اپنا کمانے والیاں
دیکھ بیٹی! جو عورتیں خود کماتی ہیں۔ انھیں اپنے فیصلے کرنے کی کافی خود مختاری ہوتی ہے۔ اس لئے اپنا کما۔ یہ ڈائیلاگ ایک ڈرامے ’تن من نیل و نیل‘ میں سنا۔ دل پر لگا اور کئی خود کمانے والیاں پردہ یادداشت پر آ گئیں۔ اپنی ’زندگیوں‘ میں کتنا اختیار ان کے پاس ہے؟ آئیں ان میں سے کچھ کو آپ بھی دیکھ لیں۔
پہلی کمانے والی کی شادی کو تو اب بیس سال ہو گئے ہیں۔ اور اس سے بھی ایک دو سال پہلے سے ہی وہ سرکاری اسکول کی استاد ہے۔ اتنے سال سے پیسے کما رہی ہے۔ لیکن دوسری باتوں کو تو چھوڑیں۔ شادی کے لئے رضامندی بھی کسی نے نہ لی۔ اور شادی کے بعد تو کھانا میں کیا پکانا ہے، اس کا فیصلہ بھی ساس کرتی ہے۔ اور جو جہیز بھر کر ٹرک لے کر گئی تھی، اس کا استعمال کب اور کہاں کرنا ہے۔ اس پر ان کے علاوہ سارے سسرال کی مرضی تھی۔ سونے پر سہاگہ جب پانچ سال بے اولادی کے ہو گئے تو بچہ گود لینے کا فیصلہ بھی ان پر مسلط کیا گیا۔ اور جب تین سال ٹکریں مار مار کر اس کو پالنے کا ہنر سیکھ لیا تو ہفتے دس تک انھیں کہیں مہمان بھیج کر پیچھے سے بنا بتائے اہتمام سے شوہر نے دوسری شادی کر لی۔
دوسری کا حال سنیں۔ طبیب ہے۔ مستقل ملازمت ہے۔ سرکاری گھر بھی اسی کا مرہون منت ہے۔ ساتھ میں کلینک بھی۔ نہ دن کا خیال نہ رات کا۔ اپنا کیرئیر بنانے کا جنون ہے اوپر سے شوہر بھی تجربوں کا شوقین۔ اس لئے یہ تجربے نوکری پر نکلتے رہتے ہیں۔ خیر جو بھی ہے، دونوں ایک دوسرے کے ساتھ چل رہے ہیں۔ ساتھی بن کر قدم چلا رہے ہیں۔ گھر کی معاشی کفیل وہ طبیبہ ہے۔ لیکن اس کی آمدنی کہاں خرچ کرنی ہے۔ اس کا فیصلہ بنک اکاؤنٹ بھرنے سے پہلے ہی ہو جاتا ہے۔ کتنی کمیٹیاں ڈالیں گے اور کتنے کی؟ اس کی خبر اس کو پہنچا دی جاتی ہے۔ گاڑی خرید کر استعمال کس نے کرنی ہے، اس معاملے میں بھی وہ معزول ہی ہے۔
تیسری کمانے والی کی شادی اپنے چچا زاد سے ہوئی۔ جہاں ستر فیصد سسرال اسی کے شعبے سے منسلک ہے یعنی سرکاری تعلیمی ادارے۔ جہاں سب آپ کی تنخواہ، اس میں اضافہ، کس تاریخ کو آئی، کیوں نہیں آئی، سے آپ سے پہلے ہی آگاہ ہوتے ہیں۔ سسر سب کی تنخواہوں کے خزانچی اور پھر وہی سب بیاہے، کماؤ بیٹوں، بہووں کو جیب خرچ دیتے۔ نوکری میں ترقی ملی، نئے اسٹیشن پر جانا نہ جانا، ان کی اجازت پر منحصر۔ تبادلہ کروانا ہے، کہاں کروانا ہے کہاں نہیں، سب کاغذات انگوٹھا لگنے کے لئے کمانے والی کے پاس آ جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ کس ڈاکٹر سے علاج کروانا ہے۔ میکے کب، کتنے دن کے لئے جانا ہے؟ کیسے اور کس کے ساتھ جانا ہے، کپڑے کیسے خریدنے ہیں، ان کے عندیے سے ہوتا ہے۔
