جرمنی کی بدلتی سیاست پر ایک نظر
جرمن صدر والٹر شٹائن نے 27 دسمبر جمعہ کے دن وفاقی پارلیمان کے ایوان زیریں کو تحلیل کر دیا۔ اب اگلے نئے عام انتخابات 23 فروری 2025 کو ہوں گے۔ اس موقع پر صدر نے مزید یہ کہا کہ ”موجودہ حالات میں ملک کو مستحکم پارلیمان میں اکثریت کی حامل حکومت چاہیے“ ۔ جرمن صدر نے اس ایک ہی جملے میں جرمن شہریوں کو ایک واضح پیغام دیا ہے کہ وہ اپنے ووٹ کا سوچ سمجھ کر استعمال کریں تاکہ کسی جماعت کو اکثریت ملے اور اتحاد کرنے کی نوبت نہ آئے۔ موجودہ حالات میں یہ ایک مثبت پیغام ہے اور جرمنی کو درپیش تمام مسائل کا حل ایک ”اکثریتی حکومت“ کے ساتھ مشروط ہے اور اب جرمن شہریوں کو اپنے ووٹ کے ذریعے اگلے سال فروری میں اس کا فیصلہ کرنا ہے۔ سال رواں میں ماہ نومبر تک تین جماعتی حکمران برسر اقتدار تھا جس میں جرمن چانسلر کی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی (ایس پی ڈی) ، ماحول پسندوں کی گرین پارٹی اور ترقی پسند فری ڈیموکریٹک پارٹی (ایف ڈی پی) شامل تھی۔ یہ سہ جماعتی اتحاد اس وقت اختتام کو پہنچا تھا جب چھ نومبر 2024 کو جرمن چانسلر نے اختلافات کی وجہ سے اپنی حلیف جماعت ایف ڈی پی کے سربراہ اور وفاقی وزیر خزانہ کرسٹیان لنڈنر کو برطرف کر دیا تھا۔ اس طرح حکمران اتحاد اقلیت میں چلا گیا تھا۔ بعد ازاں اپوزیشن کے مطالبہ پر جرمن چانسلر نے سولہ دسمبر کو پارلیمان سے اعتماد کا ووٹ لینے کی کوشش کی جو ناکام ہوئی تھی جس پر بالآخر پارلیمنٹ تحلیل کردی گئی اور اب آئینی مدت سے سات ماہ قبل فروری میں نئے انتخابات منعقد ہوں گے۔ 1949 کے بعد یہ چوتھی بار ہوا ہے کہ عام انتخابات آئینی مدت سے قبل ہو رہے ہیں۔ اس سے قبل 1972 میں پہلی بار آئینی مدت سے قبل انتخابات منعقد ہوئے تھے اور اس وقت کے چانسلر ولی برانٹ کا تعلق سوشل ڈیموکریٹک پارٹی سے تھا۔ اس کے بعد 1982 میں ہوئے تب کرسچن ڈیموکریٹک یونین پارٹی کے ہلمٹ کوہل چانسلر تھے۔ اور پھر 2005 میں تیسری بار منعقد ہوئے تھے تب جرمن چانسلر کا تعلق سوشل ڈیموکریٹک پارٹی (ایس پی ڈی) سے تھا۔ اس کے بعد انجیلا میرکل برسر اقتدار آئیں تھیں جن کے طویل اقتدار کا سورج پندرہ سال بعد 2021 میں غروب ہوا تھا اور ان کا تعلق کرسچن ڈیموکریٹک یونین سے تھا۔ چار مرتبہ قبل از وقت تحلیل ہونے والی پارلیمان کے چانسلرز میں تین کا تعلق سوشل ڈیموکریٹک پارٹی ( ایس پی ڈی) سے رہا ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی (سی ڈی اے) جرمنی کی قدیم ترین سیاسی جماعت ہے جس کا قیام 1875 میں جرمن پارلیمنٹ میں دو سیاسی جماعتوں ( جرنل جرمن ورکنگ مینز سوسائٹی اور سوشل ڈیموکریٹک ورکرز پارٹی) کے انضمام سے عمل میں آیا تھا۔ موجودہ سیاست میں دہائیوں سے حکمرانی کرنے والی کرسچن ڈیموکریٹک یونین (سی ڈی یو) جون 1945 میں معرض وجود میں آئی تھی۔
