ہیما ٹوما در ہیماٹوما!
چھٹیوں کے بعد وارڈ پہنچے ہی تھے کہ اولے پڑے۔
”آپ کو ایک مریض دکھانا ہے۔ کل اس کی نارمل ڈلیوری ہوئی۔ ویجائنا میں دیا جانے والا کٹ یعنی epi کچھ زیادہ اندر تک چلا گیا تھا۔ کافی بلیڈنگ ہوئی۔ نرس اور ڈاکٹر نے مل جل کر سیا۔
دو تین گھنٹے بعد مریض نے سر چکرانے کی شکایت کی اور باتھ روم جانے پہ گرتے گرتے بچی۔ بلڈ پریشر کم تھا۔ معائنہ کرنے پہ علم ہوا کہ ویجائنا میں کلاٹس جمع ہیں اور ہیما ٹوما ( خون کا تالاب ) بن چکا ہے۔ ویجائنا کے کٹ یعنی Api کے اوپر والے حصے میں ویجائنا کی دیوار کی سلائی اکھڑی ہوئی ملی۔ ڈاکٹر کے لکھے نوٹس پڑھے تو علم ہوا کہ ویجائنا کے اوپری حصے تک مشکل سے ٹانکے لگائے گئے تھے۔ ہیمو گلوبن دس سے سات ہو چکا تھا۔
ہیماٹوما اور بلیڈنگ روکنے کے لیے مریضہ کو آپریشن تھیٹر لے جایا گیا، ہیماٹوما کھول کر خون کے کلاٹس نکالے گئے اور ویجائنا کی دیوار کو سیا گیا۔ اس عمل میں دو بوتل خون بھی چڑھانا پڑا۔
مریضہ رات بھر ٹھیک رہی مگر صبح دیکھا تو نبض تیز چل رہی تھی اور رنگت پیلی پھٹک۔ ہیموگلوبن چیک کروایا تو ساڑھے آٹھ سے گر کر چھ تک پہنچ چکا ہے۔ ویجائنا کی باہر والی دیوار اور مقعد کے اردگرد کا حصہ گہرا نیلا ہو گیا ہے ”
یہ ہسٹری سننے کے بعد ہم نے
ویجائنا کو اندر سے دیکھنے کے لیے اپنی ایک انگلی اندر ڈالی ( انگلی کو ہم آنکھ کہتے ہیں جو ویجائنا کو اندرونی تاریک گہرائی میں دیکھتی ہے ) تو گیند جیسی سخت چیز محسوس ہوئی۔ مزید تحقیق کے لیے مقعد میں انگلی ڈال کر دیکھا تو گیند وہاں بھی موجود تھی لیکن اس کے اوپری حصے تک انگلی کی پہنچ ناممکن تھی۔
اوہ۔ ایک اور ہیماٹوما۔ ہم نے ہونٹ سکوڑے۔
بلڈ ٹیسٹ کروائیے۔ کہیں مریضہ ڈی آئی سی میں نہ جا رہی ہو اور ساتھ میں سی ٹی سکین بھی۔ ہیماٹوما کا مکمل حدود اربعہ تو تبھی پتہ چلے گا۔
کچھ ہی دیر میں نتائج ہمارے سامنے تھے اور تھے بھی ہوش ربا۔ ہیماٹوما ویجائنا سے ہوتا ہوا پیٹ تک جا پہنچا تھا۔ ہیموگلوبن گر چکا تھا اور پلیٹلٹس کی تعداد بھی کم ہو رہی تھی۔
کیا کیا جائے؟ ہم نے اپنی ٹیم سے مشاورت کی۔
لیں چلیں آپریشن تھیٹر دوبارہ۔ ایک رائے۔
مانیٹرنگ کر کے دیکھتے ہیں۔ شاید یہیں پہ رک جائے۔ دوسری رائے۔
لیکن ڈی آئی سی بہتر نہ ہوئی تو۔ رائے نما سوال۔
جب بھی کوئی مریض پیچیدگی کا شکار ہو جائے، مریض کی علامات اور تمام واقعات کا ازسر نو جائزہ لینا چاہیے کہ ایسا کیا ہوا جس کا یہ نتیجہ نکلا اور اب ایسا کیا کیا جاسکتا ہے جس سے مریض کو بچایا جا سکے۔
