کیا پنجاب نے کبھی مزاحمت نہیں کی؟


پنجاب آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، مشہور قول ہے کہ پنجابی بزدل ہوتے ہیں اور انہوں نے کبھی بھی بیرونی حملہ آوروں کے خلاف مزاحمت نہیں کی اور اپنی سرزمین کو بچانے میں ناکام رہے۔ یہ الزام نہ صرف تاریخی حقائق سے دور ہے بلکہ ان غلط فہمیوں اور تعصبات کا نتیجہ ہے جو استعماری دور میں پیدا کیے گئے تھے۔ افغان جہاد کے دوران پختونوں کو استعمال کرنے کے لئے اُن کی بہادری کے خودساختہ قصے کہانیاں بنائی گئیں اور پنجابیوں کو اُن کے مقابلے میں حقیر اور بزدل بنا کے پیش کیا گیا۔

درحقیقت زیادہ تر حملہ آور شمال کے راستے درہ خیبر اور مختلف پہاڑی سلسلوں سے ہوتے ہوئے پنجاب میں داخل ہوئے۔ جیسے ایرانی، افغانی یونانی، ترک، اور منگول، پہلے پہاڑی علاقوں کو روندتے ہوئے پنجاب تک پہنچے۔ شمال (موجودہ کے پی کے ) کے حکمرانوں نے کبھی بھی ان حملہ آوروں کو روکنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی اس لیے یا تو شکست کھا جاتے یا حملہ آوروں کا حصہ بن کر پنجاب پر چڑھ دوڑتے۔ مگر پنجاب کے حکمرانوں نے ان حملہ آوروں کے خلاف تاریخی مزاحمت کی۔

سکندر اعظم جب ساری دنیا پر غالب آنے کے بعد مکمل جاہ و جلال کے ساتھ جہلم کی سرزمین پر پہنچا تو ایک پنجابی سپوت راجہ پورس نے بہادری کی مثال قائم کی۔ تمام یونانی اور رومی مورخین پروس کی بہادری کو سراہتے ہیں۔ غزنوی کے مقابلے میں راجہ جے پال ہو یا غوری کے مقابلے کھوکر قبائل تمام کا تعلق پنجاب سے تھا۔ نادر شاہ اور مغل بادشاہوں کے خلاف گھکڑ قبائل کئی سال تک برسر پیکار رہے۔

دُلا بھٹی نے جسے پنجاب کے رابن ہڈ کے نام سے جانا جاتا ہے مغل حکمرانوں کے ظلم و جبر کے خلاف علم بغاوت بلند کیا۔ انہوں نے غریب کسانوں کے حقوق کی حفاظت کی اور مظلوموں کی مدد کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی۔ دُلا بھٹی کی داستان آج بھی پنجاب کے دلوں میں زندہ ہے۔ سکھ مت کے پانچویں گرو، گرو ارجن دیو نے مغل حکمرانوں کے ظلم کے سامنے سر جھکانے کی بجائے مظلوموں کے حق کے لیے آواز بلند کی اور اپنی قربانی سے سکھ برادری کو انصاف کے لیے کھڑے ہونے کا سبق دیا۔

مہاراجہ رنجیت سنگھ نے پنجاب کو افغان حملہ آوروں سے نجات دلائی اور انگریزوں کا بھی بھرپور مقابلہ کیا۔ پنجاب پر آخری حملہ آور برطانوی تھے، جو مشرق سے آئے۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کی وفات کے بعد ، مشرقی علاقوں یو پی اور بہار سے آنے والے سپاہیوں نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے لیے جنگیں لڑیں اور پنجاب کو زیر کیا۔ اینگلو سکھ جنگیں پنجابی لوگوں کی بہادری اور جاں فشانی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

مولانا شاہ عبدالقادر لدھیانوی ایک انقلابی تھے جنہوں نے 1857 میں پنجاب کے ضلع لدھیانہ سے ایسٹ انڈیا کمپنی کے خلاف جنگ چھیڑی۔ مولانا کا تعلق پنجاب کے آرائیں قبیلے سے تھا۔ تاریخی طور پر، اس قبیلے نے جدوجہد آزادی میں خاص طور پر پنجاب کی ریاست میں زبردست کردار ادا کیا ہے۔ مولانا شاہ نے برطانوی راج کی نا انصافیوں کے خلاف عوام کو بیدار کیا اور 1857 کی جنگ آزادی میں انہوں نے انگریزوں کو لدھیانہ اور پانی پت سے مار بھگایا۔

1857 کی جنگِ آزادی میں رائے احمد خان کھرل نے انگریزوں کے خلاف پنجاب میں مزاحمت کی قیادت کی۔ ضلع اوکاڑہ میں گوگیرہ اور گشکوریاں کے مقام پر دو بڑی لڑائیاں لڑی گئیں۔ گوگیرہ کے مقام پر انگریز جنرل برکلے قتل ہوا۔

پنجاب شاید پاکستان کا وہ واحد صوبہ ہے جہاں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین نے بھی استعمار کے خلاف مزاحمت کی ہے۔ مہارانی جند کور ( 1817۔ 1863 ) مہاراجہ رنجیت سنگھ کی سب سے چھوٹی بیوی اور ان کی موت کے بعد سکھ سلطنت کی ریجنٹ تھیں۔ اپنی ہمت اور سیاسی ذہانت کے لیے مشہور، اس نے برطانوی الحاق کی کوششوں کے خلاف مزاحمت میں اہم کردار ادا کیا۔ اپنی قید اور اپنے نوجوان بیٹے دلیپ سنگھ سے علیحدگی سمیت بے پناہ چیلنجوں کا سامنا کرنے کے باوجود، وہ سکھوں کی مزاحمت کو ابھارتی رہیں۔ اس کے غیر متزلزل جذبے نے اسے ”باغی ملکہ“ کا خطاب دیا۔

Facebook Comments HS