زندگی میں آگے بڑھنے کے لئے ترقی کے زینے


زندگی میں مسلسل آگے بڑھنے والوں اور ایک جگہ پر پھنسے رہنے اور ترقی نہ کر سکنے والوں میں ایک واضح فرق ہے۔ کامیاب اور ناکام لوگوں کی نفسیات بتاتی ہے کہ یہ فرق اکثر روزمرہ کی عادتوں پر منحصر ہوتا ہے۔ کچھ معمول کی چیزیں ہمیں ایک ہی جگہ پر جکڑے رکھ سکتی ہیں اور ان کے بر عکس کچھ معمولی اور معمول کی عادات ہمیں بہت اوپر اور بہت آگے لے جا سکتی ہیں۔

ایک آگے بڑھتے ہوئے ترقی کرتے ہوئے فرد اور منجمد شخص میں یہ فرق خواہشات کی بلند پروازی کی کمی کے بارے میں نہیں ہوتا بلکہ یہ چھوٹی چھوٹی چیزیں ہیں جو ہم ہر روز کرتے ہیں یا نہیں کرتے۔ کچھ ایسے معمولات اور باتیں ہیں جنہیں اپنا کر اور کچھ کو چھوڑ کر آپ زندگی میں بہت ترقی کر سکتے ہیں۔

سہل پسندی ترک کرنا

نفسیات بھی اس کی تائید کرتی ہے اور یہ عام فہم امر بھی یہی ہے کہ جو شخص اپنے آرام اور کاہلی کو ترک نہیں کرنا چاہتا وہ آگے کیسے بڑھ سکتا؟ جو لوگ اپنے آرام کی حد یا کمفرٹ زون میں رہتے ہیں وہ شاذ و نادر ہی زندگی میں ترقی کر پاتے ہیں۔ آرام کی حد جیسا کہ نام سے بھی ظاہر ہے بہت آرام دہ ہوتی ہیں۔ ہر فرد اپنے اس کمفرٹ زون میں محفوظ ہوتا ہے اس کی حدود سے خوب شناسا ہوتا ہے۔ وہ اپنے ایک مخصوص دائرے میں ساکن و جامد پڑا رہنا چاہتا ہے۔

اس کے بر عکس وہ افراد جو اپنے کمفرٹ زون سے نکلتے ہیں اور باقاعدگی سے اس کی حدود کو پھیلاتے اور وسیع کرتے رہتے ہیں وہ ان لوگوں کے مقابلے میں زیادہ ترقی کرتے ہیں، سیکھتے ہیں اور آگے بڑھتے ہیں جو ایسا نہیں کرتے۔ وہ نئے تجربات کا سامنا کرتے ہیں، اپنی غلطیوں سے سیکھتے ہیں اور نئے حالات کے مطابق ڈھل جاتے ہیں۔ اگر آپ بھی ایک مخصوص ڈگر پر چلنے میں ہی آسانی سمجھ رہے ہیں ایک باقاعدہ معمول سے ادھر ادھر نہیں جانا چاہتے تو جان لیں کہ آپ بھی اس منفی عادت یا معمول کا شکار ہیں جو آپ کی ترقی کا دشمن ہے۔ ایک عام کہاوت ہے کہ ”زندگی آپ کے آرام کی حد، کمفرٹ زون یا سہل پسندی کے اختتام سے شروع ہوتی ہے۔“

عمل اور فیصلے میں تاخیر کی عادت ترک کرنا

فیصلے اور عمل میں تاخیر ایک نشے جیسی عادت ہے جو آپ کو بہت پیچھے لے جاتی ہے۔ یہ عادت سستی اور کاہلی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے کہ آدمی اپنی کمفرٹ زون چھوڑنا نہیں چاہتا اور ہر کام میں تاخیر کرتا جاتا ہے۔ کتنے نئے پروجیکٹ شروع کر لیتا ہے مگر سارے کے سارے کمپیوٹر کی میموری میں ادھورے پڑے رہتے ہیں۔ یہ پروجیکٹ وہ ذرائع ہیں جن سے آپ نے برق رفتاری سے آگے جانا تھا مگر کل کل کرتے آپ کے یہ منصوبے مٹی کا ڈھیر بن جاتے ہیں۔ ہر اگلے دن اگلے دن کا وعدہ اور پھر دلچسپی کی تبدیلی تاخیر کا سب سے بڑا نقصان ثابت ہوتا ہے۔

