ٹانگ تو ٹوٹ گئی نا
کہانی پینتالیس سال قبل کی ہے۔ پیپلز کالونی فیصل آباد میں گھر فروخت کیا تو اس میں لگے فون کو اپنی دکان پہ منتقل کرنے کی درخواست کے ساتھ محکمہ کی اجازت کے مطابق یہ بھی درخواست ڈال دی کہ منتقلی تک کی درمیانی مدت کے لئے فون عارضی طور بند رکھا جائے۔ تین چار ماہ انتظار اور دفتری چکروں کے بعد ایک دن لائن مین آئے اور اور فون کی کیبل فٹ کر فون لگاتے یہ خوش خبری بھی سنا گئے کہ ایک دو روز میں اس میں جان پڑ جائے گی اور چالو ہو جائے گا۔ مگر ہوا یہ کہ ہم دو ہفتے بعد گانا گا رہے تھے، ”ایک دو تین چار، پانچ چھ سات آٹھ نو دس گیارہ، بارہ تیرہ“ ”تیرا کروں دن گن کے انتظار، آ جا پیا بن کے بہار“ مگر نہ کرنٹ آیا نہ آواز چالو ہوئی۔ دفتر فون کرتے آپریٹر سپروائزر سے ملا دیتا اور سپروائزر ایس ڈی او آفس سے پتہ کر کے آگے کارروائی کرنے کا کہہ دیتا۔
تیسرا مہینہ ”چڑھ چکا“ تھا۔ فکسڈ رقم کے ماہانہ بل آتے گئے، ہم ادا کرتے رہے اور ”تم نہ جانے کس جہاں میں کھو گئے“ کا ورد کرتے ٹیلیفون دفاتر میں ایک کمرے سے دوسرے کمرے تک کے دھکے کھاتے رہے۔ آخر ایک روز متعلقہ ایس ڈی او صاحب کے دفتر کے باہر کھڑے ”او فونوں کے رکھوالے، سن درد بھرے میرے نالے“ گنگنا رہے تھے، کہ ایس ڈی او صاحب آتے نظر آئے۔ کچھ شناسا سے لگے۔ باری آنے پہ جا بیٹھے اور اپنی عرضداشت پیش کردی۔ ”کچھ وہ بھی مہربان سے تھے کچھ ہماری قسمت اچھی تھی۔“ وہ فائل میں لگے تھے کہ اچانک ہمیں وہ شناسائی یاد آ گئی۔ توجہ ہوئی تو ایک منٹ کچھ کہنے کی اجازت مانگ کے اپنے نمبردار دوست سے سنا واقعہ عرض کر دیا ”پیسنجر ٹرین میں دیہاتی خواتین کا ساتھ ہوا تو تعارف ہوتے ایک دوسرے کے گاؤن کا اتہ پتہ دریافت ہونے لگ گیا۔ جب دوسری خاتون نے اپنے گاؤں کا نام بتایا تو پہلی اچھل پڑیں اور جوش میں بولیں کہ لو وہاں تو ہماری بھی رشتہ داری ہے۔ اب دوسری نے خوش ہوتے پوچھا، کہ اچھا، کون سے گھر سے اور کیا رشتہ داری ہے۔ تو جواب میں نام پتہ بتاتے رشتہ داری کا فقرہ تھا“ میرے ماموں نے پچھلے ساون ان کے بیٹے سے کٹؔا خریدا تھا ”ایس ڈی او صاحب کی ہنسی رکی تو عرض کیا کہ ہمارے فلاں گاہک ہیں چوہدری صاحب۔ چند ماہ قبل وہ ٹریکٹر کی پلی لینے ہمارے پاس آئے تھے۔ آپ ان کے ساتھ تھے۔
انہیں یاد آ چکا تھا تھا۔ رشتہ داری نکل آئی تھی۔ مختلف کلرکوں سے رجسٹر اور فائلیں دو تین منگوائی گئیں اور آدھے گھنٹے بعد یہ خوش خبری لئے نکل رہے تھے کہ کہیں، کسی مہربان کلرک نے غلطی سے ہماری درخواست میں صرف“ فون بند رکھا جائے ”پڑھا تھا“ دوران منتقلی عارضی طور پر ”کو نظر انداز کرتے فون مستقل بند کر دیا گیا تھا۔ اور اب بحالی مشکل ہے۔ اب یہاں یہ رشتہ داری کام آئی اور فرمانے لگے تاہم میں آپ کی فائل ٹیلیفون ریوینیو افسر کے پاس بھیج رہا ہوں۔ فون بھی کر دوں گا۔ آپ دو تین روز بعد عبدالمجید صاحب کو ان کے آفس میں مل لیں، شاید کوئی رستہ نکل آئے۔
