صرف محنت کا حاصل صفر۔ (حصہ اول)


 

”جو کاہل ہوتا ہے وہ کامیاب نہیں ہوتا۔ جو کامیاب ہوتا ہے وہ کاہل نہیں ہوتا۔“

سینما ہال چاروں اطراف سے لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ اس میں بیٹھے نوجوان فلم کے ہر چھوٹے بڑے منظر پر پرجوش انداز میں سیٹیاں بجائے جا رہے تھے۔ کچھ لوگ ایسے بھی تھے، جن کی فلم میں اتنا توجہ مرکوز تھی کہ انہیں کسی اور چیز کی خبر تک نہیں تھی۔ لوگوں کے چہرے فلم کے کچھ مناظر پر پھولوں کی طرح کھل اٹھتے اور ساتھ ہی ان کے دل مچلنے لگتے۔

ہر طرف سے لوگ کچھ لمحوں میں پرجوش ہوتے ہوئے آوازیں نکالتے اور پھر کچھ مناظر پر یک دم سے خاموشی کچھ اس طرح کی چھا جاتی جیسے کہ ہو کا عالم ہو۔ یہ فلم تھی ویل سمتھ کی کنگ رچرڈ۔ جو ٹینس کی بہترین کھلاڑیوں وینس ولیمز اور سرینا ولیمز کی زندگی کی کہانی پر فلمائی گئی ہے۔

اس میں ایک خوبصورت مکالمہ آتا ہے۔ جو پورے ہال پر ایک خوبصورت سا احساس طاری کر دیتا ہے، جو کچھ یوں ہے۔ کوچ وینس ولیمز سے پوچھتا ہے کہ آپ کیا چاہتی ہے؟ اس پر وینس ولیمز جواب دیتی ہے کہ میں ومبلڈن اتنا بار جیتنا چاہتی ہوں، جتنا آج تک دنیا میں کوئی بھی نہیں جیتا۔ کوچ کہتا ہے کہ تمہیں خود پر اتنا بھروسا ہے؟ اس پر وینس ولیمز جواب دیتی ہے کہ مجھے اپنی محنت پر یقین ہے۔

اس کے بعد کوچ اپنا رُخ دوسری بہن سرینا ولیمز کی طرف کرتے ہوئے پوچھتا ہے کہ سرینا تم بتاؤ کس کی طرح کھیلنا چاہتی ہو؟ اس پر سرینا ولیمز کہتی ہے کہ میں چاہتی ہوں دوسرے میری طرح کھیلیں۔ اس پر کوچ کہتا ہے کہ ایسا ضرور ہو گا۔ حقیقت میں ان دونوں بہنوں نے اپنی محنت کے بل بوتے پر اس سے بہت زیادہ حاصل کیا کم نہیں۔ وینس ولیمز اپنے دور کی ایک بہترین کھلاڑی، جبکہ سرینا ولیمز چھ سال تک مسلسل عالمی نمبر ایک کی پوزیشن پر برقرار رہی۔ آج ہر ٹینس کھیلنے والی لڑکی ان دونوں بہنوں جیسا کھیلنا اور کامیابیاں سمیٹنے کی خواہش رکھتی ہے۔ جو لوگ محنت کے بل بوتے پر کچھ کرنے کا عزم رکھتے ہیں تو محنت ایسے لوگوں کو کبھی بھی مایوس نہیں کرتی۔ محنت اور کامیابی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ جو سکے کے پہلے رخ محنت کو پکڑ لیتا ہے، تو دوسرے رخ کا بھی ساتھ ساتھ حق دار بن بیٹھتا ہے۔ لاحاصل ان لوگوں کے نصیب کی کتاب کے ہر پنے پر لکھا ہوا ملتا ہے، جن کی زندگی محنت لفظ سے نا آشنا ہوتی ہے۔ دنیا کی سب سے میٹھی چیز شہد ہے، اور اس کے وجود کا وسیلہ قدرت نے مکھیوں کو بنایا ہے۔ ایک پونڈ شہد کے لیے، مکھیوں کو بیس لاکھ پھولوں کا رس چوسنا پڑتا ہے۔ یہ تقریباً تیس لاکھ اڑانیں بھر کر پچاس میل کی مسافت طے کرتی ہیں، لیکن پھر بھی یہ فاضل پانی سے زیادہ کچھ نہیں ہوتا۔ مکھیاں اس رس کو بھاپ کی طرح اڑانے کے بعد باقی کو اپنے منہ میں چوستی ہیں، اور ان کے منہ میں موجود غدود اس پانی کو شہد میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ یہ قدرت کا نظام ہے کہ اگر آپ کو اپنی زندگی میٹھی بنانی ہے تو پھر آپ کو اس چھوٹی سی مخلوق کی طرح محنت کرنی ہوگی، نہیں تو زندگی ہمیشہ کے لئے کڑوی ہو کر رہ جائے گی۔

