چند دن تاریخی روایات کی سرزمین ملتان میں ( 2 )
یکم نومبر کو جمعہ کا دن تھا۔ شادی والا گھر تھا، سہ پہر کو بارات کی آمد تھی۔ ناشتے کے بعد گھر میں سب اپنی اپنی تیاریوں میں مصروف ہو گئے۔ میں حضرت شیخ بہاؤالدین زکریا ؒ اور حضرت شاہ رکن عالم ؒکے مزار پر حاضری دینا چاہتا تھا۔ اپنے دوستوں میں سے کسی کو بھی مزارات پر جانے کا نہیں بتایا تھا۔ بارات کے آنے میں بہت سا وقت باقی تھا جس کا میں فائدہ اٹھانا چاہ رہا تھا۔ گیارہ بجے میں اکیلا ہی مزار پر جانے کے لیے گھر سے باہر نکل آیا۔
ایم اے جناح روڈ سے شاہ رکن عالم کا مزار 8 کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے لیکن ایک ایسے انجان شہر جس میں پہلی بار آیا تھا اور جس شہر کی سڑکوں اور راستوں سے بھی میں ناواقف تھا نکلتے ہوئے ہچکچا رہا تھا۔ میں نے گاڑی میں بیٹھ کر گوگل سے رابطہ کیا جو فوراً ً راستہ بتانے پر تیار ہو گئی۔ گوگل نے راستوں کی راہ نمائی کی تو میں گلگشت کالونی سے ہوتے ہوئے ہمایوں روڈ سے شہید یونس روڈ پر پہنچا جہاں چوک سے بائیں مڑ کر میں مزار کے احاطہ میں پہنچ گیا۔
گھر سے احاطہ مزار تک پہنچنے میں مجھے بیس منٹ لگے۔ جمعہ کو ملتان شہر کے اکثر بازار بند ہوتے ہیں اس لیے سڑکوں پر اتنا رش نہیں تھا۔ شاہ رکن عالم ؒ کا مزار شہر کے درمیان میں ملتان قلعہ کے شمال مغربی کنارے پر ایک چھوٹی سی پہاڑی پر واقع ہے۔ مزار کے ساتھ ہی قاسم باغ ہے۔ میں نے بڑے گیٹ سے گاڑی باغ کے اندر لے جانا چاہی تو چوکیدار نے منع کر دیا اور پارکنگ میں گاڑی کھڑی کرنے کی ہدایت کی۔ میں نے داخلی گیٹ کی دوسری طرف بنی پارکنگ لاٹ میں گاڑی کھڑی کر کے پرچی لی۔
نومبر کی پہلی تاریخ کودن کے ساڑھے گیارہ بجے ملتان میں درجہ حرارت 34 سینٹی گریڈ تھا۔ دھوپ میں تمازت تھی۔ شاہ رکن عالم کا مزار داخلی دروازے کی بائیں جانب ایک چھوٹی سی ٹیکری پر واقع ہے۔ مقبرے کی عمارت سے باہر رسیاں لگا کر خواتین اور مردوں کے لیے علیحدہ راستے بنائے ہوئے تھے۔ ساتھ بنے ٹینٹ میں پولیس کے دو تین سپاہی ڈیوٹی پر موجود تھے۔ بہت سے خواتین و حضرات مزار کی طرف جا رہے تھے۔ مرکزی دروازے میں کھڑے ہو کر میں نے مزار کے اندر جانے والے افراد کا جائزہ لیا۔
مزار کے احاطے میں موجود اتنے سارے افراد میں مجھے کوئی ہشاش بشاش چہرہ نظر نہیں آیا۔ عام سے کپڑے پہنی خواتین کے چہروں پر عجیب سی یاسیت تھی۔ دو تین نو بیاہتا جوڑے بھی تھے جو شاید اپنی امنگیں پوری ہونے یا پھر زندگی کی اچھی شروعات کے لیے دعا مانگنے آئے تھے۔ دوسرے شہروں کی نسبت ملتان میں غربت زیادہ ہے۔ پاکستان میں لوگ اپنی منتیں مرادیں پانے اور صاحبِ مزار سے عقیدت کا اظہار کرنے کی نیت سے خانقاہوں اور مزاروں پر حاضری دیتے ہیں۔