تین روز بعد دھڑکتے دل کے ساتھ فائل پہ جھکے مجید صاحب کے سامنے فریادی بنے زنجیر عدل ہلا رہے تھے۔ کہنے لگے یہ تو تسلیم کہ غلطی محکمہ کی ہے۔ مگر قانون کے مطابق آپ کو نیا فون لگوانے کی پوری کارروائی سے گزرنا ہو گا ( ان دنوں یہ بس صرف تین چار سال کی بات تھی ) ۔ وہ رکے اور مجھے یاد آیا کہ میرے گھر والوں کو میرا رشتہ ڈھونڈتے ہر وقت بولتا فون یعنی بیگم مہیا کرنے میں اس سے کم وقت لگا تھا۔ مجید صاحب گھنٹی بجاتے پھر کہنے لگے کہ چونکہ محکمہ کی ہی دوسری اور اس سے بڑی غلطی یہ ہوئی کہ فون مستقل بند ہو جانے کے باوجود کنکشن آپ کی دکان پہ ہی اس وقت لگ چکا۔ لہذا میں نئے فون کنکشن کا ڈیمانڈ نوٹ آپ کو دے دیتا ہوں۔ ادا کریں اور فون چالو۔ منہ سے نکلا۔ ”مگر محترم، قصور تو محکمے کا ہے۔ میرا کیا قصور کہ ڈیمانڈ نوٹ کا جرمانہ بھی۔“ مجید صاحب کرسی پہ سیدھے ہو بیٹھ چکے تھے۔ اور چہرہ شگفتہ ہو چکا تھا۔ کہنے لگے کہ فرض کریں آپ سڑک کے کنارے فٹ پاتھ پر آرام سے چلے جا رہے ہیں۔ سڑک پہ آتا ایک ٹرک بے قابو ہو فٹ پاتھ پہ جا چڑھتا ہے اور آپ کو ٹکر لگی گرے اور ٹانگ ٹوٹ گئی۔ اس میں آپ کا قصور؟ مگر ٹانگ تو ٹوٹ گئی نا۔ اب ہم دونوں کا قہقہہ دفتر میں گونج رہا تھا اور چند منٹ بعد ڈیمانڈ نوٹ پکڑے دفتر سے نکل رہے تھے اور کوئی ہفتہ بھر بعد اسی نئے فون نمبر سے مجید صاحب اور ایس ڈی او صاحب کا شکریہ ادا کر رہے تھے۔
پینتالیس برس گزر چکے۔ نہ مجید صاحب کی شکل بھولی نہ ”ٹانگ تو ٹوٹ گئی نا“ کی گونج۔ اور نہ ہی اس فقرے کا سکھایا سبق۔ زندگی نے نہ جانے کتنی مرتبہ اسی طرح اپنی پرائی ٹانگ ٹوٹتی بھی اور حقیقت میں بھی ٹرک کار بے قابو ہوتے اور ٹانگیں توڑتے دکھا دیے۔
یہ واقعہ لکھتے اپنے طالب علمی کے دور میں ساٹھ پینسٹھ سال پہلے کے اپنے بھانجے اظہر مرحوم کے سنائے کچھ بیتے اور کچھ سنے مگر حقیقی لطیفے یاد آ گئے جو دیر تک لطیفہ ہی لگے مگر جوں جوں زندگی کی گمبھیرتا سبق سکھاتی گئی ان کے اندر چھپے سبق ابھرتے گئے اور اب تو یہ لطائف ہر روز حقیقت بن کر سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ تین چار حاضر ہیں بتاتا چلوں یہ تمام چنیوٹ اور اس کے ارد گرد کے اس زمانے کے جانگلی کہلاتے دیہاتی ماحول کے ہیں۔ کوشش کیجئے کہ ان میں پوشیدہ حقائق کا ادراک نہ ہونے پائے ورنہ میری طرح ہنستے سنجیدہ ہو جانا پڑ سکتا ہے
رحم کی حالت، قہر کا جلال اور مردہ چیر
اظہر مرحوم چنیوٹ میں موجودہ جگہ پہ نئے نئے منتقل شدہ لاری اڈہ پہ کھڑا تھا۔ ایک رعب دار، طرؔہ پہنے جانگلی سردار لگتے اپنے حواریوں کے درمیان کھڑے شخص نے دور جاتے ایک شخص کو بلوایا۔ اب معروف پنجابی جانگلی بولی کی مغلظات اس بیچارے کی ماں بہن ایک کر رہی تھیں اور اور دھمکی پہ دھمکی دیتے اسے کسی مخالف فریق کی حمایت سے باز آنے کا حکم سناتے آخری فقرہ یہ تھا ”اوئے میں پیار نال پیا تیرے تے رحم کردے سمجھیناں۔ ولا جا، نہیں تے تیری۔“ اور اس کے بعد ماں بہن سے سلوک کا ذکر۔ ( میں تمہیں یہ اب پیار سے سمجھا رہا ہوں کہ مخالف فریق کا ساتھ چھوڑ دے ورنہ۔ آگے پھر ناگفتنی گالیاں دھمکیاں ) ۔ وہ غریب ہاتھ جوڑتے، پاؤں پکڑتے، معافی مانگتے حکم بجا لانے کا وعدہ کرتے کھسک چکا تھا۔
