اتنی جلدی چائے پینے کی کیا ضرورت تھی؟
معتبر حلقوں میں یہ خبر تواتر کے ساتھ گردش کر رہی ہیں کہ افغان طالبان نے کالعدم ٹی ٹی پی کی قیادت کو یہ مشورہ نما حکم دیا ہے کہ وہ یا تو کیمپوں میں قیام کریں اور افغان طالبان ان کے معاملات پر نظر رکھتے ہوئے پاکستان کے حوالے سے ان کی حکمت عملی کو تیار کرا سکے یا کالعدم ٹی ٹی پی بھی افغان طالبان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے قبضہ کرنے کی کوشش کرے جس کو افغان طالبان کی مکمل حمایت حاصل ہوں گی اور کالعدم ٹی ٹی پی نے دوسرا راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کی خاطر افغان طالبان نے ہر قسم کی مدد فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
صورت حال اس حد تک مخدوش کیوں ہو گئی ہے کہ پاکستان کو افغان علاقوں پر فضائی کارروائی کرنا پڑی اور افغان طالبان بھی کھل کر سامنے آ گئے؟ اگر ہم موجودہ صورتحال کو صرف افغان طالبان یا افغانستان میں سوویت یونین کی فوج کے داخل ہونے کے وقت سے مطالعہ کرنا شروع کریں گے تو ہم اس مسئلہ کی حقیقی کیفیت کو سمجھ نہیں سکیں گے۔ یہ مسئلہ صرف سوویت یونین کی افغانستان میں آمد کے وقت پیدا نہیں ہوا تھا۔ اس صورت حال کا ایک تاریخی تسلسل ہے اور اس وقت بھی حملہ آور جو افغان علاقوں کی جانب سے ہی آ رہا تھا اس کے ایک ہاتھ میں مذہب کا جھنڈا تھا مگر پھر برصغیر کی برطانوی نو آبادیاتی بننے کی وجہ سے ایسی سلطنت کے خلاف جس میں سورج نہ غروب ہوتا ہو یہ حملے تھم گئے مگر اس کی خواہش دلوں میں مچلتی رہی اور اس ہی وجہ سے قیام پاکستان کے وقت جو ملک پاکستان کے خلاف متحرک ہوا اس کا نام افغانستان تھا۔ پختونستان کا شوشہ اٹھایا گیا کہ جس کا مطلب یہ تھا کہ بین الاقوامی سرحدوں کے تصورات قائم ہونے کے دور سے قبل کے زمانوں کے معاہدات کی بنیاد پر شرارت شروع کر دی جائے۔
ظاہر شاہ حکومت نے اس کی کھل کر پشت پناہی کی اور جب ظاہر شاہ نے اپنے کزن سردار داؤد کو وزارت عظمیٰ کی خلعت 1953 میں پہنا دی تو ان سرگرمیوں میں مزید تیزی آ گئی۔ مغربی پاکستان کے صوبے کے اعلان کے رد عمل کے طور پر سردار داؤد کی حمایت سے 1955 میں کابل میں پاکستانی سفارت خانہ اور جلال آباد و قندھار میں کام کرنے والے پاکستانی قونصل خانوں پر حملے کیے گئے، پولیس خاموش تماشائی بنی کھڑی رہی سفارت کار جان سے گئے اور زخمی ہوئے۔
اس واقعہ کے بعد افغانستان میں ہنگامی حالت نافذ کرتے ہوئے افغان فوج کو موبیلائز کرنے کا حکم دے دیا گیا اور پھر 1960 میں باجوڑ کی جانب سے افغان فوج اور اسی طرح کے غیر فوجی مسلح افراد نے ہزاروں کی تعداد میں پاکستان پر حملہ کر دیا جو کوئی ایک سال تک جاری رہا۔ 1961 میں سابقہ یوگو سلاویہ میں غیر جانبدار ممالک کی تنظیم کا پہلا سربراہی اجلاس ہوا اور اس اجلاس میں سردار داؤد نے ایڑی چوٹی کا زور لگا لیا کہ پشتونستان شوشہ وہاں زیر بحث آ جائے مگر انڈیا کے علاوہ کسی نے اس حوالے سے اسے منہ نہیں لگایا۔
