گھاس چرتے خچر
میں نے اپنے بچپن میں اپنے گاؤں سے باہر کھیتوں میں خچروں کو گھاس چرتے دیکھا تھا۔ ان کو گھاس چرنے کے لیے چھوڑنے کا طریقہ دیگر جانوروں کی نسبت تھوڑا سا مختلف تھا۔ ہوتا کچھ ایسے تھا کہ خچر کی آگے والی ٹانگ کو پیچھے والی ٹانگ سے ایک رسے کے ساتھ باندھ دیا جاتا تھا، اگلی دائیں ٹانگ کو پیچھے والی بائیں ٹانگ کے ساتھ یا پھر آگے والی بائیں ٹانگ کو پیچھے والی بائیں ٹانگ کے ساتھ متوازی اور مضبوط مگر کسی قدر ڈھیلے رسے کے ساتھ منسلک کر دیا جاتا تھا۔ یہ بیڑی جیسا تھا۔ اگر خچر کو کھونٹے سے باندھا جائے تو وہ صرف اتنی جگہ چر سکتا ہے جو اس کی رسی کی لمبائی تک محیط ہے۔ یوں بار بار کھونٹا نئی گھاس والی جگہ پر منتقل کرنے یا گھاس کاٹ کر کھرلی میں خچر کے آگے ڈالنے کی مشقت پیش آتی تھی۔ اس کا حل اس کی اگلی اور پچھلی ٹانگ کو آپس میں باندھ کر نکال لیا گیا۔ رسی نہ تو اتنی تنگ ہوتی کہ خچر سے چند قدم بھرنا مشکل ہو، نہ اتنی ڈھیلی ہوتی کہ دوڑ کر پکڑ سے باہر نکل جائے۔ ایسا کرنے سے خچر کو گھاس نہیں ڈالنا پڑتی، نہ ہی یہ دھڑکا ہوتا ہے کہ وہ دور بھاگ جائے گا۔ ساتھ ہی خچر اپنی خرمستی اور واہمے میں رہتا ہے کہ اسے کھونٹے سے آزادی دی گئی ہے۔
مجھے اپنی زندگی اور ان خچروں کے اس طرح چرنے کے درمیان ایک واضح مماثلت نظر آتی ہے۔ ایسے مجبور اور بے بس جنہیں یہ وہم ہے کہ وہ آزاد ہیں۔ جب کبھی میں اپنی زندگی میں کوئی آزادانہ فیصلہ لینے کی کوشش کروں یا سوچوں تو آباء کے نام کی عظمت کے ترانے، ان کا تفکر اور ارشادات سنا کر بالجبر مجھے پیچھے ہٹنے پہ مجبور کیا جاتا ہے۔ نام نہاد غیرت و عصمت کے شملے، ان کی ساکھ اور لاج مجھے بنیادی انسانی حقوق سے دستبردار ہونے کو کہتے ہیں۔ بے اصل و بے منطق سماجی دائرے، حدود، قدریں، (جنہیں درست الفاظ میں سماجی دباؤ کہنا چاہیے ) وہ ماحول جس میں میں بڑی ہوئی، سکول اور اس کے سخت گیر و کوتاہ بیں اساتذہ، روایت پرست قسم کے گرد و نواح سمیت ہر چیز نے اینٹی پروگریس خیالات، اقدار اور نظریات میرے اندر گہرائی تک بھر دیے تھے۔ میرا ذہن میری پیدائش اور بچپن سے ان ہی روایات پرست، اسیر پسند خیالات سے لبریز تھا۔ یہ سارے عناصر ایک رسہ بن گئے ہیں، ایک غیر مرئی مگر مضبوط رسہ جس نے میرے وجود کو جکڑ لیا ہے اور مجھے میرے ساتھ ہی ایک جنگ میں دھکیل دیا ہے۔ عقل ایک کام کہتی ہے لیکن روایات اس سے الٹ سبق پڑھاتی ہیں۔
کوئی کسی کو قید میں ڈال کر بھی مکمل طور پر قابو نہیں کر سکتا، کیوں کہ دوسرے فرد کے پاس سوچنے کی آزادی تو ہے۔ اگر کسی کو مکمل قید کیا جا سکتا ہے تو وہ صرف اس کے ذہن اور اس کے خیالات کو قابو میں لا کر ممکن ہے۔ اس طرح اسے کٹھ پتلی یا معمول بنا کر بے ضرر کیا جا سکتا۔ جب سوچ پر پردے اور زنجیر ڈال دی جائے تو کسی پنجرے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ میرے آباء نے میرے لیے کوئی موقع نہیں چھوڑا کہ میں دماغی طور پر آزاد رہ سکتی۔ ذہنی اور سماجی طور پر اتنی آزاد کہ میں اپنی زندگی کے اہم فیصلے اپنی مرضی سے لے سکوں اور لیتے ہوئے مجھے کوئی رنج، خوف، یا دباؤ متاثر نہ کرے۔ بظاہر لگتا ہے کہ میں سوچ سکتی ہوں، بول سکتی ہوں، میں تعلیم یافتہ ہوں لیکن اس کے باوجود خاندانی رسوم، مذہبی احکامات اور وہ تربیت جو مجھے ایک اچھا غلام بنانے کے لیے، اس نظام کی خوراک بنانے کے لیے دی گئی، وہ چیزیں ہیں جو مجھے یہ کہنے سے ہمیشہ روکتی ہیں : یس آئی ایم آن مائی وے۔
شناختی کارڈ میرا ہے لیکن اس پر ووٹ کس کو ڈالنا ہے یہ فیصلہ میرا نہیں۔ پیسے میں نے کمانے ہیں لیکن ان سے خرید کر وہی چیز لائی جا سکتی ہے جس کی اجازت دوسرے دیں گے۔ پڑھنا میں نے ہے لیکن سکول، کالج، کتابوں اور مضامین کا تعین کرنے کا حق میرا نہیں ہے۔ میں نے صرف وہی مضامین پڑھنے ہیں جن کی گنجائش برسوں پہلے فوت ہو چکے مفکرین نے اپنی کتابوں میں میرے لیے لکھ چھوڑی ہے۔ ان کے علاوہ کوئی شعبہ چننا نازیبا امر ہے۔ شادی کرنا ٹھیک ہے، لیکن اپنی مرضی سے کرنا ٹھیک نہیں۔ الفاظ میرے ہوں گے لیکن ان کا مفہوم کیا ہے یہ طے کرنے کا اختیار طاقت وروں کے پاس رہے گا۔
پڑھنے، شناخت رکھنے اور کرنسی کی ملکیت کے دعوے کے بعد بھی میرا اس پر عملی اقتدار ثابت نہیں۔ میں بالکل اسی خچر کی طرح ہوں جو چل سکتا ہے، چر سکتا ہے، لیکن وہ دوڑ نہیں سکتا۔ اس میں وہ فاصلہ طے کر کے اس حد بندی سے آگے بڑھنے کی سکت نہیں ہے جو اس کے مالک نے مقرر کی ہے۔ آخری بات یہی ہے کہ خچر کو مجھ جیسوں پر ایک فوقیت بہرحال حاصل ہے اور وہ یہ کہ اس کے پھیپھڑوں کو تر و تازہ آکسیجن ملتی ہے اور وہ چار دیواری سے باہر ہے، ہمیں یہ سہولت بھی نہیں دی گئی۔


