بنکاک: "فرشتوں کی بستی“ (2)


DR INAM UL HAQ GHAZI

”سیام“ تھائی لینڈ کیسے بنا؟

سیام تھائی لینڈ کا اصل نام ہے۔ اگر آپ خشک تاریخی معلومات سے بور نہ ہوتے ہوں تو آپ کی دلچسپی کے لئے چند ایک بتائی گئی باتیں پیش کر دیتا ہوں : سنا ہے سیام سنسکرت زبان کا لفظ ہے، کہا جاتا ہے کہ سولہویں صدی عیسوی میں پرتگالیوں نے اس پورے خطے پر اس نام کا اطلاق کیا۔ بتایا گیا کہ 23 جون 1939 کو سیام کا نام بدل کر تھائی لینڈ رکھا گیا۔ تھائی کا مطلب آزاد لوگ، لینڈ کا معنی سرزمین یعنی آزاد لوگوں کی سرزمین۔ نام کی اس تبدیلی کی دو وجوہات کا ذکر کیا گیا۔ ایک تو یہ کہ مچھلی خوروں کا یہ خطہ اس نئے نام کے ساتھ نئی اور جدید دنیا میں کندھے سے کندھا ملا کر چل سکے، دوسرا اس لئے کہ یہ ملک تاریخ میں کبھی بھی کسی اور قوم کا غلام یا کالونی نہیں بنا۔ یہ جو میں کہہ رہا ہوں کہ ”سنا ہے“ ، ”کہا جاتا ہے“ اور ”ذکر کیا گیا ہے“ تو اس کا منبع صرف ایک ہی ذاتِ گرامی ہیں یعنی ہمارے نان سٹاپ براہِ راست کمنٹری دان میزبان پنوٹاٹ المعروف ”پُنوں“ ۔ نام کی تبدیلی اور مذکورہ فوائد کے باوجود وہاں کے لوگ، جیسا کہ ”بتایا گیا“ اب بھی اپنے آپ کو سیامی کہلوانا زیادہ پسند کرتے ہیں۔

”سیام نرامت شو“ تاریخ اور تخیل کا حسین امتزاج:

”نرامت“ کا مطلب تصوراتی اور خیالی ہے۔ ”سیام نرامت شو“ ایک ثقافتی ڈرامائی شو ہے جسے جدید ترین سمعی، بصری، تکنیکی اور فنی مہارتوں کی آمیزش سے پیش کیا جاتا ہے۔ اِس شو میں گزشتہ سات صدیوں کے دوران تھائی لینڈ کی تشکیل اور ترقی کو مختلف مراحل میں دکھایا جاتا ہے۔ ”سیام نرامت شو“ کے لئے ہوٹل سے نکلے تو وہاں تک جانے میں ڈیڑھ گھنٹہ لگ گیا۔ اگرچہ فاصلہ زیادہ نہ تھا مگر رش کی وجہ سے ٹریفک چیونٹی کی رفتار سے چل رہی تھی۔ وہاں مجھے اپنے ہاں کا ایک پرانا مگر مشہور لطیفہ خوب یاد آیا کہ ایک شخص مری روڈ راولپنڈی پر پیدل جا رہا تھا۔ تھوڑی دیر بعد اُسے اپنے ایک دوست کی آواز آئی جو گاڑی میں تھا اور اسے کہہ رہا تھا کہ میرے ساتھ گاڑی میں بیٹھ جاؤ۔ مگر پیدل چلنے والے نے معذرت کی اور کہا: ”یار مجھے ذرا جلدی پہنچنا ہے“ ۔

