تندور
میرے گھر کے سامنے ایک تندور ہے جسے خیبر پختونخوا کے دو خوش مزاج نوجوان مل کر چلاتے ہیں۔ گیس نہ ہونے کی وجہ سے تندور کو لکڑیوں کے ایندھن سے تپایا جاتا ہے۔ ان نوجوانوں کی خوش مزاجی کا یہ عالم ہے کہ فارغ وقت میں محلے کے دیگر لڑکوں کے ساتھ مل کر ٹیپ بال کرکٹ بھی کھیلتے ہیں۔ اس تندور کی وجہ سے اردگرد کے بیسیوں گھروں کو یہ سہولت رہتی ہے کہ صبح دو پہر شام جب ضرورت پڑے، تیار روٹی مل جاتی ہے، یہ الگ بات ہے کہ اس روٹی کی شکل اور اُٹھان قدرتی گیس میں پکی روٹی سے کم معیار کی ہوتی ہے، پھر بھی تندور کے گاہکوں کی تعداد کافی ہے۔ گھر سے نکلتے ہوئے میرا اکثر اس تندور کے سامنے سے گزر ہوتا ہے اور یوں اِن نوجوانوں سے علیک سلیک رہتی ہے۔ کبھی کبھار اُن سے ہلکی پھلکی گفتگو بھی ہو جاتی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اُن دونوں نوجوانوں کے جذبات اور خیالات پاکستان کی غالب اکثریت جیسے ہی ہیں۔ رسمی تعلیم سے عاری ہونے کے باوجود اُن کے دل قومی جذبے سے معمور ہیں اور پاکستان پر اپنوں، غیروں اور دوست نما غیروں یا تینوں نے مل کر جو مصیبتیں ڈھا رکھی ہیں، اُن پر کڑھتے رہتے ہیں، اور کچھ کر گزرنے کی تمنّا بھی رکھتے ہیں۔
ایک روز میں گھر سے نکلا اور حسبِ عادت تندور کے سامنے سے گزرا تو اُس میں ایک تبدیلی محسوس کی، ذرا رک کر متوجّہ ہوا تو دیکھا کہ جس جگہ نان بائی بیٹھ کر روٹیاں لگاتا ہے، اس کی پچھلی دیوار کو ایک دیو قامت رنگ برنگے کپڑے نے ڈھانپا ہوا ہے۔ غور کیا تو پتہ چلا کہ جھنڈا لگا ہوا ہے، اُس جھنڈے نے تقریباً پوری دیوار گھیر رکھی ہے، جھنڈے کے رنگ نے تندورکے منظر کو ایسا بنا دیا تھا کہ آنکھ دیکھے بغیر نہ رہ سکے، اُس کی وجہ سے تندور میں ایسی کشش پیدا ہو گئی تھی جس میں رعب کے عناصر رچے بسے لگ رہے تھے۔ مزید رک کر تسلّی سے دیکھا تو وہ امریکہ کا جھنڈا تھا۔
جس کپڑے پر جھنڈا تھا اس کا ٹیکسچر متاثر کن تھا، رنگوں کے امتزاج اور اعلیٰ پرنٹنگ نے اُسے اور بھی شوخ بنا دیا تھا۔ تندور کے اِن خوش مزاج نوجوانوں کا اُس سے متاثر ہو کر اُسے اپنے تندور کی زینت بنا لینا کوئی ایسی بات بھی نہ تھی جو ہمارے ماحول میں انہونی ہو خصوصاً جبکہ یہ تزئین و آرائش مال ِمفت سے ہو رہی ہو۔ پھر بھی یہ لمحہ بیک وقت میرے لیے حیرت، تعجب، نفرت، کنفیوژن اور بے بسی کا طوفان لے کر آیا۔
میرے دماغ میں سوالات کا نہ تھمنے والا سلسلہ شروع ہو گیا؟ کیا اِن نوجوانوں میں شعور کی کمی ہے؟ اگر یہ تعلیم یافتہ ہوتے تو ایسا کرتے؟ اِن کے جذبہ حبّ الوطنی کو یہ جھنڈا لگاتے ہوئے کیا ہو گیا؟ کیا معاشی اور کاروباری اہداف اِنسان کی اخلاقیات کو اِس قدر تبدیل کر دیتے ہیں؟ وغیرہ وغیرہ۔
میں جب اِن تابڑ توڑ سوالات اور ان کے اُلجھے ہوئے جوابات کے جھکڑوں سے ذرا سنبھلا تو سوچنا شروع کیا کہ یہ تو اَن پڑھ نوجوانوں ہیں اِن سے ایسی کیا شکایت اور ایسی کیا توقعات؟ اُنہوں نے امریکی جھنڈا دیوار پر ہی لگایا ہے جبکہ اِن کے دل پاکستان کے لئے دھڑکتے ہیں اور یہ جھنڈا اُن کے تندور میں پکنے والی بے ڈھب روٹیوں کو نہ تو اچھی شکل دے سکتا ہے اور نہ ہی مزید بگاڑ سکتا ہے اور پھر یہ روٹیاں بہرحال کھانے کے قابل تو ہوتی ہیں جبکہ ہمارے پیارے وطن میں ایسے ایسے تندور ہیں کہ جن کے اِردگرد تمام دیواروں پر خوش نما نعرے سجے ہوتے ہیں، نہایت دلکش جھنڈے لگے ہوتے ہیں جنہیں دیکھ کر دل کو بہت اطمینان حاصل ہوتا ہے۔
اِن نعروں کی جاذبیت اور جھنڈوں کی شان سے یہ لگتا ہے کہ مالکانِ تندور دن رات ایک کر کے اپنے پیروکاروں اور گاہکوں کے لئے نہایت اعلیٰ، غذائیت سے بھرپور روٹیاں تیار کر رہے ہیں۔ ان تندوروں سے پک کر نکلنے والی روٹیاں دنیا کے عجوبوں کو مات دیتی ہیں، ان کی روٹیاں بھوکوں کو یہ غذا دیتی ہیں کہ کانٹے بو کر پھل کی دعا اور خواہش ضروری ہے، دودھ کے برتن کی رکھوالی جنگلی بلّیوں سے کروانی چاہیے، سفارشوں پر نوکریاں دے کر اِداروں کو ترقی دینا عین عبادت ہے، اپنی پروا کیے بغیر المعروف ”بے نفسی“ کے ساتھ تمام دنیا کو راہِ راست پر لانا ہمارا فرض ہے، دنیا کو بڑی بڑی بڑھکیں لگا کر نہایت آسانی سے فتح کیا جا سکتا ہے، چھوٹے چھوٹے مسائل مثلاً ملکی امن و امان، مہنگائی، تعلیم، کرپشن، بنیادی ضروریات، سہولتیں اور معاشی وسائل پر وقت صرف بیوقوفی ہے جبکہ اصلی مسائل مثلاً بڑا لیڈر کون ہے؟ عالمی طاقتوں کے مفادات، مذہبی و مسلکی ”سچّائیوں“ اور گروہی و انفرادی مفادات کے لئے جہاد کرنا افضل ترین عمل ہے۔ جب میں نے تضادات سے بھرپور ان تندوروں کی روٹیوں کے ذائقے کو مزید سوچا تو اپنے سامنے والے تندور کے اِن نوجوانوں پر بڑا پیار آیا اور جی چاہا کہ اِن کے ساتھ مل کر ٹیپ بال کرکٹ کھیلوں اور چوکا چھکا لگنے یا آؤٹ ہونے پر اُنہی کی طرز پر ہلڑ بازی کروں۔

