جب مسیحا بیمار ہو جائے : ڈاکٹر جل ٹیلر کی سٹروک کی کہانی۔ پہلی قسط
تعارف
ڈاکٹر جل ٹیلر ایک سائنسدان ہیں۔ وہ انیس سو چھیانوے میں یونیورسٹی میں پڑھا بھی رہی تھیں اور دماغ کے طبی اسرار و رموز پر تحقیق بھی کر رہی تھیں۔ ان کی دماغ میں دلچسپی اس وقت پیدا ہوئی تھی جب ان کے بھائی نے اپنا ذہنی توازن کھو دیا تھا اور ڈاکٹروں نے اس کی تشخیص شیزوفرینیا کی تھی۔ ڈاکٹر جل ٹیلر اپنی تحقیق سے یہ جاننا چاہتی تھیں کہ صحتمند دماغ اور ذہنی توازن کھونے والے دماغ میں کیا فرق ہے؟
اس تحقیق کے دوران وہ خود ایک بحران کا شکار ہو گئیں اور انہیں سینتیس برس کی عمر میں بائیں دماغ کا اتنا شدید سٹروک ہوا کہ انہیں پوری طرح صحتیاب ہونے میں آٹھ سال لگے۔ مکمل صحتیابی کے بعد انہوں نے سٹروک کے بارے میں عام فہم زبان میں ایک معرکتہ الآرا کتاب لکھی جس کا نام MY STROKE OF INSIGHT ہے۔ اس کتاب سے میں اتنا متاثر ہوا کہ میں نے انہیں ایک مبارکباد کا خط لکھا جس کا انہوں نے بڑی اپنائیت سے جواب دیا۔
میری نگاہ میں یہ کتاب سٹروک کے مریضوں ان کے دوستوں، رشتہ داروں، نرسوں اور ڈاکٹروں کے لیے ایک قیمتی تحفہ ہے۔ میں ان لوگوں کے لیے، جو انگریزی نہیں پڑھ سکتے، ڈاکٹر جل ٹیلر کی سٹروک کی واردات کے بارے میں خود نوشتہ سوانح عمری کے چند ابواب کا ترجمہ اور تلخیص پیش کر رہا ہوں۔
سٹروک کا آغاز
وہ دس دسمبر انیس سو چھیانوے کا دن تھا اور صبح کے سات بجے تھے۔ میری گھڑی کا الارم بجا۔ میں جاگی لیکن نیند کا غلبہ تھا اس لیے الارم بند کر کے پھر سونے کی کوشش کرنے لگی۔
چھ منٹ کے بعد پھر الارم بجا۔ میں اٹھی تو میری بائیں آنکھ کے پیچھے میرے دماغ میں مجھے ایک ٹیس محسوس ہوئی۔ میں نے آنکھیں کھولنے کی کوشش کی لیکن کھڑکی سے آتی سورج کی تیز روشنی میں میری آنکھیں چندھیا گئیں۔ میں نے الارم کا بٹن دبایا تا کہ میں اٹھ سکوں۔
میں ایک صحتمند انسان ہوں اور کبھی بیمار نہیں ہوتی اس لیے میرے لیے میرا سر کا درد حیران کن تھا۔ میں نے محسوس کیا کہ میری بائیں آنکھ بار بار جھپک رہی ہے جس سے مجھے کچھ الجھن ہونے لگی۔ میرے منہ میں ایک ٹھنڈی لہر پیدا ہوئی جیسے میں ٹھنڈی برف جیسی آئس کریم کو دانتوں سے دبا رہی ہوں۔
میں بستر سے نکلی تو میرا جسم مضمحل تھا۔ میں ایک زخمی سپاہی کی طرح محسوس کرنے لگی۔ میں نے خواب گاہ کی کھڑکی بند کی تا کہ سورج کی تیز روشنی کو روک سکوں جس سے میری آنکھیں چندھیا گئی تھیں۔
میں نے سوچا اگر میں تھوڑی دیر ورزش کر لوں تو عین ممکن ہے میرے سر کا درد کم ہو جائے۔ میں نے موسیقی لگائی اور ورزش کرنی شروع کر دی۔ لیکن پھر مجھے محسوس ہونے لگا جیسے میرا جسم اور میرا دماغ کسی بے ترتیبی اور بے چینی کا شکار ہو رہا ہو۔ مجھے یوں لگا جیسے میرے جسم اور میرے ذہن کا تعلق منقطع ہو رہا ہو۔ پھر ایک عجیب و غریب تجربہ ہوا جیسے میں اپنے جسم سے باہر ہوں اور اپنے جسم کو حرکت کرتا ہوا اوپر سے دیکھ رہی ہوں۔