”سیام نرامت شو“ ایک بڑے کمپلیکس میں واقع وسیع ہال میں پیش کیا جاتا ہے جس میں تقریباً تین ہزار لوگوں کے بیٹھنے کی جگہ ہے۔ تجسس سے بھرپور ہم، ٹکٹ کٹا کر، لائن بنا کر جب ہال میں داخل ہونے کے لئے اٹک اٹک کر خراماں خراماں چل رہے تھے تو ہمیں بتایا گیا کہ اندر کیمرہ لے جانا اور تصویریں بنانا سختی سے منع ہے۔ خیر جگاڑیات میں دھکے کھاتے پرائمری پاس کر لینے کی بدولت، کیمرہ تو اندر لے جانے میں ہم کامیاب ہو ہی گئے اور شو شروع ہونے سے پہلے ایک آدھ تصویر بھی بنا ڈالی، مگر جب شو کا آغاز ہوا تو اُس کی چکا چوند روشنیوں اور بے پناہ کشش نے ہاتھ میں اٹھایا ہوا کیمرہ ہی بھُلا دیا۔ بیچ میں کسی لمحے تصویر لینے کا خیال کُوندا بھی تو منتظمین کی سخت نگرانی نے اُس پر اوس ڈال دی۔ یوں اِن اندرونی اور بیرونی طاقتوں نے ہمیں اس شو کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ نہیں کرنے دیا۔ جدید ترین ٹیکنالوجی اور ڈرامائی تشکیل کی تکنیکی مہارتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے پیش کیے جانے والے ”سیام نرامت شو“ کو 9 حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے :

پہلے حصے میں، جسے تعارفی حصہ بھی کہا جا سکتا ہے، گزشتہ سات صدیوں کے دوران سیام سے تھائی لینڈ تک کے سفر میں شریک مختلف ثقافتوں کو سلسلہ وار واقعات کی مدد سے دکھایا گیا اور یہ تصور اُجاگر کیا گیا کہ یہ ملک رنگا رنگ ثقافتوں اور روایات سے مل کر بنا ہے جس میں مقامی ثقافت کے ساتھ ساتھ چین، ملایا اور دیگر ہمسایہ ممالک کی ثقافتیں بھی جذب ہوتی گئیں۔

دوسرا حصہ تاریخی ادوار کے تعارف پر مشتمل تھا جس میں تقریباً تمام ادوار کا مختصر مگر بھرپور خاکہ پیش کیا گیا۔ تیسرا حصہ شمال یعنی ملایا کی طرف سے آنے والے مسلمان تاجروں کی آمد اور اُس کے مقامی لوگوں پر اثرات کے متعلق تھا۔ اِس حصے میں پُر اثر رومانوی انداز میں ایک دوسرے کی ثقافت کے ملاپ اور اُس کے نتیجے میں پروان چڑھنے والی محبت کی داستانوں اور رسوم و رواج کی خوبصورت انداز میں عکاسی کی گئی۔ مجھے ذاتی طور پر یہ حصہ زیادہ پسند آیا۔ اس دوران ”پُنوں“ کی کمنٹری اور ہمارے ساتھیوں منیر احمد کی بدنی بولی اور اظہر کی خاموش اور پُراسرار باتیں جاری رہیں۔ موسیقی، ڈھول کی تھاپ اور ساز و انداز کے شور میں ”پُنوں“ کی آواز کانوں پر نہ پڑتی تھی، تاہم بدنی بولی اور پُراسرار خاموش باتیں اچھی طرح سمجھ میں آ رہی تھیں۔ یہ الگ بات کہ اُن کی طرف دھیان دینے کا مطلب شو کے نظارے کھو دینا تھا۔ چوتھے حصے میں کمبوڈیا کی تہذیب کے تھائی لینڈ پر اثرات دکھائے گئے تھے۔ یہ وہی علاقہ ہے جسے قرونِ وسطیٰ کے بعض عرب سیاحوں نے بھی دیکھا اور اُس کی چند خصوصیات پر پسندیدگی کا اظہار کیا۔ پانچواں حصہ اَیُودھیا کے لوگوں کی آمد اور مقامی آبادی میں رچ بس جانے سے متعلق تھا۔ چھٹا حصہ گزشتہ ثقافتوں کے باہمی ملاپ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے معاشرے کی تصوراتی اور سحر انگیز منظر کشی پر مبنی تھا۔ ساتواں حصہ بدھ مت کی تعلیمات کے پھیلاؤ کے بارے میں تھا۔ اِن تعلیمات کی عکاسی بھی کمال کی تھی۔ خیر و شر، اچھے برے، نیک و بد اور جنت و جہنم کو بدھ مت کے تصورات کے مطابق ایسا پرفارم کیا گیا تھا کہ ایک بار تو ہوش ہی اڑ جائیں۔ آٹھواں حصہ جنگلات کے فوائد اور اُن میں پنپنے والے طلسماتی حالات کے بارے میں تھا۔ نواں اور آخری حصہ تمام ثقافتوں، اقوام اور تاریخی ادوار کے نتیجے میں جنم لینے والے پُر لطف میلوں کی عکاسی کرتا تھا جو کہ تھائی لینڈ میں سارا سال جاری رہتے ہیں۔