چوتھی کسی ادارے میں نوکری نہیں کرتی۔ ایک جاگیردارنی ہے۔ کئی مربعے زمین کی مالک۔ جس کی لاکھوں کی ماہانہ محتاجری (ٹھیکیداری) ہے۔ اس کے علاوہ ساٹھ تولے سے اوپر سونا اس کے پاس ہے۔ لیکن شہر میں ایک مکان اور گاڑی اپنی مرضی سے نہیں خرید سکتی کہ بچی کو پڑھانے میں آسانی ہو۔ نام نہاد شادی کو ختم نہیں کر سکتی کہ پوری برادری اس کے خلاف ہے۔ لاکر میں بند زیور اور نام لگی ایکڑوں جائیداد کی مالک صرف کاغذوں میں نام کی حد تک ہے۔ ورنہ بھلے کرائے کے مکانوں میں دھکے کھاتی رہی یا رکشوں میں خوار ہوتی رہے۔ اتنی خود مختار اور عقل مند اسے کوئی نہیں سمجھتا کہ کوئی فیصلہ لے سکے۔
یہ تو صرف چار کمانے والیوں کی کہانی ہے ورنہ پچیس کروڑ کی آبادی میں تیرہ کروڑ خواتین ہیں۔ اور کل کمانے والی آبادی میں بائیس فیصد یہی خواتین۔ جس کا اختیار کھانے میں کیا پکے گا، بچوں نے آج کیا پہننا ہے؟ تک ہے۔ اس طرح کی مرضی پوچھنا، فیصلوں میں شمولیت کے زمرے میں نہیں آتا۔ اور یقین جانیے کئی گھرانوں میں ’کمانے والیاں‘ اس طرح کے کم اہم فیصلے کو بھی ترستی ہیں۔ کجا کہ اہم اور بڑے فیصلوں جیسا کہ بچہ کس اسکول میں داخل ہو، اعلیٰ تعلیم، شادی کے بعد مزید تعلیم، گاڑی چلانا، خاندان میں لیں دین وغیرہ میں ان کی حصہ داری اور آزادی ہو۔
مختصراً کچھ کرنے نہ کرنے کی خود مختاری پیسے کمانے سے نہیں آتی۔ تربیت سے آتی ہے۔ جس کا ہمارے ہاں فقدان بلکہ قحط ہو رہا ہے۔ اور اگر صرف چار پیسے ہاتھ میں ہونے سے آ بھی جائے۔ تو وجہ یا تو کم یا نہ کمانے والا مرد ہو گا، یا مرد کفیل و سرپرست ہو گا ہی نہیں۔



یہ محض چار مثالیں ہیں۔ کیا خدیجہ وکیل، طاہرہ کاظمی۔ عاصمہ جہانگیر یا بے نظیر (مرحومہ)، آسکر جیتنے والی شرمین عبید، مریم نواز شریف، بیگم عابدہ حسین یا جگنو محسن (بیگم نجم سیٹھی) بھی انہی مسائل سے گزریں یا گزر رہی ہیں۔
–
اوؒل الذکر مثال میں غلطی خود اس خاتون کی ہے ہمت کرے اور شوہر پر مقدمہ کرے ورنہ ایسے رونے پیٹنے سے کیا فائدہ۔ اگر شوہر نے دوسری شادی کربھی لی تو کیا مشکل ہے۔
اگر اجازت نہیں لی اور خاتون کو دکھ ہے تو وہی بات کہ مقدمہ کرے یا خلع لے لے۔