اے عزیز! اگر آپ کی کاہلی رہنما ہے تو پھر آپ کی منزل ناکامی ہے اور اگر آپ کی وابستگی محنت سے ہے تو پھر آپ کامیابی کی سمت میں چل رہے ہیں، جو بالکل آپ کے خوابوں کے حصول میں کار آمد ثابت ہوگی۔ آپ جتنا زیادہ اس کے ساتھ جڑے رہیں گے، آپ اتنا بڑی بڑی بلندیوں کو چھو پائیں گے۔ محنت ایک ایسا علاقہ ہے جہاں پر کامیابی رہتی ہے جبکہ کاہلی کی زمین پر صرف ناکامی کی پیداوار ہی ہوتی ہے۔ اے جان جہاں! اگر آپ حاصل کرنا جانتے ہیں تو آپ کے لئے دنیا میں بہت کچھ ہے اور اگر حاصل کرنا نہیں جانتے تو آپ کے لئے پھر کچھ بھی نہیں اور ہر چیز کا حاصل عقلی محنت سے ہے۔ محنت کسی بھی کام کی کامیابی میں اتنی ہی اہمیت رکھتی ہے جتنی کہ کوئی چیز آخری حد تک ہو سکتی ہے۔ لیکن کسی بھی کام میں نتائج کے حصول کے لئے صرف محنت کافی نہیں ہوتی۔ محنت چند چیزوں کا ایک مجموعہ ہے اور ان کے ہونے سے ہی انسان کو بہتر سے بہترین نتائج حاصل ہوتے ہے۔

کیا سفر کے لئے صرف ارادہ ہی کافی ہوتا ہے؟ ہاں ارادہ اہم ضرور ہے لیکن ساتھ ہی اس کے لئے کسی ذریعے کا ہونا بھی ضروری ہوتا ہے، اور بغیر ذریعہ سفر ممکن نہیں۔ ٹھیک ایسے ہی اکیلے محنت کامیابی کے لئے ناکافی ہے، بلکہ ساتھ ذریعے کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور جس میں سب سے اہم غیر معمولی نتائج کے لئے دوسروں کی بطور معاونت کا ہونا شامل ہے۔ ٹھیک ایسے ہی کیا ذریعے کے ملنے پر منزل کی طرف چل نکلنا ہی ٹھیک ہے؟ بالکل نہیں، منزل کے بارے میں علم ہونا بھی اتنا ہی اہم ہے اور بغیر منزل صحرا میں بھٹکنے جیسا ہو گا۔ تو کیا سفر کے لئے منزل، ذریعہ اور جگہ کا علم ہونا ہی کافی ہے؟ نہیں، ساتھ ساز و سامان کا ہونا بھی اشد ضروری ہے اور اس کے بغیر آپ سفر نہیں کر سکتے۔ ٹھیک ایسے ہی محنت کے ساتھ صبر، مستقل مزاجی اور حکمت عملی کا ہونا بھی ضروری ہے۔

