو ہم نے طویل تمہید کے طور پر بیان کیا۔

ان ناموں کے اس محل وقوع کو بعض لوگ ہراسانی کا ہتھکنڈہ بھی شمار کر سکتے ہیں۔ سرکار پبلیکیشنز ملتان سے اشاعت ہے، پرنٹ عمدہ اور فونٹ شاعر کی مانند ہے یعنی جملہ مضامین دور و نزدیک سے برابر واضع دکھائی دیتے ہیں۔

”کاغذ“ کا انتساب کٹے ہوئے بازوؤں کے نام ہے جو شاعر کی زندگی کے دلخراش حادثات کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ فہرست پر نظر ڈالتے ہی پھر چار ابتدائیوں کا سامنا ہوتا ہے۔

شاہین عباس، ڈاکٹر رامش اور ذوالفقار عادل جیسے اہل فن کی آراء سر آنکھوں پر مگر نجانے کیوں یہ طالب علمانہ سوال شدت سے سر اٹھاتا ہے کہ کیا راشد جیسی مصاحبت اور ترقی پسند فیشن کے دباؤ نے غیرارادی طور پر فیض جیسے بھلے غزل گو کو فقط نظم تک محدود تو نہیں کر دیا تھا؟ سو ہماری خواہش یہی ہے کہ شاعر خوب صورت نظمیں کہتا رہے لیکن موج میں آ کر غزل سے کنارہ نہ کرے۔

اتفاق یہ بھی ہے کہ اس مجموعے کی پہلی غزل کا آغاز غزل کی سمت رستہ نکالنے کی خواہش سے ہوتا ہے۔

فہرست کے مطابق یہ مجموعہ ایک نعت، ایک سلام، تیرہ آزاد نظموں، ستاون غزلیات، دو الگ اشعار کے علاوہ نوفردیات پر مشتمل ہے۔ فیصل اور خیام دونوں کو بطور تخلص استعمال کیا گیا ہے۔ زیادہ تر فیصل کو جبکہ ایک غزل کے مقطعے میں مکمل نام کو استعمال کیا گیا ہے کہیں، کہیں مقطع کہنے کا تکلف روا نہیں رکھا گیا۔ زیادہ تر بحور درمیانی اور مختصر ہیں۔ واحد طویل غزل کے کل اشعار آٹھ ہیں، دو غزلیات چار چار اشعار پر مشتمل ہیں۔ زیادہ تر غزلیات پانچ اشعار پر مشتمل ہیں۔

اس مجموعے میں الف ( 14 ) ، را ( 1 ) ، م ( 1 ) ، نون ( 11 ) ، و ( 4 ) اور حرف یائے ( 25 ) کو بطور ردیف استعمال کیا ہے۔ ردیف ”ی“ کا پچیس بار یعنی سب سے زیادہ استعمال ہوا ہے۔ اسی طرح قوافی کے باب میں بھی کوئی غیرمعمولی تردد نظر نہیں آتا بلکہ آزاد روی نظر آتی ہے کہیں کہیں بغور دیکھنے پر ہمیں قوافی کے حسن انتخاب اور انھیں برتنے کی داد دینا پڑتی ہے۔ مثال کے طور پر خیرات، حضرات، اثاثہ جات اور بہتات یا تاریک، تکنیک اور تضحیک اور فقدان، قبرستان اور بے ایمان۔

