نوکیا: عروج کی داستان، زوال کا سبق
مجھے موبائل انڈسٹری میں تقریباً نصف دہائی کام کرنے کا موقع ملا اس سارے عرصے میں پاکستان، افغانستان، دبئی، ابوظہبی، چائنہ، بنگلہ دیش، انڈیا اور ایران کی مارکیٹوں کا قریب سے جائزہ لینے کا موقع ملا۔ پاکستان کے تو صرف میں نے اسی شہروں کا سفر کیا لیکن چائنہ میں بیٹھ کر ان سارے ممالک کے کاروباری حضرات کے ساتھ طویل نشستیں ہوئیں۔ خصوصاً جب ہم اپنی شپمنٹ بھیج دیتے تو ایک دو دن خوب موقع ملتا تو ہمارا کام اس وقت ان دوستوں کے دفاتر میں بیٹھنا اور طویل گپ شپ کرنا بس یہی ایک مشغلہ ہوتا تھا۔ اس وقت ایک ہی برانڈ تھا نوکیا جس سے ہر کوئی کہیں نہ کہیں جڑا ہوتا تھا کوئی اس کے موبائلز بیچتا کوئی پارٹس اور کوئی اس کی اسیسریز۔ میں نے چائنہ اور دبئی میں اس برانڈ کا عروج دیکھا ہے۔ اس کی برانڈنگ اس کی مارکیٹنگ کیونکہ ایک وقت میں دنیا کی سب سے بڑی موبائل فون کمپنی، اپنے عروج کے دنوں میں موبائل انڈسٹری پر مکمل طور پر حاوی تھی۔ 1990 اور 2000 کی دہائی کے ابتدائی سالوں میں نوکیا کی مقبولیت اتنی تھی کہ ہر دوسرا موبائل فون نوکیا کا تھا۔ اس کے 160 ممالک میں سیلز نیٹ ورک، 60 ممالک میں فیکٹریاں، اور 112,000 ملازمین کی فوج تھی۔ لیکن یہ تمام وسائل اور کامیابیاں بھی نوکیا کو زوال سے نہ بچا سکیں۔ آج، اگرچہ نوکیا 86,000 ملازمین کے ساتھ ایک فعال کمپنی ہے، لیکن موبائل فون مارکیٹ میں اس کی وہ حیثیت نہیں رہی۔
نوکیا نے موبائل ٹیکنالوجی میں متعدد جدتیں متعارف کروائیں، جیسے کہ پہلے رنگین اسکرین والے موبائل فون اور مشہور Snake گیم۔ نوکیا کا مارکیٹ شیئر 2007 تک 49 % یا اس سے کچھ زیادہ تھا۔ نوکیا نے عالمی سطح پر 160 ممالک میں اپنے سیلز نیٹ ورک اور 60 ممالک میں ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ اور اسمبلنگ یونٹس کے ذریعے اپنی مصنوعات پہنچائیں۔
نوکیا جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ نہ چل سکا اگرچہ اس کی مینیجمنٹ میں کچھ لوگوں کا رجحان بھی تھا لیکن مجموعی طور پر جب دنیا اسمارٹ فونز کی طرف منتقل ہو رہی تھی تو نوکیا اینڈرائیڈ اور iOS جیسی جدید ٹیکنالوجی کو اپنانے میں ناکام رہا۔ نوکیا نے مائیکروسافٹ ونڈوز فون کے ساتھ شراکت داری کی، لیکن یہ شراکت مارکیٹ میں اپنا اثر ڈالنے میں ناکام رہی بلکہ الٹا اگر میں کہوں تو نوکیا کو ڈبونے یا اپنے فیصلے پر ڈٹے رہنے کا باعث بنی۔ مائکروسافٹ کو تو شاید نوکیا کے ساتھ کام کرنے کا فائدہ ہوا لیکن نوکیا کو شدید نقصان ہوا۔ کمپنی کے اندرونی معاملات، جیسے کہ سست فیصلہ سازی اور روایتی سوچ، نے اسے جدید تقاضوں کے مطابق ڈھلنے سے روکا۔ اس کی مثال ایسے ہے کہ ایپل جب مارکیٹ میں آیا تو نوکیا کے اعلیٰ افسر نے یہ کہا کہ ”یہ مارکیٹ میں نہیں چل پائے گا، یہ صرف ایک مہنگا کھلونا ہے“ ۔ کہتے ہیں کہ جب کوئی کمپنی صارفین کی ضروریات کو نظر انداز کرنا شروع کر دیں تو سمجھ لیں کہ اس کا زوال شروع ہو گیا ہے۔ نوکیا نے اپنے صارفین کی بدلتی ہوئی ضروریات کو سمجھنے میں تاخیر کی، جبکہ ایپل اور سامسنگ نے ان ضروریات کو پورا کر کے مارکیٹ پر قبضہ جما لیا۔
