بنکاک: فرشتوں کی بستی (1)
4 1 اکتوبر 2013 کو جب فلائٹ نمبر 350 ٹی۔ جے تھائی ائر ویز سے ہمارا سفر شروع ہوا تو میں تھائی لینڈ کے متعلق چند ایک سنی سنائی باتوں کے علاوہ کچھ نہ جانتا تھا جبکہ بنکاک کے بارے میں وہی کچھ ذہن نشین بلکہ ”دل نشین“ تھا جو شاید آپ مجھ سے زیادہ جانتے ہیں۔ تاہم جب 19 اکتوبر 2013 یعنی صرف پانچ دن کے بعد ہماری واپسی ہوئی تو میں سرزمینِ سیام ( تھائی لینڈ کا پرانا نام) بشمول بنکاک: ”فرشتوں کی بستی“ کے متعلق اچھی خاصی ماہرانہ گفتگو کرنے کے قابل ہو چکا تھا جس میں اس ملک کے جغرافیے سے لے کر تاریخ، ثقافت، معاشرت، معیشت اور دیگر ملکوں کے ساتھ اس کے تعلقات، ”فرشتوں کی بستی“ کے شب و روز کی تفصیلات، تھائی لینڈ کے کھانے، الغرض بے شمار پہلوؤں پر روشنی ڈال سکتا تھا۔
” فرشتوں کی بستی“ ؟
اس سفر نامچے کے عنوان کی وضاحت ضروری ہے ورنہ یہ گمراہ اپنے چاہنے اور نہ چاہنے والوں کی نظر میں ”گمراہوں کا سرغنہ“ قرار پائے گا۔ قصہ یوں ہے کہ بنکاک کا اصلی اور پرانا نام پالی اور سنسکرت زبان کے تقریباً 9 الفاظ پر مشتمل ہے جو کہ اپنی طوالت میں خود ایک عالمی ریکارڈ ہے۔ یہاں وہ نام لکھ کر آپ کو بور نہیں کرنا چاہتا تاہم یہ بتانا دلچسپی سے خالی نہ ہو گا کہ اب تھائی باشندے ان 9 الفاظ کو مختصر کر کے : Krung Thep بولتے، لکھتے ہیں۔
ان الفاظ کے مشہور ترین معنی میں ”فرشتوں کی بستی“ سرِ فہرست ہے۔ یوں یہ میرا دیا ہوا نام نہیں بلکہ خود اہلِیانِ تھائی لینڈ کو یہ زعم ہے کہ اُن کے ملک کے دار الحکومت میں فرشتے بستے ہیں یا بستے تھے! مجھے تو یوں لگتا ہے کہ جیسے یہ نام کسی من چلے یا شاید دل جلے نے بوجوہ رکھا ہو۔ اگر میں کوئی تحریفی شرارت کرتا تو اس کا نام ”پریوں کی بستی“ رکھتا۔
سفر نامچے عنوان کے بارے میں یہ وضاحت ضروری ہے کہ اگرچہ ہمارا سفر بنام تھائی لینڈ تھا تاہم ہمارا زیادہ وقت ” فرشتوں کی بستی“ کے نئے پرانے راستوں، تنگ کشادہ گلیوں، قدیم جدید عمارتوں، ثقافتی بھول بھلیوں اور تاریخی مقامات کے بیچوں بیچ گزرا بلکہ اگر یوں کہیں کہ ان چند دنوں میں یہ ”بستی“ ہم پر گزر گئی تو درست ہی ہو گا۔ چنانچہ وہاں ہمارے گزارے اور ہم پر گزرے لمحات کے عناصرِ ترکیبی کو گوندھا جائے تو اس سے بہتر عنوان سوجھتا ہی نہیں!
