سنہ 2024 کی سیاست ایک رومانوی کہانی
نئے سال میں ہلکی ہلکی سی دھوپ بادلوں میں سے جھانکتی ہوئی ماحول کو تازہ نئی روشنی دے رہی ہے۔ نیا سفر شروع کرنے سے پہلے 2024 ء میں مجموعی طور پر پاکستان کی سیاست پر ایک نظر ڈالنا بہت ضروری ہے۔ پاکستان کی سیاست یوں تو ہمیشہ سے ہی مگر خصوصاً 2024 ء میں سیاست ایک پیچیدہ اور پُرجوش داستان بنی رہی جس میں عوام کے جذبات، خواب، سچ اور جھوٹ کے ملے جلے امتزاج نے ہلچل مچا کے رکھ دی۔ سیاسی طور پر یہ ایسا سال تھا جہاں سیاست دان اداکار اپنے بیانیے کو شاعرانہ انداز میں پیش کرتے رہے۔ اس سال کی مکروہ سیاست کو اگر کسی الف لیلیٰ داستان سے جوڑا جائے تو یہ عوام کی محبت کی ایک ایسی رزمیہ داستان تھی جس میں کروڑوں دل ٹوٹے، خواب بکھرے مگر پھر بھی اُمید کے دیے روشن رہے۔
2024 ء کا سورج بھی ایک نئی محبت کی طرح طلوع ہوا تھا۔ عوام نے بڑی اُمیدوں کے ساتھ سیاسی جماعتوں کی طرف دیکھا۔ لگتا تھا یہ وہ سال ہو گا جب سب کچھ نیا ہو گا، ان کے مسائل کا حل نکلے گا۔ پہلے مہینے ہی میں جب انتخابی مہمیں شروع ہوئیں تو ہر شہر کی گلیاں رنگین پوسٹروں سے سج گئیں۔ سیاست بازوں کے جوشیلے نعرے، تقریریں اور جھوٹے وعدے عوام کو ہمیشہ کی طرح بے وقوف بناتے رہے۔ سیاست بازوں نے اپنے سیاسی منشور کو اپنی لچھے دار باتوں میں کچھ اس طرح پیش کیا کہ عوام کو لگا کہ بس اب تمام مسئلے حل ہوجائیں گے۔ لیکن محبت کی قسمت تو ہے ہی بُری اور ایسے ہی نصیب ہمارے ہیں بحیثیت عوام کے نہ تو غربت ختم ہوئی اور نہ انصاف کا بول بالا ہوا اور نہ ہی ترقی ملی۔ عوام بیوقوف عاشق کی طرح ان کے وعدوں پر یقین کرنے کو تیار تھے۔ 8 فروری کو عوام نے اپنی محبت کا اظہار تمام تر رکاوٹوں کے باوجود بڑے دھڑلے سے دیا مگر ان کا مینڈیٹ چوروں نے بالکل ایسے چُرا لیا جیسے محبوب کا دل چوری کیا جاتا ہے اور پھر نظریں بھی چُرا لیں۔ پاکستان کی سیاست نے اپنے چاہنے والے عوام کے دل اپنے قدموں تلے روند ڈالے۔ نئی حکومت تو بنی مگر بے وفائی سے کم ہرگز نہ تھی۔ دوسری طرف اپوزیشن کی گھن گرج احتجاجی مظاہرے اس معشوق کی ناراض نگاہوں کی طرح تھیں جو اپنی محبت کے لُٹ جانے پر لڑ رہا ہو۔ مہنگائی اور سیاسی بحران نے عوامی خوابوں کو توڑ کر رکھ دیا۔ وہ خوشیاں جو لوگوں نے اپنے ووٹ بیلٹ باکس میں ڈال کر حاصل کی تھیں غموں میں بدل گئیں۔
معاشی بحران نے سیاست کے رومان کو کڑوی گولی میں بدل دیا۔ مگر پھر بھی محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے۔ محبت کی کہانیوں میں ہمیشہ اُمید کا دامن ساتھ رہتا ہے۔ سیاسی اور معاشی بحرانوں کے باوجود چند ایسے لمحے بھی آئے جب مختلف جماعتوں نے بظاہر ملک کی خاطر اتحاد کا مظاہرہ کیا اور مخلوط حکومت بنا ڈالی مگر عوام کے مسائل کے حل کی طرف سے نظریں چُرا لیں۔ عوام تو اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اپنی انفرادی کاوشوں سے ملکی ترقی میں حصہ بھی ڈال رہے ہیں۔ جیسے ہر محبت کی کہانی میں آزمائش اُسے اُداس کر دیتی ہے، اسی طرح ہمارے سیاست باز اپنے جھوٹ کی سیاہی کو ایسے رنگ آمیز کرتے ہیں کہ سچ کی روشنی وہیں کہیں اندھیروں میں گُم ہوجاتی ہے۔ پاکستان کے عوام اور سیاست بازوں کا رشتہ اس دیرینہ محبت کی کہانی جیسا ہے جہاں وہ گھر بسانے کے لیے جھلمل ستاروں جیسے خواب دیکھتے رہتے ہیں۔ 2024 ء کے انتخابات سیاست بازوں کے لیے ایک ایسا سبق تھا کہ عوامی اور سیاسی رشتہ تبھی مضبوط ہو سکتا ہے جب وعدے پورے کیے جائیں۔ سچ کو مانگے تانگے جھوٹ کے نہیں بلکہ سچائی ہی کے روشن لباس میں سامنے آنا چاہیے۔ انٹرنیٹ جو آج کی جدید دُنیا کی اہم ترین ضرورت ہے اسے اتنا سُست کر دیا گیا کہ آن لائن کاروبار کرنے والے تلملا اُٹھے۔ سیاست باز یہ بھول جاتے ہیں چاہے دیر سے ہی سہی جھوٹ کی قلعی کھُل ہی جاتی ہے۔
پچھلے برس ملک میں تعلیم کی شرح میں کوئی قابلِ ذکر اضافہ نہیں ہوا۔ خواتین کے حقوق بھی متواتر ردّی کی ٹوکری میں پڑے ہیں۔ بجُز اس کے کہ سب سے بڑے صوبے کی وزیر اعلیٰ ایک عورت ہے۔ عورتوں کے خلاف تشدد، قتل اور سماجی عدم مساوات میں کئی گنا اضافہ ہوا۔ اقلیتوں کو بھی مساوی حقوق فراہم کرنا کابینہ کی اہم ترین ذمہ داری ہے۔ 2024 ء میں سرمایہ کاری کے لیے بھی کوئی ساز گار ماحول نہیں تھا۔ جمہوریت کس چڑیا کا نام ہے یہ تو ہمارے سیاست دانوں کو معلوم ہی نہیں۔ عدلیہ اور دوسرے ریاستی ادارے بھی رَج کے کمزور ہوئے۔ درآمدات پر انحصار اور برآمدات میں کمی نے بھی محبوب کی طرح بے وفائی کی۔ نوجوان نئی محبتوں کو کھوجنے کے لیے اپنے وطن ہی کو چھوڑ گئے۔ ماحولیاتی تبدیلی میں پچھلے برس کہیں سیلاب، کہیں خشک سالی اور گرمی کی شدید لہر نے عوام کو متاثر کیا۔ اربابِ اختیار کو شجر کاری مہمات، پانی کے ذخائر کی تعمیر اور توانائی کے ذرائع پر وفا کی طرح کام کرنا چاہیے۔ روپے کی قدر میں شدید کمی، قرضوں کا بڑھتا ہوا بوجھ، آئی۔ ایم۔ ایف کے ساتھ کیے گئے معاہدے سب نے مل کر غریب عوام پر مزید محبت کا بوجھ ڈال دیا۔
مگر پھر بھی ہم پاکستانی اُمید کا دامن ہر حال میں پکڑے رہتے ہیں۔ بیماری، قید، مسافرت، غربت ہر دُکھ میں اُمید ہی تو ہے جو ہمیں زندہ رکھے ہوئے ہے۔ ”آسا جیے نراسا مرے“ وہ نعمت ہے جو ہجر میں بھی جینا سکھاتی ہے۔ بہر کیف 2024 ء کی دلدلی سیاست ایسی رومانوی رزمیہ کہانی تھی جو جھوٹے وعدوں، دل شکستگی اور اُمید کے محور پر گھومتی ہوئی عوام کو سکھاتی ہے کہ محبت چاہے اپنے مَن چاہے محبوب سے ہو یا ملکی سیاست سے اس کی راہ میں کانٹے ہی ہیں۔ یہ سال ہمیں ہمیشہ یاد دلائے گا کہ سیاست عوام کے دلوں پر حکومت کرنے کا نام ہے صرف سنگھاسن پر بیٹھنے کا نہیں۔ محبت کی طرح سیاست بھی وفا مانگتی ہے۔