اور یہ صرف سردار داؤد کا ذہن نہیں تھا۔ وہ بطور وزیر اعظم 1963 میں علیحدہ ہو گئے مگر جب امریکہ کے نائب صدر سپائرو اگینو نے 1970 میں افغانستان کا دورہ کیا اور اس پر رپورٹ ہنری کسنجر نے صدر نکسن کو ”میمورنڈم فور دی پریزیڈنٹ پرائیویٹ کنورسیشن ود دی کنگ اینڈ پرائم منسٹر“ کے نام سے دی تو اس رپورٹ کے مطابق بھی ظاہر شاہ کے نزدیک پاکستان سب سے زیادہ تشویشناک مسئلہ تھا۔ یہ دور سوویت یونین کے داخلے سے قبل کا ہے۔
ہمیں یہ اچھی طرح سے جان لینا چاہیے کہ کابل میں کوئی بھی حکومت ہو اس کی ذہنی کیفیت ایک سی ہوتی ہے۔ جب ملا عمر بر سر اقتدار تھے تو اس وقت ڈیورنڈ لائن پر پاکستان نے بات کرنا چاہی جو انہوں نے حقارت سے ٹھکرا دی بلکہ پاکستان کی اس شکایت کو بھی کوئی اہمیت نہیں دی تھی کہ افغانستان کی جانب سے دہشت گرد پاکستان آ کر قتل و غارت گری کر رہے ہیں حالاں کہ یہ شکایت اس وقت بھی پاکستان اعلی ترین سطح پر کر رہا تھا اس وقت کے وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف کی گفتگو ہو یا اس وقت نواز شریف کی بطور وزیر اعظم آخری پریس کانفرنس سب میں اس کا ریکارڈ مل جائے گا۔
جب اس وقت انہوں نے ہماری شکایات کے ازالے کی بجائے ان کی پشت پناہی کی تھی تو یہ کیسے تصور کر لیا گیا تھا کہ اب وہ ایسا نہیں کریں گے؟ پھر سونے پر سہاگہ یہ ہوا کہ 2021 میں ان لوگوں کو واپس لانے کی پالیسی اختیار کی گئی اور اس وقت کے وزیر اعظم اور ان کے لانے والوں نے افغانستان اور افغان طالبان کے ماضی کو سرے سے کوئی اہمیت نہیں دی کیوں کہ وہ تو کابل میں چائے پی کر اپنی فتح ثابت کرنا چاہتے تھے۔ اسی زمانے میں ایک امریکی سفارت کار دوست نے کہا تھا کہ یہ چائے کی پیالی پی کر ہمارے ان دعووں کو درست ثابت کر رہے ہیں کہ جو پاکستان کے حوالے سے کیے جاتے تھے اور اس سے بین الاقوامی برادری میں پاکستان کا امیج خراب ہوا ہے، آخر چائے پینے کی اتنی جلدی کیا تھی؟
میرا جواب تھا شہرت کی طلب۔ اس چائے کی یہ قیمت ادا کرنی پڑی کہ اب افغان طالبان پاک افغان سرحد کو فرضی یا خیالی لکیر قرار دے رہے ہیں اور ان کے وزیر اطلاعات پاکستان میں دہشت گردی کرنے والوں کو اپنا مہمان قرار دے رہے ہیں۔ کوئی ایک ماہ قبل اعلی سطح کے انڈین وفد کی ملا یعقوب، ملا متقی سے ملاقاتوں کے بعد افغان طالبان کے حوصلے بھی بلند ہوئے ہیں اور وہاں پر کہا جا رہا ہے کہ جو مفاد حامد کرزئی، اشرف غنی ادوار میں انڈیا سے حاصل تھے ان کو حاصل کیا جائے چاہے اس کی قیمت پاکستان سے تعلقات ہی نہ ہوں۔ ایسی صورت حال میں پاکستان کو افغان پالیسی کو از سر نو تاریخی تناظر و تسلسل کو مد نظر رکھتے تشکیل دینے کی ضرورت ہے اور اس میں سے ہی راستہ نکالنا مقصد ہونا چاہیے جو کہ ممکن بھی ہے۔


شروع کا بیانیہ لگ بھگ اچھا رہا لیکن پختونستان کی تاریخ اپنی جگہ فقیر ایپی ہو یا سابقہ صوبہ سرحد یا بلوچستان کے پریشر گروپ افغانستان نے اپنی تئیں بے شمار کوششیں کیں لیکن بیچ میں داؤد اور ظاہر شاہ کے ادوار میں یہ معاملہ خاصہ ٹھنڈا ہوگیا تھا۔
ڈیورنڈ لائن اگر وہ متنازعہ سمجھتے ہیں تو کرتے رہیں بین الاقوامی قوانین اس معاملے میں بالکل کلیئر ہیں۔