ہر اس فرد کی یہی عادت ہو گی میں جو اپنی زندگی میں ایک جگہ پر اٹکے ہوئے ہیں۔ وہ کاموں میں تاخیر کرتا رہتا ہے، چیزوں کو ملتوی کرتا رہتا ہے، اور وہ آخر کار اسی جگہ پہ جمے رہ جاتا ہے جہاں سے وہ اپنی زندگی یا کاروبار یا نوکری شروع کرتا ہے۔ اگر زندگی میں بہت آگے اور بہت اوپر جانا ہے تو تاخیر کے اس چکر کو توڑنا ہو گا۔ ترقی کی اہمیت کو سمجھنا کہ ترقی، چاہے وہ کتنی ہی چھوٹی کیوں نہ ہو، اب بھی ترقی ہے۔

منفی چیزوں کی طرف متوجہ نہ ہونا

ایک نفسیاتی تحقیق کے مطابق ہمارا دماغ ہر روز تقریباً 60,000 خیالات کو پروسیس کرتا ہے۔ اس میں حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان خیالات میں 80 % منفی ہوتے ہیں۔ جو لوگ کبھی اپنی زندگیوں میں آگے نہیں بڑھتے وہ منفی خیالات کے اس منفی جال میں پھنسے ہوتے ہیں۔ وہ اس بات پر ہی ہمیشہ اپنی توجہ مرکوز رکھتے ہیں کہ کیا غلط ہے۔ دوسروں میں انہیں اچھائی نظر نہیں آتی بلکہ وہ دوسروں کی برائیاں ہی کھوجتے پھرتے ہیں اور انہیں ہی آگے پہنچاتے رہتے ہیں۔ وہ گلاس کو آدھا خالی دیکھ کر یہ نہیں کہتے کہ آدھا بھرا ہوا ہے بلکہ یہی کہتے اور بتاتے ہیں کہ آدھا خالی ہے۔ ان کی سب سے بڑی غلطی اور پریشانی یہ ہوتی ہے کہ یہ ناکامی کی ہی پیشین گوئیاں کرتے ہیں ہے اور ہمیشہ یہ سوچتے ہیں کہ ہم ناکام ہی ہوں گے۔

ناکامی سے خوفزدہ نہ ہونا

کوئی بھی ناکام ہونا پسند نہیں کرتا لیکن ایک کڑوی گولی ہے جسے نگلنا کامیابی کی ضمانت ہے۔ ناکامی ترقی کا ایک زینہ ہی نہیں بلکہ اس کا ایک لازمی حصہ ہے۔ جس نے ناکام ہونا نہیں سیکھا وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ جو لوگ کبھی زندگی میں آگے نہیں بڑھتے انہیں اکثر ناکامی کا شدید خوف ہوتا ہے۔ وہ غلطیاں کرنے یا مسترد ہونے سے اتنے ڈرے ہوئے ہیں کہ وہ کوئی خطرہ مول لینا ہی پسند نہیں کرتے۔ ہر کامیاب شخص کو کسی نہ کسی شکل میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اگر آپ ناکامی سے ڈرتے ہیں، تو یاد رکھیں کہ یہ دنیا کا خاتمہ نہیں ہے۔ یہ صرف ایک پوشیدہ سبق ہے، جو آپ کو اپنے حتمی مقصد کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ ناکامی کے خوف سے خود کو جمود میں قید نہ کر لیں۔ اس کے بجائے، اسے زندگی میں آگے بڑھنے کے سفر کا ایک حصہ بنائیں۔ ناکامی سے ڈرنے کی بجائے اس سے سبق سیکھیں وہ غلطیاں نہ دہرائیں جن کی وجہ سے آپ ناکام ہوئے۔

