خطے میں عدم استحکام اور بھارتی ریاست کے مفادات

گزشتہ ماہ ہر طرف جنگ کی بازگشت سنائی دی۔ پاک بھارت جنگ کا تذکرہ زبان زد عام تھا۔ اس صورتحال میں دونوں ممالک میں جنگ کی حوصلہ شکنی کرنے والے لوگ موجود تھے لیکن ہندوستان میں ایک طبقہ ایسا بھی تھا جو جنگ اور اس کی تباہ کاریوں کو حوصلہ افزاء قرار دے رہے تھے۔ بلا شبہ یہ طبقہ ہندوستان کی دائیں بازو کی جماعتوں کی طرز فکر کے ساتھ منسلک ہے اور یہ اپنے ہاں پائی جانے والی معقول

Read more

پاک فوج ریاست کا حصّہ یا ریاست؟

پاک بھارت جنگ میں فتح حاصل کرنے کے بعد آرمی چیف عاصم منیر ایوب خان کے بعد فیلڈ مارشل کا خطاب حاصل کرنے والے دوسرے آرمی چیف ہیں۔ جنگ کے بعد بلاشبہ پاک فوج نے اپنا کھویا ہوا وقار حاصل کر لیا۔ جو کہانیاں 1965 کی جنگ کے متعلق ہم اپنے بزرگوں سے سنتے تھے اس کی ایک جھلک ایک مرتبہ پھر دیکھنے کو ملی۔ پاک فضائیہ کے جو کارنامے 65 کی جنگ میں سننے کو ملتے تھے آج پھر

Read more

ہندوستان اور پاکستان: خدارا عقل کریں

  حسب معمول صبح جلدی اٹھ کر واک کرنے کا ارادہ تھا لیکن رات کو دیر سے سویا اور دیر تک سوتا رہا اور روٹین واک کے لئے آنکھ نہ کھل سکی جو آئے روز مجھ سے ترک ہو جاتی ہے۔ لیکن آج سات مئی کو جب آنکھیں ملتا ہوا بستر سے اٹھا تو معلوم ہوا کہ رات کو میرے خواب خرگوش میں آلتیاں پالتیاں مارتے ہوئے بھارت نے پاکستان پر تین اطراف سے دھاوا بولا۔ کشمیر، سیالکوٹ اور مریدکے

Read more

ٹیرف جنگ کا فاتح کون؟

عالمی منظر نامے پر طاقتور ممالک کے درمیان ٹیرف جنگ جاری ہے جس کی شروعات امریکہ بہادر نے کی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے دور میں بھی کئی ممالک پر ٹیرف عائد کیے تھے۔ اب دوبارہ آفس سنبھالنے کے بعد سب سے پہلے انھوں نے اپنی کابینہ کو نئے ٹیرف کی تیاری کا حکم دیا اور پھر عمومی طور پر تمام ممالک پر درآمدات کی مد میں 10 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا گیا۔ یورپی یونین پر 20

Read more

پاکستانی سیاست کا المیہ: حکومت اور اپوزیشن کی نورا کشتی

میں آج تک سیاست پر رقم طراز نہیں ہوا۔ ہمیشہ مسائل پر بات کی ہے۔ لیکن پاکستانی سیاست کا ایک پہلو نہایت اہم ہے جس پر بات کرنا بے حد ضروری ہے جس کا سلسلہ ذوالفقار علی بھٹو کے وزیر اعظم بننے سے شروع ہوا۔ ہمارے ہاں سیاسی شخصیات کا سفر جمہوری اقدار کی بنا پر طے پاتا ہے، ان کی جدوجہد جمہوری ہوتی ہے۔ لیکن یہ شاذ و نادر ہی دیکھا گیا کہ ہمارے ہاں کوئی عوام کے ووٹوں

