بچپن کی شرارت یا عمر بھر کا عارضہ۔ اے ڈی ایچ ڈی پہچانیں
پچھلے دنوں میرے چھ سالہ بیٹے کو زندگی کی پہلی چوٹ لگی۔ کیسے؟ وہ اپنے ایک اے۔ ڈی۔ ایچ۔ ڈی ہم جماعت سے کھیل کے دوران بحث میں پڑ گیا۔ جہاں میرے بیٹے نے اپنی پوری ذہنی و جسمانی صلاحیت کا استعمال کر کے اسے زیر کرنا چاہا وہیں اس بچے نے اپنی ذہنی مشکل کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس کے سر پر ایک بھاری اسنوکر کی بال دے ماری۔ بہت خون بہا، آنکھ کے اوپر چار ٹانکے آئے۔ سارا دن چین کے اسپتالوں میں نکل گیا۔ آنکھ اور نظر کا معائنہ، فریکچر کے لئے سی ٹی، اندرونی چوٹ کا معائنہ اور پھر ٹانکوں کا مرحلہ سب بہت تکلیف دہ رہا۔
تھوڑے دن بعد جب اس واقعہ کی تفصیل پاکستان پہنچی تو ایک دوست نے بہت ناراضی سے کہا۔ کہ اے ڈی ایچ ڈی بچہ اس اسکول میں کیوں ہے؟ اسپیشل اسکول کیوں نہیں جاتا۔ اس کو سمجھایا کہ دنیا بھر میں اسپیشل اسکول نام کا کوئی کانسپٹ نہیں۔ اور یہ ٹھیک بھی ہے۔ تمام اسکول انکلوژو ہوتے ہیں جہاں سب بچے ساتھ پڑھتے ہیں۔
ہم 2025 میں داخل ہونے کو ہیں لیکن کیا ہم واقعی آگے بڑھ رہے ہیں، یا گزرتا وقت ہمیں گزار رہا ہے۔ ہم میں سے کئی اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ اب بھی نیورو ڈائیورسٹی neurodiversity سے انجان ہیں۔ پاکستانی بچوں کی ڈھائی فیصد آبادی اے ڈی ایچ ڈی ہے۔ اور واضح رہے کہ وہ اعداد و شمار ہیں جو ہمارے علم میں ہیں ورنہ کئی ایسے بچے ہیں جن کے والدین یہ جانتے ہی نہیں کہ ان کے بچوں کا ذہن باقی بچوں سے مختلف ہے۔ اور کئی ایسے ہیں جو جانتے ہیں لیکن مانتے نہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ اے۔ ڈی۔ ایچ ڈی کیا ہے؟
اے ڈی ایچ ڈی یعنی Attention Deficit Hyperactivity Disorder کا مطلب توجہ کی کمی اور حد سے زیادہ متحرک یعنی ہائپر ایکٹیویٹ ہونے کا عارضہ ہے۔ یہ ایک طبی حالت ہے۔ اے ڈی ایچ ڈی والے بچے کے دماغ کی نشوونما اور دماغ کی سرگرمی میں فرق ہوتا ہے جو توجہ، خاموش بیٹھنے کی صلاحیت اور خود پر قابو کو متاثر کرتا ہے۔
اے ڈی ایچ ڈی اسکول، گھر اور دوستی میں بچوں اور نوعمروں کو متاثر کر سکتا ہے۔ یہ بچوں میں سب سے عام اور سب سے زیادہ مطالعہ شدہ نیورو ڈویلپمنٹل عوارض میں سے ایک ہے۔ ”نیورو“ کا مطلب ہے اعصاب۔ سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ اے ڈی ایچ ڈی والے لوگوں کے دماغ، اعصابی نیٹ ورک اور نیورو ٹرانسمیٹر میں فرق موجود ہیں۔
اس بیماری کی وجہ سے بچوں میں دو طرح کے مسائل واضح ہوسکتے ہیں۔
پہلا لاپرواہی یعنی توجہ کا ایک مختصر عرصہ ہونا او غلطیاں کر کے بھول جانا۔ مثال کے طور پر، اسکول کے کام میں بھول جانا یا چیزوں کو کھونا ان کاموں پر قائم رہنے سے قاصر ہونا جو تکلیف دہ یا وقت طلب ہیں اور مسلسل سرگرمی یا کام کو تبدیل کرنا، کاموں کو منظم کرنے میں دشواری ہونا
دوسرا ہائپر ایکٹیویٹ/ اضطراب جیسے خاموش بیٹھنے سے قاصر، خاص طور پر پرسکون یا پرسکون ماحول میں، کاموں پر توجہ مرکوز کرنے سے قاصر رہنا، ضرورت سے زیادہ جسمانی حرکت ضرورت سے زیادہ بات کرنا، بات چیت میں خلل ڈالنے کے بارے میں سوچے بغیر اپنی باری کا انتظار کرنے سے قاصر ہونا۔ اور سب سے پریشان کن خطرے کا احساس نہ ہونا۔