میں نے اپنے ہاتھوں اور اپنی انگلیوں کو دیکھا تو مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا کیونکہ وہ کسی جانور کے پنجے دکھائی دیے۔ میرا جسم تو ورزش کرنے والی موسیقی کے ساتھ حرکت کر رہا تھا لیکن میرے سر میں درد کی ٹیسوں کی شدت بڑھتی جا رہی تھی۔ مجھے جلد ہی احساس ہو گیا کہ ورزش کرنے سے میری حالت بہتر ہونے کی بجائے بدتر ہو رہی ہے اور مجھے ورزش کرنی بند کر دینی چاہیے۔ میں بیک وقت دو حقیقتوں میں موجود تھی۔ میں اپنے آپ کو ایک خارجی اور ایک داخلی حقیقت کے درمیان معلق محسوس کرنے لگی۔
میں اپنی جسمانی حالت کے بارے میں پریشان ہونے لگی۔ میں نے سوچا کہ اگر میں غسل خانے جا کر نہا لوں تو شاید میری طبیعت بہتر ہو جائے۔ میں جب اپنی خوابگاہ سے گزر کر غلس خانے کی طرف بڑھی تو مجھے احساس ہوا کہ میری چال ہموار نہ تھی بلکہ میرے قدم بڑھاتے وقت میرے سراپا کو جھٹکے لگ رہے تھے۔
میں نے باٹھ ٹب میں قدم رکھنا چاہا تو میرے پاؤں لڑکھڑانے لگے۔ میں نے دیوار کا سہارا لیا۔ میں نے خود کو تسلی دی کہ میرا توازن اتنا خراب نہ ہوا کہ میں گر جاتی۔
مجھے اس وقت بھی اپنی ذہنی حالت کی نزاکت اور بیماری کی شدت کا اندازہ نہ تھا۔ میں نے اپنا توازن قائم کیا اور نہانے کے لیے پانی کا نلکا کھولا۔ پھر میں پانی بہنے کی آواز کی شدت سے چونک گئی۔ اس وقت مجھے احساس ہوا کہ میرا جسم ہی غیر متوازن نہیں میرے حواس خمسہ بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ اس احساس نے میرے من میں ایک خطرے کی گھنٹی بجائی اور ایک دماغ کے ماہر کی حیثیت سے میں سوچنے لگی کہ میں شاید کسی شدید دماغی بحران کا شکار ہو رہی ہوں۔
میں نے خود اپنی کیفیت کی تشخیص کرنی چاہی۔ مجھے اس بات کی بھی حیرانی ہوئی کہ میرے ذہن کے منظم خیالات و احساسات غیر منظم اور بے ترتیب ہونے لگے۔ خیالات چند لمحے آتے اور پھر خاموشی چھا جاتی۔ پھر دماغ میں چند خیالات آتے اور پھر خاموشی چھا جاتی۔
پھر مجھے احساس ہوا کہ میرے کمرے کی کھڑکی کے باہر جو شور تھا وہ کم ہوتا جا رہا ہے۔ میں اپنے ماحول سے دوری محسوس کرنے لگی۔ مجھ میں اور میرے ارد گرد کی چیزوں میں فاصلہ پیدا ہونے لگا۔ میں نے اپنے آپ سے پوچھا کیا مجھے اس قسم کا پہلے کبھی تجربہ ہوا ہے؟ میں نے اپنے سوال کا خود ہی جواب نفی میں دیا۔ میں نے جتنا اپنی توجہ کو مرکوز کرنا چاہا میں اتنا ہی پریشان خیالی کا شکار ہوتی گئی۔
پھر اچانک میرے دماغ کی بے چینی اور فکرمندی ختم ہو گئی اور مجھے ایک داخلی آرام اور سکون کا احساس ہونے لگا۔ اپنے داخلی سکون کے ساتھ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میری ذات اور کائنات کا جو حد فاصل تھا وہ ختم ہو گیا ہو جو دیوار تھی وہ گر گئی ہو اور میرا جسم میرے ماحول میں تحلیل ہو گیا ہو۔ میں غسل خانے میں تھی بھی اور نہیں بھی تھی۔ میں اپنے جسم میں تھی بھی اور نہیں بھی تھی۔ مجھے یوں لگا جیسے میرا جسم ایک ٹھوس چیز کی بجائے ایک سیال بن گیا ہو جو اپنے ماحول میں مدغم ہو رہا ہو۔ جب شاور کے پانی کے قطرے میرے جسم کو چھونے لگے تو مجھے محسوس ہوا جیسے وہ بندوق کی گولیاں ہوں۔