Read more

ادارہ فکر جدید میں بین الاقوامی مہمانوں کی آمد

ڈاکٹر عبد الباسط ظفر جرمنی اور ایلینا ڈینی صاحبہ اٹلی سے تعلیمی دورے پر پاکستان تشریف لائے۔ اس موقع پہ ادارہ فکر جدید نے دونوں مہمانوں کے اعزاز میں عشائیہ کا اہتمام کیا تھا۔ بین الاقوامی مہمانوں کا ادارہ فکر جدید میں، پرتپاک استقبال کیا گیا۔ ڈاکٹر باسط ظفر اور ایلینا ڈینی صاحبہ کا استقبال چیئرمین ادارہ فکر جدید صاحبزادہ محمد امانت رسول اور ان کی اہلیہ نورین امانت صاحبہ نے کیا۔ مہمانوں کا استقبال کرنے والوں میں جناب شعیب

Read more

تاریخی نقطہ نظر سے ہندوستانی مسلمانوں کا اصل مسئلہ

اپنے ایک کالم میں میں نے ہندوستان کے مسلمانوں کے مسائل کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل کا درست فہم حاصل کرنے کے لئے مختلف زاویے موجود ہیں اور اس کو محض مذہب اور شناخت کی لڑائی قرار دینا نا انصافی ہو گی۔ اس کالم میں معاشی زاویے سے ان کے مسائل کی جانچ کی گئی تھی۔ اگر ہندوستانی مسلمانوں کو درپیش مشکلات کو سمجھنا ہے تو اس واسطے ہمیں ہندوستانی مسلمانوں کو بھی سمجھنا

Read more

میری پہلی کتاب: ریاستیں کیسے چلائی جاتی ہیں؟

مجھے یہ بتاتے ہوئے بے حد خوشی ہو رہی ہے کہ میری کتاب ریاستیں کیسے چلائی جاتی ہیں؟ اب مارکیٹ میں دستیاب ہے۔ اس کتاب کے آرڈر بیرون ممالک میں مقیم پاکستانیوں نے بھی دے رکھے ہیں۔ کتاب، ریاستیں کیسے چلائی جاتی ہیں؟ ارنسٹ فریڈرک رو کی کتاب ”How States are Governed“ کا اردو ترجمہ ہے جو کہ 1950 میں شائع ہوئی۔ یہاں یہ سوال بنتا ہے کہ آخر ہمیں اس کتاب کے ترجمے کی ضرورت کیوں پیش آئی جو

Read more

اسکول کے بچوں کے مسائل اور انتظامیہ کی لاپرواہی

ہمارے معاشرے کے کئی ایسے مسائل ہیں جو زیر بحث نہیں لائے جاتے، جن کے حوالے سے آگہی ضروری ہے۔ ان میں بیشتر مسائل کا تعلق بچوں سے ہے۔ بچوں کو زندگی میں مختلف مشکلات کا سامنا رہتا ہے، بیشتر اوقات والدین کی موجودگی کی بدولت ان مشکلات کا سد باب ہو جاتا ہے لیکن کئی ایسے مواقع ہوتے ہیں جب ان کی راہنمائی یا ان کے بچاؤ کے لئے کوئی بڑا موجود نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر اسکول

Read more

ہندوستانی مسلمانوں کا اصل مسئلہ: مارکسی نقطۂ نظر سے

جب بھی ہندوستان کے مسلمانوں کا ذکر ہوتا ہے تو ہم ان کے حالات و واقعات کا جائزہ مذہبی بنیادوں پر کرتے ہیں جو کہ کسی حد تک ضروری اور جائز بھی ہے لیکن یہ طریقہ ہندوستانی مسلمانوں کو درپیش مسائل کا فہم حاصل کرنے کے لئے کافی نہیں ہے۔ اس مقصد کے لئے مزید کئی عناصر کا علم ہونا ضروری ہے، جن میں سے ایک پہلو معاشی ہے۔ ہمارے ہاں لوگ ہندوستان میں مقیم مسلمانوں کے مسئلے کو مذہبی

Read more

فلموں کو دیکھنے کا ایک مختلف زاویہ : اینیمل اور کبیر سنگھ

”فلم وہ نہیں جو لوگوں کی تفریح کا باعث ہو بلکہ فلم وہ ہے جو لوگوں کو تدبر پر مجبور کرے۔“ یہ بات روسی لکھاری میکسم گورکی نے ایک فلم پریمیئر سے واپسی پر کہی۔ ویسے تو اب فلمیں محض تفریحی مقاصد کے لیے بنائی اور دیکھی جاتی ہیں لیکن فلم کے مزید کئی مقاصد ہوتے ہیں جس کی وجہ سے یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ سینما کو میچور یا سنجیدہ شائقین درکار ہیں۔ یہاں سنجیدگی سے مراد

