معاشی زوال بذریعہ موروثی کمال
سرمایہ داری، جب موثر طریقے سے نافذ ہوتی ہے تو جدّت، ترقّی، اور مشترکہ خوشحالی چین کی بلٹ ٹرین کی طرح آگے بڑھنے لگتی ہے۔ لیکن پاکستان جیسے ممالک میں، جہاں نظامی بدعنوانی اور موروثی خاندانوں اور امراء کی حکمرانی کا غلبہ ہے، سرمایہ داری اکثر تاریک موڑ لیتی ہے۔ نتیجہ ”خراب معاشیات“ ہے، جہاں معاشی پالیسیاں اشرافیہ کے مفادات کی تکمیل کرتی ہیں، ادارتی زوال ترقی کو روکتا ہے جس کی وجہ عوام بدانتظامی کا خمیازہ بھگتنے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔ عوام کا جاری یہ مایوسی کا سفر اس تلخ حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔
سن 2000 کی دہائی کے اوائل کے دوران، جنرل پرویز مشرف کی قیادت میں، پاکستان نے اقتصادی ترقی کے دور کا تجربہ کیا جو ایک روشن مستقبل کی نوید دیتا تھا۔ بقول ورلڈ بینک جی ڈی پی کی شرح نمو 6 فیصد سے زیادہ رہی، براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری آئی، اور ملک کے بنیادی ڈھانچے میں نمایاں اپ گریڈ ہوا۔ گوادر پورٹ کی ترقی اور ٹیلی کام اور بینکنگ کے شعبوں میں نجکاری جیسے منصوبوں نے بین الاقوامی توجہ حاصل ہوئی۔ ایشین ڈیویلپمنٹ بینک کے مطابق جنرل مشرف کے دور میں بھی غربت میں کمی دیکھی گئی، غربت کی سطح 2000 میں 34 فیصد سے کم ہو کر 2005 تک 24 فیصد رہ گئی۔ تاہم، اس ترقی نے گہرے ساختی مسائل کو چھپا دیا۔ زیادہ تر پیشرفت قرض پر مبنی تھی، اور مینوفیکچرنگ اور برآمدات جیسے شعبے پائیدار مسابقت حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ لیکن عوام جتنی ان کے دور میں خوشحال تھی اتنی اب نہیں۔
مشرف کے اصلاحات کے وعدے کے بعد سیاسی عدم استحکام اور خاندانی سیاسی خاندانوں کی واپسی ہوئی۔ بھٹو اور شریف۔ جن کی طرز حکمرانی کو اکثر خود غرض اور کم نظری کے طور پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اگلی دہائی کے دوران، اقتصادی پالیسیوں میں کڑوی پن اور طویل مدتی وژن کی کمی تھی۔ فچ ریٹنگز بتاتی ہے کہ نواز شریف کے دور میں، موٹر ویز اور میٹرو سسٹم جیسے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو ترجیح دی گئی، جن کی فنڈنگ اکثر بیرونی قرضوں کے ذریعے کی جاتی تھی۔
اگرچہ ان منصوبوں کی علامتی اہمیت تھی، لیکن انہوں نے تعلیم، صحت کی دیکھ بھال، یا صنعتی ترقی جیسے بنیادی مسائل تو جّہ نا دی۔ درآمدات پر ملک کا انحصار بڑھتا گیا اور برآمدات جمود کا شکار ہو گئیں۔ آئی ایم ایف کی پاکستانی قرضہ جات کی تفصیل کے تحت 2018 تک، جہاں پاکستان کا قرض سے جی ڈی پی کا تناسب 70 فیصد سے زیادہ ہو گیا تھا، اور معاشی کمزوریوں نے مشکلات شدید بڑھا دیں۔
جب عمران خان نے 2018 میں اقتدار سنبھالا تو انہیں وراثت میں ایک معیشت تباہی کے دہانے پر ملی۔ خان کی انتظامیہ نے غربت سے نمٹنے کے لیے احساس پروگرام اور برآمدات کی حوصلہ افزائی کے لیے اصلاحات کیں، خاص طور پر ٹیکسٹائل اور آئی ٹی سیکٹر کو مثبت پالیسی سے فروغ ملا۔ ان کی حکومت کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو بھی مستحکم کرنے میں کامیاب رہی، جو نواز شریف کے دور میں 20 بلین ڈالر تک پہنچ گیا تھا، اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق پی ٹی آئی حکومت سال 2021 میں یہ خسارا 1 بلین ڈالر تک لے آئی۔
پھر بھی یہ کامیابیاں عالمی چیلنجوں کے زیرِ سایہ ہی تھیں، جن میں کورونا کی وبا اور تیل کی بڑھتی ہوئی بین الاقوامی قیمتیں شامل تھیں۔ لیکن عمران خان کے تبدیلی کے دعوے اور اصلاحی ڈھانچے کے وعدوں سے جڑے مفادات کی راہ میں سیاسی استحکام کی کمی بڑی رکاوٹ تھی، جس کا نتیجہ اپریل 2022 میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (PDM) کے ذریعے شروع کیے گئے پارلیمانی ووٹ کے ذریعے اقتدار سے ہٹایا گیا، جو کہ شریفوں اور بھٹووں کے زیر تسلّط اتحاد ہے۔
