اے عظیم ٹیچر، سلام عقیدت
کہتے ہیں والدین وہ ہوتے ہیں جو آپ کو آسمان سے زمین تک لاتے ہیں اور استاد وہ ہوتا ہے جو آپ کو دوبارہ زمین سے آسمان تک پہنچاتا ہے۔ ناچیز نے ابتدائی تعلیم سرکاری سکول سے حاصل کی ہے۔ وہاں آپ کے دو استاد ہوتے ہیں ایک انسانی شکل میں اور ایک مولا بخش کی شکل میں اور جہاں یہ دونوں مل جائیں سمجھیں کہ طالب علم کا مستقبل سنور گیا۔ ہر چند کہ کچھ طالب علم سوجن کی شکایت کرتے ہیں مگر ہمارے دور میں علم ایسے ہی کوٹ کوٹ کر بھرا جاتا تھا۔ آج کی تحریر ہمارے سلانوالی کے عظیم ٹیچر پی ای ٹی عصمت اللہ صاحب کے نام جو کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ ان کا ایک قول فیصل ہے کہ جو طالب علم مرغا بن کر اپنا توازن برقرار رکھ سکتا ہے وہ زندگی میں کبھی ڈگمگا نہیں سکتا۔ آج جو حالات و خیالات میں توازن ہے اس میں استاد مکرم پی ای ٹی صاحب کا نہ صرف ہاتھ ہے بلکہ اس ہاتھ میں تھاما ہوا مولا بخش بھی ہے۔
جب میرا ایڈمیشن چھٹی کلاس میں گورنمنٹ ہائی سکول نمبر دو میں ہوا تو استاد معظم اپنے اوائل شباب پر تھے۔ قبلہ کی نہ صرف آواز میں دہشت تھی بلکہ ہاتھوں میں بھی خوب روانی تھی اور مولا بخش تو اس مہارت سے چلاتے تھے گویا سکندر اعظم تلوار بھی کیا چلاتا ہو گا۔ یوں چھٹی کلاس میں ہی استاد جی نے چھٹی کا دودھ یاد کرا دیا۔ قبلہ کی خصوصی شفقت بھگوڑے، اور کام چور طلبا کی طرف ہوتی اور خاکسار اس میدان میں سر فہرست تھا۔ بس پھر چھٹی سے دسویں تک وہ دھنائی ہوئی گویا پرانے لحاف کو نیا کیا جا رہا ہے اور ہم بھی ہر ڈنڈے پر یوں اچھلتے گویا فضا میں ہر سو روئی کے گالے اڑ رہے ہوں۔ جہاں معزز استاد جی اپنی دست درازی سے چھوٹ دینے کے قائل نہ تھے وہیں یہ ناچیز بھی ڈسپلن کی خلاف ورزی کے حوالے سے مستقل مزاج رہا۔ ابا مرحوم بھی اس حوالے سے ایک محنت کش حیوان کا نام لیتے ہوئے کہتے تھے کہ اگر اتنی دھلائی اس کی ہوتی تو وہ بھی انسان بن جاتا۔ گو ابا مرحوم ہمیں اس حوالے سے ایک اور ناپاک جانور کی دُم سے بھی تشبیہ دیتے تھے جو سیدھے ہونے میں نہ آتی تھی۔
بہرحال آج کی تحریر کو واپس استاد مکرم کی طرف موڑتے ہیں تو جناب عصمت اللہ صاحب نے پڑھایا تو کچھ نہیں لیکن سکھایا بہت کچھ ہے۔ ہمارے سر کچھ ایسے پابندی وقت کرتے تھے کہ مرغے بھی ان کو دیکھ کر اپنی اذانوں کا وقت معین کیا کرتے تھے۔ آندھی ہو، طوفان ہو مگر مجال ہے کہ کبھی پی ای ٹی سر نے چھٹی کی ہو۔ گمان غالب یہ ہے کہ بیماری بھی ان سے ویسا ہی خوف کھاتی تھی جیسا یہ مظلوم طالب علم۔ چلو مان لیا کہ بندہ بہت ہی پنکچوئل ہے اور روز سکول آتا ہے لیکن پھر بھی سٹاف روم میں دیگر اساتذہ کے ساتھ گپ شپ میں بندہ کچھ ٹائم گزار لیتا ہے لیکن مجال ہے کہ پی ٹی صاحب سٹوڈنٹس کی جان چھوڑ دیں اور کوئی سٹوڈنٹ آپ کو سکول میں کلاس سے باہر تفریح کے علاوہ نظر آ جائے۔ شاید خدا تعالیٰ نے بھی ہمارا سدھرنا استاد جی کے ہاتھوں اور ان میں موجود دیگر اشیا کے مرہون رکھا ہوا تھا۔ پی ٹی عظمت اللہ صاحب نے وقت کی پابندی کچھ ایسے سکھائی کہ ابھی کچھ عرصہ پہلے تک میں شادی ہال میں کارڈ پر جو وقت درج ہوتا تھا اس وقت پر پہنچ جاتا اور یقین جانیے میں تین تین گھنٹے بیٹھ کے پی ای ٹی صاحب کو یاد کرتا رہتا تھا بڑی مشکل سے دوستوں نے میری یہ عادت چھڑوائی ہے۔ اسمبلی ہال میں پی ای ٹی صاحب کی سیٹی الامان الحفیظ طالب علموں کی جان جاتی تھی۔ اسمبلی ہال میں سات آٹھ سو سٹوڈنٹس پر ان کی نظر ایسے ہوتی جیسے باز اپنے شکار پر نظر رکھتا ہے مجال ہے کوئی طالب علم ڈسپلن کی خلاف ورزی کرے۔ پر ہم بھی کہاں باز آنے والے تھے۔
پروگرس رپورٹ پر والد صاحب کے دستخط کرنا یا اساتذہ کے دستخط کر کے گیٹ سے باہر نکلنا یہ تو بندہ ناچیز کا محبوب مشغلہ رہا ہے۔ ایک دفعہ ایسا ہوا کہ پی ای ٹی صاحب کی دستخط شدہ پرچی بنائی اور سرفراز گیٹ کیپر ( ذات باری تعالیٰ مغفرت فرمائے اب دنیا میں نہیں رہے ) کو کہا پی ای ٹی صاحب نے کام بھیجا ہے جس پر سرفراز نے کہا کہ پی ٹی صاحب تو کبھی کسی کو بھیجتے ہی نہیں تمہیں کیسے انہوں نے بھیج دیا۔ میں نے کہا جناب یہ پی ای ٹی صاحب کی دستخط شدہ پرچی دیکھ لیں۔ اب یہ میری ستم ظریفی کہہ لیں گے یا بدقسمتی پی ای ٹی صاحب ہماری کلاس میں جا پہنچے اور انہوں نے جاتے ہی پوچھا علی خان کدھر ہے۔ پانچ سات منٹ میں ہی پی ٹی صاحب نے اندازہ لگا لیا کہ علی سکول میں نہیں ہے لہذا وہ چلتے چلتے گیٹ پر پہنچے اور سرفراز سے پوچھا کہ کوئی سٹوڈنٹ باہر تو نہیں گیا ہوا۔ سرفراز نے کہا علی نویں جماعت کے مانیٹر کو تو آپ نے ہی باہر بھیجا ہے! پی ٹی صاحب نے حیرانی سے کہ میں نے باہر بھیجا ہے۔ سرفراز جی جناب یہ آپ کی دستخط شدہ پرچی دے کر گیا ہے۔ پی ای ٹی صاحب نے کرسی منگوائی اور گیٹ کے پاس ہی براجمان ہو گئے۔ تقریباً دو گھنٹے بعد بندہ ناچیز جب واپس سکول میں داخل ہوا اور پی ٹی صاحب پر نظر پڑتے ہی جلدی سے واپس بھاگنے کی کوشش کی۔ پر مجال ہے پی ای ٹی صاحب کی نظر چوک جائے۔ پی ای ٹی صاحب کی آواز آئی ہیلو جناب میں آپ کے انتظار میں ہوں۔ مولا بخش سے جو تواضع تو ہوئی سو ہوئی لیکن جو دستخط کی تفتیش ہے اس کی ایک الگ کی کہانی ہے بڑی مشکل سے ایک اور لڑکے کا نام لے کر جان چھڑوائی۔ لیکن بعد میں پی ٹی صاحب نے بڑے پیار سے سمجھایا کہ اگر زندگی میں کوئی مقام حاصل کرنا چاہتے ہو تو لوگوں کی عزت کے ساتھ مت کھیلو۔ ان لوگوں میں خواہ وہ آپ کے اساتذہ کرام ہیں، والدین ہیں، دوست ہیں یا آفس کولیگز ہیں۔
کھیلوں کے مقابلے میں گورنمنٹ ہائی سکول نمبر دو ہمیشہ ضلع میں بہتر پوزیشن میں رہا ہے۔ گورنمنٹ ہائی سکول نمبر دو کی کرکٹ اور بیڈمنٹن کی ٹیم ہر سال ضلع میں پوزیشن حاصل کرتی تھی۔ تحصیل بھر میں بہترین پی ٹی شو کے انعقاد میں ہمیشہ سکول نمبر دو سر فہرست رہا ہے۔ جب کبھی بھی سرکاری و غیر سرکاری افسران سلانوالی میں آتے تو سکول نمبر دو کے طالب علم نہایت عمدہ پی ٹی شو پیش کرتے۔ سلانوالی کی تاریخ میں کھیلوں کے فروغ کے لیے پی ای ٹی عصمت اللہ صاحب کے کردار کو کبھی بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ زمانہ طالب علمی کے بعد پی ٹی صاحب سے دوستی کا ایک لازوال سفر شروع ہوا جو اج تک جاری و ساری ہے۔ اور میں ان کو آج بھی اکثر و بیشتر اسی طرح تنگ کرتا ہوں جیسے زمانہ طالب علمی میں ان کو تنگ کیا کرتا تھا لیکن اب ان کے چہرے پر ایک خوشگوار مسکراہٹ رہتی ہے۔ کھیلوں کے فروغ کے بارے میں ان کے نظریات آج بھی وہی ہیں۔ کہ اگر انسان کی زندگی میں سے کھیلوں کو نکال دیا جائے تو باقی زندگی ایک روبوٹ مشین کی طرح ہے۔ اگر اپ کا بچپن اور جوانی کھیلوں کے میدان میں نہیں گزری تو اپ کا بڑھاپا فرسٹریشن کا شکار رہے گا۔ ہاں البتہ اب کھیلوں کے فروغ کے معاملے میں حکومت سے شاکی نظر آتے ہیں۔ اکثر و بیشتر کہتے ہیں کہ آج سے 20، 25 سال قبل جیسے گراس روٹ لیول پر سکولوں میں کھیلوں کے فروغ کے لیے حکومت جو اقدامات کرتی تھی اب وہ نہیں ہوتے۔
میں نے بہت کم اساتذہ کو ایسا احترام ملتے دیکھا ہے جیسا احترام پی ای ٹی عصمت اللہ صاحب کے طالب علم ان کے ساتھ روا رکھتے ہیں اور اس کا بنیادی سبب وہ خلوص، ایمانداری اور اپنے فرض کے ساتھ کمٹمنٹ ہے جو صرف نابغہ روزگار افراد کے حصے میں ہی آتی ہے۔ سورج اگر تپش بھی دے تو ہمیں وہ حرارت اور توانائی دیتا ہے جو اس زندگی کے چیلنجز کے ساتھ نمٹنے کے لئے شمع ہدایت ہے۔ ڈھلتی عمر کے باوجود ابھی بھی کیا ہشاش بشاش شخصیت ہیں ذات باری تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ آپ ہمیشہ ہمیشہ سلامت رہیں آباد رہیں آمین۔