تھائی لینڈ کے اس سفر کا شانِ نزول، اسلام آباد میں تھائی ایمبیسی کی طرف سے ایک ثقافتی اور مطالعاتی دورہ تھا جس میں میرے علاوہ معروف صحافی منیر احمد اور ایک ماہرِ ماحولیات اظہر قریشی بھی شامل تھے۔ سفر سے قبل اگرچہ میں نے کوشش کی کہ تھائی لینڈ کے متعلق اپنی معلومات بہتر کر سکوں مگر اپنی مصروفیات کی وجہ سے میں ایسا نہ کر سکا۔ سچ پوچھیں تو اچھا ہی ہوا کہ اس لاعلمی نے پورے سفر کے دوران جستجو اور تحیر کو سوتے ہوئے بھی اُونگھنے نہیں دیا۔
سر منڈاتے ہی اولے پڑے :
تھائی ائر کا ہمارا جہاز، جو کہ پاکستانی وقت کے مطابق 14 اکتوبر کی رات گیارہ بج کر بیس منٹ پہ روانہ ہوا تھا، تھائی لینڈ کے وقت کے مطابق صبح کے چھ بج کر پینتیس منٹ پر سوَرنا بھومی ائرپورٹ بنکاک میں جا پہنچا۔ کہنے کو یہ ائرپورٹ بنکاک کا ائرپورٹ کہلاتا ہے مگر درحقیقت یہ تھائی لینڈ کے ایک اور ملحقہ صوبے سَمتَرا کان میں واقع ہے۔ امیگریشن اور سامان لیتے لیتے جب ہم لوگ ائر پورٹ سے نکلے تو ُاس وقت تقریباً صبح کے ساڑھے سات بج چکے تھے۔ ( تھائی لینڈ پاکستان سے دو گھنٹے آگے ہے ) ۔
اظہر قریشی اور منیر احمد سے میری پہلی ملاقات جہاز کے اندر ہی ہوئی، تعارف ہوا اور ایک دوسرے کی مصروفیات کا علم ہوا تو میرا پہلا اور آخری تاثر یہ تھا کہ دونوں کی شخصیات میں زمینی اور خلائی مگر بڑے دلچسپ فاصلے ہیں۔ اگرچہ دونوں ایک دوسرے کو گزشتہ 14 برس سے جانتے تھے مگر دونوں ساوتھ پول اور نارتھ پول کے فاصلے پر تھے۔ منیر احمد ایک کُھلا ڈلا، یار بیلی، حدوں کو لامحدود سمجھنے والا، ہر گزرتے لمحے میں جینے والا، مکمل بیرون بین دکھائی دیا۔ جبکہ اظہر قریشی سنجیدہ ترین، خاموش، پراسرار، اپنے پتے چھپا کر رکھنے والا، دور رس مقاصد کے تحت سوچنے والا مکمل درون بین لگا، حیرت بھی ہوئی کہ ان کے درمیان یہ طویل یارانہ! میرے خیال میں اس میں منیر احمد کا کمال زیادہ تھا۔
صبح ساڑھے سات بجے جب ہم ائرپورٹ سے با ہر نکلے تو ہمارا میزبان پنوٹاٹ) Panutat) اپنے چھوٹے چھوٹے بازوؤں کو کھینچ کھینچ کر اُچھلتے ہوئے زور زور سے ہاتھ ہلاتا دکھائی دیا۔ اگر وہ ایسا نہ کرتا تو شاید ہم اُسے دیکھ ہی نہ پاتے کہ ہماری نظریں بذریعہ منیر احمد کچھ اور مسحور کن نظاروں میں ڈوبنے ہی والی تھیں۔ روانہ ہونے سے قبل پنوٹات سے میری اسلام آباد میں دو تین بار ملاقات ہو چکی تھی۔ پنوٹاٹ، جس کا نام منیر احمد نے ”پُنوں“ رکھا ہوا تھا، بڑی دلچسپ شخصیت کا مالک تھا۔
چھوٹے قد، سفید رنگت، تھائی نقش و نگار کا حامل ہمارا یہ پیارا میزبان دیکھنے میں بڑا معصوم اور دلنواز تھا، ۔ اس کے ساتھ وقت گزرا تو اس کی چابک دستی، ذہانت، تیزی اور تیز رفتاری نے ہمیں سانس نہیں لینے دیا۔ گاڑی میں سامان رکھ کر سکھ کا سانس لیتے ہوئے اس خیال میں دراز ہو گئے کہ ائر پورٹ سے باہر نکلیں گے، سب سے پہلے ہوٹل جائیں گے، آرام کریں گے کیونکہ رات بھر میں سو نہ سکا تھا کہ دو رانِ سفر مجھے بالکل نیند نہیں آتی۔
مگر سر منڈواتے ہی اولے پڑے کیونکہ جونہی ہم شہر کے اندر داخل ہوئے تو پنوٹاٹ عرف پُنوں نے سانس لئے بغیر مسلسل براہ راست کمنٹری شروع کردی۔ اس نے بہت کچھ بتایا مگر بہت کم یاد رہا۔ ہاں تھائی لینڈ کی (اس وقت کی) سب سے اونچی عمارت بویوگ ٹاور ( Baiyoke) کا دیکھنا یاد رہا۔ دل میں کہیں خواہ مخواہ یہ اُمید تھی کہ شاید یہ کمنٹری صرف راستے تک چلے گی اور ہوٹل پہنچ کر ختم ہو جائے گی۔ مگر اچانک ایک قدیم عمارت کے سامنے پہنچے تو ہمارے پُنوں نے بلند آواز میں اعلان کیا کہ ہوٹل جا کر آرام کرنے کی بجائے پہلے ہم بنکاک کے چند مقامات کی سیر کریں گے!