PDM حکومت کے تحت خاندانی خاندانوں کی اقتدار میں واپسی نے ایک زبردست معاشی زوال کی نشاندہی کی۔ بقول بلومبرگ پاکستانی روپے کی قدر ایک سال کے اندر امریکی ڈالر کے مقابلے میں 150 سے 330 تک گر گئی۔ پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کی رپورٹ کے مطابق مہنگائی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی، 2023 میں صارفین کی قیمتوں میں افراط زر کی شرح 40 فیصد سے تجاوز کر گئی۔ گندم، چینی اور ایندھن جیسی ضروری اشیا ء بہت سے لوگوں کی استطاعت سے باہر ہو گئیں، ڈان اخبار کے 40 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے ہے۔ صنعتوں کا تیزی سے بند ہونا، توانائی کی قلت اور متضاد غیر حقیقی پالیسیوں نے فیکٹریوں کو بند کرنے پر مجبور کیا۔ فیصل آباد جیسے بڑے شہروں میں، جو کبھی ٹیکسٹائل کے فروغ کا مرکز تھا، نے ہزاروں مزدوروں کو نوکریوں سے فارغ کر دیا گیا۔ جس کی وجہ سے بیروزگاری میں اضافہ تیزی سے ہو رہا ہے۔
معاشی بحران نے بھی ایک خطرناک برین ڈرین کو جنم دیا ہے۔ انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کی حالیہ اعشاریات کے مطابق ڈاکٹر، انجینئر، اور آئی ٹی ماہرین سمیت ہزاروں ہنر مند پیشہ ور افراد کی ہجرت معاشی مسائل میں اضافے کا سبب ہے کیونکہ بیرون ملک بہتر مواقع کے لیے لوک پاکستان چھوڑ دیا ہے۔ اندازوں کے مطابق، پاکستان نے صرف 2023 بمطابق ڈان اخبار 750,000 پیشہ ور افراد کو ہجرت کر گئے۔ اس خروج نے معاشی بحالی کے لیے اہم شعبوں کو مزید کمزور کر دیا ہے۔
دریں اثناء، 2024 کے وسط میں جب بیرونی قرضے 125 بلین ڈالر سے تجاوز کرنے کے ساتھ اب پاکستان فیٹف کی گرے لسٹ کا حصّہ بھی جو بیرونی سرمایہ کاری کو مزید کم کردے گا۔ حکومت نے بالواسطہ ٹیکس لگانے اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے بیل آؤٹ پیکج حاصل کرنے کا سہارا لیا ہے، جس سے عوام پہلے ہی غربت اور بے روزگاری سے دوچار ہے جس سے ابھرنے کی امید کم ہے۔
پاکستان کی سیاسی معیشت آج برے سرمایہ داری کے خطرات کی علامت ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کا دعوی ہے کہ عدلیہ، مرکزی بینک، اور ریگولیٹری اتھارٹیز جیسے ادارے سیاسی مداخلت کی وجہ سے کمزور ہو چکے ہیں۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق بدعنوانی کے اسکینڈل، جیسے کہ آئی پی پیز کے سودے اور شوگر کارٹلز، باقاعدہ واقعات بن چکے ہیں۔ عوامی وسائل اکثر قومی کی بجائے سیاسی مفادات کی بنیاد پر مختص کیے جاتے ہیں۔ اہم شعبوں جیسے کہ تعلیم اور صحت و ضروریات کی دیکھ بھال جیسے مسائل قلیل سرمایہ کاری تشویش کا باعث ہے جس عوام کو سہولیات کی فراہمی ناممکن ہوتی جا رہی ہے۔ اس نظام کی خرابی نے پاکستان کو غیر ملکی امداد اور قرضوں انحصار مزید بڑھا دیا ہے اور اپنی خودمختاری اور طویل مدتی ترقی کے امکانات سے سمجھوتہ کر لیا ہے۔
پاکستان کی معاشی زوال سے سبق آموز ہیں۔ ساختی اصلاحات چاہے کتنی ہی ضروری ہوں، سیاسی مرضی اور ادارہ جاتی سالمیت کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتیں۔ پالیسیوں میں انسانی سرمائے کی ترقی، صنعتی مسابقت اور دولت کی منصفانہ تقسیم کو ترجیح دینی چاہیے۔ تعلیم، صحت کی دیکھ بھال اور ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کو قرضوں سے چلنے والے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی جگہ لے لینی چاہیے جو حکمران اشرافیہ کے لیے باطل منصوبوں سے زیادہ کام کرتے ہیں۔ ان بنیادی مسائل کو حل کرنے سے ہی پاکستان معاشی بدانتظامی اور سماجی مایوسی کے شیطانی چکر سے نکلنے کی امید کر سکتا ہے۔
اپنی موجودہ حالت میں، پاکستان ان ممالک کے لیے ایک احتیاطی کہانی کے طور پر کھڑا ہے جہاں عوام کی بھلائی کی قیمت پر حکمرانی پر اشرافیہ کے مفادات کا غلبہ ہے۔ خراب سرمایہ داری کے نتائج واضح ہیں : ایک تباہ حال معیشت، وسیع پیمانے پر غربت، اور ملک کے مستقبل کے بارے میں امید کھونے والی نسل جن کا فوری اور جراءت مندانہ اصلاحات کے بغیر آگے کا راستہ تاریک نظر آتا ہے۔ ایچ ڈی آئی انڈیکس کے مطابق پاکستان کی 192 ممالک 161 ویں نمبر پر جو ایک نیوکلیئر ریاست کی مضحکہ خیز شکل ہے۔
References:
1.World Bank – Pakistan Overview
2.Asian Development Bank – Poverty ڈیٹا
3.Fitch ریٹنگ – Pakistan Infrastructure Report
4. آئی ایم ایف – Pakistan Economic ڈیٹا
5.Ehsaas Program Official Website
6.State Bank of Pakistan Reports
7.Bloomberg – Pakistani Rupee
8.Pakistan Bureau of Statistics – Inflation ڈیٹا
9.International Organization for Migration – Pakistan Migration
10.Dawn News Articles
11. ایف اے ٹی ایف Reports on Pakistan
12.Amnesty International – Governance in Pakistan
13.Transparency International – Pakistan Corruption Index