سامسنگ اور ایپل، جو نوکیا کے سب سے بڑے حریف ثابت ہوئے جنہوں نے اپنی اپنی حکمت عملیوں کے ذریعے مارکیٹ میں اپنی جگہ بنائی۔ سامسنگ 80 سے زیادہ ممالک میں سیلز نیٹ ورک کے ساتھ کام کرتا ہے، جس میں 200 سے زائد لوکل دفاتر شامل ہیں۔ سامسنگ کے پاس 34 ممالک میں تقریباً 290 فیکٹریاں ہیں۔ سامسنگ کے ملازمین کی تعداد تقریباً 270,000 ہے۔ ایپل کے 100 سے زائد ممالک میں سیلز نیٹ ورک اور 500 سے زائد ریٹیل اسٹورز ہیں۔ ایپل اپنی مصنوعات زیادہ تر Foxconn اور Pegatron جیسی تھرڈ پارٹی فیکٹریوں سے تیار کرواتا ہے۔ ایپل کے ملازمین کی تعداد تقریباً 160,000 ہے۔ میں نے شینزن چائنہ میں فاکسکان کی فیکٹری دیکھی ہے یہ دنیا کی سب سے بڑی فیکٹریز میں آتی ہے چھٹی کے وقت میرے ایک چائنیز ملازم مجھے فاکسکان کے باہر ایک پیڈیسٹرینین برج پر لے گیا غالباً پانچ بجے چھٹی کا وقت تھا اچانک ایک سائرن سا بجا اتنی مخلوق باہر نکلی میں نے اپنی زندگی میں بیک وقت اتنا انسان کبھی نہیں دیکھا۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی مینوفیکچرنگ فیکٹریز میں سے ہیں جس کے ورکرز کی تعداد تقریباً دس لاکھ کے قریب ہیں۔
نوکیا کا زوال اس بات کی مثال ہے کہ وسیع سیلز نیٹ ورک اور فیکٹریوں کی تعداد، جدیدیت کے بغیر، کسی بھی کمپنی کو کامیاب نہیں بنا سکتی۔ جہاں سامسنگ نے اپنی مصنوعات میں تنوع اور وسیع مینوفیکچرنگ نیٹ ورک کے ذریعے اپنی برتری قائم رکھی، وہیں ایپل نے منفرد برانڈنگ اور صارف کے تجربے پر توجہ دے کر مارکیٹ پر قبضہ کیا۔
نوکیا کی ناکامی کا سبق یہ ہے کہ مارکیٹ کی ضروریات کو وقت پر سمجھنا اور بدلتے ہوئے وقت کے ساتھ خود کو ڈھالنا ہر کاروبار اور کاروباری شخص کے لیے ضروری ہے۔ ٹیکنالوجی کے میدان میں جدیدیت کو اپنانے میں تاخیر یا صارفین کی ضروریات کو نظر انداز کرنا کمپنیوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتا ہے۔
اگرچہ نوکیا نے ماضی میں کئی بہترین فیصلے کیے، لیکن چند اہم غلطیوں نے اس کی بنیادیں ہلا دیں۔ آج، سامسنگ اور ایپل جیسی کمپنیاں دنیا پر راج کر رہی ہیں، لیکن نوکیا کی کہانی ہمیشہ ایک سبق کے طور پر یاد رکھی جائے گی۔ اگرچہ نوکیا نے چند سالوں میں بڑی محنت سے دوبارہ مارکیٹ میں جگہ بنانے کی کوشش کی ہے لیکن ابھی بھی اپنی حریف کمپنیوں کے پاس بھی نہیں پہنچا۔ کسی بھی برانڈ کو اپنے لائف سائکل میں میچورٹی پر رہنے کے لئے بہت محنت کرنی پڑتی ہے جس کے لئے کاروباری دنیا میں کامیابی کے لیے مسلسل جدت، صارفین کی ضروریات کا خیال، اور درست حکمت عملی بے حد ضروری ہے۔