اس پر ہم تینوں نے ایک دوسرے کی بے بسی کا آنکھوں ہی آنکھوں لطف اٹھایا اور مل کر اپنی زبان میں ایسے آہ بھری کہ اس نے یہ سمجھا کہ شاید ہم بھی یہی چاہتے تھے! اس خوش فہمی میں اس نے کمنٹری جاری رکھی اور ہم نے اس کی ہدایات پر عمل شروع کر دیا؛ ادھر آئیں، جلدی چلیں، وقت کم ہے، یہ وہ ہے۔ یہ یہ ہے۔ وہ یہاں تھا۔ ( دل بولتا میں کہاں ہوں ) ۔ رت جگے اور سفر کی تھکاوٹ کی وجہ سے مجھے کبھی کبھار یہ بھی سنائی دیا کہ کوئی مدھر بھری آواز میں کہہ رہا ہو کہ میں یہاں ہوں۔ تم کہاں ہو؟ اور میں بڑ بڑا کر کہہ رہا ہوں کہ:
ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی
کچھ ہماری خبر نہیں آتی
واٹ ترامٹ مندر:
سب سے پہلے ہم جس عمارت میں داخل ہوئے اس کی بیرونی دیواریں زیادہ بلند نہ تھیں، رنگ سفید اور قدیم طرز کی لگتی تھیں، تاہم اندر سے چند ایک چمکدار اونچی اونچی مینار نما چیزیں نظر آ رہی تھیں۔ اندر داخل ہوئے تو علم ہوا کہ یہ واٹ ترامٹ مندرWat traimot temple) ) ہے جہاں ( بقول ہمارے میزبان کے ) ُبدھا کا سونے سے بنا ہوا دنیا کا سب سے بڑا مجسمہ ہے۔ عمارت کا اندرونی ماحول بدھ مت کی عبادت گاہ کے آثار سے بھرا ہوا تھا۔
بدھا کے بڑے بڑے مجسمے صحن میں ہی نصب تھے۔ چونکہ یہ مندر بادشاہ کی رہائش کے اندر اور ِاس کے استعمال کے لئے تھا، اس لئے ہمیں محل کے مختلف حصے بھی دکھائے گئے جن میں سے کچھ برائے مرمت بند تھے تاہم جو کچھ دیکھا وہ بہت خوبصورت لگا۔ اس کی خوبصورتی کا اصل راز تو یہ لگا کہ تھائی لینڈ کے لوگ، حکومت اور بادشاہ، اِن مقامات کی حفاظت، مرمت اور تزئین و آرائش کے لئے خوب توجہ دیتے ہیں، یعنی ”سیاحت“ کا فروغ بنیادی مقصد ہے۔
چلتے چلتے جب اُس عمارت میں داخل ہونے لگے جس میں بدھا کا سونے سے بنا ہوا بڑا مجسمہ نصب ہے تو معلوم ہوا کہ اندر جانے سے پہلے جوتے اُتارنے پڑیں گے، جوتے اتارے تو نہایت ادب سے، احتراماً نگا ہیں نیچی رکھتے ہوئے، انداز میں ہم اندر داخل ہوئے۔ کچھ لوگوں کو دیکھا کہ وہ نہایت ادب سے، سر جھکا کر دونوں ہاتھوں کو اپنے کندھوں کے برابر رکھ کر معافی مانگنے کے انداز میں اندر داخل ہو رہے ہیں۔ اندر پہنچ کر سَحر انگیز ماحول کا سامنا ہوا۔
بدھا کا سونے کا مجسمہ اُونچی جگہ پر نصب تھا اور اس کے علاوہ دیگر جگہوں پر بھی مجسمے تھے۔ روشنی، صفائی اور احتشام نے ایک پروقار مقدس ماحول بنایا ہوا تھا۔ بہت سے لوگ نہایت احترام کے ساتھ سر جھکا کر بیٹھے ہوئے دعائیں مانگ رہے تھے جبکہ کچھ لوگ کتابیں کھولے پڑھ رہے تھے۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ بدھا کے اقوال پر مشتمل بدھ مت کی مذہبی کتاب ہے جس کی تلاوت کی جا رہی ہے۔ اس مندر اور ملحقہ شاہی عمارتوں میں گھومتے ہوئے ہماری رفتار بہت تیز تھی کہ ہمارا میزبان ہمیں یہ بتا رہا تھا کہ وقت کم ہے (یعنی پانچ دن) اور ہم نے بہت سی جگہیں دیکھنی ہیں۔
بہر حال جب اس عمارت کے مرکزی دروازے سے باہر نکلے تو اُس کی دیوار کے ساتھ ساتھ پیدل چلنا شروع کر دیا، چلتے چلتے ایک جگہ پر بڑی بالکونی نظر آئی۔ پنوٹاٹ نے بتاٰیا کہ یہ بالکونی اس لحاظ سے خاص ہے کہ جب بھی شاہی خاندان میں شادی ہوتی ہے تو نیا جوڑا یہاں آ کر رعایا کو اپنا دیدار کرواتا ہے اور ہاتھ ہلا ہلا کر اُن کا شکریہ ادا کرتا ہے حسبِ توقع منیر احمد کی رگِ شرارت شباب کی رنگینی لئے پھڑک اُٹھی اور اُس نے ہاتھ ہلا ہلا کر تصاویر بنوائیں۔
فرشتوں کی بستی کے بادشاہ:
اس سر منڈواتے اُولے پڑنے والی سیر کے دوران جو گفتگو پنوٹاٹ کے ساتھ ہوئی، اُس سے معلوم ہوا کہ تھائی لوگ اپنے بادشاہ کا بہت احترام کرتے ہیں، اُسے اتحاد کی علامت اور کامیابی کا ذریعہ گردانتے ہیں۔ وزیراعظم تک اُسکے احترام میں کمی نہیں کرتا۔ جب کبھی بادشاہ کوئی کام کرنے کا حکم دے دے تو منتخب حکومت کو چار و ناچار وہ کام کرنا پڑتا ہے نافرمانی کی صورت میں عوام کا دُباؤ برداشت کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ آخرکار ووٹ تو اُن ہی سے لینے ہوتے ہیں۔
پنوں کو ہم پر ترس آہی گیا:
اِس پیدل سیر کے دوران ہم نے ایک اور بہت بڑا مندر دیکھا مگر وقت کی کمی کی وجہ سے (جس کی گونج ہر آدھے گھنٹے بعد ہمارے کانوں میں ضرور پڑتی تھی) اندر نہیں جا سکے۔ باہر سے اس کا طرزِ تعمیر بھی ویسا ہی تھا، کافی وسیع لگ رہا تھا۔
تقریباً ساڑھے گیارہ بجے پنو ٹاٹ کو ہماری حالت پر رحم آ گیا اور اُس نے اعلان کیا کہ ہم ہوٹل جا رہے ہیں، ہم نے بھی سکون کا سانس لیا اور گاڑی میں دراز ہو گئے۔ تھوڑی ہی دیر میں ہم بنکاک کے مرکزی علاقے میں واقع (Centara Grand ) نامی ہوٹل پہنچ گئے۔ چیک اِن کی کارروائی کے بعد اپنے اپنے کمروں کی طرف چل پڑے کہ آدھ گھنٹے بعد پھر واپس آنا تھا کہ تھائی لینڈ میں دوپہر کے کھانے کا وقت دن 12 بجے ہے۔ 12 بجے کا سن کر ذہن میں اپنے سکھ بھائیوں کے 12 بجے والی ساری حرکتیں یاد آنے لگیں، تاہم زیادہ دیر اُس کا مزہ لینے سے محروم رہے کہ ہمارے آگے 12 بجے کا وقت تھا اور پیچھے پیچھے ”پُنوں“ کی صدائیں!