ایسی جگہوں پر آنے والے ہر شخص کا اپنا نظریہ ہوتا ہے جس کا اظہار ان کے چہروں سے واضح ہو جاتا ہے۔ مزار کی عمارت میں داخل ہونے سے پہلے جوتے اتار کر جمع کروائے۔ مزار کے اندر داخل ہوا تو صحن میں ٹائلوں کی تنصیب کا کام جاری تھا۔ نیلی منقش روغنی ٹائلوں سے مزین لکڑی کے بڑے تختوں والے دروازے سے جوں ہی میں مقبرے کی عمارت میں داخل ہوا تو ایک صاحب راستے میں چادر لیے کھڑے تھے جو انھوں نے مجھے اوڑھانے کی کوشش کی۔
سفید کپڑوں میں ملبوس رنگین شیشوں کی سنہرے فریم والی عینک پہنے مجھے شاید وہ کوئی وڈیرہ سمجھ رہے تھے۔ اتنے میں ایک اور صاحب نے پھولوں کی پتیوں سے بھری پلیٹ میرے ہاتھ میں تھمانے کی کوشش کی۔ میرے منع کرنے پر انھوں نے استہزائی نظروں سے مجھے دیکھا لیکن میں انھیں نظر انداز کر کے مزار کی طرف بڑھ گیا۔ قبر کے پاس پہنچ کر میں نے صاحب ِمزار کی مغفرت کے لیے دعا کی اور ایک جانب چپ چاپ کھڑا ہو کر مزار کے اندر کا جائزہ لینے لگا۔ کچھ نوجوان مزار کے سامنے کھڑے ہو کر سیلفیاں بنا رہے تھے۔ چند خواتین عقیدت سے آنکھیں بند کیے کھڑی تھیں۔ ایک ماڈرن سی خاتون بھی تصاویر بنوانے میں مصروف تھی۔ میں دس منٹ تک وہاں کھڑا رہا۔ مزار کے اندر صفائی کا انتظام ناقص نظر آیا۔ دس منٹ بعد میں مزار سے باہر آ گیا۔
حضرت شاہ رکن عالم
حضرت شیخ رکن الدین ابوالفتح جنھیں عرف عام میں شاہ رکن عالم کے لقب سے جانا جاتا ہے، چودھویں صدی کی ملتان سے تعلق رکھنے والے سہروردیہ صوفی مسلک کے مسلمان صوفی بزرگ اور ایک مشہور شخصیت تھے۔ آپ شیخ بہا الدین زکریا کے پوتے اور پیر صدرالدین عارف کے فرزند تھے۔ آپ 13 ویں صدی عیسوی میں ملتان میں پیدا ہوئے۔ آپ نے ساری زندگی اسلام کی تعلیمات لوگوں تک پہنچانے میں گزاری۔ چودھویں صدی میں آپ کے انتقال کے بعد آپ کا مقبرہ دیپالپور کے گورنر غیاث الدین تغلق نے 1320 سے 1324 کے درمیانی عرصہ میں اپنی گورنری کے عہد میں بنوایا۔ اسی لیے اس میں تغلق طرزِ تعمیر کا رنگ نمایاں ہے۔
70 کی دہائی میں مزار کی مکمل مرمت اور تزئین و آرائش کا کام محکمہ اوقاف کی زیر نگرانی میں مکمل ہوا۔ مزار کے بیرونی حصہ چمک دار اینٹوں اور اندرونی حصہ میں نیلے رنگ کی ٹائلوں سے سجاوٹ ملتان کے کا شیگروں کی محنت کا نتیجہ ہے۔ اب بھی صحن میں نئی ٹائلوں کی تنصیب کا کام جاری ہے۔ مزار عرصہ سے محکمہ اوقاف کی نگرانی میں ہے۔ محکمہ کے اہلکار مزار میں صفائی اور ستھرائی پر دھیان دینے کی بجائے اپنے آسائشیں ڈھونڈنے میں مصروف رہتے ہیں۔ زائرین کے لیے پینے کے پانی اور سایہ فراہم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ (ملتان شہر کی کچھ اور باتیں اگلی قسط میں )


