ہندوستانی مسلمانوں کا اصل مسئلہ: مارکسی نقطۂ نظر سے


جب بھی ہندوستان کے مسلمانوں کا ذکر ہوتا ہے تو ہم ان کے حالات و واقعات کا جائزہ مذہبی بنیادوں پر کرتے ہیں جو کہ کسی حد تک ضروری اور جائز بھی ہے لیکن یہ طریقہ ہندوستانی مسلمانوں کو درپیش مسائل کا فہم حاصل کرنے کے لئے کافی نہیں ہے۔ اس مقصد کے لئے مزید کئی عناصر کا علم ہونا ضروری ہے، جن میں سے ایک پہلو معاشی ہے۔ ہمارے ہاں لوگ ہندوستان میں مقیم مسلمانوں کے مسئلے کو مذہبی بنیادوں پر جانچتے ہوئے اس کو خالصتا ہندو مسلم کشیدگی یا شناخت کی لڑائی کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

یہی صورتحال بھارت کے ہندو اور مسلمان لیڈروں کی ہے جو شب و روز اپنی مذہبی شناخت کی بقاء کا ذکر کرتے نظر آتے ہیں۔ دونوں کمیونیٹیز کے نمائندوں کا ایک ہی شکوہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کی مذہبی شناخت ختم کرنے کے درپے ہیں۔ مگر یہاں یہ سوال کھڑا ہوتا ہے، کیا واقعی ان دونوں اقوام کی فکر اپنی شناخت کے متعلق ہے؟ یا ہندوؤں کو صرف مسلمانوں سے مسئلہ ہے؟ کیونکہ ان کی شناخت کے لئے خطرہ صرف مسلمان ہیں۔ جیسا کہ میں نے شروع میں ذکر کیا کہ ہندوستان کے مسلمانوں کے مسئلے کو سمجھنے کے لئے معاشی پہلو بھی معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

جدلیاتی مادیت کے مارکسی فلسفے کے مطابق بھی تاریخ میں رو نماء ہونے والے واقعات کے پس منظر میں خاص معاشی عوامل کارفرماء ہوتے ہیں، اور انسانی تاریخ کا چکر معاشی ضرورتوں کی بدولت ہی سرگرم عمل ہے۔ لہٰذا ہم اپنے اردگرد جو بھی واقعات اور ان واقعات کی تبدیلی دیکھتے ہیں، ان میں ایک خاصْ حصہ معیشت کا ہوتا ہے۔ خواہ وہ کسی سماجی آرڈر کی تشکیل ہو، اس میں تبدیلی، یا کوئی انقلاب کی صورت۔ ہندوستان میں ہندوتوا کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کا بھی ایک معاشی پس منظر ہے جس کو مذہبی شناخت کے لبادے میں اوڑھ کر پیش کیا جاتا ہے۔

بلا شبہ، ہندو انتہا پرست جماعتیں، ہندوستان کو خالصتا ہندوستان بنانے کے خواہاں ہیں لیکن ان کی یہ خواہش اپنی شناخت یا اپنے عقیدے کی پرچار کی غرض سے بالکل نہیں بلکہ اس سے حاصل ہونے والے ناجائز معاشی فوائد کے لئے ہے، جو انھیں ان کے مختلف عقائد کی بنیاد پر ہندوستانی آئین و قوانین حاصل ہیں۔ ہندوستان میں مسلمان سمیت تمام اقلیتوں کو کوٹا سسٹم اور ریزرویشن کی صورت میں حقوق حاصل ہیں، جن کی بنیادی وجہ ان کی مذہبی شناخت ہے، جو اس بات کا اظہار بھی ہے کہ وہ تعداد اور وسائل، دونوں لحاظ سے اقلیت ہیں۔

اس میں مسیحی، دلت اور مزید کئی مختلف شناختوں سے منسلک لوگ شامل ہیں۔ اور ہندوؤں کے انتہا پسند طبقے کا مسئلہ ان تمام سے ہے۔ ہندوستان میں اونچی ذات کے مقتدر با جبروت ہندو اقلیتوں کے لئے ان کے آئین میں متعین ان تمام سہولتوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں جو انھیں معاشرتی و معاشی لحاظ سے تحفظ فراہم ہوتا ہے۔ اس ضمن میں وہ ہندو کے علاوہ باقی تمام شناختوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں جیسا کہ میں نے بتایا کہ اقلیتوں کی مذہبی شناخت ہی ان کو اقلیت کا درجہ دلواتی ہے، جس کی بنیاد پر ان کو حقوق حاصل ہیں ورنہ ان کے لئے ہندو جیسی دانا اور پڑھی لکھی قوم کا مقابلہ کرنا بے حد مشکل ہو جاتا۔

