بنام مرزا غالب


لاہور
27 دسمبر 2024
مرزا صاحب، آداب

سالگرہ کی مبارک باد، کچھ دن پہلے سموگ اور اب ملک خدا داد شدید دھند کی لپیٹ میں ہے۔ آپ سموگ سے واقف نہیں ہوں گے۔ آپ نے دلی میں گھوڑوں کی ٹاپوں سے اٹھتی دھول اور جلتے ہوئے مکانات دیکھے ہیں۔ سمجھیے ملک خدا داد جل رہا ہے، نفرت کی گرد اڑ رہی ہے دھویں اور گرد نے مل کر فضا کو آلودہ کر دیا ہے۔ آپ کو کتب خانے لٹ جانے کا افسوس ہے، ادھر لٹ جانے سے زیادہ بے توقیری کا صدمہ جاں نہیں چھوڑتا ہے۔ دلی میں بخت خان کی شدید مزاحمت کام نہ آئی۔

ہم نے مزاحمت دیکھ لی، جس نے وفاداری بدلی، لاتعلقی کا اعلان کیا، پاک صاف ہوا، جس نے انکار کیا ہنوز جیل بھگت رہا ہے۔ مقدمہ چلتا ہے نہ رہائی کی امید پیدا ہوتی ہے۔ چند بیبیاں بھی جوش انقلاب میں نعرہ زن دھر لی گئی ہیں۔ مت پوچھیے، اہل خانہ پر کیا گزرتی ہے۔ آپ کو شہر میں مشاعرہ نہ ہونے کا گلہ تھا اور قلعہ میں شہزادگان تیموریہ کی غزل خوانی میں جانے کا موقع ملتا تھا۔ ان دنوں مشاعرے کا اعزازیہ نہیں ہوتا تھا۔ ادھر مشاعرے میں نام شامل کروانے کے لیے شعراء کاسہ لیس بن گئے ہیں۔

آپ نے، یہ صحبت چند روزہ، کی پیشین گوئی کے ذریعے انگریزی قبضے کے بارے میں بتا دیا تھا۔ ہم عرصۂ دراز سے حبس دوام میں ہیں۔ کچھ پتا نہیں چلتا کہ کب خلاصی ملے گی۔ ہندوستان کا قلم رو مر گیا، ہنر مند، علماء، شعرا اور امرا کا غدر میں خاتمہ ہو گیا۔ یہاں تمام لوگ موجود ہیں۔ ہنر مند ٹاؤنز کے نقشے بناتے ہیں۔ شعرا جین، جیکٹ اور جرسی پر شاعری کرتے ہیں۔ علما کو وظائف ملتے ہیں، چھاؤنی میں خطاب کا بھاری معاوضہ دیا جاتا ہے۔

امرا نے سرمائے کے تحفظ کے لیے چپ سادھ لی ہے۔ 1858 میں باغیوں کو امن مل گیا تھا۔ ہمارے سیاسی باغی جانے کب نجات پائیں گے؟ آپ نے غلے اور اپلوں پر محصول نہ ہونے کی خوش خبری سنائی تھی۔ ادھر سانس لینے کے سوا ہر چیز پر محصول ادا کرنا پڑ رہا ہے۔ ابھی تک حکام کا ادھر دھیان نہیں گیا ہے کہ لوگ مفت سانس لیتے ہیں۔ دیکھیے کب اس نعمت پر ٹیکس کی ادائیگی شروع ہو جائے۔ دلی پر پانچ لشکروں نے حملہ کیا تھا۔ یہاں لشکر تو ایک ہی ہے، حملوں کی گنتی کون کرے۔

بار بار حملوں کے بعد ہم نے شمار کرنا چھوڑ دیا ہے۔ آپ کو ولایتی عرق کی قیمت بھاری معلوم ہوتی ہے۔ ادھر صاف پانی نہیں ملتا ہے۔ زمین میں سیکڑوں فٹ پانی نیچے چلا گیا ہے۔ پانی اور توانائی کا حصول مشکل ہو گیا ہے۔ یاد آیا، دلی میں بھی کنویں بند ہو گئے تھے۔ کیا کریں؟ آپ کہتے تھے کہ ”غلہ گراں ہے، موت ارزاں ہے“

لاہوری دروازے کا تھانیدار مونڈھا بچھا کر سڑک پر بیٹھتا تھا۔ ادھر کچھ پتا نہیں چلتا، لباس عام میں خاکی ہے۔ سزائیں پرانی مل رہی ہیں، کچھ طریقہ کار بدل گیا ہے۔

چرخ کج رفتار کو برا کہنے سے کچھ حاصل نہیں ہوا ہے۔ روزانہ چالیس ہزار پاسپورٹ کی درخواستیں جمع ہو رہی ہیں۔ محمکہ کے اہل کار چھٹی کے دن بھی کام کرتے ہیں۔ ملک کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو ہجرت کرتے دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔

آپ کو پنشن کا مسئلہ درپیش تھا۔ ادھر حکومت پنشن ختم کرنے کے درپے ہے۔ کوشش کے باوجود کامیابی نہیں ہوئی۔ مدرسین مزاحمت کرتے ہیں۔ تعلیمی اداروں کی پرائیوٹائزیشن کا بھی سننے میں آ رہا ہے۔ مزید کیا لکھوں؟

ع۔ روز اس شہر میں اک حکم نیا ہوتا ہے
والسلام
ایک شاعر

Facebook Comments HS