پاکستان سے معاملات بگاڑ کر نقصان افغانستان کا زیادہ ہے بہ نسبت پاکستان کا۔
–
ایک بات جس کی لکھنے والوں کو ضرورت ہے فیض حمید چائے پینے خود نہیں گئے تھے۔ جنرل باجوہ اور وزیراعظم کے علم میں ساری باتیں موجود تھیں۔
–
اصل معاملہ جو لوگ بھول جاتے ہیں وہ یہ تھا کہ 4 ستمبر 2021 کو جب فیض حمید وہاں پہنچے۔ افغانستان میں کوئی ایسی حکومت موجود نہیں تھی جسے دنیا قبول کرتی ہو۔ امریکہ نے یہ بہت بڑی زیادتی کی کہ اگر ڈھنگ سے انتقال اقتدار اشرف غنی سے لے کر کسی کو بھی کردیا جاتا تو کچھ معاملات اتنے خراب نہ ہوتے۔
بہرحال ستمبر 2021 کی اس شام کے اگلے دن متعدد ممالک جن کی سرحد یا مفادات افغانستان سے وابستہ تھے۔ جن میں پاکستان کے علاوہ چین، روس، ایران، تاجکستان، ترکمانستان، قازقستان اور ازبکستان شامل ہیں ان ممالک کو خدشہ تھا کہ طالبان کے خوف سے مہاجرین کا ایک نیا قافلہ سرحدی ممالک کا رخ کرے گا۔ اس کے علاوہ کسی حکومت کی عدم موجودگی میں معاملات کیسے ہینڈل کئے جائیں گے ایک خفیہ میٹنگ کابل میں رکھی گئی تھی۔
–
فیض حمید پاکستان سے وہاں اس میٹنگ کو اٹینڈ کرنے گئے تھے نا کہ طالبان کو بریف کرنے۔
اس میٹنگ کے بعد ان اسپائی چیفس کی مزید میٹنگز اسلام آباد میں منعقد ہوئی تھیں کیوں کہ کابل ایئرپورٹ اور فضائی حدود بند ہوگئی تھیں۔
–
جہاں تک امریکی دوست کا سوال ہے ان کھسیانی بلیوں کو محض نوچنے کے لئے کھمبا چاہئے تھا جو مل گیا تھا۔ پاکستان ایمبسی کابل کی عمارت میں رہنے کی بجائے فیض حمید نے سیرینا میں قیام کرنا مناسب سمجھا جہاں اور لوگوں سے ملاقات بھی ہوئی لیکن امریکی یا برطانوی صحافی کی محض ایک تصویر نے سب کو خوامخواہ بدنام کرکے رکھ دیا۔ جب کہ وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا امریکیوں کو وہی بات بری لگی۔
–
میرے خیال میں وقت آگیا ہے کہ ہم افغانستان کے ساتھ اپنی سرحدیں ایک بار آر یا پار کرکے بند کردیں اور اسی وقت کھولیں جب ڈیورنڈ لائن کا تصفیہ ہوجائے۔ زیادہ مشکل ہو تو دل بڑا کرکے پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں کے لوگوں سے ریفرنڈم کروالیں کہ وہ کہاں جانا چاہتے ہیں۔ سوائے نیا ملک بنانے کے۔ اس تصفیہ سے پہلے افغانستان کے جو مہاجرین پاکستان میں موجود ہیں ان کو کیمپ تک محدود کردیا جائے اور کسی بھی خلاف ورزی پر بلا جھجک واپس ان کے ملک بھیج دیا جائے۔
–
اسی طرح پاکستان کو ان بہاری یا پاکستانیوں کو بھی یاد رکھنا چاہئے جو بنگلہ دیش میں 53 سال سے واپسی کی راہ دیکھ رہے ہیں۔ ان کو واپس لاکر افغانیوں کی جگہ بسا یا جائے۔
–
ترکمانستان اور تاجکستان مل کر خوست پکتیا سے ہوتے پاکستان تک کارگو ٹرین کی پٹڑی ڈال رہے ہیں اور طالبان کے نخرے ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے۔
–
طالبان حکومت کو جب ہم تسلیم ہی نہیں کرتے تو بہتر ہے ان کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے۔ اور حکومت کے قائم ہونے تک تجارت بھی کم کردی جائے اور کسی نہ کسی بہانے سے پاکستان میں موجود افغانیوں کو واپس بھیجنا کا ماحول بنایا جائے۔ بہت ہوچکا۔
–