یہ علامات بچے کی زندگی میں اہم مسائل کا باعث بن سکتی ہیں، جیسے اس کو میں ناکامی، دوسرے بچوں اور بڑوں کے ساتھ ناقص سماجی تعلق، اور نظم و ضبط کے مسائل۔ اب سوال یہ ہے کہ اکثر شرارتی بچے یہی سب تو کرتے ہیں۔ اس فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔
ایک ”شرارتی“ بچہ کبھی کبھار خلل ڈالنے والے طرز عمل کا مظاہرہ کر سکتا ہے، جبکہ اے ڈی ایچ ڈی والا بچہ عدم توجہ، ہائپر ایکٹیویٹی، اور اضطراب کے مستقل نمونوں کا مظاہرہ کرتا ہے جو ان کی روزمرہ کی زندگی میں نمایاں طور پر مداخلت کرتا ہے، اکثر جان بوجھ کر بدسلوکی کے بجائے اعصابی حالت سے پیدا ہوتا ہے۔ تمام بچے تھوڑا شرارتی ہو سکتے ہیں، لیکن اگر آپ کا بچہ بہت زیادہ متحرک ہے، توجہ مرکوز رکھنے کے قابل نہیں ہے، اور اس طرح سے برتاؤ کرتا ہے جو سیکھنے اور سماجی تعلقات کو متاثر کرتا ہے، تو اسے توجہ کی کمی ہائپر ایکٹیویٹی ڈس آرڈر کے علاج کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
فرق کرنے کے لیے اہم نکات:
ایک ”شرارتی“ بچہ کبھی کبھار کام کر سکتا ہے، جبکہ ایک اے ڈی ایچ ڈی بچہ مختلف حالات میں توجہ، بے چینی، اور جذباتی اعمال کے ساتھ مستقل اور توجہ طلب مشکلات کا مظاہرہ کرتا ہے۔ ”شرارتی“ رویے کو عام طور پر بیرونی عوامل کا ردعمل سمجھا جاتا ہے، جبکہ اے ڈی ایچ ڈی کو سائنس کی رو سے نیورو ڈویلپمنٹل ڈس آرڈر سمجھا جاتا ہے جیسے بچہ ہر وقت ایک ذہنی کشمکش میں مبتلا ہو
اگرچہ ایک ”شرارتی“ بچہ کسی صورتحال میں خلل ڈال سکتا ہے، لیکن اے ڈی ایچ ڈی والے بچے کی علامات ان کی تعلیمی کارکردگی، سماجی معاملات اور مجموعی طور پر روزمرہ کے کام کو نمایاں طور پر متاثر کر سکتی ہیں۔ ایسے بچوں کی مدد کے لئے والدین اور اساتذہ کو ہر وقت الرٹ رہنے کی ضرورت ہے۔
سب سے پہلے تو روٹین بنائیں اور اس پر قائم رہیں۔ اے ڈی ایچ ڈی والے بچوں کو ایک اسٹرکچر کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہوم ورک اور سرگرمیوں کے اوقات سمیت روزمرہ کا معمول برقرار رکھیں۔ شیڈول کو ریفریجریٹر پر لگا کر رکھیں۔ خود بھی منظم رہیں اور گھر کو بھی رکھیں۔ روزمرہ کی اشیاء کو ایک ہی جگہ پر منظم رکھیں، بشمول کپڑے، اسکول کا سامان/بیگ اور کھلونے۔ مستقل مزاج بنیں۔ اے ڈی ایچ ڈی والے بچوں کو واضح اور مستقل اصولوں پر عمل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ جان سکیں کہ آپ ان سے کیا توقع کرتے ہیں۔ اصولوں کو آسان بنائیں اور ان پر عمل کریں۔
صحت مند غذا فراہم کریں۔ بچے کو اچھی خوراک دیں، کیونکہ غذا اے ڈی ایچ ڈی کی علامات کو متاثر کر سکتی ہے۔ باقاعدگی سے صحت مند کھانے یا ناشتے کا شیڈول بنائیں اور جنک فوڈز کو کم کریں۔ ورزش اور نیند کو فروغ دیں۔ زیادہ توانائی والے بچوں کو بہت زیادہ حرکت کرنے کی ضرورت ہے، اس لیے ان کے ساتھ چلنا شروع کریں۔ اس کے علاوہ، اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کے بچے کی نیند کا دورانیہ ٹھیک ہو۔ کیونکہ معیاری نیند اے ڈی ایچ ڈی کی علامات کو کم کر سکتی ہے۔
حوصلہ افزائی کریں۔ اچھے رویے کی تعریف کریں۔ اگر وہ روٹین پر عمل کریں تو کوئی چھوٹا سا انعام دیں۔ ذہن سازی یا مراقبہ کی کوشش کریں۔ یہ کسی کے لیے بھی اچھا ہے، اور بچے کی توجہ اور ارتکاز کو بہتر بنانے میں مدد کر سکتا ہے، اور انہیں اپنے طرز عمل پر قابو پانے میں مدد کر سکتا ہے۔ اپنے آس پاس تمام بچوں کا خیال رکھیں، علامات ظاہر ہونے کی صورت میں ان کی مدد کریں۔ اور انہیں کوئی نقصان نہ پہنچنے دیں۔