66 سالہ اولاف شولز چانسلر ایک تجربہ کار سیاست دان ہیں۔ 2021 میں چانسلر بننے سے قبل وہ انجیلا میرکل کے آخری دور میں ڈپٹی چانسلر اور وفاقی وزیر خزانہ کے طور پر کام کرتے رہے تھے جن کا تعلق سوشل ڈیموکریٹک پارٹی سے ہے۔ 2021 میں منعقد ہونے والے عام انتخابات میں کسی بھی جماعت کو واضح اکثریت نہ ملنے کے نتیجہ میں بہت تگ و دو کے بعد سہ جماعتی اتحاد معرض وجود میں آیا تھا۔ بطور چانسلر دسمبر 2021 میں حلف اٹھانے کے بعد اگلے ہی سال یوکرائن روس کی جنگ پہلی ازمائش تھی جس کا سامنا چانسلر اور اتحادی حکومت کو آخر تک رہا۔ جرمنی کے دفاعی بجٹ میں اضافہ، یوکرائن کو ہتھیاروں کی ترسیل، پھر گیس کی کمی اور سپلائی کا مسئلہ بھی درد سر بنا رہا۔ اس وقت جرمن کو جن اندرونی مسائل اور بیرونی چیلنجز کا سامنا تھا ان کو دیکھتے ہوئے اس وقت سیاسی پنڈتوں نے امکان ظاہر کیا تھا کہ یہ اتحاد شاید ہی آئینی مدت پوری کرسکے اور یہ خدشہ درست ثابت ہوا۔ سیاست کے بعد اقتصادی میدان میں بھی ایک بڑا چیلنج ہنر مند لیبر کے بحران کی شکل میں سالوں سے موجود ہے۔ گزشتہ سہ جماعتی اتحاد نے اس کے خاتمے کے لئے امیگریشن کے قوانین میں ترامیم کرنے کے ساتھ ساتھ متعدد قوانین میں نرمی بھی کی لیکن تاحال اسکلڈ لیبر کی کمی ختم ہوتے دکھائی نہیں دیتی۔ اس وقت جرمنی کی سیاست کے اندر بھونچال کی سی کیفیت پیدا ہو چکی ہے اور انتہائی دائیں بازو کی جماعت آلٹرنیٹو فار جرمنی (اے ایف ڈی) جرمن سیاست کے اندر نمایاں مقام کے لئے سرتوڑ کوشش کر رہی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ جماعت آلٹرنیٹو فار جرمنی ” ( اے ایف ڈی) بڑی سیاسی جماعتوں کے لئے ایک سیاسی چیلنج بنتی جا رہی ہے اور حکومتی ادارے بھی اس پر کڑی نگاہ رکھے ہوئے ہیں۔ بڑی سیاسی جماعتیں اس جماعت کو سیاست کے اندر نمایاں جگہ دینے کو تیار نہیں ہیں لیکن دوسری طرف سالوں سے جرمنی کے اندر بڑھتے ہوئے انتہا پسندی کے واقعات اس جماعت کے ووٹ بنک میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔
مہاجرین کی آمد اور ان سے جڑے مسائل جن میں ترک وطن، مہاجرین اور سیکورٹی کے معاملات، چاقوؤں سے بڑھتے ہوئے حملے، کرسمس کے مواقع پر مارکیٹوں پر حملوں میں اضافہ شامل ہیں۔ جون میں افغان مہاجر کے ہاتھوں جرمن پولیس افسر کا قتل ایک خوفناک واقعہ تھا جس نے جرمن شہریوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔ چند ہفتے قبل ہی ایک سعودی نژاد ڈاکٹر نے کرسمس ہجوم پر گاڑی چڑھا دی تھی جس سے بچے سمیت پانچ افراد کی ہلاکت اور سینکڑوں افراد کے زخمی ہونے سے جرمنی بھر میں کرسمس کی خوشیوں کو کم کر دیا تھا۔ برسوں سے جاری ایسے واقعات سے عوام الناس کی اکثریت اب مہاجرین کی آمد کے حوالے سے بہت متاثر دکھائی دیتی ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ حالیہ ریاستی انتخابات میں ملنے والے نتائج بھی جرمنی کی مستقبل کی سیاست کے اشارے دے رہے ہیں جن کے مطابق مہاجر مخالف جماعت ( اے ایف ڈی ) کو نمایاں کامیابیاں ملی ہیں اور اس کے ووٹ بنک میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے لیکن دوسری طرف جرمن کے سیاسی تجزیہ نگار یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کامیابیوں کے باوجود فی الحال اے ایف ڈی کا برسر اقتدار آنا ممکن نہیں ہے۔ قصہ مختصر یہ کہ جرمن صدر کے بیان کے مطابق پارلیمان کے اندر اکثریتی جماعت ہونی چاہیے لیکن یہ خواب کیسے پورا ہو گا؟ پورا ہو گا کہ بھی نہیں۔ یقینی طور پر یہ بڑی سیاسی جماعتوں کے لئے ایک چیلنج سے کم نہیں ہے اور ساتھ ہی عوام کے شعور کا بھی امتحان بھی ہے۔ لیکن وقت دور نہیں ہے اگلے سال فروری میں پتہ چل جائے گا کہ پارلیمان میں اتحادی حکومت ہوگی یا ایک جماعتی حکومت۔