اچانک وقت کا احساس مٹ گیا۔ میری سب یادیں سب پریشانیاں تحلیل ہو گئیں۔ نہ ماضی رہا نہ مستقبل۔
عجب کرامت تھی۔ میں لمحہ موجود میں زندہ تھی۔ میں اتنی پرسکون تھی کہ جی چاہا کہ وقت رک جائے اور یہ سکون ازلی و ابدی ہو جائے۔ اور پھر اچانک میرے سر میں درد اور دماغ میں ٹیس دوبارہ ابھری اور مجھے شدت سے احساس ہوا کہ میں بیمار ہوں۔ میری جان خطرے میں ہے اور مجھے کچھ کرنا چاہیے۔
میں غسل خانے سے خوابگاہ میں آئی اور گھڑی کی طرف دیکھا۔ سوا آٹھ بج رہے تھے۔ مجھے خیال آیا مجھے دفتر جانا ہے۔ مجھے تیار ہونا ہے۔ پھر میں نے اپنے آپ سے پوچھا میں جس ذہنی حالت میں ہوں کیا میں دفتر جا سکتی ہوں؟ کیا میں گاڑی چلا سکتی ہوں؟ اور پھر اچانک مجھ پر منکشف ہوا میں کام پر نہیں جا سکتی۔ مجھے سٹروک ہو رہا ہے۔ میں بیک وقت دو حالتوں دو دنیاؤں میں زندہ تھی ایک پریشانی کی حالت تھی۔ وہ بیماری کی حالت تھی دوسری آرام کی حالت تھی۔ سکون کی حالت تھی۔
پھر اچانک میرا دایاں بازو مفلوج ہو گیا اور وہ بازو میرے جسم کے دائیں پہلو کو زور سے جا کر لگا۔ مجھے اس وقت احساس ہوا کہ میرا بایاں دماغ مفلوج ہو رہا ہے۔
میں نے چند لمحوں کے لیے سوچا میں لیٹ جاؤں اور کچھ دیر آرام کر لوں لیکن پھر میرے دل نے سرگوشی کی اگر تم اس وقت لیٹ گئیں تو پھر کبھی نہ اٹھ سکو گی۔
اس سرگوشی سے مجھے احساس ہوا کہ میری ذہنی حالت اور میرا جسمانی مسئلہ سنجیدہ ہے۔ پھر مجھے یقین ہو گیا کہ مجھے سٹروک ہو گیا ہے اور شدید احساس ہوا کہ مجھے طبی امداد کی ضرورت ہے۔
”میں جلِ ہوں مجھے مدد چاہیے“
مجھے اس صبح تو اندازہ نہ تھا کہ مجھے کس قسم کا سٹروک ہو رہا ہے لیکن جب میں صحتیاب ہو گئی تو مجھے پتہ چلا کہ میرے بائیں دماغ میں ایک پیدائشی نقص تھا۔ میرے دماغ میں ایک غیر معمولی شریانوں اور وریدوں کا گچھا تھا اور اس صبح میرے دماغ کی وہ نالیاں پھٹ پڑی تھیں جس کی وجہ سے مجھے سٹروک ہوا تھا اور پورا بایاں دماغ خون سے لت پت ہو گیا تھا۔
جب مجھے سٹروک ہو رہا تھا اس وقت بھی مجھے ایک دماغ کے ماہر ہونے کے ناتے پتہ تھا کہ سٹروک کے مریض کو جلد از جلد ہسپتال جانا چاہیے تا کہ جلد اس کی تشخیص بھی ہو اور علاج بھی تا کہ وہ جلد صحتیاب ہو سکے۔ لیکن اس صبح میں اپنی توجہ کسی بھی چیز پر مرکوز نہیں کر پا رہی تھی۔ میرے دماغ میں خیالات رقص کرتے اندر آتے تھے اور اس سے پہلے کہ میں ان پر عمل کر سکوں وہ رقص کرتے ہوئے باہر چلے جاتے تھے۔