خود انضباطی کی مسلسل پابندی

ترقی کے لیے خود انضباطی ایک اہم جزو ہے۔ یہ وہ چیز ہے جو ہمیں اپنے مقاصد پر قائم رہنے، توجہ برقرار رکھنے اور ان وسوسوں کا مقابلہ کرنے میں مدد دیتی ہے جو ہمیں پٹری سے اتار سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے، بہت سے لوگ جو زندگی میں آگے نہیں بڑھ پاتے ان میں اس ضروری صفت کی کمی ہوتی ہے۔ وہ آسانی سے ادھر ادھر سے آنے والی وقتی رکاوٹوں سے ہار جاتے ہیں، اور اپنے منصوبوں پر قائم نہیں رہ پاتے۔ سچ یہ ہے کہ خود انضباط کے بغیر، زندگی کے کسی بھی شعبے میں مسلسل ترقی کرنا بہت مشکل ہے۔

یہ بغیر چپو کے کشتی چلانے کی کوشش کرنے جیسا ہے کہ آپ مسلسل ہوا اور لہروں کی رحم و کرم پر ہیں۔ اگر آپ زندگی میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں، تو خود انضباط کو فروغ دینا آپ کی ترجیحات کی فہرست میں سب سے اوپر ہونا چاہیے۔ یہ شروع میں مشکل لگ سکتا ہے، لیکن یاد رکھیں کہ خود انضباط ایک پٹھے کی طرح ہے جتنا زیادہ آپ اس کی ورزش کرتے ہیں، اتنا ہی مضبوط ہوتا جاتا ہے۔

خواب دیکھنا اور خوابوں کے پیچھے بھاگنا نہ چھوڑنا

ہمارے زندگی میں زندگی کے بارے کچھ خواب ہوتے ہیں جنہیں پورا کرنا ہی ترقی کرنا کہلاتا ہے۔ یہ خواب ہی دراصل وہ مقاصد ہیں جنہیں ہم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن افسوسناک حد تک یہ بات دیکھنے میں آئی ہے کہ بہت سے لوگ جو خود کو زندگی میں اٹکا اور پھنسا ہوا پاتے ہیں وہ اکثر ان خوابوں سے رابطہ کھو دیتے ہیں۔ وہ روزمرہ کی زندگی کی مصروفیات، زندگی کے دباؤ میں الجھ جاتے ہیں، اور کہیں نہ کہیں ان کے خواب پس پشت رہ جاتے ہیں۔

جب یہ ہوتا ہے تو زندگی ایک ورزش کرنے والی مشین کی طرح ہو جاتی ہے جس پر ایک ہی جگہ کھڑے ہو کر آپ چلتے جا رہے ہوتے ہیں اور اس ساکن چال کے دورن ہی بغیر کسی حقیقی ترقی کے دن ہفتوں میں ہفتے مہینوں میں اور مہینے سالوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ اپنے خوابوں کے پیچھے بھاگنا اور ان سے دوبارہ جڑنا وہ شرارہ یا چنگاری ہو سکتی ہے جو راکھ میں دبی ہوتی ہے جو آپ کے جذبے کو بھڑکا سکتی ہے اور آپ کو آگے بڑھنے کے لیے متحرک کر دیتی ہے۔ اسی لئے ہمیں خواب دیکھنے بھی چاہئیں اور ان خوابوں سے جڑے بھی رہنا چاہیے۔

مشکل فیصلے آسانی سے کرنا

مشکل فیصلوں سے بچنے سے وہ مشکلات غائب نہیں ہوتیں بلکہ ایسا کرنا حالات کو بدتر بنا دیتا ہے۔ دباؤ اور اضطراب بڑھتا ہے، مسئلہ گمبھیر ہو جاتا ہے، اور آپ ابھی بھی اسی جگہ پر پھنسے ہوتے ہیں۔ جو لوگ کبھی آگے نہیں بڑھتے وہ اکثر اس جال میں پھنس جاتے ہیں۔ وہ مشکل انتخابوں سے بچتے ہیں، امید کرتے ہیں کہ مشکلیں خود ہی چلی جائیں گے یا خود حل ہو جائیں گے۔ لیکن ترقی کے لیے عمل کی ضرورت ہے۔ یہ ہم سے مطالبہ کرتا ہے کہ ہم ان مشکل فیصلوں کا سامنا کریں اور نتائج کی ذمہ داری لیں۔ یہ تکلیف دہ ہو سکتا ہے، لیکن یہ زندگی میں آگے بڑھنے کا ایک لازمی حصہ ہے۔ ان مشکل فیصلوں سے دور نہ ہوں۔ ان کا بہادری سے سامنا کریں، اور اپنی زندگی کو آگے بڑھتے دیکھیں۔

