حمید خالو کے کچالو


ہر خاندان میں عموماً ایک جھکّی ہوتا ضرور ہے اور خدا کی قدرت دیکھیے زیادہ تر وہ بھی مرد۔ مردانگی کے زعم میں اِن کی جھک وقت کے گزرنے کے ساتھ بڑھتی جاتی ہے اور پھر یہ جھک اپنی معراج پر پہنچ کر اچھی خاصی سنک میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ خاندان بھر میں اِن کی جھک کے قصے اِن کی زندگی میں ہی مزے لے کر سُنائے جاتے ہیں اور اگر اِن جھکی حضرت کی اولادیں اور اولادوں کی اولادیں نیک سیرت اور شب برات میں مفتوحین کے لیے دعائے مغفرت کرنے والی نکلیں تو اِن کے مرنے کے بیسیوں برس بعد تک اِن کی جھک کے قصے دہرائے جاتے رہتے ہیں۔

میری اہلیہ کے خاندان میں بھی ایک اِسی قماش کے جھکی گزرے ہیں۔ میری شادی کے وقت تک اُن کی جھک اپنے عروج پر پہنچ چکی تھی یعنی وہ خاصے بزرگ ہو چکے تھے۔ میری اہلیہ کے رشتے میں وہ خالو تھے مگر اِدھر کے اور اُدھر کے خاندانوں میں اور محلے بھر میں وہ سبھی کے خالو تھے اور سب اُن کو حمید خالو کہتے تھے۔

حمید خالو کے خاص نشانے پر عورتیں رہتی تھیں کہ کس طرح وہ اُن کو پھوہڑ ثابت کر دیں۔ خاص نشانے پر عورتوں کے رہنے میں ایک ذرا نفسیاتی سی وجہ تھی، بلکہ دو وجہیں تھیں۔ پہلے والی وجہ کا تعلق مرد کے خمیر کی اُس خاص ہیجانی کیفیت سے ہے جس کے بیان کرنے میں میری شرافت اور اردو کی نزاکت آڑے آ رہی ہے اِس لیے اِس وجہ کو تو چھوڑیے۔ عورتوں سے خار کھانے کی دوسری وجہ اُن کے پکائے ہوئے کھانے ہوتے تھے جو کبھی حمید خالو کے معیار پر نہیں اُترے۔

کھانوں کا معیار عام لوگوں کی طرح حمید خالو کی نظر میں صرف ذائقے تک محدود نہیں تھا بلکہ اِس میں تہذیب، تاریخ، روایت، اور خاندانی پس منظر جیسی باتیں بھی شامل تھیں۔ کھانے کے معیار کی اِس پیچیدگی کے سمجھنے کو مٹر پلاؤ کی مثال دینا مناسب ہو گا۔ مٹر پلاؤ! آپ سوچیں گے کہ بھلا مٹر پلاؤ جیسے سیدھے سادے کھانے میں ایسا کیا ہو سکتا ہے کہ جس کی بنا پر کسی کو سِرے سے پھوہڑ ہی جتا دیا جائے۔ مگر بات ہے۔ مٹر پلاؤ کے بارے میں حمید خالو کی باتیں میں نے اِتنی بار سُنی ہیں کہ یہ باتیں میرے ذہن میں بالکل جم گئی ہیں۔ یہ باتیں کچھ حمید خالو کی ہی زبانی سُنیے۔ مگر پہلے ایک بات اور بتا دوں کہ حمید خالو کا کہنا تھا کہ مٹر پلاؤ کو مٹر کھچڑی کہنا چاہیے کیونکہ پلاؤ وہی ہو سکتا ہے کہ جس میں گوشت پڑا ہو۔ لیجیے، اب ذرا آگے بات بڑھانے کے لیے زمین بھی ہموار ہو گئی۔ تو حمید خالو مٹر پلاؤ کے بارے میں کہتے تھے :