ہم اپنی روزمرہ زندگی میں دیکھتے ہیں کہ ایک شخص اپنی پوری زندگی محنت کرتا ہے اور وہ جو کچھ کماتا ہے، اتنا کچھ ایک اور شخص ایک سال میں کما لیتا ہے جبکہ وہی کچھ ایک تیسرا انسان ایک دن میں کما لیتا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو اس میں جس شخص کی زندگی بھر کی محنت ہے وہ ایک سال والے سے جبکہ ایک سال والے کی محنت ایک دن والے سے ہزاروں گنا زیادہ ہے لیکن نتائج کا مختلف ہونا اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ اگر محنت ہی سب کچھ ہوتی تو یہ کہ جس نے زندگی بھر محنت کی ہے اس کے نتائج کا حاصل زیادہ ہوتا، اس انسان سے جو ایک سال کی محنت رکھتا ہے اور ٹھیک ایسے ہی سال والے کی محنت کا حاصل ایک دن والے سے زیادہ ہوتا، جبکہ نتائج اس سے الٹ ہیں۔ اس کا مطلب محنت سب کچھ نہیں ہوتی بلکہ اور بھی بہت کچھ ہوتا ہیں جس کا ہونا یا پھر نہ ہونا اس قدر نتائج پر فرق ڈالتا ہے کہ ایک انسان کی زندگی بھر کی کمائی دوسرے انسان کی ایک دن کی کمائی کے برابر ہو کر رہ جاتی ہے۔ ہم اسی حقیقت کو آگے جانیں گے کہ ایسی کیا وجوہات ہوتی ہیں جن کے ہونے یا پھر نہ ہونے کی وجہ سے اتنا زیادہ نتائج پر فرق پڑتا ہے؟ محنت کا حاصل صفر پڑھنے پر شاید آپ کو یہ جملہ کم عقلی سے بھرپور لگا ہو، لیکن اس مضمون کو مکمل کرنے کے بعد آپ میرے ایک ایک لفظ سے اتفاق کریں گے اور مجھے امید ہے کہ اس مضمون سے آپ کو بہت کچھ حاصل ہو گا کیوں کہ لوگ اس معاملے میں بہت زیادہ گمراہی میں رہ رہے ہوتے ہیں۔ بطور مثال ایک واقع جو میری زندگی کے بہترین اسباق میں سے ایک اہم ترین سبق کی حیثیت رکھتا ہے۔ جس کی وجہ سے میں اس حقیقت سے روشناس ہوا کہ صرف محنت کچھ نہیں ہوتی۔

آج سے چار سال پہلے کی بات ہے کہ ایک شام میرے والد صاحب نے مجھے کہا کہ آپ کی آگے کی پڑھائی کے لئے میرے پاس پیسے نہیں۔ اگر آپ کو پڑھائی کرنی ہے تو اس کے لئے ہمیں اپنی زمین کا کچھ حصہ بیچنا پڑے گا۔ اس وقت میرے والد صاحب کی عمر تقریباً 60 سال تھی۔ ان کی زندگی بھر کی کمائی اتنی بھی نہیں تھی کہ گھر میں باقی چار بچوں کو چھوڑ کر صرف مجھے مکمل تعلیم دلواتے۔ میں نے زندگی بھر ان کو دیکھا، شاید ہی کوئی ایسا دن ہو جب وہ کام کو چھوڑ کر سکون سے گھر بیٹھے ہوں۔ لیکن اس سب کے باوجود ان کی اس سب محنت کا حاصل ہمارے پاس صفر تھا۔ یہ صفر ایک دن یا ایک سال کی کمائی نہیں بلکہ ان کی چالیس سال کی کمائی کے بعد انہوں نے جہاں پر سے شروع کیا تھا آج بھی ہم وہیں پر کھڑے تھے۔ ان کی زندگی بھر کا نچوڑ جو میں نے سبق کی صورت میں آج سے چار سال پہلے سیکھا وہ یہ کہ صرف محنت کا حاصل صفر ہے۔ اس وقت میرے سامنے ناصرف میرے والد صاحب کی زندگی بلکہ ایک پورا گاؤں تھا اور اب پوری دنیا نمونے کی صورت میں موجود ہے۔ جو کل جہاں پر کھڑے ہوئے ہوتے ہیں آج بھی وہیں پر کھڑے ملتے ہیں اور یہ لوگ اتنی ہی محنت کرتے ہیں جتنی کہ کوئی دنیا کا دوسرا کامیاب شخص۔ اس سے زیادہ تو کرتے ہوں گے مگر کم ہرگز نہیں۔

Facebook Comments HS