یہ بھی تو ممکن ہے کہ مرد نہیں بلکہ خاتون میں بیماری ہو یا کسی وجہ سے دونوں کی کیمسٹری نہ بن رہی ہو۔ ایسے معاملات میں بہتر یہی ہوتا ہے کہ خاتون عقل کا مظاہرہ کرے اور خود آگے بڑھ کر شوہر کو دوسری شادی کا مشورہ دے۔ ورنہ کر تو وہ خود بھی لے گا۔ افریقی اور ایشیائی ممالک میں ایسی سینکروں خواتین ہیں جو خود شوہر کی دوسری شادی کرواتی ہیں اپنی پسند سے سوتن لاتی ہیں اور آنے والی ان کو عموماً سر پر بٹھاکر وہی عزت دیتی ہے جو ساس کو ملتی ہے۔ ہم مسلمان ہوکر ہندوانہ رسومات میں ایسے پھنس گئے ہیں کہ دوسری شادی کو گناہ یا مشکل بنادیا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ مصیبت تو شوہر پر آئے گی اور اسے لگ پتہ جائے گا۔
–
دوسری مثال میں یہ فیصلہ ڈاکٹر خاتون کا ہے اگر وہ اس میں تبدیلی چاہتی ہیں تو کس نے روکا ہے ؟ اگر شوہر کو پہلے دن سے چیک کرلیتیں یا اب بھی روک لیں تو ان کو یہ حق حاصل ہے۔ موجودہ زندگی میں اگر وہ خوش ہیں تو دوسروں کو کیا مشکل۔
–
تیسری مثال میں دیکھنے کی بات یہ ہے کہ اگر گھر کا خزانچی کوئی بزرگ ہے اور پہلے دن ہی خاتون نے اس کی چوہدراہٹ کو مان لیا تو بلی کو پہلے دن ہی مارنا چاہئے تھا۔ اب جو کچھ بھی ہورہا ہے اس کا حل یہی ہے کہ یا تو جوائنٹ فیملی سے نکلا جائے یعنی سسر کا گھر چھوڑیں (جس کے اپنے نقصان ہیں) یا گزارا کریں۔ خاتون چاہے تو نوکری چھوڑ کر گھر بھی بیٹھ سکتی ہیں۔ بہت ساری خواتین شادی سے پہلے یا اس وقت بتادیتی ہیں کہ میرے پیسے میرے ہی ہوں گے۔
–
گھر میں کھانا اگر کماؤ پوت بہو کی مرضی سے نہیں پکتا تو جوائنٹ فیملی میں ایسے مسائل کا حل یہی ہے کہ یا الگ گھر میں رہیں یا ساس کو مٹھی میں کرنے کی کوشش کریں۔ ایک لمحے کو خود بھی سوچنا چاہئے کہ کماؤ پوت بہو کے اپنے گھر یعنی ماں کے گھر میں کیا ہوتا ہے۔ کیا وہاں ان کی اپنی ماں بھی عمومی طور پر وہی کچھ نہیں کررہی ہوتی جو دوسری ساس اس کے ساتھ کررہی ہوتی ہے۔
–
جاگیر دارنی کی مثال میں تبصرہ اس لئے نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ مکمل تفصیل موجود نہیں۔
–
میں ایسے متعدد مرد حضرات کو جانتا ہوں جو کولہو کے بیل کی طرح کئی کئی ملازمتیں کرتے ہیں۔ بیوی دن بھر گھر میں رہتی ہے۔ اور سارے فیصلے کرتی ہے جب کہ شوہر کو اپنی کمائی خرچ کرنے کا حق بھی حاصل نہیں ہوتا اور بیوی روزانہ سفر اور خرچ کے پیسے شوہر کو اسی کی تنخواہ سے دے رہی ہوتی ہے۔ ایسا شوہر کیا کرے جن کی تعداد چند نہیں بلکہ لاکھوں کروڑوں میں ہے۔
–
سچ تو یہ ہے کہ انسان کسی حال میں خوش نہیں رہتا بالخصوص پاکستانی معاشرے کی پڑھی لکھی خواتین۔