کیا ہم کبھی بھی بدل سکیں گے؟

میر صاحب نے گئے دنوں میں اپنی حالت زار پہ کہا تھا ”دل کو روؤں یا پیٹوں جگر کو میں۔ مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں۔“ لگتا تو یہ ہے کہ کہیں میر صاحب کے ذہن رسا میں مستقبل بعید میں بننے والے پاکستان کا نقشہ تو نہیں تھا۔ کچھ مصیبتوں کے لیے ہم (جائز وجوہات پر) اشرافیہ کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں لیکن بہت سے ہمارے مسائل ہمارے اپنے زہر ناک رویوں کا نتیجہ ہیں۔ ٹریفک کے معاملے میں زندگی کی طرف ہمارا لاپرواہی کا رویہ ہماری سڑکوں کو مقتل گاہ بنا چکا ہے۔
پھر ہماری لالچی فطرت جس نے دنیا بھر کے بیوپاریوں کے ذہن میں پاکستانیوں کا منفی امیج بنا یا ہوا ہے۔ قانونی راستوں سے ملک چھوڑنے کی بجائے ڈنکی لگانے کا بڑھتا ہوا رجحان کس بات کا غماز ہے۔ اس حوالے سے حکومتی اداروں کو آپ جس قدر چاہیں برا بھلا کہیں مگر اس عفریتی رویے کی جڑ ہمارے شہریوں میں آسمان کو چھوتی لالچ میں ہی ہے۔ بہت سے افراد اس حوالے سے غربت کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں لیکن وسطی پنجاب کے دوستوں سے پیشگی معذرت کے ساتھ یہ بات کہنا ضروری ہے کہ آپ لوگ اس درد ناک صورتحال کا رتی برابر بھی اندازہ نہیں لگا سکتے جو سرائیکی وسیب، پختونخوا، سندھ و بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں موجود ہے۔ وہاں کے لوگوں میں ڈنکی لگانے کا رجحان کیوں نہیں ہے؟ بات صرف نہ ختم ہونے والی حرص کی ہے ورنہ جانتے بوجھتے کون اپنے جگر کے ٹکڑوں کو موت کے منہ میں دیتا ہے۔
اس حوالے سے سوشل میڈیا کا گھناؤنا استعمال بھی ان لوگوں کی باہر جانے کی اشتہا کو بڑھاتا ہے۔ خدا جانے کتنی بار صاحبان علم اس حوالے سے کہہ چکے ہیں کہ آج کے دور میں سوشل میڈیا مثبت کی بجائے منفیت کو پھیلانے کا ایک ذریعہ بن چکا ہے۔ اس صدی کے اوائل میں یہ توقع تھی کہ سوشل میڈیا علم کی نئی راہیں کھولنے کا ذریعہ بنے گا مگر ہوا کچھ یوں کہ یہ لوگوں کو قریب تو لایا مگر ان میں رہی سہی ہم آہنگی اس نے ختم کر کے رکھ دی۔
آج وسطی پنجاب کے ایک باپ یا ایک بیوی کو اپنے علاقے میں آئی لاش تو دکھائی نہیں دیتی مگر سوشل میڈیا پر کسی انسانی سمگلر کی جگمگاتی پوسٹ یا ہزاروں بد نصیبوں میں سے یورپ میں پہنچا ایک خوش نصیب کا واٹس ایپ میسیج زیادہ اپیل کرتا ہے۔ میرے گرو اور سائیکالوجی کے استاد خالد سعید اس عہد کو ”عہد تار نو“ کہا کرتے تھے۔ اس عہد کی تاریکی میں اضافے کا ایک اہم ترین ٹول آج کا سوشل میڈیا ہے۔ انسانی سمگلنگ کے معاملے میں انسانی لالچ کو بڑھاتا ہوا سوشل میڈیا کا کردار کسی طور نظر انداز نہیں کیا جا سکتا لیکن یہ بات سمجھ میں پھر بھی نہیں آتی کہ جانے والے لوگوں کے اہل خانہ یا دوست رشتہ دار کسی کو پتہ نہیں ہے کہ انجان دیسوں میں ان کے پیاروں کے ساتھ کس درجہ ظالمانہ سلوک ہوتا ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ خود کشی پر آمادہ شخص کی طرح اس کے ذہن میں صرف موجودہ صورتحال سے نکلنے کے لیے واحد ممکنہ راستہ صرف یہی ہو۔
اب یہاں اس معاملے کا ایک اور پہلو بھی سامنے لانا ضروری ہے۔ اس طرح کے حادثات میں جو خوش نصیب بچ جاتے ہیں تو وہ پناہ گزینوں کا سٹیٹس حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اب اس سٹیٹس کے حصول کے لیے آپ کو کسی اقلیتی گروپ سے تعلق ثابت کرنا ہوتا ہے جس میں مذہبی گروپ جیسے احمدیہ جماعت یا پھر جنسی اقلیتیں جیسے ٹرا نس جینڈر، ہم جنس پسند وغیرہ۔ اہل مغرب ان حوالوں سے بہت حساس ہیں اور یہ سب کچھ وہاں کے کلچر کا ایک حصہ سہی لیکن اتنا تو وہ بھی جانتے ہیں کہ یہ آڑ کیوں لی جا رہی ہے اب ان تمام باتوں کو ثابت کرنے کے لیے آپ کو سخت کڑے مراحل سے گزرنا ہوتا ہے تب جا کر آپ کو لیگل سٹیٹس ملتا ہے۔