لفظیات کے حوالے سے دیکھا جائے تو پھول، گلاب، خوش بو، باغ، جنگل، پیڑ، گاؤں، دریا چائے، سگریٹ اور گھر جیسے الفاظ زیادہ نظر آتے ہیں جن سے واضح تصویر بنتی ہے۔ پھول غالباً وہ لفظ ہے جسے شاعر نے سب سے زیادہ استعمال کیا ہے، ۔ تازگی، برجستگی، ندرت اور کلاسیکی روایت کے ساتھ ساتھ جدت جیسی خصوصیات کا ذکر ہر شاعر کے کلام کے لیے بکثرت کیا جاتا ہے لیکن ”کاغذ“ کے خالق کے ہاں یہ صفات برائے تصنع نہیں، لہذا جتنی سہولت سے ہاسٹل، تھیم، کینٹین ریہرسل، ٹاس، بیل آئیکن اور مینیج جیسے انگریزی الفاظ کا انجذاب ہوتا ہے اتنی ہی آسانی سے ”کارِ لطفِ لمس“ جیسی ترکیب گندھی ہوئی نظر آتی ہے۔ پھول کے ساتھ تلوار کی نسبت داستانوی ہے۔ فیصل خیام کئی طرح کی نسبتیں عمدگی سے قائم کرتا ہے اور ان سے ایک مختلف منظر بھی تشکیل دیتا ہے :

” مجھ کو تیری گالیاں اچھی لگیں
مجھ پہ تیری دھوپ کا سایا ہوا ”
*********
” ہماری ناؤ نے پانی کے سر پہ ہاتھ رکھا
پلک جھپکتے ہی سارے بھنور تمام ہوئے ”

اکثر اوقات ان نسبتوں سے صرف منظر نہیں بلکہ مختلف تناظرات میں ایک مربوط سلسلۂ خیال قائم ہوتا ہے۔ سہل ممتنع اور تضاد کے ساتھ سماجی مسائل کی تصویر کشی کرتا مختصر بحر کا ایک شعر دیکھیے، جسے تعجب اور تاسف کی کیفیت سے بھرپور تاریخی تبصرہ بھی خیال کیا جاسکتا ہے :

” کانٹوں کی تصویر
پھولوں کی دیوار ”

ادباء میں ناسٹلجیا اکثر تخلیقات کی بنیاد کا کام کرتا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ فیصل خیام کے ہاں ناسٹلجیا بالکل نہیں ہے۔ حقیقت میں وہ ناسٹلجیا کی بنیاد پر ماتم کدہ تعمیر نہیں کرتا۔ نظم اور غزل دونوں میں ماضی کا ذکر اشارتاً کرتے ہوئے لمحۂ موجود اور مستقبل پر تواتر سے بات کرنا اس کے انداز فکر کو نمایاں کرتا ہے۔ ایسا اکثر اختیار کردہ ردیفوں سے بھی صاف نظر آتا ہے مثلاً آگے کی شے ہے، لگ رہی ہے مجھے، مس کرے گا، نکالیں گے وغیرہ سے صرف نظر کرتے ہوئے یہ دو شعر دیکھیے :

” وہ دور جس میں مجھ سے خفا تھی مری بہن
گھر میں سکوں نہیں تھا، نہ برکت تھی مال میں ”
*******
” بچے رہ جائیں گے لندن میں مقیم
لاشہ پاکستان میں آ جائے گا ”

شعر میں ضمیر واحد متکلم کا استعمال عام ہے ہی، لیکن یہاں اکثر تخلیقات میں اہتمام سے کم ازکم ایک بار آپ، تو یا تم کے صیغوں میں براہ راست خطاب کیا گیا ہے ۔ فقط تین نظموں میں ایسا نہیں کیا گیا۔ واردات قلبی کے ساتھ ساتھ سماجی مسائل کے حوالے سے بھی ”کاغذ“ کی شاعری دل و دماغ پر ضربیں لگانے کی بجائے نرمی اور نغمگی کے ساتھ احساس کو بیدار کرنے کا کام کرتی ہے۔

فیصل خیام اس شاعری کے بعد یہ کہنے میں حق بجانب ہے کہ:
بات ایسی جس کو بہروں نے سنا
زخم ایسا جس کا چرچا ہو گیا

اس تمنا کے ساتھ کہ خدا کرے، یہ فیصل خیام کی شعری کائنات کی تکمیل کا پہلا مرحلہ ثابت ہو، ”کاغذ“ کا استقبال ہے۔

 

Facebook Comments HS