دونوں کناروں پر: آزادی اور قید کا رقص


تالاب مچھلی کا مسکن ہوتا ہے، اور بطخ کا عیاشی کا اڈہ۔ چاہے دکھ ہو یا سکون، بارش ہو یا دھوپ، مچھلی پانی سے کبھی نہیں نکلتی۔ وہ ہمیشہ اپنے ماحول میں رچی بسی رہتی ہے۔ دوسری طرف، بطخ مزاج کے مطابق زندگی گزارتی ہے، کبھی پانی میں تیرتی ہے تو کبھی خشکی پر آ کر قیں قیں کرتی ہے۔

بطخ کا مسکن زمین ہے، لیکن وہ اپنی زندگی کا بڑا حصّہ پانی میں گزارتی ہے، وہاں خوش رہتی ہے، مگر یہ خوشی عارضی ہوتی ہے۔ جب موسم بدلتا ہے، سردی آتی ہے، تو تالاب جم جاتا ہے۔ اب وہ عیاشی، وہ سکون، سب کچھ ختم ہو جاتا ہے۔ اب بطخ کے لیے پانی کی لذت بھی نہیں رہتی۔ مچھلی کا حال مختلف ہے۔ وہ ہمیشہ پانی میں رہتی ہے، اور اگر پانی جم جائے، تو وہ بے بس ہو جاتی ہے۔ اس کے پاس کوئی انتخاب نہیں ہوتا۔ پانی کا اس کی زندگی سے ایسا گہرا تعلق ہے کہ وہ اس کے بغیر زندگی نہیں گزار سکتی۔ اگر پانی کا دروازہ بند ہو جائے، تو وہ مر جائے گی۔

مچھلی کے پاس آزادی کا کوئی آپشن نہیں ہوتا۔ یہ اس کی ایک بڑی حقیقت ہے۔ اس کی زندگی کی محدودیت اس کی بے اختیاری میں چھپی ہوئی ہے۔ وہ ہمیشہ پانی میں رہ کر اپنی تقدیر کو جھیلتی ہے، لیکن کبھی وہ اس بے اختیاری کو آزادی سمجھنے کی کوشش نہیں کرتی۔ کیونکہ آزادی کا مفہوم صرف اس کے لئے محدود ہے۔ وہ اگر آزاد ہوتی، تو شاید اپنی تقدیر خود لکھ سکتی، مگر وہ مجبور ہے۔ اس لیے وہ اپنی حالت کو قبول کرتی ہے اور پانی میں موجود رہ کر سکون تلاش کرتی ہے۔ بطخ کو آزادی ہے، لیکن یہ آزادی اُسے ایک طرح کی قید میں بھی بدل دیتی ہے۔ وہ جہاں چاہے جا سکتی ہے، دونوں جگہوں پر خوشی تلاش کرتی ہے، لیکن اس کی آزادی اُسے کہیں نہ کہیں الجھاتی ہے۔ اگر وہ پانی میں ہو، تو خشکی یاد آتی ہے، اور اگر خشکی پر ہو، تو پانی کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ آزادی کی تلاش میں وہ سکون کے بجائے ایک مسلسل کشمکش کا شکار ہو جاتی ہے۔ لیکن اس کی آزادی کا ایک اور پہلو ہے، جو شاید زیادہ پیچیدہ ہے۔

بطخ جب پانی میں ہوتی ہے، تو وہ محض تیرتی نہیں رہتی، بلکہ وہ اس پانی میں موج مستی کرتی ہے، جیسے کوئی نشہ کرنے والا اپنی نشے کی حالت میں سکون پاتا ہو۔ وہ پانی میں خوشی تلاش کرتی ہے، اور یہ خوشی اس کی عادت بن جاتی ہے۔ پھر جب یہ خوشی اس کی عادت بن جاتی ہے، تو وہ اسے ترک کرنے میں بے بس ہو جاتی ہے۔ جب پانی جم جاتا ہے، تو بطخ کو اس لذت کی کمی محسوس ہوتی ہے، جیسے کوئی نشے کا عادی انسان اپنی نشے کی حالت کو یاد کرتا ہے۔ وہ اس لذت کی طلب میں تڑپتی ہے، بالکل ویسے ہی جیسے کوئی نشے کا عادی اپنی اگلی خوراک کے لئے تڑپتا ہے۔ یہ آزادی کا نشہ بطخ کو ایک طرف اپنی خواہشات کے پیچھے دوڑنے پر مجبور کرتا ہے، اور دوسری طرف جب وہ اس لذت سے محروم ہو جاتی ہے، تو وہ اس کے بغیر بے چین ہو جاتی ہے، جیسے ایک نشئی نشے کی کمی سے تڑپتا ہے۔ یہ آزادی کا لذت بننا ایک عارضی سکون ہے، جو آخرکار قید میں بدل جاتا ہے۔ وہ پانی کی لذت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی، اور جب پانی سے وہ محروم ہو جاتی ہے، تو اسے اپنے عادی ہونے کا پچھتاوا ہوتا ہے۔ مچھلی کی بے اختیاری میں ایک عجیب سکون ہے، کیونکہ وہ اپنی حالت کو تسلیم کر کے اس میں راضی ہو جاتی ہے، جبکہ بطخ کی آزادی اسے بے سکونی میں مبتلا کر دیتی ہے۔ وہ اگر آزاد ہوتی، تو شاید اپنی تقدیر کو خود لکھ سکتی، مگر وہ اپنی لذت کے عادی ہو چکی ہے، اور یہ لذت اسے اپنے آپ میں قید کر دیتی ہے۔

زندگی ایک مسلسل تغیر کا نام ہے۔ ہر مخلوق اپنی حالت میں جکڑی ہوئی ہے، چاہے وہ آزادی کے پیچھے دوڑ رہا ہو یا بے اختیاری میں سکون تلاش کر رہا ہو۔ دونوں میں ایک نوع کی حقیقت ہے۔ جو وقت گزرنے کے ساتھ واضح ہوتی ہے۔ بطخ کی آزادی بھی اس کی عادت بن کر اس کو جکڑ لیتی ہے، اور مچھلی کی بے اختیاری اسے اپنے ماحول کے اندر سکون فراہم کرتی ہے۔ یہاں دونوں کی حالتیں ایک دوسرے سے مختلف ضرور ہیں، مگر دونوں میں ایک ہی حقیقت چھپی ہے : آزادی یا بے اختیاری، دونوں کے اپنے تکلیف دہ پہلو ہیں۔

Facebook Comments HS