سٹروک سے پہلے ساری عمر میرا دایاں دماغ اور بایاں دماغ مل کر سب کام کرتے تھے لیکن اس صبح ان کا مل کر کام کرنے کا عمل متاثر ہو رہا تھا۔ جس وقت مجھے سٹروک ہو رہا تھا اس وقت مجھے اندازہ ہوا کہ میری گننے کی صلاحیت اور زبان کی صلاحیت متاثر ہو رہے تھے۔ میں اپنے آپ سے بار بار سوال پوچھتی میں کیا کرنا چاہتی ہوں؟ اور بار بار اپنے آپ کو جواب دیتی میں مدد حاصل کرنا چاہتی ہوں۔ میری یہ خود کلامی کافی دیر تک جاری رہی۔
پھر تھوڑی دیر کے لیے میں لمحہ موجود میں زندہ رہنے لگی۔ نہ ماضی رہا نہ مستقبل۔ بس حال ہی حال تھا اور میں اس حال میں اتنی خوشحال اور پرسکون تھی کہ اگر میرا تعلق بدھ مذہب سے ہوتا تو میں کہہ سکتی کہ مجھے نروان حاصل ہو گیا ہے۔ لیکن یہ نروان جیسی کیفیت اور تجربہ کسی روحانی تپسیا کا ماحصل نہ تھا بلکہ یہ میرے سٹروک کا تحفہ تھا۔ یہ نروان کا تجربہ عارضی تھا جس کے بعد پھر میرے سر میں ٹیس محسوس ہوئی۔ میرے دماغ کا درد بڑھ گیا اور میں نے سوچا کہ مجھے جلد از جلد مدد حاصل کرنی چاہیے کیونکہ میری صحت اور میری زندگی خطرے میں ہے۔
میرا ذہن دھیرے دھیرے ماؤف ہو رہا تھا۔ میرے خیالات بے ربط ہو رہے تھے۔ میں ہوا میں تیرتا محسوس کر رہی تھی۔ مجھے چاہیے تو یہ تھا کہ میں فوراً 911 نمبر ملاتی تا کہ ایمبولنس میری مدد کو آ سکے لیکن اس لمحے میرے لیے نمبر گننا مشکل ہو رہا تھا۔ میرا دماغ خون میں لتھڑا ہوا تھا اور مجھے صحیح باتیں نہیں سوجھ رہی تھیں۔ میں فون کے قریب بیٹھ گئی اور اپنے آپ سے پوچھنے لگی اب مجھے کیا کرنا چاہیے؟ مجھے کسے فون کرنا چاہیے؟ سب سے پہلے مجھے خیال آیا کہ مجھے اپنی اماں کو فون کرنا چاہیے لیکن چند لمحوں کے بعد دوسرا خیال آیا کہ پہلا خیال غلط تھا کیونکہ میری اماں تو میرے گھر سے ایک ہزار میل دور رہتی ہیں وہ اس وقت میری مدد نہیں کر سکتیں۔
پھر میرے خیال بے ترتیب ہو گئے۔ کچھ دیر کے بعد خیالات میں عارضی ربط پیدا ہوا تو خیال آیا کہ مجھے اپنے دفتر فون کرنا چاہیے تا کہ کوئی رفیق کار میری مدد کو آ سکے۔ میں کہاں کام کرتی ہوں میں نے خود سے پوچھا دماغ کے بینک میں میں نے خود ہی جواب دیا لیکن وہاں کا نمبر کیا ہے؟ میں اس کا جواب نہ دے سکی مجھے اس وقت اپنے ہی دفتر کا نمبر یاد نہ آ رہا تھا۔ کچھ دیر کے بعد نمبر کا ایک حصہ یاد آیا 2405 لیکن اس کے پہلے کے تین نمبر کیا ہیں؟ دماغ اتنا ماؤف ہو چکا تھا کہ اپنے دفتر کا نمبر بھی ذہن سے غائب ہو چکا تھا۔ کیا وہ 235 ہے نہیں ایسا نہیں ہے کیا وہ 855 ہے۔
میں نے گھڑی کی طرف دیکھا تو سوا نو بج رہے تھے۔ مجھے نو بجے دفتر پہنچنا تھا۔ پندرہ منٹ کی تاخیر ہو چکی تھی۔ میں نے اپنے آپ سے پوچھا میں فون ملاؤں گی تو کیا کہوں گی؟ میں نے خود ہی جواب دیا میں جل ہوں مجھے مدد چاہیے
مجھے یہ فیصلہ کرنے میں پینتالیس منٹ لگ گئے پھر میں نے فون اٹھایا اور بڑی مشکل سے فون نمبر ملایا خوش قسمتی سے میرے رفیق کار ڈاکٹر سٹیون ونسنٹ نے فون اٹھایا میں نے اپنی طرف سے کہنے کی کوشش کی میں جل ہوں مجھے مدد چاہیے لیکن مجھے خود احساس ہوا کہ میرے منہ سے جو خرخر کی آوازیں نکل رہی تھیں وہ الفاظ اور جملے نہ تھے۔ میری خوش بختی کہ سٹیون ونسنٹ نے میرے الفاظ تو نہ سمجھے لیکن میری آواز پہچان لی اور اسے یہ بھی اندازہ ہو گیا کہ میں کسی مشکل کا شکار ہوں اور مجھے مدد چاہیے۔ سٹیون نے کہا ہم مدد کرنے آتے ہیں