”مٹر پلاؤ ہمیشہ سردیوں میں پکتا ہے اور دن میں کھایا جاتا ہے وہ بھی اتوار کو۔ اب تو خیر لوگوں کو یہ سب معلوم ہی نہیں، کسی بھی وقت پکا کر کھا لیتے ہیں۔ عمدہ مٹر پلاؤ کے چاول بالکل سفید ہوں گے اور مٹر ہرے رہیں گے۔ مٹر پلاؤ پھریرا ہو گا۔ کچھ لوگوں کو ہلکے سے گیلے چاول بھی پسند ہیں مگر یہ اُن کے گنوار ہونے کی نشانی ہے۔ مٹر پلاؤ کبھی خالی نہیں کھایا جاتا، اِس کے ساتھ ہرے دھنیے اور ہری مرچ کی چٹنی، سلاد، اور رائتے کا ہونا لازمی ہے۔ کبھی مولی یا چقندر کا پانی والا اچار بھی ہو سکتا ہے مگر یہ ضروری نہیں۔ سلاد کے لیے پیاز مہین کٹی ہوئی اور دھلی ہوئی ہوگی کہ اُس میں جھار باقی نہ رہے۔ ٹماٹر پیاز وغیرہ کو ٹھیک سے ملایا جائے گا مگر اِتنا نہیں کہ ملیدہ بن جائے!“

دیکھا آپ نے معمولی لگنے والا مٹر پلاؤ حمید خالو کی میزان پر دَم کھا کر کیسا پیچیدہ نکلا ہے کہ اب جب بھی آپ کے سامنے مٹر پلاؤ آئے گا آپ اُس کی بخیہ آسانی سے اُدھیڑ سکتے ہیں۔ میری سُسرال میں جب مٹر پلاؤ پکتا ہے تو نئے آنے والے کو اکثر ایک قصہ بھی سُنایا جاتا ہے۔ یہاں چونکہ مٹر پلاؤ کا ذکر ہو رہا ہے تو آپ بھی وہ قصہ سُن لیجیے۔ تو ہوا یہ تھا کہ گھر میں نئی نئی بہو آئی تھی۔ سردیوں کا زمانہ تھا، بازار میں تازے مٹر بھی خوب آئے ہوئے تھے۔

نئی بہو نے مٹر پلاؤ پکانے کو کہا تو گھر کی عورتوں نے اُس کو ہشیار کرتے ہوئے بتایا ”کامران کے ابّا کو مٹر پلاؤ بہت پسند تو ہے مگر خوش کرنا اُن کا بہت دشوار“ اور پھر سوچ سوچ کر اُن لوگوں نے مٹر پلاؤ کے متعلق جن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے وہ تمام باتیں بہو کو سمجھا کر کہا ”اگر اِن باتوں کا خیال رکھوں گی تو دیکھو، شاید کامیابی مل ہی جائے“ ۔

پرانے خاندان کے روایتی انداز کی تربیت یافتہ نئی بہو کے مٹر پلاؤ کی اُس کے خاندان میں بڑی آن تھی کہ مٹر اِس کے ہرے رہتے ہیں اور چاول بالکل سفید۔ اُس کے مٹر پلاؤ کو دیکھ کر کتنوں نے ہی اُس سے کہا تھا ”یہ بتاؤ! تمہارے چاول ایک دم سفید کیسے رہتے ہیں!“ اپنے مٹر پلاؤ کی تعریفیں سُنے ہوئے نئی بہو کو یقین تھا کہ اُس کا مٹر پلاؤ یہاں بھی اپنی آن قائم کر لے گا۔ مگر مٹر پلاؤ والے دن، وہ مائیکے میں اپنی اماں کی دلائی میں گھُسی ہوئی تخت پر بیٹھی رو رہی تھی۔ اور تخت سے ذرا ہٹ کر اُس کے ابّا کرسی پر بیٹھے اپنے دائمی دمے کی دھانس کے اُٹھنے کی تاک لگائے ماں بیٹی کی باتیں سُن رہے تھے۔

”لوندا تو تم سے کبھی نہیں ہوا، پوچھنا بے کار ہے،“ اماں نے یہ کہہ کر کچھ سوچتے ہوئے پوچھا، ”تو کیا چاولوں کی سُفیدی گَہنا گئی تھی؟“

”نہیں اماں،“ بیٹی نے روتے ہوئے جواب دیا۔ ”مٹر بھی خوب ہرے ہرے تھے۔“
”ہاں، مٹر بھی اِن دنوں اچھی آ رہی ہے، بڑی میٹھی میٹھی۔“