Read more

پاکستان کا مطلب کیا؟

آج کل پاکستانیوں کی شناخت کے مسئلے کے بارے میں کئی موضوعات زیر بحث ہیں جن میں ایک موقف لبرل طبقے کا ہے جو کہ جنگ و جدل سے منسلک تاریخی کرداروں کو اپنانے سے انکاری ہیں جبکہ دوسری طرف مذہبی طبقے کے لوگ ماضی میں گزرے کامیاب سپہ سالاروں کو اپنا حامی و ناصر گردانتے ہیں۔ لبرل طبقے کی نظر میں پاکستانیوں کی بہترین شناخت صرف بیرونی جنگجووں کو خود سے الگ ماننے میں ہی نہیں بلکہ خود کو

Read more

مجھے پینک اٹیک کیوں آیا؟

یہ تقریباً تین ہفتے پہلے کی بات ہے جب مجھے پینک اٹیک آیا۔ یہ اس نوعیت کا پہلا تجربہ تھا۔ والد صاحب گھبرا گئے اور فوراً گاڑی کا بندوبست کیا اور نزدیک کے پرائیویٹ اسپتال لے گئے جہاں کچھ دیر مجھے ڈاکٹر کے معائنے میں رکھا گیا، دوائیاں دی گئیں اور ڈرپ لگائی گئی۔ روایتی ڈاکٹروں کی طرح ان صاحب نے بعد میں اپنا ناٹک پیش کیا جس میں انھوں نے میری سانس کی دقت کو ہارٹ اٹیک سے تشبیہ

Read more

ذاکر نائیک کا بیان: ہمارے معاشرے کا المیہ

ڈاکٹر ذاکر نائیک کے پاکستان کے دورے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر مباحث جاری ہیں۔ خصوصاً ان کے پاکستان کے متعلق بیان کے بارے میں جس میں انھوں نے پاکستان کو غیر اسلامی معاشرہ گردانا۔ بقول ڈاکٹر صاحب کے وہ پاکستانی معاشرے کو اسلامی معاشرہ خیال کر رہے تھے۔ اس بات کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ ان کے خیال میں پاکستان ایک ایسا اسلامی معاشرہ تھا جہاں اسلام کے بنیادی اصولوں پر عمل در آمد

Read more

دور کے ڈھول سہانے

کل ایلیٹ طبقے کے پڑھے لکھے نوجوانوں کے ساتھ ایک محفل میں شریک تھا جہاں کھانے کی میز پر بیٹھے ہوئے خبر ملی کہ ایران نے اسرائیل پر میزائل داغے دیے ہیں۔ یہ سننا تھا کہ اسرائیل سے متعلق دنیا کی جیو پولیٹکس پر گفتگو کا رخ مڑ گیا جو کہ میرا پسندیدہ عنوان ہے۔ کوئی کہہ رہا تھا کہ اسرائیل اب جوابی حملہ کرے گا۔ کسی کی رائے تھی کہ اسرائیل اب پاکستان کی طرف بھی آئے گا، اس

Read more

بے ضمیر ہونا کیوں ضروری ہے؟

کہیں پڑھ رہا تھا کہ انسانی ضمیر کی کئی پیچیدگیاں ہیں جنھیں سمجھنے سے ہم قاصر ہیں خاص کر ہمارے پاکستانی بھائی بہن کیونکہ ہم اپنی طرف سے فیصلے دے کر بیٹھ چکے ہیں کہ ہم سچے اور حق بجانب ہیں مگر دنیائے علم میں بے پناہ وسعت موجود ہے۔ یہ بہت ہی دلچسپ موضوع ہے جس کے حوالے سے میں لکھ رہا ہوں اور اس کو پڑھنے کے بعد قارئین کو اپنے اردگرد مخصوص لوگوں کی پہچان کرنے میں

Read more