منشیات کے عادی افراد کی بحالی کا ذمہ دار کون؟


گزشتہ روز مقامی تھانہ کی پولیس چوکی میں نئے تعینات ہونے والے سب انسپکٹر عبدالرؤف سے ملاقات ہوئی۔ گپ شپ کے ساتھ ساتھ زندگی کے تلخ و شیریں تجربات کا تبادلہ جاری تھا کہ ایک انتہائی ضعیف خاتون ایک نوجوان شخص کے ساتھ اندر داخل ہوئی اور رونا شروع کر دیا۔ آتے ہی چوکی انچارج کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوئے فریاد کناں ہوئی کہ میرا بیٹا منشیات کا عادی ہے، اس نے مجھے زد و کوب کیا ہے اور مبلغ سات سو روپے جو میں نے لوگوں کے گھر سے بھیک مانگ کر جمع کیے ہوئے تھے، چھین کر فرار ہو گیا ہے۔ اسی دوران اس نے ہمارے دوست پولیس افسر کے پاؤں تک پکڑنے کی کوشش کی کہ خدارا میرے بچے کو گرفتار کر کے جیل بھجوا دیں۔ اس کے تین چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، میرا نشئی بیٹا گھر کے برتن اور قیمتی سامان بیچ کر روزانہ منشیات خرید رہا ہے، یہاں تک کہ کل روٹی پکانے والا توا چوری کر کے بھاگ گیا ہے۔ اسی دوران، انچارج چوکی بے بسی کی تصویر بنے ماں جی کا منہ دیکھ رہے تھے، اور میں دل ہی دل میں محتسب بنا یہ سوچ رہا تھا کہ اس منشیات کے عادی شخص کو چور بنانے میں کون قصور وار ہے، اس کے والدین، جنہوں نے اس پر توجہ نہیں دی اور نا ہی اس کی اچھی تربیت کی ہے یا وہ معاشرہ جس کے سامنے اس نے منشیات خریدنا اور پینا شروع کیا ہے؟ اس کو اس حال میں پہنچانے اور اس سے نشہ کی لت نہ چھڑوانے والی ریاست، یا وہ پولیس جو اس کو نہ گرفتار کر کے رکھ سکتی ہے، نہ جیل بھیج سکتی ہے اور نہ ہی کسی منشیات چھڑوانے والے ادارے میں بھیج سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں منشیات کے عادی افراد کی کل تعداد 7.6 ملین ہے جن میں سے 78 فیصد مرد ہیں جبکہ باقی 22 فیصد خواتین ہیں۔ ان نشے کے عادی افراد کی تعداد میں سالانہ 40,000 کی شرح سے اضافہ ہو رہا ہے جس سے پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ منشیات سے متاثرہ ممالک میں شامل ہو گیا ہے۔ UNODC کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان منشیات کی لت کے شدید بحران سے دوچار ہے۔ منشیات استعمال کرنے والوں کی تعداد خطرناک حد تک زیادہ ہے، جس میں ایک اندازے کے مطابق کئی ملین افراد منشیات کے استعمال میں ملوث ہیں۔ بھنگ سب سے زیادہ استعمال ہونے والی دوائی کے طور پر اپنی پوزیشن برقرار رکھتی ہے، جبکہ انجیکشن منشیات کا استعمال بڑھتا ہی جا رہا ہے، جس سے ایچ آئی وی کی ممکنہ وبا کے بارے میں خدشات بڑھ رہے ہیں۔

پنجاب میں انجیکشن ڈرگ استعمال کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ تشویش کا باعث ہے، جو کہ 2007 میں 90,000 سے بڑھ کر 2014 تک تقریباً 500,000 تک پہنچ گیا ہے۔ اس پیچیدہ پینوراما کے اندر، بھنگ اور ہیروئن بنیادی مجرموں کے طور پر ابھرتے ہیں، ان کی استطاعت اور قابل رسائی بے جا زیادتی کو ہوا دیتی ہے۔ سپلائی چین کا سراغ افغانستان تک ہے، جو دنیا کی ہیروئن کے کافی حصے کے لیے ذمہ دار ہے۔ یو این او ڈی سی کا حساب ہے کہ 15 سے 64 سال کی عمر کے 800,000 پاکستانی باقاعدگی سے ہیروئن کا استعمال کرتے ہیں، جس کا تخمینہ 44 ٹن سالانہ ہے۔ جہاں تک منشیات کی غیر قانونی تجارت سے منافع کمانے کی بات ہے، یہ امر حیران کن ہے کہ منشیات فروش سرمایہ دار طبقہ اور غیر قانونی کمپنیاں اس کی فروخت سے ہر سال 2 بلین ڈالر تک منافع کماتی ہیں۔