ہمارے مختصر قیام کے دوران، ایک دن سڑک پر چلتے چلتے رنگ برنگے مرد و زن رقص کرتے دکھائی دیے، پوچھے بغیر بتایا گیا کہ یہ فلاں فلاں میلے کا پروگرام ہے۔ نام کسی ایسی زبان میں تھا کہ دو تین بار دہرانے کے باوجود یاد رکھنے میں جب ناکامی ہوئی تو اِس خواہش کو ہی ترک کرنا پڑا کہ اگلے قدم پر ایک اور نظارہ ہماری متجسس نگاہوں کا منتظر تھا۔

ہماری گنتی کا امتحان:

ہماری گنتی کا تو یہ حال ہے کہ 10 کو ایک اور 20 کو دو سو بنانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ اس لئے ”سیام نرامت شو“ کے متعلق خود کچھ گننے کی کوشش نہیں کی بلکہ بتائے گئے ایک ہونہار شاگرد کی طرح لکھ لیا۔ اب اُسی پر بھروسا ہے۔ بتایا گیا کہ اس شو میں کل 15 پرفارمنس ہوتی ہیں جن میں 500 کے قریب کاسٹیوم استعمال کیے جاتے ہیں۔ یہ سن کر ہم اِن اعداد و شمار کو انگلیوں کی مدد سے گِن کر سمجھنے کی کوشش کرتے کرتے بے بسی کا شکار ہو گئے۔

خوبصورتی کی تلاش:

بہرحال رات گئے جب ہال سے نکلے تو باہر بھی کئی طرح کی دلچسپیاں تھیں۔ اِن دلچسپیوں کے بارے میں میرے دیگر ساتھیوں کے کیا تاثرات تھے؟ یہ تو مجھے معلوم نہیں ہو سکا، تاہم روشنیوں کی چکا چوند میں اسٹیج پر پرفارم کرنے والی ”پریوں“ کو جب قریب سے دیکھا تو دن بھر گھومتے رہنے کی تھکاوٹ اور شب بیداری کی نقاہت نے جمائیوں کے ذریعے منہ زور نیند یاد دلا دی۔ اپنا مَن تو اُس حُسن کا دلدادہ ہے جو پرت کھلنے کے ساتھ ساتھ خوبصورتی کے نئے نئے زاویے آشکار کرے۔

بے چاری جمہوریت:

اگلے دن یعنی 6 اکتوبر کو صبح نو بجے ہمارا پہلا ہدف Mansion Vimarn Meek تھا جسے تھائی لینڈ کے مشہور و محبوب بادشاہ شولا لانک کارن نے ایک سو بیس سال قبل بنوایا تھا جس میں تقریباً 12 چھوٹی بڑی عمارتیں تھیں۔ وہاں جانے سے قبل ہوٹل کی لابی میں میرے اور پنوٹاٹ کے درمیان جمہوریت اور شخصی حکومت کے موضوع پر بحث چھڑ گئی۔ اس بحث و مباحثے کا مجھے یہ فائدہ ہوا کہ میری سُستی دور ہو گئی۔ یہ بحث گاڑی میں بیٹھتے ہی دوبارہ شروع ہو گئی اور اگلے دن ہوا ہن Hua Hin (تھائی لینڈ کا ایک ساحلی شہر) جاتے ہوئے بھی جاری رہی۔ پنوٹاٹ کے خیال میں شخصی حکومت جمہوریت سے بہتر ہے کیونکہ اس میں استحکام، امن اور معیشت میں بہتری آتی ہے جب کہ میرا کہنا یہ تھا کہ یہ تمام اچھے اثرات اگر ہر شخصی حکومت میں ہوتے ہیں تو بھی وہ طویل مدت کے لئے فائدہ مند نہیں ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ جمہوریت کو پنپنے اور مضبوط ہونے میں تسلسل، وقت، تعلیم، تہذیب اور تربیت کی اشد ضرورت ہوتی ہے ورنہ یہ اپنے ابتدائی مراحل میں ضروری عناصر کے فقدان کی صورت میں بہت نقصان دہ بھی ہوتی ہے۔ ہم دونوں کی گفتگو میں کبھی کبھار منیر احمد صاحب بھی کُود پڑتے اور نہ جانے کیوں اپنا وزن اکثر شخصی حکومت کے حق میں ڈال دیتے۔ تاہم میں پھر بھی جمہوریت کے حق میں ہی بولتا رہا۔ پھر خاموش مجاہد اظہر قریشی کی مداخلت سے ایک مقام ایسا آ ہی گیا کہ جہاں مشترکہ متفقہ نکات کی نشاندہی کر لی گئی اور بوریت پیدا کرنے والی یہ بحث ختم ہو گئی اور شکر ہے اگلے تین دن دوبارہ نہ چھڑی۔