چنانچہ، ہندوؤں کا بھارت کو کلی طور پر ہندو بنانے کا اصل مقصد اپنی مذہبی شناخت کی بقاء یا اس کو مستحکم کرنا نہیں۔ اس بات کو دو امثال کے ذریعے سمجھا جا سکتا ہے۔ ہندوؤں کا مسئلہ محض مسلمانوں سے نہیں کیونکہ مسجدوں کی طرح انتہا پسند ہندوؤں نے مسیحیوں کی عبادت گاہوں پر بھی کئی مرتبہ دھاوا بولا ہے۔ جیسے 2023 کے شروع میں سہارن پور کے ایک چرچ پر انتہا پسند ہندوؤں نے حملہ کیا۔ آج کل دائیں بازو کے ہندو دانشور یہ شکوہ کرتے نظر آتے ہیں کہ بھارتی حکومت کے بعد سب سے زیادہ زمین چرچ کے پاس ہے، جن میں عبادت گاہ، اسکول اور عطیات حاصل کرنے والے ادارے شامل ہیں۔

بھارت کو مذہبی طور پر ہندو بنانے کا مقصد دو طریقوں سے پورا کیا جا سکتا ہے، ایک اقلیتوں کی نسل کشی کے ذریعے جبکہ دوسرا اقلیتوں کی ہندو دھرم میں واپسی کروا کر جس کو آج کل گھر واپسی کا نام دیا جاتا ہے۔ ہندوستان کے ایک مشہور دفاعی تجزیہ کار گورو آریہ کے مطابق ہندو دھرم میں ابراہیمی مذاہب کی طرح کوئی ایسا شخص شامل نہیں ہو سکتا جو پیدائشی طور پر یا جس کی نسل پہلے سے ہندو نہ ہو۔ لیکن اس کے باوجود گھر واپسی کے نعرے ہندوستان میں عام ہیں جس کا یہ جواز پیش کیا جاتا ہے کہ ہندوستان کی اقلیتیں ہندو بننے کے اہل ہیں کیونکہ ان کے آباؤ اجداد ہندو تھے۔

اپنے اس بیانیے کو درست ثابت کرنے کے لئے دائیں بازو کے تاریخ دان اپنی پسند کی تاریخ پیش کرتے ہیں ہیں جس سے کہ ان تمام حوالوں کو رد کیا جا سکے جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہندوستان میں مقیم اقلیتیں جیسے دلت اونچی ذات کے ہندوؤں سے مختلف نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ آریائی حملہ آوروں کی تھیوری کو غلط ثابت کرنے پر کوشاں ہیں۔ میں حیران بھی ہوں اور دائیں بازو کے ہندو مؤرخین سے متاثر بھی ہوں کہ وہ کیسے اقلیتوں سے ان کے حقوق چھیننے کے لئے ان کو اپنی شناخت سے منسلک ظاہر کرتے ہیں اور اس واسطے تاریخ کا سہارا لیتے ہیں، صرف اس لئے کہ اقلیتوں کو ان کی مختلف شناخت کی بنیاد پر جو حقوق حاصل ہیں، وہ ان کو میسر نہ ہوں۔

اس کا فائدہ واضع طور پر ان ہندوؤں کو ہے کہ آئین میں درج مسلمانوں، مسیحیوں اور باقی اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے والے قوانین کی عدم موجودگی میں وہ سب پر غالب آ جائیں گے۔ میں دہلی میں مقیم اپنے ایک بزرگ ہندو دوست کے ساتھ ہونے والی گفتگو کا حوالہ دینا چاہوں گا جو کافی پڑھے لکھے اور وہاں کے خوشحال تاجر ہیں۔ وہ شکوہ کر رہے تھے کہ یہاں مسلمان پست ذہن کے لوگ ہیں، اپنے بچوں کو اسکول نہیں بھیجتے اور روایتی فکر کے حامل ہیں۔

میں نے ان سے ایک فرضی سوال کیا کہ اگر مسلمان ہندو بن جائیں تو کیا آپ لوگ انھیں اپنا لیں گے تو ان کے جواب نے مجھے حیران کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا ممکن نہیں کیونکہ ہمارے درمیان معاشی رکاوٹیں موجود ہیں یعنی طبقاتی فرق موجود ہے۔ جسے ہم ہندو مسلم لڑائی سمجھتے ہیں، یہ ایک طبقاتی لڑائی ہے اور یہ طبقاتی لڑائی ہندوؤں کی باقی اقلیتوں کے ساتھ بھی ہے، جس میں انتہا ء پسندی کا ایندھن غریب ہندو بنتے ہیں جس کی بدولت وہ بھی اپنے حقیقی مسائل کو سمجھنے سے قاصر ہیں اور یہی صورتحال ان مسلمان قائدین کے حوالے سے ہے جو مسلمانوں کو ان کے معاشی مسائل کی جانب توجہ دلانے کی بجائے مذہبی شناخت کی لڑائی میں الجھا رہے ہیں جس سے اصل مسئلے کی پردہ پوشی ہو رہی ہے۔

ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل کو سمجھنے کے لئے مزید کئی زاویے ہیں، ان میں سے ایک معاشی زاویہ ہے، جس کے حوالے سے یہ مضمون ہے۔ لیکن ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل کا مکمل فہم حاصل کرنے کے لئے تمام زاویوں علم ہونا ضروری ہے مگر ہمارے مسلمان اپنی تنگ نظری کی بدولت اس ضرورت کے ادراک سے محروم نظر آتے ہیں کیونکہ ہمیں صرف قومیت کا پیٹ بھرنے والے افکار، نظریات اور بیانیے پسند آتے ہیں۔

Facebook Comments HS