اِس دنیا میں کس بات پر یقین کریں؟


9

ایک منٹ کے لیے فرض کریں کہ کسی صبح آپ بیدار ہوں اور کافکا کے کردار گریگر سیمسا کی طرح آپ کی جُون بدلی ہوئی ہو تو آپ کیسا محسوس کریں گے؟ گریگر سیمسا تو ایک عجیب الخلقت کیڑے میں تبدیل ہو گیا تھا سو اُس کا تصور کرنا قدرے مشکل ہے، البتہ اگر کسی شخص میں دوسرے انسان کی روح حلول کر جائے تو کیا ہو، یعنی اِس کایا کلپ کے بعد اُس شخص کے خیالات میں کیا تبدیلی واقع ہوگی؟ ظاہر ہے کہ وہ پہلے کی طرح برتاؤ نہیں کرے گا بلکہ وہ اُس انسان کی نقل بن جائے گا جس کی روح اُس میں حلول کر گئی ہوگی۔

اِس بات کو یوں سوچیں کہ ایک شخص سرمایہ دار ہے مگر ایک صبح جب وہ بستر سے اٹھتا ہے تو اُس میں مزدور کی روح حلول کر چکی ہوتی ہے، ایسی حالت میں جب وہ اپنے کارخانے جائے گا تو اُس کا رویہ اپنے کاریگروں اور وہاں کام کرنے والے مزدوروں کے ساتھ کیسا ہو گا؟ قرین قیاس یہی ہے کہ اُس کا رویہ یکسر تبدیل ہو گا، وہ مزدوروں کے ساتھ ہمدردانہ سلوک کرے گا، اُن کی تنخواہوں میں اضافہ کرے گا، سالانہ چھٹیوں کی اجازت دے گا، قانون کے مطابق صحت اور پنشن کی سہولیات کو یقینی بنائے گا اور اُن کے کام کرنے کی جگہ کو محفوظ بنائے گا اور کام کی سختی کم سے کم کرے گا۔

لیکن اب وہ چونکہ سرمایہ دار نہیں ہو گا اور اُس کی سوچ کاروباری نہیں ہوگی تو عین ممکن ہے کہ وہ گھاٹے کا سودا کر بیٹھے اور سال بھر کے اندر کارخانے ہی کو تالا لگ جائے جس کے بعد اُس کے پیٹی بند بھائی اُلٹا روزگار سے ہی ہاتھ دھو بیٹھیں۔ ایسی صورتحال ہو بھی سکتی ہے اور نہیں بھی۔ لیکن اِس بحث میں الجھے بغیر اِسی مثال کو تھوڑا سا تبدیل کر کے کسی اور شخص پر منطبق کر کے دیکھتے ہیں۔ فرض کریں کسی مدرسے کے مُعلّم میں ایک لبرل شخص کی روح حلول کر جائے تو کیا اگلے روز مدرسے کا ماحول بدلا ہوا ہو گا؟ میرا خیال ہے کہ ماحول یکسر تبدیل ہو گا لیکن کس حد تک، یہ بات میں آپ کی پروازِ تخیل پر چھوڑتا ہوں۔ مدعا فقط اتنا ہے کہ دنیا میں کسی دوسرے شخص کا نقطہ نظر سمجھنے کا یہ بہترین طریقہ ہے کہ اُس دوسرے بندے کی روح کو ہی ’متبنّٰی‘ کر لیں، آپ کو سمجھنے میں آسانی ہوگی کہ وہ شخص آپ سے مختلف کیوں سوچتا ہے!

سترہویں صدی کا مشہور فلسفی جان لاک اِس سے بھی آگے کی کوڑی لایا، اُس نے کہا کہ ہم اِس دنیا کو اپنے جن حواس کی بنیاد پر دیکھتے، پرکھتے اور محسوس کرتے ہیں اگر وہ حواس ہی تبدیل ہو جائیں تو کیا ہو؟ کیا اُس صورت میں بھی یہ دنیا ہمیں ایسی ہی لگے گی جیسی اِس وقت ہے؟ یعنی اگر دنیا کی مادی حالت ایسی ہی رہے جیسی فی الوقت ہے اور فقط ہمارے حواس تبدیل ہو جائیں تو کیا اِس سے ’ہماری نظر میں‘ خارجی دنیا بدل جائے گی یا محض ہمیں ایسا لگے کہ دنیا بدل گئی ہے؟