ہمارے خیال میں مسلے کا آغاز، آغاز سے ہوا تھا۔ ویجائنا میں لگا ہوا کٹ جو ویجائنا کے اندر گہرائی تک چلا جائے اور آسانی سے سیا نہ جا سکے، اسے سیریس لینا چاہیے۔ کسی بھی مشکل کی صورت میں ویجائنا کی گہرائی تک پہنچنے کا ایک ہی حل ہے کہ مریض کو آپریشن تھیٹر لے جا کر بے ہوشی دے کر کوئی ایسا ڈاکٹر ٹانکے لگائے جو اس کام کا ماہر ہو۔ لیبر روم میں جو نرسیں اور ڈاکٹر موجود ہوتے ہیں ان کی مہارت ابتدائی مراحل تک ہوتی ہے۔ پیچیدگی نہ ہو تو زبردست کام مگر مسئلہ گمبھیر ہو تو اگلے لیول کے ڈاکٹر کو فوراً بلا لینا چاہیے۔
دوسرے مرحلے میں ہیماٹوما بننے والی جگہ کی بہت اچھی طرح سلائی کرنی چاہیے۔ ہیماٹوما میں اکثر کوئی شریان نظر نہیں آتی جس سے خون رس رہا ہو مگر کوئی نہ کوئی لیک ہونے والی شریان ہوتی ضرور ہے سو اس کے لیے ڈیڈ سپیس کو بند کرنا ہی اصل حل ہے۔ سلائی کرنے کے بعد ویجائنا کو خاص قسم کی پٹیوں سے اچھی طرح پیک کر دینا چاہیے تاکہ جو جگہ سلائی سے رہ گئی ہو یا کوئی پوشیدہ شریان جو پکڑی نہ جا سکی ہو، پٹیوں کے پریشر کی وجہ سے بند ہو جائے۔
دوسرا ہیماٹوما بنا ہی اس وجہ سے تھا کہ پوشیدہ شریان سلائی میں نہیں آ سکی تھی۔ لیکن اب مریض کو دوبارہ آپریشن تھیٹر لے جانا مزید خطرے کی بات تھی کہ ہیماٹوما ویجائنا سے ہوتے ہوئے پیٹ میں جا چکا تھا۔
ہمیں ریڈیالوجسٹ سے بات کرنی ہو گی۔ ہم نے اعلان کیا۔
وہ کیوں؟ میڈیکل سٹوڈنٹ کا سوال۔
وہ شریانوں کو ٹریس کرتے ہوئے اس شریان کو بلاک کریں گے جس سے خون رس رہا ہے۔ اس دوران مریضہ کو لال خون، سفید خون ( پلازما) اور پلیٹلیٹس دیے جائیں گے تاکہ ڈی آئی سی نہ ہو۔
اور ہاں اینٹی بایوٹکس بھی دی جائیں تاکہ جمع شدہ خون پیپ میں نہ بدل جائے۔
اگر ہیماٹوما کا خون نہ نکالا گیا تو وہ کہاں جائے گا۔ میڈیکل سٹوڈنٹ نے سوال کیا۔
جسم اسے آہستہ آہستہ جذب کر لے گا۔ بس بیکٹریا کا حملہ نہیں ہونا چاہیے۔
صاحب، جان لیجیے کہ زچگی پل صراط ہے اور اس پل صراط پہ چلنے والی ہر عورت کو زندگی کی طرف لوٹنے کے لیے ہمدرد ساتھی کے ساتھ ساتھ بہترین ہسپتال بھی چاہیے۔
تصور کیجیے کہ پاکستان کے قصبات، دیہات اور چھوٹے شہروں میں بسنے والی زچہ عورتوں کی ویجائنا میں جب ہیماٹوما بنتا ہو گا تو کیا ہوتا ہو گا؟
اس سوال کا جواب ڈھونڈیے!