ویمرن میک مینشن کا راستہ اور ”میوزمیریا:

ہاں تو میں بتا رہا تھا کہ چھ اکتوبر کو ہمارا پہلا ہدف بنکاک کی مشہور ترین تاریخی عمارتوں میں سے ایک یعنی و یمرن میک مینشن تھا۔ راستے میں جاتے ہوئے ہمارے بیدار مغز میزبان یعنی ”پُنوں“ نے دیگر عمارتوں کے متعلق نان اسٹاپ کمنٹری جاری رکھی۔ یہاں اسلحہ خانہ ہوتا تھا، مگر اب میوزیم ہے۔ یہاں قیدیوں کو رکھا جاتا تھا مگر اب میوزیم ہے۔ یہاں بادشاہ بیٹھ کر چائے پیتا تھا، مگر اب میوزیم ہے۔ وہاں بادشاہ کھڑے ہو کر کافی پیتا تھا مگر اب میوزیم ہے۔ میں سوچ رہا تھا کہ چائے بیٹھ کر اور کافی کھڑے ہو کر۔ اس میں کیا حکمت ہے؟ پھر یہ واقعی چائے کافی ہی ہوتی تھی، بہرحال ”پُنوں“ کی اس کمنٹری سے لگا کہ تھائی لینڈ کے لوگوں کو ”میوزمیریا“ کی علت ہے کہ ہر چیز کو ورثہ قرار دے کر میوزیم بنا ڈالتے ہیں۔ نہ جانے اس میں کتنے معاشی فوائد اور حکمت عملیوں کے راز پوشیدہ ہیں۔ اِس کمنٹری کے دوران میرے کانوں میں یہ آواز بھی آئی کہ یہ عمارت شہزادی ماہا چکری المعروف ماہی دو کی رہائش تھی اور (اب۔ پھر اب) میوزیم ہے۔ اس کے علاوہ 85 سال قبل ہونے والی تھائی لینڈ اور جنوبی کوریا کے درمیان جنگ کی یادگار بھی دیکھی۔ بتایا گیا کہ یہ جنگ تھائی لینڈ نے امریکہ بہادر کی مدد سے جیتی تھی۔ یہ یاد گار طویل مینار کی شکل میں ایک بہت بڑے چوک میں ایستادہ ہے۔

ویمرن میک مینشن، شاہی محل اور کھیوڑا کی کانیں :