خدا بھلا کرے اِن فلسفیوں کا، اچھی خاصی سادہ سی بات کو اِس قدر پیچیدہ بنا کر پیش کرتے ہیں کہ بندہ ڈور کا سِرا تلاش کرتا ہی رہ جاتا ہے! اب جان لاک کی اسی بات کو لے لیں کہ خارجی دنیا کا علم ہمیں حواس کے ذریعے ہوتا ہے، اور فرض کریں کہ گریگر سیمسا کی جُون تبدیل نہ ہوتی بلکہ فقط اُس کی حِسِیّات بدل جاتیں تو اُس صورت میں اُس کا رویہ کیسا ہوتا؟ ظاہر ہے کہ اُس صورت میں وہ اپنی خارجی دنیا کا مشاہدہ بالکل مختلف نظر سے کرتا جبکہ اُس کے اردگرد کے لوگوں کو کوئی فرق ہی محسوس نہ ہوتا۔

آج اگر انسانی نسل نئے سرے سے شروع ہو اور اُس کی حِسِیّات وہ نہ ہوں جو اِس وقت ہیں بلکہ کچھ اور ہوں تو خارجی دنیا کے بارے میں انسانوں کا فہم یکسر بدل جائے گا۔ ’کرگس کا جہاں اور ہے شاہیں کا جہاں اور۔‘ ہم میں سے اکثر لوگ کبھی نہ کبھی ماہر امراضِ چشم کے پاس ضرور گئے ہوں گے، آنکھوں کا معائنہ کرتے ہوئے وہ اکثر ہمیں مختلف عینکیں پہناتے ہیں جس کی مدد سے ہم اپنے سامنے آویزاں چارٹ پر حروف پڑھتے ہیں، کوئی عینک ایسی ہوتی ہے کہ ہمیں دھندلا نظر آنے لگتا ہے اور کوئی چشمہ ایسا ہوتا ہے کہ ہمیں بالکل صاف دکھائی دیتا ہے، اُسی لمحے ہم پُکار اُٹھتے ہیں کہ یہی ٹھیک ہے۔

اِس دنیا کو دیکھنے کے لیے البتہ ہمارے پاس ایک ہی عینک ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ یہ عینک ہمارے چہرے پر نہیں ہے بلکہ in built ہے، اسی لیے ہمیں یہ دنیا ویسی ہی نظر آتی ہے جیسی ہماری ’عینک‘ ہمیں دکھاتی ہے۔ آج اگر کسی وجہ سے ہماری یہ عینک بدل جائے تو ہماری دنیا بھی بدل جائے گی، اور عین ممکن ہے کہ نئی عینک لگانے کے بعد ہمیں پتا چلے کہ یہ دنیا سرے سے وجود ہی نہیں رکھتی بلکہ اصل میں یہ کسی کے لیے جنت ہے اور کسی کے لیے جہنم! یہ بات ہضم کرنا ذرا مشکل ہے تاہم اِس کا امکان موجود ہے۔

یہاں تک لکھنے کے بعد مجھے احساس ہوا ہے کہ اب تک میں تمہید ہی باندھ رہا ہوں۔ نہ آج تک کسی کی جُون بدلی ہے اور نہ ہماری حِسِیّات، پھر ایسے مفروضوں کا کیا فائدہ؟ ایسے مفروضوں کا فائدہ ہوتا ہے، انہیں Thought Experiment کہتے ہیں، آئین سٹائن نے عمومی نظریہ اضافیت ایسے ہی تجربے کی بنیاد پر پیش کیا تھا۔ اُس نے فرض کیا تھا کہ اگر آپ کسی اُڑن کھٹولے میں 9.8 میٹر فی سیکنڈ اسکوئیر کی رفتار سے اوپر خلا کی جانب سفر کر رہے ہوں تو اُس کیفیت میں اور زمین پر ساکت کیفیت میں کوئی فرق محسوس نہیں ہو گا کیونکہ کشش ثقل بھی ہمیں اِسی رفتار/قوت کے ساتھ زمین کے ساتھ جوڑے رکھتی ہے ورنہ ہم خلا میں ہی معلق رہیں۔

یہی وہ thought experiment تھا جس کی بنیاد پر آئین سٹائن نے خم دار زمان و مکان (Curved Space Time) کا تصور دیا اور بعد ازاں یہ بھی ثابت کیا کہ اگر کائنات میں وقوع پذیر ہونے والے کسی واقعے کا مشاہدہ، دو ناظر، بیک وقت مختلف مقامات سے کریں تو دونوں کے نزدیک اُس واقعے کا وقت اور مقام مختلف ہو گا اور دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں ’اپنی اپنی جگہ درست‘ ہوں گے۔ ’بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا۔‘