”میٹھی میٹھی نہیں،“ ابّا نے اماں کو ٹوکا اور اُسی لمحے اُن کی کھانسی کی دھانس اُٹھ آئی۔ دھانس کو سینے میں گھونٹتے ہوئے وہ بولے، ”میٹھے میٹھے مٹر!“

اُن کے یوں ٹوکنے پر اماں نے بیٹی کو اپنے مزید قریب کر لیا اور چڑھ کر کہا، ”اُونھ، نفرت! وہی میٹھا۔ میٹھی، کڑوا۔ کڑوی، ہرا۔ ہری۔ اب، سلاد پر بھی ضرور بولیے گا کہ سلاد بنتا نہیں بنتی ہے۔“

پھر اماں نے بیٹی سے پوچھا، ”اچھا، پیاز دھو کر ہی سلاد۔ بنایا ہو گا؟“

”بنایا ہو گا“ کے لفظوں کو اُنہوں نے خاص اپنے شوہر کی طرف طنزیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا تھا۔ مگر وہ کیا بولتے، وہ تو بے چارے دھانس سے جو بلغم حلق تک آ گیا تھا اُسی میں الجھے ہوئے تھے کہ اِسے نکال دیں یا نگل لیں۔

”ارے ہم سے پوچھ رہی ہیں یہ سب!“ بیٹی اب کچھ جھلّا سی گئی تھی، ”وہاں سب کو بہت پسند آیا تھا کیونکہ مٹر پلاؤ اچھا پکا تھا۔ ہرے دھنیے کی چٹنی تھی، رائتہ، سلاد، سبھی کچھ۔“

”اے ہئے توبہ، تو پھر ہوا کیا؟“ اماں نے بیٹی کو اپنے سے پرے ٹھیلتے ہوئے پوچھا۔
”اِن سے کہنے لگے، ‘کامران، بہو پھوہڑ ہے، آج اتوار نہیں ہے اور مٹر پلاؤ’۔ “

اور واقعی اُس دن اتوار نہیں تھا۔ ایسے میں کوئی کیا بول سکتا تھا۔ بات میں وزن تو تھا۔ پھر حمید خالو کی بات میں وزن پیدا کرنے میں اُن کا ناک نقشہ بھی بڑا معاون ثابت ہوتا تھا۔ مگر میں خود اُن کا سراپا نہیں کھینچنا چاہتا، بس کچھ حوالے دے دوں تاکہ آپ کی سمجھ میں آ جائے کہ یہ حمید خالو کیسے لگتے تھے۔ تو حمید خالو کی والدہ کا تعلق ریاستِ میسور کے بادشاہ ٹیپو سلطان کے خاندان سے تھا۔ آج بھی اِس شاہی خاندان کے افراد الگ ہی سے دکھائی دیتے ہیں۔

دمکتا ہوا رنگ، کھڑی کھڑی ناک، بڑی بڑی آنکھیں، چوڑی ہڈی، قد کاٹھی کے اچھے۔ آوازیں سب کی بھاری بھاری مردانہ۔ حمید خالو بالکل اپنی ننہال پر ہی پڑے تھے۔ شاہی خاندان کا پس منظر اور دنیا بھی دیکھے ہوئے، اب ایسے جھکی سے کون بھڑ سکتا تھا۔ مگر اوپر تنا ہوا یہ نیلا آسمان ایسے ہی بے مصرف چکّر نہیں کاٹ رہا ہے۔ آخر آسمان نے ایک دن حمید خالو کو پلٹا دے ہی دیا۔ اُس دن کا قصہ بھی سُن ڈالیے :

وہ رمضان کا زمانہ تھا۔ اب رمضان میں اور لوگوں کا مزاج جو بھی ہو جاتا ہو مگر حمید خالو کی جھک بھوک پیاس کی وجہ سے بالکل سنک میں بدل جاتی تھی۔ دن کاٹ کر مغرب سے دو گھنٹے پہلے ہی سے وہ گھر کی عورتوں کا دماغ کھانے لگتے تھے۔ افطاری میں کیا ہو رہا ہے، کون کیا پکا رہا ہے، کہاں سے کیا آیا ہے، افطاری کہاں جانا ہے، اِس قسم کے سوال اور اُن سے شروع ہونے والی باتوں میں حمید خالو دو گھنٹے کاٹ دیتے تھے۔ افطاری میں آنے والی چیزوں سے حمید خالو دوسرے گھروں کی پردے دار عورتوں تک کے پھوہڑ پن کو بھانپ لیتے تھے۔ عورت کے سلیقے مند اور پھوہڑ ہونے کے سمجھنے میں افطاری میں آنے والے امرود کے کچالو اُن کا مستند ترین پیمانہ تھا یعنی جو عورت ”صحیح“ امرود کے کچالو بنا لے وہ پھوہڑ نہیں ہے۔

