خوف، سستی اور بھوک کی تثلیث

ہم نے بڑے بڑے۔ دیکھے ہیں مگر ان سا آج تک نہیں دیکھا ویسے تو ہمارا پیارا ملک نمونوں سے بھرا ہوا ہے اس لیے اس میں اچنبے کی بات نہیں کہ ایک اور سہی۔ وہ ہمارے محکمے کے سربراہ کے طور پر تعینات ہو کر تشریف لائے تھے گورا رنگ، بھاری بھرکم جسم گھنگھریالے بال، آنکھیں چھوٹی چھوٹی، ماتھا چوڑا، ناک مناسب لیے ہوئے ہم کو ہمیشہ وہ بیٹھے ہوئے ہی ملے۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ بھائی صاحب کا تعلق پٹھان قوم سے ہے لیکن ہم کو یقین نہیں اتا کیونکہ ان کی عادات اور جسم کا ڈیل ڈول بتاتے ہیں کہ وہ بٹ ہیں۔ اندر کے مخبر کے مطابق وہ دفتر میں سات سے 10 گلاس ملک شیک کے پیتے ہیں، کافی چائے بسکٹ پیٹیز اور کھانا بھی، چکھ لیتے ہیں۔ ایک دفعہ ایک دفعہ گھر سے تشریف لائے تو آتے ہی ملک شیک مانگ لیا جب تین گلاس ملک شیک پی لیے طبیعت خراب ہو گئی اور الٹی آنے لگی۔ وہ حیران تھے کہ آج کیا ہوا وہ روزانہ ملک شیک سے ہی دن کا آغاز کرتے ہیں تو آج کیا ہوا بہرحال گھر جانا پڑا تاکہ آرام کر سکیں اور پھر تازہ دم ہو کر ملک شیک پی سکیں۔ بقول مخبر کے ان کا منہ صرف سوتے ہوئے رکتا ہے ورنہ چلتا رہتا ہے اور وہ بولتے بھی ہوئے بھی منہ چلاتے رہتے ہیں۔ اس لیے سامنے بیٹھا ہوا ان کی فائرنگ کی زد میں آ جاتا ہے میرا مشورہ ہے اگر اپ ان سے ملنے جائیں تو ایک طرف ہو کر بیٹھیں تاکہ سیدھی فائرنگ کی زد میں نہ آ جائیں۔
جب اپ نے عہدہ سنبھالا تو اس وقت ان کی ٹکر کا ایک اور بندہ ہمارے پاس موجود تھا لیکن آنے کے بعد وہ اپنا مقابل دیکھ کر دل کو غم لگا بیٹھا اور دار فانی سے کوچ کر گیا اس کی ناگہانی موت کے بعد اب اس راج دھانی پر اپ کی سلطنت قائم ہو چکی ہے اور قائم رہے گی بلکہ اس میں دن دگنی رات چوگنی ترقی ہوتی جائے گی۔
کانوں کے کچے ہیں اور عقل کے استعمال کو اپنے اوپر ممنوع قرار دے رکھا ہے اس لیے دو تین بندوں سے ان کی بنتی ہے جو اپنے لیے دوسرے محکموں سے لائے ہیں، بس ان کی بات سنتے ہیں اور مانتے ہیں یہی وجہ ہے کہ اب محکمہ ان دو تین بندوں کے ہاتھوں میں یرغمال بن چکا ہے اور ہر شخص دہائی دیتا نظر آتا ہے اور دعا کرتا نظر اتا ہے کہ کب یہ یہاں سے جائیں اور ان کی جان چھوٹے۔
اتنے سست ہیں کہ اٹھ کر اپنا کوئی کام نہیں کرتے۔ ویسے اپس کی بات ہے یہاں تو کوئی بھی نہیں کرتا لیکن پھر بھی کچھ نہ کچھ کام کر لیتا ہے۔ انہوں نے ٹریننگ کے لیے ایک ٹرینر رکھا ہوا ہے جو ان کو روز ورزش کرانے آتا ہے اور مزے کی بات یہ ہے انہوں نے کبھی جم جا کر ورزش نہیں کی بلکہ اپنے دفتر میں بیٹھے بیٹھے ورزش کرتے رہتے ہیں۔ کہنے والے کہتے ہیں ٹرینر ورزش نہیں کرواتا بلکہ چمپی مالش کرتا ہے جس سے وہ ایک بار پھر کھانا کھانے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔
ہر وقت خوفزدہ رہتے ہیں بس اوپر سے کوئی خط آنے کی دیر ہے پورے محکمے کی دوڑیں لگ جاتی ہیں ۔ایک مرتبہ کسی تربیت پر جانا تھا تربیت دو حصوں میں تقسیم تھی، پہلے حصے میں کچھ محکموں کی تربیت ہونی تھی دوسرے حصے میں مزید کی۔ تقسیم اس طرح تھی کہ ہمارے محکمے کی باری دوسرے حصے میں آ رہی تھی لیکن اپ نے پہلے حصے میں ہی تربیت کے لیے نامزد لوگوں کو بھیج دیا جب تربیت مکمل ہو گئی تو دوسرے حصے میں بھی نامزد لوگوں کو کہا جا کر حاضری لگا آئیں جبکہ ان کو بہتیرا سمجھایا حاضری لگ چکی ہے تربیت کی وصولی ہو چکی ہے مگر نہیں آپ اڑے رہے اور نامزد امیدواروں نے دوبارہ تربیت حاصل کی (اثر تو کچھ ہونا نہیں تھا)
آپ کی والدہ ہر روز دفتر میں ہے آپ سے ملنے آتیں کیونکہ آپ ان کو ملنے سے ان کے گھر نہیں جاتے تھے کیونکہ گھر والی سے ڈرتے تھے اس لیے دفتر میں ہی آداب فرزندگی انجام دیتے تھے۔ ایک گاڑی بھی والدہ کو دے رکھی تھی (چپ بتانا نہیں) آپ کی بہن بھی دفتر میں ملنے آتیں تھی اور ان کے سارے کمپوزنگ کے کام بھی دفتر کے کمپیوٹر آپریٹر ہی کرتے تھے جس پر اکثر ناراض بھی ہو جاتے تھے کہ کام ٹھیک نہیں کرتے کام چور۔
آج تک سمجھ نہیں آئی کہ اپ کو سپورٹس کا اتنا شوق کیوں تھا کھیلنے کا نہیں بلکہ دیکھنے کا اس لیے دفتر میں 55 انچ کی ایل ای ڈی لگوائی ہوئی تھی اور انٹرنیٹ کے بہترین کنکشن لگا رکھے تھے تاکہ میچ کی ایک جھلک سے بھی محروم نہ ہو جائیں حالانکہ ان کو چینل بدلنے میں بھی سانس چڑھ جاتا تھا۔ بقول جام صاحب کے جب اپ کوئی کام کر نہیں سکتے تو دیکھ کر ہی دل کو راضی کر لیتے ہیں شاید یہی کام یہاں بھی ہو رہا تھا۔

