زندگی کے نشیب و فراز کا سامنا


جب انسان اس عارضی دنیا میں آنکھ کھولتا ہے تو روتا ہے۔ اس وقت اسے یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ ہنسنا اور رونا کیا چیز ہے، یا رونا کب اور کیوں ہوتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ انسان زندگی کے مختلف مراحل سے گزرتا ہے۔ ایک ایسا دور بھی آتا ہے جب انسان صرف کھاتا ہے، پیتا ہے، اور خراٹے لے کر سوتا ہے۔ یہ وہی وقت ہوتا ہے جب وہ کمانے کی بجائے صرف کھانے کے بارے میں سوچتا ہے۔ لوگ اس دور کو بادشاہت کہتے ہیں، حالانکہ بادشاہ کے پاس بھی بے شمار پریشانیاں ہوتی ہیں۔ کبھی تخت کو بچانے کی فکر ہوتی ہے تو کبھی رعایا کو خوش رکھنے کے لیے مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انسانی زندگی میں بچپن کا دور ایک ایسی نعمت ہے جو ایک بار ملتا ہے اور دوبارہ کبھی نہیں آتا۔ جب انسان پر مشکل وقت آتا ہے تو افسوس کے ساتھ بچپن کو یاد کرتا ہے، لیکن لاکھ کوششوں کے باوجود یہ دور واپس لانا ناممکن ہوتا ہے۔ اس کے بعد انسان آہستہ آہستہ جوانی کی طرف بڑھنے لگتا ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب ذہنی پرورش کے آثار ظاہر ہونے لگتے ہیں۔ اس دور میں انسان کو نفرت کرنا بھی سکھایا جاتا ہے، حالانکہ انسان کی پیدائشی فطرت محبت پر مبنی ہوتی ہے۔ جب نفرتیں زبردستی ٹھونس دی جاتی ہیں، تو انسان جوان ہو کر ان کے اثرات کا شکار ہو جاتا ہے۔

پھر ایک وقت آتا ہے جب اسے اپنی آئندہ زندگی کا فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ مستقبل میں کیا کرنا ہے۔ اس مرحلے پر بہت سے نشیب و فراز کا سامنا ہوتا ہے۔ ایک طرف دھوکہ دہی سے بھرا معاشرہ انسان کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے، اور دوسری طرف مستقبل کے ساتھ ساتھ معاشی استحکام بھی ضروری ہو جاتا ہے۔ اس دھوکہ دہی کے معاشرے میں انسان کے قریبی لوگ بھی صرف پیسے کو اہمیت دیتے ہیں۔ یہاں بات سٹیٹس تک پہنچ جاتی ہے۔ اگر آپ کے پاس پیسہ ہے تو آپ ان کے معیار کے مطابق ہیں، ورنہ لوگ سلام کا جواب دینے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتے۔

اگر آپ کے بڑوں نے پہلے سے ہی معاشی استحکام فراہم کیا ہو، تو آپ سکون سے اپنے مستقبل کے بارے میں سوچ سکتے ہیں۔ لیکن اگر ایسا نہ ہو، تو آپ کو اپنے مستقبل کے خوابوں کو چھوڑ کر، دو وقت کی روٹی کمانے کی جدوجہد پر توجہ مرکوز کرنا پڑتی ہے۔ ہر طرف دھوکہ، جھوٹ، اور اپنوں کے فریب کے ساتھ طعنوں کا سامنا کرتے ہوئے انسان اندر سے ٹوٹ جاتا ہے۔ ہر وقت نفسا نفسی کا عالم دیکھنے کو ملتا ہے۔ لوگ اپنے مفادات کے لیے نہ صرف دھوکہ دیتے ہیں بلکہ ہواؤں میں محل بھی بناتے ہیں۔