یہ ہے وہ دنیا میں جس میں رہتے ہیں اور جہاں کوئی بھی بات حتمی نہیں۔ لیکن کیا اِس کا مطلب یہ ہے کہ ہم بدی کو بدی کہنا چھوڑ دیں کیونکہ عین ممکن ہے کسی اور کی نظر میں وہ بدی نہ ہو؟ نہیں۔ اچھائی اور برائی کا پیمانہ کافکا کے افسانے، جان لاک کی تصوراتی دنیا اور آئین سٹائن کے زمان و مکان میں بھی تبدیل نہیں ہوتا، مُتبدّل صرف ہماری رائے ہوتی ہے جو ہم اِس دنیا میں اپنی حِسِیّات کی بنیاد پر قائم کرتے ہیں۔ یہ عجیب بات ہے کہ اپنی محدود عقل اور حواس کے بل بوتے پر ہم اِس قدر تیقن کے ساتھ رائے قائم کر لیتے ہیں کہ یوں لگتا ہے جیسے کائنات کی تمام تر سچائی ہم نے پا لی ہے اور اب ہمیں یہ اختیار حاصل ہو گیا ہے کہ اُس ’سچائی‘ کو دوسروں پر مسلط کر دیں۔

93 ارب نوری سال پر محیط اِس کائنات میں تیقن کے ساتھ اپنی بات کو سچ کہنا اور اُس سچ پر اصرار کرنا بڑے دل گردے کا کام ہے اور اِس کے لیے جو اعتماد چاہیے وہ، بقول یوسفی صاحب، عموماً انجام سے بے خبر سٹّے بازوں کے چہروں پر ہوتا ہے۔ کم ازکم یہ فقیر اِس اعتماد سے محروم ہے۔ ہم تو دیکھتے رہتے ہیں کہ کیا گزرتی ہے قطرے پر گُہَر ہونے تک!

Facebook Comments HS

یاسر پیرزادہ

Yasir Pirzada's columns are published at Daily Jang and HumSub Twitter: @YasirPirzada

yasir-pirzada has 610 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada

One thought on “اِس دنیا میں کس بات پر یقین کریں؟

  • 28/12/2024 at 3:32 شام
    Permalink

    ویسے تو آپ کو یہ تبصرہ نہیں پہنچے گا مگر لکھ دیتا ہوں۔
    آپ نے لکھا:
     اُس نے فرض کیا تھا کہ اگر آپ کسی اُڑن کھٹولے میں 9.8 میٹر فی سیکنڈ اسکوئیر کی رفتار سے اوپر خلا کی جانب سفر کر رہے ہوں تو اُس کیفیت میں اور زمین پر ساکت کیفیت میں کوئی فرق محسوس نہیں ہو گا کیونکہ کشش ثقل بھی ہمیں اِسی رفتار/قوت کے ساتھ زمین کے ساتھ جوڑے رکھتی ہے ورنہ ہم خلا میں ہی معلق رہیں۔

    صاحب نو اعشاریہ 8 کا ہندسہ رفتار نہیں ہے بلکہ اسراع یا ایکسلیریشن ہے یعنی آپ کی ابتدائی رفتار میں ہر سیکنڈ بعد نو اعشاریہ 8 کا اضافہ ہوتا جائے گا۔ کشش ثقل ایک قوت ضرور ہے لیکن اس کی کوئی رفتار نہیں ابتدائی رفتار عام طور گرنے والی شے کی صفر ہوتی ہے جیسے پھل جب درخت سے گرے تو اس کی ابتدائی رفتار صفر ہوگی۔ مگر ایک سیکنڈ بعد لگ بھگ دس ہوجائے گی۔
    زمین سے دور جانے والی شے کی ابتدائی رفتار اگر ایک مخصوص ہندسے یا رفتار سے کم ہو تو وہ خلا میں نہیں جاپائے گی اور واپس گر جائے گی اس رفتار کو اسکیپ ولاسٹی کہا جاتا ہے۔
    عمومی طور پریہ لگ بھگ چالیس ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ یا پچیس ہزار میل فی گھنٹہ ہوتی ہے جسے 11 کلومیٹر فی سیکنڈ بھی مانا جاتا ہے۔ زمین کی حدود سے نکلنے کے بعد راکٹ بہت معمولی رفتار سے بھی حرکت کرسکتا ہے۔

    سورہ رحمان میں اسکیپ ولاسٹی کا ہی تذکرہ ہے کہ (مفہوم) اے انسان اور جن تم اگر زمین کی حدود سے نکلنا چاہو تو بھی نہیں نکل سکتے جب تک کہ ایک مخصوص رفتار یا قوت کو نہ حاصل کرلو۔

Comments are closed.