آٹھویں نویں کا طالب علم بہت خوش مزاج اور حاضر جواب اظہر آگے بڑھ انتہائی ادب سے مہر صاحب سے اجازت مانگتے عرض گزار ہوا ”میاں جی، آپ کی رحم کی حالت یہ ہے تو جب کبھی قہر میں ہوں تو کیا کرتے ہیں۔ “ میاں جی نے دیکھا تو گھور کے مگر آگے ایک بچہ دیکھ کچھ مسکرا دیے، ادھر ادھر چہرہ گھمایا اور اظہر کا ہاتھ پکڑ لاری اڈہ سے اندرون شہر جاتی سڑک کے کو نے پہ بنے کمرے کی طرف دیکھتے فرمایا ”پتر اوہ سامنے مردہ چیر ویہنا پیاں اے نا“ پرانے زمانے سے چنیوٹ شہر کی آبادی سے باہر سرگودھا روڈ پہ مردہ چیر کہلاتا یہ کمرہ چنیوٹ کا پوسٹ مارٹم سنٹر تھا۔ اور وہ فرما رہے تھے کہ پھر وہی ہوتا ہے جو یہاں لائے جانے والوں کے ساتھ ہو چکا ہوتا ہے۔
کچھ بچ تو نہیں گیا
رات کے وقت گہری کالی گھٹاؤں، شدید ترین آندھی، طوفانی بارش اور دیر تک ہوتی تباہ کن ژالہ باری رکتے غریب کسان اور اس کی بیوی اپنے تقریباً تباہ ہو چکے جھونپڑے سے باہر نکلے تو تمام فصلیں مکمل تباہ ہو چکیں تھیں۔ یہ تباہی دیکھ ہی رہے تھے بادل گرجنے اور بجلی بار بار چمکنے لگ گئی۔ بیوی نے خوف زدہ ہو خاوند سے پوچھا یہ اب کیا ہو رہا ہے۔ ڈھائیں مار مار چیختے کسان نے سر آسمان کی طرف اٹھایا اور بولا ”ہُن بیٹریاں مار مار ویہدا پیا اے، کوئی ٹانڈا بچ تے نہیں گیا“ اب وہ یعنی خدا ٹارچوں کے ساتھ ادھر اُدھر چیک کر رہا ہے کوئی شاخ پودا بچ تو نہیں گیا۔ ”کوئی رہ تو نہیں گیا“
یہ بھی تو فارغ بیٹھے تھے
چنیوٹ سے چند کوس پرے رجوعہ سیداں کے قریبی گاؤں سے لوگ بیمار نمبردار صاحب کو چارپائی پہ اٹھائے چنیوٹ سول ہسپتال لائے۔ ڈاکٹر صاحب نے معائنہ فرما نمبردار صاحب کو کہا کہ آپ تو بھلے چنگے ہیں۔ معمولی زکام بخار ہے۔ خود چل کے آ سکتے تھے۔ چارپائی پر لیٹ اٹھوا کے آنے کی کیا ضرورت تھی۔ ”او جی ایہہ وی تے ویہلے بیٹھے ہان“ یہ بھی تو فارغ ہی بیٹھے تھے۔ نمبردار صاحب کا جواب تھا۔
بھینس تو میری بھی مر گئی تھی۔
وڈیرے کی بھینس بیمار ہوئی۔ علاج کے لئے مصاحب سے مشورہ کیا تو اس نے بتایا کہ ساتھ کے گاؤں کے فلاں زمیندار کی بھینس کو بھی بالکل یہی بیماری لگی تھی اور یہی نشانیاں تھیں۔ اس سے پوچھیں کیا علاج کیا تھا۔ زمیندار نے جو دوائیں دی تھیں بتا دیں۔ مگر وڈیرے کی بھینس مر گئی۔ زمیندار کو بتایا کہ جو نشانیاں بیماری کی تم نے اپنی بھینس کی بتائی تھیں وہی ہماری بھینس کی بیماری کی تھیں۔ اور جو دوائیں تم نے اپنی بھینس کو دیں اور ہمیں بتایا تھا، وہی ہم نے دیں مگر ہماری بھینس تو مر گئی ہے۔ زمیندار دکھ بھری آواز میں بولا جی آپ نے میری استعمال کرائی دواؤں کا پوچھا۔ میں نے بتا دیا۔ بھینس تو میری بھی مر گئی تھی۔
پینتالیس سے پینسٹھ برس قبل تک سنتے سناتے قہقہوں کے طوفان اٹھانے والے یہی لطائف اب کبھی پھر ذہن کے دریچوں سے جھانکتے ہیں تو اب نہ ہنسی آتی نہ قہقہے ابلتے ہیں۔ یہ سب پچھلی چند دہائیوں میں ملک عزیز میں بن چکی تلخ حقیقتوں کی وڈیو بن صرف زہر خند مسکراہٹ لئے سامنے آ کھڑے ہوتے ہیں۔
شدید بیماری کی حالت میں بھی کراچی میں بستر پہ لیٹا اظہر احمد مجھ کینیڈا بھاگ آئے ماموں کو فون پر لگاتار دسیوں لطیفے سنایا کرتا۔ اب وہ جا چکا اور لطیفے پر معانی استعارے بن چکے۔