لیکن جب رب کی طرف سے آزمائش آتی ہے، تب حقیقت سامنے آتی ہے کہ کون کیا کر رہا ہے۔ ہر شخص صرف دلاسا دینے کے لیے آتا ہے، اور یوں قیامت کے نظاروں کا کچھ حصہ دنیا میں ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ بہت سے چہروں سے نقاب اتر جاتے ہیں، اور حقیقت آشکار ہو جاتی ہے۔ حالات کو دیکھ کر انسان مایوسی اور نا امیدی کی طرف دھکیل دیا جاتا ہے۔ پھر معاشرے میں یہ کہا جاتا ہے کہ نا امیدی کفر کے برابر ہے۔ ایک طرف انسان سوچتا ہے کہ کسی کا بھی احسان نہ لو کیونکہ حالات جیسے بھی ہوں، گزر جائیں گے۔ آزمائش اور مجبوری ایک نہ ایک دن ختم ہو جائے گی، لیکن احسان زندگی بھر ساتھ رہے گا۔ وقتاً فوقتاً وہی برا وقت طعنوں کی صورت میں یاد دلایا جائے گا۔ ایسے وقت میں کچھ رشتہ دار محض اس لیے ساتھ دیتے ہیں کہ عزت کا معاملہ ہوتا ہے اور وہ یہی کہتے رہتے ہیں کہ عزت بچانے کے لیے ہر حال میں ساتھ دینا ضروری ہے۔ یہ سوچ کچھ حد تک تسلی فراہم کرتی ہے۔

دنیا میں جتنے بھی بڑے لوگ نظر آتے ہیں، وہ اس مقام تک پہنچنے کے لیے ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کر چکے ہیں۔ انہوں نے کبھی ہار نہیں مانی، اپنے آپ پر بھروسا رکھا اور سخت محنت کی۔ کچھ ماہ پہلے، ایلون مسک، جو دنیا کے امیر ترین انسانوں میں شمار ہوتے ہیں، نے اپنے پلیٹ فارم X پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ لوگ کہتے ہیں میں خوش قسمت ہوں، حالانکہ میں آج بھی روزانہ 16 گھنٹے سخت محنت کرتا ہوں۔ اسی طرح کامیاب لوگوں کی بہت سی کہانیاں موجود ہیں۔ یہ لوگ صرف خواب دیکھنے تک محدود نہیں رہے، بلکہ زندگی کے بہت سے نشیب و فراز، دھکے، گالیاں، اور دھوکے سہ کر اس مقام تک پہنچے ہیں۔ انہوں نے زندگی سے کبھی شکوے نہیں کیے۔

زندگی میں نشیب و فراز بہت ضروری ہیں۔ جیسے انسانی دل کی ECG (الیکٹروکارڈیوگرام) میں گراف ہمیں بتاتا ہے کہ انسان زندہ ہے یا مر چکا ہے۔ جب گراف میں نشیب و فراز ہوں، تو یہ زندگی کی نشانی ہے۔ لیکن جب گراف سیدھا ہو جاتا ہے، تو یہ موت کی علامت ہے۔ اسی طرح، زندگی کے حالات بھی اس وقت سیدھے ہو جاتے ہیں جب انسان اس دنیا سے انتقال کر کے دوسری دنیا میں چلا جاتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ زندگی کے نشیب و فراز ہی وہ چیزیں ہیں جو ہمیں سکھاتی ہیں، ہمارے اردگرد کے لوگوں کے حقیقی چہرے بے نقاب کرتی ہیں، اور زندگی کے عارضی رشتوں اور مفاد پرست رویوں کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔
یہ نشیب و فراز زندگی کا لازمی حصہ ہیں، اور جب تک ہم زندہ ہیں، ان سے سیکھنا ضروری ہے تاکہ ہم مستقبل کے لیے بہتر فیصلے کر سکیں اور اپنی منزل تک پہنچ سکیں۔

ہمیں امتحان میں ڈالنے کے علاوہ، زندگی کے اتار چڑھاؤ ہمیں سکھاتے ہیں کہ حقیقی کامیابی کیسے حاصل کی جائے۔ یہ آزمائشیں ہمیں لوگوں کے طور پر بڑھنے، رکاوٹوں پر قابو پانے، اور دوسروں کو دیکھنے کی اجازت دیتی ہیں کہ وہ واقعی کون ہیں۔
زندگی کے دورانیے پر سوال اٹھانے کے بجائے، ہمیں ان چیلنجوں کو اپنے مستقبل کے انتخاب کو بہتر بنانے کے ایک موقع کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ ناکامیاں زندگی کا ایک فطری حصہ ہیں، اور ہم ان سے سیکھ کر مضبوط، زیادہ خود انحصاری اور زیادہ خوشحال بن سکتے ہیں۔ زندگی کے یہ اتار چڑھاؤ اس بات کا اشارہ ہیں کہ ہم زندہ ہیں اور آگے بڑھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے دل کی دھڑکن کے گراف میں اتار چڑھاؤ۔ انہیں ہمیں ڈرانے کی بجائے، ہمیں اپنے مقصد تک پہنچنے تک کام کرتے رہنا اور یقین رکھنا چاہیے۔

Facebook Comments HS