زیادہ منصوبہ بندی کی بجائے عمل کرنا

منصوبہ بندی ترقی کی کلید ہے مگر ایک حد تک۔ منصوبہ بندی کا ایک دوسرا رخ بھی ہے۔ کچھ لوگ ہر چھوٹی سی تفصیل کی منصوبہ بندی کرنے میں اتنے الجھے ہوئے ہیں کہ وہ اصل میں عمل کرنا بھول جاتے ہیں۔ وہ ہمیشہ ”صحیح لمحے، اور صحیح منصوبے کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔ لیکن یہاں ایک چھوٹا سا راز ہے۔ منصوبہ بندی ضروری ہے۔ لیکن عمل اس سے بھی ضروری ہے۔ اپنے منصوبوں کو تاخیر کی ایک بد تر شکل نہ بننے دیں۔ عمل کرنا محض منصوبہ بندی کرنے سے سو درجے بہتر ہوتا ہے کیونکہ آج کا صرف اچھا منصوبہ کل کے بہترین منصوبے سے بہتر ہے۔

ماضی میں جینا نہیں ماضی سے سبق حاصل کرنا

ہمارا ماضی ایک بہترین استاد ہو سکتا ہے، لیکن اگر ہم اسے اپنے اوپر سوار کریں تو یہ ایک بھاری بوجھ بھی بن سکتا ہے۔ جو لوگ زندگی میں پھنسے ہوئے نظر آتے ہیں انہیں اکثر اپنے ماضی کو چھوڑ دینا مشکل ہوتا ہے۔ وہ پرانی غلطیاں دہراتے ہیں، ماضی کی شکایات کو تھامے رکھتے ہیں، اور اپنے ماضی سے موجودہ وقت کا تعین کرتے۔ ایسے لوگ ایک ہی جگہ اٹک جاتے ہیں کیونکہ اگر آپ مسلسل پیچھے مڑ کر دیکھ رہے ہیں تو آپ آگے نہیں بڑھ سکتے۔

خود کی دیکھ بھال کو کبھی نظر انداز کرنا

یہ حیران کن لگ سکتا ہے، لیکن زندگی میں آگے بڑھنے میں سب سے بڑی رکاوٹوں میں سے ایک خود کی دیکھ بھال کو نظر انداز کرنا ہے۔ جب ہم اپنے مقاصد اور روزمرہ کی زندگی سے نمٹنے میں مصروف ہوتے ہیں، تو اپنے آپ کو آخری درجے پر رکھنا آسان ہوتا ہے۔ ہم کھانا چھوڑ دیتے ہیں، نیند کم کرتے ہیں، اور اپنی ذہنی اور جذباتی صحت کو نظر انداز کرتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ آپ خالی برتن سے کیا انڈیلیں گے؟ خالی کپ سے دوسرا کپ نہیں بھر سکتے۔

اگر آپ اپنا خیال نہیں رکھ رہے ہیں، تو آپ کے پاس زندگی کے چیلنجز سے نمٹنے اور ترقی کرنے کی توانائی نہیں ہوگی۔ اپنے آپ کو ترجیح دیں۔ اپنی جسمانی، ذہنی اور جذباتی صحت کا خیال رکھیں۔ یہ خود غرضی نہیں ہے ؛ یہ ضروری ہے۔ یاد رکھیں، خود کی دیکھ بھال کوئی عیش و عشرت نہیں ہے، یہ زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے ایک ضرورت ہے۔ (ماخوذ)

Facebook Comments HS