تھائی لوگ بھی عجیب ہیں صبح سات بجے ناشتہ، بارہ بجے دوپہر کا کھانا اور شام چھ بجے رات کا کھانا! ہمارے معیار سے تو یہ ”پینڈوؤں“ کا کام ہے۔
انہی خیالوں میں ہوٹل میں سینتیسویں منزل پر اپنے کمرے کی طرف دوڑ لگا دی۔ کمرے میں موجود سہولیات اور کمرے کی وسعت بھی خوب تھی، اگر وہاں قیام طویل اور وقت وافر ہو تو اِس کے فوائد سے لطف اندوز ہوا جا سکتا تھا مگر ہم تو ہوا کے گھوڑے پر سوار تھے۔ کمرے میں آتے ہی سامان کی ترتیب، غسل، اور لباس کی تبدیلی سر پر سوار تھی۔ اسی جلدی میں میں نے شیو کرتے ہوئے اپنے منہ پر کٹ بھی لگا لیا، اور اُسے ”فرشتوں کی بستی“ کی پہلی پہلی نشانی سمجھ کر دل سے قبول بھی کر لیا۔ بہرحال جلدی جلدی مارا ماری ضرور کی، پر پابندیٔ وقت ہاتھ سے نہ گئی!
فرشتوں کی بستی پہلا کھانا:
ہم تینوں اپنے میزبان پنو ٹاٹ المعروف ”پُنوں“ کے ساتھ بنکاک کے چھ مشہور شاپنگ مالز میں سے ایک کی طرف چل پڑے جس کا نام سیام پیراگن Siam Paragon) ) تھا۔ چونکہ ہم وقت یعنی 12 بجے سے چند منٹ لیٹ تھے، اس لئے فٹا فٹ سیام پیراگن کے ایک آدھ فلور کے بیچوں بیچ گزرے، خاص طور پر اُس فلور پر جہاں ہم جنس پرستوں (lesbians اور gays) کے لئے برانڈڈ لباس فروخت کرنے والے بڑے بڑے سٹورز تھے۔ اِس فلور سے گزرتے ہوئے اِس مخلوق کے متعلق گفتگو شروع ہوئی جو میرے لئے معلومات افزا ہی تھی، تقریباً ساری باتیں نئی تھیں، لباس کے ڈیزائن، کمپنیوں کی مہارت، اس مخلوق کی عادات و اطوار اور اِن کے معاشی پہلو سب پر گفتگو ہوئی۔ یہ بات چیت سیام سینٹر میں واقع گیری ہاونڈ ر Gery Hound ریسٹورنٹ میں دورانِ لنچ بھی جاری رہی۔
تھائی لینڈ کے اِس دورے میں یہ ہمارا پہلا باقاعدہ کھانا تھا، جو ”پُنوں“ کی معیت میں کھایا۔ کھانے میں تنوع کے ساتھ ساتھ کثرت کو بھی مدِنظر رکھا گیا تھا۔ کھا نوں میں سخاوت کا جو مظاہرہ ہم نے دیکھا وہ حیران کن تھا۔ یہ مظاہرہ پورے پانچ دن جاری رہا۔ ہمارے استفسار اور تعریف کے جواب میں پنوٹاٹ نے بتایا کہ اس سلسلے میں اُسے خصوصی ہدایات دی گئی ہیں کہ ہمارا ہر طرح سے، ہر پہلو سے خیال رکھا جائے اور کھلانے پلانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے ؛ فوری طور پر ہمیں اچھا ہی لگا مگر بعد میں اندازہ ہوا کہ کھانے پر اتنا زور کچھ اور خوشنما چیزوں اور چٹ پٹی باتوں سے توجہ ہٹانے کی ایک کامیاب ترکیب تھی۔
گیری ہاونڈ میں کھانے کے بعد اُسی سینٹر میں کافی Coffee اور ”فرشتوں کی بستی“ کے مزیدار کیک کھانے کے لئے ایک اور جگہ چلے گئے اور ضیافت کا خوب لطف اُٹھایا۔ تقریباً تین بجے تک ہم ِان شاپنگ مالز میں گھومتے رہے، پھر ہمیں آرام کرنے کی اجازت دی گئی اور کہا گیا کہ شام چھ بجے سب لوگ تیار ہو کر نیچے آ جائیں کہ پھر ہم نے
” سیام نرامت شو Siam Niramit Show“ کے لئے جانا ہے۔
اک رات وہ گیا تھا جہاں بات روک کے
اب تک رکا ہوا ہوں وہیں، رات روک کے