سٹیون سے بات کر کے مجھے تسلی ہوئی کہ میں نے صحیح جگہ فون کر کے اور صحیح انسان سے بات کر کے اپنا مسئلہ خود ہی حل کر لیا تھا۔ اپنے تمام تر ذہنی مسئلے کے باوجود مجھے سٹیون کی آواز میں ہمدردی کا جذبہ بھی سنائی دیا۔ پھر میں نے خود سے کہا جل اب انتظار کرو۔ کوئی نہ کوئی جلد ہی تمہاری مدد کو آئے گا۔
انتظار کی گھڑیاں
جب میں اپنے کمرے میں اکیلی بیٹھی کسی مدد کا انتظار کر رہی تھی تو مجھے خیال آیا کہ مجھے اپنے فیملی ڈاکٹر کو بتانا چاہیے کہ مجھے سٹروک ہو رہا ہے لیکن مجھ یہ بھی احساس تھا کہ میرے لیے فون کرنا اتنا آسان نہیں۔ میں نے اپنی میز پر رکھے سب کارڈز کو باری باری دیکھا اور اس کارڈ کو نکالا جس پر میری ڈاکٹر کا نام اور نمبر تھا پھر میں نے اس کارڈ کو اپنے فون کے قریب رکھا میں نے بڑی مشکل اور بڑی دیر لگا کر کارڈ کے نمبروں سے فون کے نمبر ملائے مجھے اپنے آپ پر یقین نہ آیا کہ میں اس خراب حالت میں بھی وہ فون نمبر ملانے میں کامیاب ہو گئی۔ میری ڈاکٹر نے فون اٹھایا میں کہنا چاہتی تھی میں جل ٹیلر ہوں مجھے سٹروک ہو رہا ہے لیکن میرے حلق سے الفاظ نہیں نکل رہے تھے میری ڈاکٹر نے میری آواز پہچانی اسے سمجھ آ گیا کہ میں کسی بحران کا شکار ہوں اس نے کہا
تم ماؤنٹ اوبرن ہسپتال چلی جاؤ مجھے اس وقت تک اندازہ ہو گیا تھا کہ میری ذہنی حالت اتنی ابتر ہو گئی ہے کہ اب میں گفتگو نہیں کر سکتی۔ پھر میں اپنی حالت پر زور زور سے رونے لگی۔ مجھے یوں لگا جیسے یا تو میں مر جاؤں گی یا ہمیشہ کے لیے معذور و مجبور ہو جاؤں گی۔
میں اپنی تنہائی کے ساتھ اس وقت تک خاموشی سے بیٹھی رہی جب تک کہ سٹیون میری مدد کو نہ آ گیا۔ وہ بھی خاموش تھا میں نے اسے اپنی ڈاکٹر کا کارڈ دکھایا
اس نے مجھے گھر سے نکلنے اور کار میں بیٹھنے میں مدد کی۔ اس نے میری سیٹ بیلٹ لگائی اور مجھے اپنی کار میں ہسپتال لے گیا۔ ہسپتال میں مجھے ویل چیئر میں بٹھایا گیا۔ سٹیو نے فارم بھرے اور میری دستخط کرنے میں مدد کی۔ سٹیو نے نرسوں کو بتایا کہ میری حالت بہت خراب ہے۔ ڈاکٹروں نے مجھے کچھ دوا دی کہ میری حالت بہتر ہو۔
دس دسمبر انیس سو چھیانوے کو دوپہر بارہ بجے سے پہلے ہی مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ میرے جسم کا میرے دماغ اور میرے ماحول سے رشتہ منقطع ہو چکا ہے۔ میرا دماغ اور میرے حواس خمسہ سٹروک کی وجہ سے حد سے زیادہ متاثر ہو چکے تھے۔ جہاں جسم سے میرے رشتے کے منقطع ہونے کا مجھے دکھ تھا وہیں اس بات کا سکھ بھی تھا کہ جسمانی درد ختم ہو گیا تھا۔ (جاری ہے )



بہت شکریہ ڈاکٹر صاحب۔
اس تحریری سلسلہ میں ہمارے لئے متعدد پیغامات ہیں اگر ہم ان سے مستفید ہونا چاہیں۔