شاہ دولے کے چوہوں کی کہانی سے آپ لوگ واقف ہوں گے، لہٰذا مزید اس کی تفصیلات بتانے کی ضرورت نہیں۔ بس اتنا کہنا ہے کہ یہ لوگ وقت اور عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ قد و قامت اور جسامت میں تو بڑھتے جاتے ہیں، مگر ان کی سوچ محدود رہتی ہے۔ صرف وہ بولتے ہیں جو کہا جاتا ہے اور وہی کچھ کرتے ہیں جو کرنے کا کہا جاتا ہے۔ ویسے آپس کی بات ہے ہم بھی ویسے ہی ہیں۔ کیوں کہ ہمیں ایسا بنا دیا گیا ہے۔ ہماری سوچ کو زبر دستی محدود کر دیا گیا ہے۔
اور اگر اس سوچ سے زیادہ سوچنا شروع کر دیں، تو بے بنیاد الزامات، مار پیٹ یا پھر تھانے کچہری کے چکر لگانا پڑتے ہیں۔ سکول کے زمانے سے مطالعہ پاکستان کے ذریعے یہ دماغ میں ٹھونس دیا گیا کہ علامہ اقبال نے پاکستان کا خواب دیکھا۔ بس پھر کیا تھا آج تک وہی چل رہا ہے۔ حالاں کہ ڈاکٹر جاوید اقبال اپنی وفات سے پہلے متعدد بار اس بات کو رد کر چکے ہیں۔ جلیانوالا باغ کے واقعے کے بعد رابندر ناتھ ٹیگور نے بنگالی ہونے کے باوجود جلیانوالا باغ (پنجاب) کے سانحے پر ”سر“ کا خطاب یہ کہہ کر واپس کر دیا تھا کہ ”وہ وقت آ گیا ہے کہ ان ایوارڈوں اور اعزازات کو مسترد کر دیا جائے، جن کے دینے والے میرے ملک کے باشندوں سے انسانیت سوز سلوک کریں۔ لہذا میری تاج برطانیہ سے درخواست ہے کہ مجھے ”سر“ کا دیا ہوا خطاب واپس لے لیا جائے”۔
Read more