رچرڈ گرینل: ایک تیر سے تین شکار
رچرڈ گرینل کے عمران خان کی رہائی کے متعلق بیانات نے بیک وقت ریاست، حکومت اور عمران خان تینوں کے لئے مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ اگر وہ خان صاحب کی واقعی مدد کرنا چاہتے تھے تو اس کے لئے بیک ڈور ڈپلومیسی کا سہارا لینا چاہیے تھا کہ عملیت پسندی کا تقاضا یہی تھا۔ ان کے اس ایک بیان نے تینوں محاذ پر پاکستان کے لئے مشکلات پیدا کر دی ہیں۔
1۔ اب ریاست کے پاس بظاہر اس مداخلت پر ردعمل کے سوا کوئی چارہ نہیں کیونکہ ریاست کمزور ہونے کے باوجود بھی امریکہ یا کسی اور ملک کے سامنے اس قدر کمزور ہونے کا تاثر دینا قطعاً پسند نہیں کرے گی۔ اس سے پاکستان کو عالمی سطح پر معاشی اور مسائل آئیں گے۔
2۔ ریاستی ردعمل سے خان صاحب کی رہائی میں خواہ مخواہ مزید مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں کیونکہ کھلی امریکی مداخلت پر لیٹ جانے کا تاثر ریاستی خودمختاری کے خلاف جائے گی اور شاید ریاست اپنی خودمختاری پر کھلا سوالیہ نشان اپنے لئے پسند نہیں کرے گی۔ پس پردہ بات ہوتی تو شاید اور بات تھی۔
3۔ امریکی مداخلت پر اگر عمران خان کو رہائی مل بھی گئی تو اس طرح کی رہائی ان کی سیاست کے لئے مشکلات پیدا کرے گی۔ ایک طرف اس سے نہ صرف ان کا امریکی مداخلت کے خلاف ہونے کا بیانیہ زمین بوس ہو جائے گا بلکہ اپوزیشن کی طرف سے امریکی اور اسرائیلی ایجنٹ ہونے کا تاثر دیا جائے گا جو پاکستانی ریاست، سیاست اور عوام کے لئے کبھی قابل قبول نہیں ہوتا۔
ان سب عوامل کو سامنے رکھتے ہوئے رچرڈ گرینل کی ڈپلومیسی کی داد بنتی ہے کہ چند ایک بیانات سے اس نے پاکستانی سیاست کی پہلے سے موجود پیچیدگی میں مزید اِضافہ کر دیا ہے۔ درج بالا تمام صورتوں میں نقصان پاکستان کا ہی ہو گا۔ وہ ملک کا ہو، ریاست کا ہو یا عمران خان کا۔ مزید برآں یہ کھلی حمایت اور آشیرباد ملک اور ریاست کے اندر پہلے سے موجود کھچاؤ اور تناؤ کو مزید بڑھاوا دے کر اندرونی خلفشار کے لئے بھی راستہ ہموار کر سکتی ہے۔
بہتر یہی ہوتا کہ اندرونی مسائل کو مل بیٹھ کر جمہوری انداز سے ہی حل کر لیا جاتا مگر شاید بے وقت کی اس مداخلت نے شروع ہونے والے مذاکرات کے اس چانس کو بھی اچھا خاصہ ڈینٹ ڈال دیا ہے۔ اب فریقین میں سے ہارنے کی آپشن کسی کے پاس بھی نہیں رہی۔ ہو سکتا ہے یہی امریکی خواہش بھی ہو۔