مجھے اکثر انسداد منشیات کے اجلاس میں موجود مقررّین کی پرجوش تقاریر سننے کا موقع ملتا ہے جس میں یہی راگ الاپا جاتا ہے کہ منشیات فروش معاشرے کا ایک ناسور ہیں، جو قوم کی جڑیں کھوکھلی کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ بڑی مچھلیوں پر ہاتھ ڈالنے، منشیات فروشوں کے سہولت کاروں کو اپنے انجام تک پہنچانے جیسے بلند بانگ نعروں کے علاوہ مجھے اور آپ کو کبھی کوئی عملی اقدام اٹھانے والے افسران کہیں نظر نہیں آئیں گے۔ اعلیٰ افسران کے خصوصی دباؤ اور ہدایات پر زیادہ سے زیادہ یہ ہوتا ہے کہ چند گنے چنے، منشیات فروشی سے تائب افراد یا ہسٹری شیٹرز کو گھروں سے اٹھا کر 9 C کی ایف آئی آر کاٹ کر جیل بھیج دیا جاتا ہے۔ نہ کسی فاضل جج نے اور نہ ہی کسی اعلیٰ افسر نے تفتیش پر مامور افسران سے پوچھا ہے کہ کیا اس امر کی بھی تفتیش کی گئی ہے کہ یہ منشیات فروش کہاں سے منشیات خرید رہا تھا۔ منشیات فروشی دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کرنے والا کاروبار تو ہے لیکن اس کا سب سے بڑا نقصان معاشرے اور قوم کو ہو رہا ہے۔ اس تباہ کن کاروبار کا سب سے بڑا متاثر نشے کا عادی فرد اور اس کا کنبہ ہوتا ہے۔ میرے مشاہدے میں ہے کہ نشئی اپنی اس قبیح عادت اور لت کو پورا کرنے کے لئے اپنے گھر کے ساز و سامان کو بیچنے کے ساتھ ساتھ اپنی عزت نفس کو بیچنے پر بھی مجبور ہو جاتا ہے۔ اکثر چھوٹے موٹے چور اور پیشہ ور بھکاری منشیات کے عادی افراد ہی ہوتے ہیں۔ ان جرائم کا سب سے تباہ کن اثر خاندان کے بعد معاشرے کے مقامی افراد پر ہی پڑتا ہے۔ اگر ہمارے قرب و جوار میں کوئی نشئی ہے تو لامحالہ ہمیں جان و مال کا خطرہ ہر وقت موجود ہو گا۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ جب یہی نشئی اپنے گھر میں جھگڑا کرنے کے ساتھ ساتھ گھر کی اشیاء بیچ رہا ہوتا ہے تو خریدار بھی ہمارے معاشرے کے افراد ہوتے ہیں، جب وہ نشہ خریدنے جاتا ہے، جب وہ استعمال کر رہا ہوتا ہے اور جس منشیات فروش سے وہ نشہ خریدتا ہے اس کو منع کرنے کی طاقت رکھتے ہوئے بھی ہم نہیں روک پاتے اور یہی سوچتے ہیں کہ یہ کام صرف پولیس اور صحافی حضرات کے ساتھ ساتھ اعلیٰ افسران کا ہے۔

جہاں تک میری رائے کا تعلق ہے، منشیات کے عادی افراد کی اس عادت بد کو چھڑوانے اور معاشرے کا ایک مفید اور کارآمد شہری بنانے میں سب سے بڑا کردار سول سوسائٹی اور معاشرے کے مقامی معززین کا ہے۔ منشیات بحالی کے مراکز بھی اب کاروباری ادارے بن چکے ہیں جن کا مقصد صرف پیسہ کمانا ہے۔ ہم اس نشئی کو صدقہ، خیرات دینے کے ساتھ ساتھ اس کے خاندان کی بحالی کی کوشش تو کرتے ہیں لیکن اگر ہم سب مل کر اسے نشہ چھڑوانے کے بعد مکمل طور پر اپنی نگرانی میں رکھیں اور اس کو کوئی باعزت پیشہ اختیار کرنے میں ممد و معاون ثابت ہوں تو وہ معاشرے کا ایک مفید کارکن بن سکتا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس مسئلے میں مکمل طور پر اس لئے بھی بے بس نظر آتے ہیں کہ نشئی کو گرفتار کریں تو اس کا وہی خاندان مدعی بن کر سامنے آ جاتا ہے، اس کے علاوہ دوران گرفتاری اس کا نشہ پورا کرنا بھی پولیس افسر کے فرائض میں شامل ہو جاتا ہے۔ آج سے کوئی تیس سال پہلے مقامی این جی اوز اور پولیس افسران کے تعاون سے منشیات بحالی کا مرکز پولیس لائن بہاولپورمیں قائم کیا گیا تو مقامی سول سوسائٹی اور این جی اوز نے زور و شور سے منشیات کے عادی افراد کو داخل کروانا شروع کر دیا، حالات یہاں تک پہنچے کہ 50 بیڈز پر مشتمل ہسپتال میں تل دھرنے کی جگہ نہ رہی۔ دیکھا جائے تو ہمارے معاشرے کا یہ بیمار طبقہ اس عادت بد سے جان چھڑوانا چاہتا ہے لیکن بسیار کوشش کے بعد جب یہ لت چھوڑتا ہے تو معاشرے میں موجود کوئی نہ کوئی نشئی اسے پھر منشیات کی عادت ڈال دیتا ہے اور وہ پھر اپنی دنیا میں گم ہو جاتا ہے۔ اگر منشیات جیسی عادت چھڑوانے کے بعد ہمارا معاشرہ اسے تنہا نہ چھوڑے، اسے اپنے پیروں پہ کھڑا ہونے میں مدد دے تو یہ ناممکن نہیں ہے کہ چند سالوں میں ہی وہ اپنے خاندان کا کماؤ پوت بن جائے۔ آج بھی ہمارے معاشرے کے یہ مسکین بے بس اور بے سہارا افراد ایسے ہی کسی مسیحا کے منتظر ہیں، جو ان سے یہ عادت بد چھڑوا کر معاشرے کا ایک مفید شہری بنا سکے۔

Facebook Comments HS