سابق فاٹا میں عورتوں کی تعلیم اور رکاوٹیں
تعلیم معاشرتی تبدیلی کے بنیادی محرکات میں سے ایک ہے۔ آزاد ذرائع کے مطابق، نیم قبائلی علاقوں (بنوں، ڈی آئی خان، پشاور، اور کوہاٹ) اور قبائلی علاقوں (شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان) میں صرف 3 فیصد خواتین خواندہ ہیں۔ پاکستان اور افغانستان سابقہ فاٹا کے علاقے سے جدا ہیں، جو اب افغانستان کی سرحد پر پشاور کے ساتھ مشترکہ قبائلی اضلاع میں شامل ہیں۔
فاٹا میں لڑکیوں کو روزانہ کی بنیاد پر سکول جانے میں مختلف رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں لڑکیوں کی تعلیم کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔ اس پس منظر میں، ہمارا مقصد ان تمام رکاوٹوں کا جائزہ لینا ہے جو خواتین کو فاٹا (سابق قبائلی علاقے ) میں تعلیم حاصل کرنے سے روکتی ہیں۔
ہم نے اپنے مطالعے میں سوالنامے استعمال کیے ہیں۔ سوالنامے دو حصوں پر مشتمل ہیں : پہلا حصہ لڑکیوں کی موجودہ شناخت کی حیثیت سے متعلق ہے، اور دوسرا حصہ ان رکاوٹوں پر روشنی ڈالتا ہے جو لڑکیوں کی تعلیم سے وابستہ ہیں۔ یہ تجزیے کے لیے 700 بچوں کا نمونہ منتخب کیا گیا۔ درخواستیں بھرنے کے بعد لڑکیوں کا ڈیٹا جمع کیا گیا۔ نتائج کے تجزیے کے لیے ہم نے SPSS تجزیہ کا استعمال کیا۔ ہماری تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ چار بنیادی رکاوٹیں ہیں جو فاٹا میں لڑکیوں کو کالج جانے سے روکتی ہیں : غربت کی شرح 30.2 %، عدم تحفظ 17.5 %، معاشرتی اصول 20.8 %، اور ٹارگٹ اسکول حملے اور مسلح تصادم 33.5 % تحقیق کی بنیاد پر، ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ مسلح تصادم اور ٹارگٹ اسکول حملے سابقہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) میں لڑکیوں کی تعلیم میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔ تاہم، دیگر چیلنجز بھی موجود ہیں، جیسے سماجی اصول، غربت، اور اسکولوں پر حملوں کے ساتھ ساتھ دستی بم اور بچوں کو کھلونے جیسے بم بھی شامل ہیں
ایک طرف سب سے بڑی رکاوٹ سماجی مسئلے کی صورت میں سامنے آتی ہے، تو دوسری طرف جب ایک لڑکی سماجی رکاوٹ کو عبور کرتی ہے، تو بم دھماکے کا خوف اس کے حوصلے کو توڑ دیتا ہے۔ اسے یہ خدشہ لاحق ہوتا ہے کہ کہیں اس کے خلاف کوئی منصوبہ نہ بنا لیا گیا ہو۔ فاٹا میں ایسے والدین کو بھی شدید حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے جو اپنی بیٹیوں کو تعلیم دینے کا فیصلہ کرتے ہیں۔
ایک طرف ہم بیٹیوں کو وراثت میں حصہ نہیں دیتے، اور دوسری طرف تعلیم جیسے بنیادی حق سے بھی محروم رکھتے ہیں۔ جیسا کہ میں نے اپنے ایک مضمون ”رواج کی اذیت سے ثقافت کی اذیت تک“ میں ذکر کیا تھا کہ ہم ہر قسم کی روایات صرف عورتوں پر ہی لاگو کرتے ہیں، لیکن جب ان کے حقوق کی بات آتی ہے تو بشمول مجھ، علما کرام، سب خاموش ہو جاتے ہیں۔
لڑکیوں کی تعلیم میں رکاوٹیں اکثر مذہبی انتہا پسندی کی وجہ سے پیدا کی جاتی ہیں۔ وہی لوگ جو لمبی لمبی مذہبی باتیں کرتے ہیں، جب وراثت کی بات آتی ہے تو مذہب کو ایک طرف رکھ دیتے ہیں۔ یہاں ریاست کی غلط پالیسیوں کو مضبوط بنانے میں ہم نے بھی کمی نہیں چھوڑی، کیونکہ انہیں علم ہے کہ اگر ایک لڑکی تعلیم حاصل کر لے تو آنے والے وقت میں وہ ایک باشعور نسل کو جنم دے سکتی ہے۔
اس مقصد کے خلاف ہر ممکن قدم اٹھایا جاتا ہے۔ اگر میں یہاں مثال کے طور پر ایک مظلوم لڑکی کی کہانی بیان کروں تو آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں۔
ایک چھوٹی سی پھول جیسی لڑکی، رائیلہ، جس کے والد عبد الرحمن کا تعلق وزیرستان سے ہے، اپنی کہانی ایک ویڈیو میں بیان کرتی ہے۔ وہ کہتی ہے کہ میں ایف سی ایس سکول میں پڑھتی تھی۔ ایک دن سکول کی چھٹی تھی، اور ہم کھیلنے گئے تھے۔ میں نے ایک چیز دیکھی، جو مجھے کھلونا لگا، اور اسے ہاتھ لگایا۔ اس کے بعد مجھے کچھ یاد نہیں۔ جب ہوش آیا تو میں ہسپتال میں تھی، اور میرے دونوں ہاتھ کٹ چکے تھے۔
رائیلہ کہتی ہے کہ میری زندگی برباد ہو گئی۔ میری خواہش تھی کہ میں ڈاکٹر بنوں اور انسانیت کی خدمت کروں، لیکن یہ حادثہ 28 اگست 2020 کو پیش آیا۔ یہ واقعہ جنوبی وزیرستان، وانا میں لینڈ مائنز کی وجہ سے پیش آیا۔ اب وہ اپنی تعلیم جاری رکھنے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے، حالانکہ اس کے دونوں ہاتھ نہیں ہیں۔
ریاست کے جبر کے باعث ہماری بہنوں کو تعلیم سے دور رکھا جا رہا ہے۔ شمالی وزیرستان میں کئی لڑکیوں کے سکول بم دھماکوں سے اڑا دیے گئے ہیں۔ مسئلہ یہ نہیں کہ ان سکولوں کو دوبارہ بنایا جائے، بلکہ اصل مسئلہ خوف و دہشت کی فضا کا ہے، جو ان علاقوں میں پیدا کی گئی ہے۔
یہاں انسانی حقوق کے عالمی ادارے بھی برائے نام کام کر رہے ہیں، اور اس صورتحال میں عملی اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔


