ڈنکی کیا ہے؟
رواں سال یو۔ این کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 10 ہزار افراد غیر قانونی طور پر یورپ جانے کی خواہش میں یونانی ساحلِ سمندر میں ڈوب کر زندگی کی بازی ہار گئے۔ غیر قانونی طور پر ایک ملک سے دوسرے ملک میں داخل ہونے کو ڈنکی کہا جاتا ہے۔
لفظ ”ڈنکی“ سے شاید بہت سارے لوگ واقف نہ ہوں۔ ’ڈنکی غیر قانونی سفر ہے۔ اس میں جان جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔ غیر قانونی تارکینِ وطن کو دوسرے ملکوں تک لے جانے کے عمل کو پنجابی میں ڈنکی کہا جاتا ہے اور یہ کام کرنے والے ڈنکر کہلاتے ہیں۔ ڈنکی کا نام آسان ہے، لگانی مشکل ہے۔ ‘ ڈنکی غیر قانونی سفر ہے۔ اس میں ٪ 99 جان جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔
پنجاب کے علاقے گجرات، گوجرانوالہ، منڈی بہاؤالدین، سیالکوٹ اور اطراف کے اضلاع کے لوگ اس لفظ اور اس کے مطلب کو بخوبی جانتے ہوں گے۔ بلوچستان، ایران، ترکی کے راستے پیدل یا کنٹینروں میں بند ہو کر یونان جانے کو ”ڈنکی“ کہتے ہیں۔ اس کی تلخ حقیقت سے وہی لوگ واقف ہیں جو آدھے راستے سے واپس آ جاتے ہیں یا بہت ہی زیادہ خوش قسمتی سے یونان پہنچنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ پنجاب میں نوجوان 9 1 سے 30 لاکھ روپے انسانی اسمگلروں کو دے کر اپنی موت کا سودا کرنے کا سفر شروع کرتے ہیں۔
ان نوجوانوں کو پنجاب سے کراچی یا رحیم یار خان، صادق آباد لایا جاتا ہے۔ یہاں سے ان کے اذیت ناک سفر کی کہانی شروع ہوجاتی ہے۔ بلوچستان میں داخلے کے ساتھ انہیں بند کنٹینروں، ٹرکوں میں سامان کے نیچے یا بسوں، ان کے سائیڈ کے خانوں میں بند کر کے پاک ایران بارڈر پر پہنچایا جاتا ہے۔ بارڈر پر ایجنٹوں کے کارندے انہیں بارڈر پار کراتے ہیں جس کے بعد پیدل یا چھوٹی گاڑیوں کے ذریعے ایران سے ترکی کے بارڈر پر پہنچایا جاتا ہے۔
بھوک، پیاس تو کبھی ایرانی فورسز کی نظر میں آنے پر بیشتر لوگ اس سفر میں مارے جاتے ہیں۔ خوش قسمتی سے جو لوگ بچ جائیں، انہیں ترکی کے علاقے ازمیر سے سمندر میں چھوٹی کشتیوں کے ذریعے آگے جانا ہوتا ہے۔ چھوٹی کشتیوں پر بڑی تعداد میں لوگ سوار کرائے جاتے ہیں جس کی وجہ سے اکثر کشتیاں ڈوب جاتی ہیں۔ اس جگہ کے سمندر کو ایجین کے نام سے پکارا جاتا ہے جہاں پانی نقطہ انجماد سے نیچے ہوتا ہے۔ خون جما دینے والے پانی میں اکثر کئی کلومیٹر کا فاصلہ تیر کر بھی پار کرنا پڑتا ہے۔ دونوں ملکوں کی فوجوں میں سے کسی کی نظر میں آئے تو گولیوں کا نشانہ بن سکتے ہیں۔ اگر پانی اور گولی، دونوں سے بچ گئے اور یونان کے کسی سرحدی قصبے میں پہنچنے میں کامیاب ہو گئے تو آگے پھر کنٹینر یا چھوٹی گاڑیوں میں بیٹھا کر اوپر سامان لوڈ کر دیا جاتا ہے۔
گزشتہ برس کئی پاکستانی افراد بہتر مستقبل اور غربت سے نجات کی خواہش میں زندگی کی بازی ہار گئے تھے۔ رواں برس بھی پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وسط میں موجود ایک چھوٹا سے گاؤں ’موریکے ججہ‘ سے تعلق رکھنے والے 14 سالہ عابد جاوید نے اٹلی جانے کی غیر قانونی کوشش کی لیکن 13 دسمبر کو یونان کے قریب کشتی کو پیش آنے والے حادثے کے باعث بحیرۂ روم کے پانیوں کے سپرد ہو گیا۔
اس حادثے میں ہلاک ہونے والوں اور زندہ بچ جانے والوں کا تعلق صوبے پنجاب کے وسطی علاقوں سے ہے۔ ان علاقوں میں جو بچے ہلاک ہوئے ان کی عمریں 12 سے 16 سال کے درمیان تھیں اور ان میں سے اکثریت کا تعلق متمول گھرانوں سے تھا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ہدایت کی کہ ایک ہفتے کے اندر انسانی سمگلنگ کے مکروہ دھندے میں ملوث تمام افراد کو حراست میں لیا جائے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ وزیراعظم نے انسانی سمگلنگ میں ملوث افراد کے خلاف استغاثہ کے عمل کو مزید موثر بنانے کی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ بیرون ملک جانے والے تمام افراد کے لیے ویزا کی جانچ پڑتال اور دیگر قواعد و ضوابط کو موثر بنایا جائے، حکومت پاکستان ملک سے انسانی سمگلنگ کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔
وزیراعظم نے وزیر داخلہ کی سربراہی میں انسانی سمگلنگ کے خاتمے کے لیے پائیدار حل تلاش کرنے کے لیے کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں وزیراعظم کو ملک میں انسانی سمگلنگ کے خلاف لیے گئے اقدامات کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں دسمبر 2024 ء کو یونان کے قریب تارکین وطن کی کشتی کو پیش آنے والے حادثے میں پاکستانیوں کی شناخت اور ان کے جسد خاکی کی وطن واپسی کی پیشرفت پر بریفنگ دی گئی۔