جب ہمارا قافلہ مینشن یعنی سابقہ شاہی محل پہنچا تو معلوم ہوا کہ اس کے اندر سات بڑی بڑی اور چھوٹی چھوٹی دیگر عمارتیں بھی ہیں۔ میسر وقت اور ہمت نے ہمیں صرف تین عمارتیں ہی دیکھنے کا موقع دیا۔ سب سے پہلے مینشن میں ہم نے ٹیک وڈ Teak Wood سے بنی ہوئی دنیا کی سب سے بڑی عمارت کو شرفِ ملاحظہ عطا فرمایا۔ اس عمارت کو لگ بھگ سو سال قبل تعمیر کیا گیا تھا۔ تعمیر کا حکم تھائی لوگوں کے محبوب ترین بادشاہ شولا لانک کارن نے دیا تھا۔ حکم دینے والا محبوب بھی ہو اور اوپر سے بادشاہ بھی ہو تو تصور کیا جاسکتا ہے کہ ماہرین، کاریگروں اور مزدوروں کا جذبہ عمل کیا ہو گا؟ ٹکٹ لے کر، موبائل اور کیمرہ جمع کروا کر، جوتے جرابیں اتار کر جب ہم اندر داخل ہونے لگے تو ہماری مڈبھیڑ ڈریس کوڈ والے بورڈ سے ہوئی۔ اپنے خیال میں تو ہم اندر داخل ہونے کے ضرورت سے زیادہ تقاضے اور شرائط پوری کر چکے تھے مگر اس بورڈ پر جو ہدایات درج تھیں وہ کسی عبادت خانے میں داخل ہونے جیسی لگ رہی تھیں : ان ہدایات میں، جنہیں تصاویر کی مدد سے واضح کیا گیا تھا، سب سے مزے کی ہدایت یہ تھی کہ بغیر بازو کے لباس پہن کر اندر جانا منع ہے۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ اگرچہ اب بادشاہ لوگ یہاں رہتے نہیں مگر اُن کے زمانے کا پروٹوکول اب بھی بحال رکھا گیا ہے۔ ایک وجہ وہی کہ اس ”بستی“ کے ”فرشتہ نما لوگ“ اپنے فرشتہ صفت بادشاہوں خصوصاً شولا لانک کارن کے لئے عقیدت، محبت اور احترام میں ڈوبے رہتے ہیں اور اس کے اظہار کے لئے نت نئے انداز ایجاد کرتے رہتے ہیں۔ دوسری وجہ (جو بتائی تو نہ گئی) جو مجھے سوجھی وہ یہ ہے کہ اس طرح کے طریقے سیاحوں میں حیرت کے جذبے کو بیدار کرتے ہیں اور حیرانی کا عنصر سیاحت کے فروغ میں پھیکے پکوان میں چٹ پٹے مسالے کا کردار ادا کرتا ہے۔ زمانۂ طالب علمی میں ایک بار ہماری یونیورسٹی کا ٹرپ کھیوڑا میں نمک کی کانیں دیکھنے گیا۔ کانوں کے عین درمیان میں سرخ رنگ کا چمکدار نمک طلبہ کے لئے خصوصی کشش کا حامل تھا۔ ہمارے گائیڈ نے نمک کے ایک حصے پر کھڑے ہو کر طلبہ کو بتایا کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں اداکارہ شبنم اور زیبا نے نمک چاٹا ہوا ہے، ابھی یہ جملہ مکمل ہوا ہی تھا کہ چند ایک پُھرتیلے طالب علم دیوانہ وار چھلانگ لگا کر اس جگہ پہنچے اور نہایت عقیدت، انہماک اور دنیا و مافیہا سے بے خبر ہو کر اُس جگہ پر اپنی زبانیں ٹکا دیں۔ ہم جیسے پیچھے رہ جانے والے اس منظر کو حسرت سے دیکھ ہی رہے تھے کہ اچانک تھو تھو، اُف اف اور ہائے ہائے کی بے سُری آوازوں نے ہمارا مزہ بھی کرکرا کر دیا۔ ہمارے یہ ساتھی ہاسٹل واپس آنے تک زبان کی کڑواہٹ، جو اْن کے دلوں تک جا پہنچی تھی، سے نجات نہ حاصل کر پائے تھے۔

ٹیک وڈ سے بنی اس دو منزلہ عمارت کا کمال یہ تھا کہ اس میں لکڑی کے سوا اور کچھ بھی استعمال نہیں کیا گیا تھا۔ چھت، فرش وغیرہ غرض کہ ہر چیز لکڑی سے ہی بنی ہوئی تھی۔ عمارت میں بادشاہوں، شہزادوں، شہزادیوں اور خدمت گاروں کے استعمال میں آنے والے مختلف حصے یعنی آرام گاہیں، ضیافت گاہیں، دفاتر، برآمدے، ذاتی کمرے، حمام اور نہ جانے کیا کیا دیکھا۔ بعض حصے مرمت اور تزئین و آرائش کی خاطر بند ملے۔
(جاری ہے )

Facebook Comments HS