میرا اسکرپٹ اللّٰہ کی طرف سے آتا ہے، خلیل الرحمٰن قمر کا دعویٰ
کچھ لوگ خود کو منفرد یا پہنچا ہوا ثابت کرنے کے لیے عجیب و غریب اور غیر منطق سی باتیں کرنے لگتے ہیں، خود کو پراسرار اور ناقابل رسائی بنانے کے لیے اپنی شخصیت پر مذہبی یا روحانی لبادہ یا مکھوٹا چڑھا لیتے ہیں۔
تقدیسی لبادہ معاشرے میں ایک طرح سے ڈھال یا پروٹیکٹر کے طور پر کام کرتا ہے جس کی اوٹ میں سب سیاہ نامے چھپ جاتے ہیں اور سماجی بھرم بھی برقرار رہتا ہے۔
ویسے بھی سیانے کہتے ہیں کہ اگر من چلبلا سا ہو اور مزاج میں رنگینیاں رچی بسی ہوں تو کوئی ایسا بندوبست ضرور کر لینا چاہیے کہ آپ کو کوئی شک کی نگاہ سے بھی نہ دیکھے اور آپ معتبر و مکرم بھی جانے جائیں۔
منافق سماج میں کچھ اسی طرح کے منافقانہ سے رویے فروغ پانے لگتے ہیں، معروف اداکار فردوس جمال کا بڑھاپا ملاحظہ فرما لیں، ساری عمر خواتین کے ساتھ مل کر اداکاری کرتے رہے اور اب عمر کے آخری پہر میں انہیں احساس ہوا ہے کہ ہماری گھریلو خواتین کو ڈراموں میں کام نہیں کرنا چاہیے ورنہ بندہ کنجر کہلاتا ہے۔
نعمان اعجاز جی کہتے ہیں کہ وہ ڈرامے کا رول کرنے سے پہلے وضو کرتے ہیں، اب پتا نہیں وضو کرنے سے ڈرامے کا کردار یا رول نیک اور جائز ہو جاتا ہے؟
حال ہی میں خلیل الرحمٰن قمر نے بھی انکشاف کیا ہے
”میرا اسکرپٹ اللّٰہ کی طرف سے آتا ہے“
مذہبی ٹچ، شباہت اور لہجے دوسروں کو بیوقوف بنانے کے لیے اختیار کیے جاتے ہیں، یہ وہی صاحب ہیں جو رات کے آخری پہر ایک دوشیزہ سے ملاقات کرنے جا پہنچے تھے، بعد میں جو منظر نامہ بنا وہ سب سوشل میڈیا پر نشر ہو چکا ہے۔
جب موصوف کی خاصی لے دے ہوئی تو فوراً مذہبی رنگ اختیار کر لیا اور کچھ مولوی جناب کے در دولت پر جمع ہوئے اور انہوں نے گواہی دی کہ ان کی میز پر تو سیرت کی کتب موجود ہوتی ہیں۔
خواتین کے متعلق جو لب و لہجہ یہ استعمال کرتے ہیں وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے اور کھلا تضاد یہ ہے کہ اداکاراؤں سے جپھیاں ڈالتے ہیں اور ساتھ میں اپنا مشہور جملہ بھی کستے ہیں
” کہ میں آپ پر کچھ لکھنا چاہتا ہوں“
کوئی نجی زندگی میں کیا ہے، کس سے ملتا ہے یا کس کے ساتھ سوتا ہے اس سے ہمارا کوئی کنسرن نہیں ہونا چاہیے لیکن جب آپ مذہبی لہجے میں دوسروں کی مورل پولیسنگ کرتے ہیں تو سوال تو اٹھیں گے نا!
ایسا تو نہیں ہو سکتا کہ آپ خود تو خوب دنیا داری کریں اور دوسروں پر مذہبی قدغنیں لگاتے پھریں، خلوت میں رنگین مزاجیاں کریں اور جلوت میں مذہبی لبادہ اوڑھ کر عوام کو بیوقوف بنائیں اور دوسروں کی بیٹیوں پر مذہبی حدیں لگائیں۔
ایک ٹی وی پروگرام میں موصوف نے یہی حرکت کی تھی، ساحل عدیم سے معافی مانگنے کے مطالبے پر خلیل جی کی مردانگی پر خاصی کاری ضرب لگی تھی جس کے جواب میں جناب نے مخاطب بچی کو شٹ اپ کال دی تھی۔
میری رائے میں خلیل الرحمٰن قمر انتہائی شاطر دماغ ہیں اور موقع کی مناسبت سے ہر طرح کا پرسونا ماسک اپنے چہرے پر چڑھانے کا ہنر خوب جانتے ہیں، زمانہ شناس ہیں اور وقت کی نبض پر ہاتھ رکھتے ہوئے موقع سے فائدہ اٹھانا خوب جانتے ہیں۔
اب کیا کریں اس سماج میں ذاکر نائیک اور خلیل قمر ذہنیت جابجا پائی جاتی ہے جو سوال کے ڈر سے خود کو تقدسی مچان پر ٹکا لیتے ہیں۔