رمضان کی تیس افطاریوں میں کم از کم بیس بار امرود کے کچالووں کا بنانا ہماری تہذیبی وراثت کا حصہ ہے۔ اُس برس امرود کے کچالو بنانے والی بیس کی بیس عورتوں کو مسترد کر کے حمید خالو نے اُن سب کو پھوہڑ قرار دے دیا تھا اور یہی اُس واقعے کا محرک بنا تھا۔ امرود کے کچالووں کے متعلق حمید خالو کو محلے بھر کی عورتوں سے شکایت تھی کہ ”اِن پھوہڑوں کو امرود کے کچالو بنانا نہیں آتا۔ لگتا ہے گڑانسے سے امرود کاٹتی ہیں۔ شکر کرکراتی ہے اور منھ میں نیبو کا بیج آ جاتا ہے۔“ آخر اُنہوں نے اعلان کر دیا کہ امرود کے کچالو وہ بنائیں گے کہ آخر آنے والی نسلوں کو پتا تو چلے کہ امرود کے کچالو ہوتے کیا ہیں۔

اچھا حمید خالو خود امرود کے کچالو بنا رہے تھے تو یہ کام پورے اعلان کے ساتھ ہو رہا تھا۔ عورتیں اور بچے سبھی جمع ہو گئے تھے گھر کے دالان میں۔ حمید خالو نے پہلے امرود کے چھوٹے چھوٹے تکونے کاٹے، بالکل ورقی۔ اِسی طرح کیلے کے قتلے کیے، سب بالکل برابر۔ نیبو کا رس سفید دوپٹے سے چھان کر ڈالا۔ کھڑی کالی مرچ بوا سے سل پر پسوائی، ہلکی سی دَردَری۔ دوسرے کچالووں سے حمید خالو کو کم مٹھاس کی بھی شکایت رہتی تھی، تو اپنے کچالووں میں شکر خوب بڑھا کر ڈالی، یہ کہتے ہوئے کہ ”اماں، مٹھاس لگے تو!“ ۔

پھر حمید خالو نے یہ سب امرود اور کیلے اور شکر وغیرہ چینی کے پیالے میں رکھ کر چمچے سے ملایا اور پھر ایک چینی کی اوندھی طشتری سے پیالے کو ڈھک کر بگھارنا شروع کیا۔ اب جو بگھارنا شروع کیا تو حمید خالو پر جیسے جنون سا طاری ہو گیا، لگتا تھا مرگی چڑھ گئی۔ پورا جسم اکڑ گیا، جبڑے اُن کے بھنچ گئے، منھ سے گھُٹی گھُٹی آوازیں نکلنے لگیں، بالوں کے جھنڈولے جھولے کھانے لگے۔ اُن کی اِس ہیئت پر عورتیں دانتوں میں دوپٹے کا کونا دبا کر اندر ہی اندر ہنسنے لگیں۔

گھر کے بچے پہلے تو مزے سے یہ تماشا دیکھ رہے تھے مگر حمید خالو کے جنون نے ذرا طول جو کھینچا اور اُن کے منھ سے غُرّاہٹ کی آوازیں جو نکلیں تو بچے سہم کر پیچھے دُبکنے لگے۔ اللہ اللہ کر کے یہ بھونچال تھما۔ حمید خالو نے بچوں کو حقارت سے دیکھتے ہوئے پیالے سے طشتری ہٹائی۔ چمچے سے کچالووں کو گھما کر نکالا تو چمچے سے لپٹی ہوئی کچالووں کی لیس دار لبدی اُٹھ آئی۔ کچالووں کی یہ صورت دیکھ کر حمید خالو کے منھ سے بس ایک لفظ نکلا، ”اَمیں!“

Facebook Comments HS