میرے ذاتی علم کے مطابق پاکستان سے مغرب کو سدھارے حقیقی احمدی خاندان بھی اب وہاں پر کافی سے زیادہ قانونی مراحل سے گزر رہے ہیں۔ اور یہ بات بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ انسانی فطرت ہر جگہ ایک ہے۔ ہر زمانے اور مقام پر ضرورت مند کی ضرورت سے فائدہ اٹھایا جاتا رہا ہے اور دور حاضر کو اس سلسلے میں کوئی استثناء حاصل نہیں۔ اپ کا ایک غیر قانونی سٹیٹس ہر جگہ آپ کے استحصال کا ذریعہ بنے گا۔ مغربی ممالک میں حکومتی سطح پر ایک حد تک ریلیف مل سکتا ہے لیکن انفرادی سطح پر ایک مجبور کی مجبوری سے فائدہ اٹھاتے آجر کو کون روک سکتا ہے؟ ایک اور بات بھی پیش نظر رہنا ضروری ہے کہ ان حیلوں سے حاصل کردہ منزل کے بعد کیا پاکستانی معاشرے کی موجودہ عدیم المثال ”روا داری اور برداشت“ ، کی صورتحال میں آپ کو سند قبولیت مل پائے گی؟
یہاں پر اگلا سوال یہ اٹھتا ہے کہ پاکستان کے موجودہ سماجی اور اقتصادی ڈھانچے کے ہوتے ہوئے نو جوانوں کے لیے کون کون سے راستے بچتے ہیں۔ تو بائبل کے الفاظ میں ”راستہ انہیں ملتا ہے جو اسے تلاشتے ہیں“ ۔ اس حوالے سے میرا ذاتی مشاہدہ یہ ہے کہ مشکل نہیں ہے کچھ بھی اگر ٹھان لیجیے۔ پہلی اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ نوجوان ٹک ٹاک پر وقت ضرور دیں کیونکہ اس کے بنا اب ان کا گزارہ نہیں ہوتا لیکن تھوڑا سا وقت یو ٹیوب پر دستیاب لا تعداد یو ٹیوبرز کو بھی دیں جو آپ کو باہر جانے کے قانونی راستے بتاتے ہیں۔
ذاتی مشاہدے پر قائم میری گزارشات تو یہ ہیں کہ سب سے پہلے کوئی کام سیکھیے اور اس میں کوئی ڈگری، ڈپلومہ یا سرٹیفکیٹ حاصل کیجیے۔ یقین کریں پوری دنیا میں آپ کو حجام کا کام حاصل کرنے کے لیے بھی مستند سرٹیفکیٹ یا ڈپلومہ درکار ہے۔ پاکستان میں اب بہت سے سرکاری ادارے آپ کو مفت میں فنی مہارتیں سکھانے کے لیے موجود ہیں۔ پنجاب میں ٹیوٹا کی ویب سائیٹ پر جا کر دیکھیں کہ وہ کون کون سے ڈپلومے یا سرٹیفکیٹ پروگرام کروا رہے ہیں۔ اسی طرح ایک سماجی تنظیم ”اخوت“ کو انٹر نیٹ پر سرچ کریں۔ پھر جماعت اسلامی والے بھی کچھ ایسے ہی پروگرام کروا رہے ہیں۔ یہ سب لوگ مختلف نوعیت کے ایسے پروگرام مفت کروا رہے ہیں جو آپ کی پرسنل گرومنگ اور جاب سرچ کے لیے بے حد مفید ہیں لازم ہے کہ آپ
ان کی ویب سائیٹ پر جا کر دیکھتے رہا کریں۔ دوسرے نمبر پر انگریزی زبان میں مہارت ہے۔ ہمارے دائیں بازو کے دوست جس قدر چاہیں اعتراض کریں لیکن زمینی حقیقت یہی ہے کہ انگریزی ہی اب پوری دنیا میں رابطے کی زبان بن چکی ہے۔ (آپ خود سوچیں کہ دبئی یا کہیں اور ایک پاکستانی انجینئر اپنے روسی یا سری لنکن کولیگ کے ساتھ بات کیسے کرے گا ) ۔ انگریزی زبان میں مہارت کے لیے ایک سادہ سا آزمودہ اصول اپنا لیجیے۔ ریڈنگ اور لسننگ آپ کے رائٹنگ اور سپیکنگ سکلز کے لیے انتہائی اہم ہیں۔
نیٹ پر جا کر انگریزی میں دستیاب اپنی پسند کی کوئی ویڈیو دیکھیے۔ یہ کوئی لطیفہ، کہانی یا کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ اسی طرح اپنی پسند کے کسی ٹاپک پر کچھ پڑھیں۔ انٹر ٹینمنٹ کی غرض سے کی گئی کوئی بھی ایسی ایکٹیویٹی آپ کے لیے انتہائی سود مند ثابت ہو گی۔ پلیز انٹر نیٹ کو سیاسی مخالفین کی ماں بہن ایک کرنے کی بجائے مثبت انداز میں استعمال کیجیے۔ جان لیجیے کہ پاکستانی اشرافیہ بہت ظالم ہے ان کی باہم لڑائیوں کا ایندھن بننے کی بجائے اپنے آپ پر توجہ دیجیے۔ خود کو ہر حوالے سے بہتر بنائیے زندگی بہت خوبصورت ہے اسے یونانی جزیروں کے پاس گہرے سمندروں کی نذر مت کیجیے۔ آپ اپنے والدین، بہن بھائیوں اور فیملی کے لیے بہت قیمتی ہیں۔ رب آپ سب کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے آمین
اس مضمون کی انسپریشن ڈان نیوز کے پروگرام ”ذرا ہٹ کے“ سے لی گئی ہے جو میری رائے میں پاکستانی مین سٹریم میڈیا کا واحد غیر جانبدار معلوماتی پروگرام ہے

