عالمی جنگیں: طاقتوں کی جغرافیائی چالیں
عالمی امن کا مسئلہ ہمیشہ سے ایک پیچیدہ، کثیر الجہت اور بظاہر حل نہ ہونے والی معما رہا ہے، جو نہ صرف بین الاقوامی تعلقات بلکہ انسانی بقا کے لئے بھی سنگین چیلنج ثابت ہو چکا ہے۔ یہ سوال کہ امن کیسے قائم ہو، ہمیشہ عالمی سطح پر محض نظریاتی مباحثوں کا موضوع خاص رہا ہے، جب کہ حقیقت میں طاقتور ممالک اپنی مفاداتی جنگوں میں انسانی حقوق اور اخلاقی اصولوں کو مسلسل پامال کر رہے ہیں۔ عالمی طاقتوں کی بدنیتی اور منافقت کا پردہ چاک کرنا اس حقیقت کا غماز ہے کہ جب تک دنیا کی غالب قوتیں اپنے مفادات کے جال میں جکڑی رہیں گی، حقیقی امن کا قیام محض ایک سراب کے سوا کچھ نہیں ہے۔
ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہو گا کہ عالمی طاقتیں، جو کہ اپنی ریاستی پالیسیوں میں امن اور انسانی حقوق کی علمبردار ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں، درحقیقت ان اصولوں کو صرف ایک آلہ کے طور پر استعمال کرتی ہیں تاکہ وہ اپنے اقتصادی اور فوجی مفادات کو تحفظ دے سکیں۔ یہ طاقتور ممالک عالمی سطح پر پُرامن تعلقات کی بات کرتے ہیں، مگر جب اپنے مفادات کی بات آتی ہے تو دوسروں کے داخلی معاملات میں مداخلت کر کے جنگوں کا ایندھن فراہم کرتے ہیں۔
امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے کئی دہائیوں تک مشرق و سطیٰ میں جنگوں کو ہوا دی، اور عراق، شام اور افغانستان جیسے ممالک میں فوجی مداخلتیں کر کے وہاں کی معیشت اور معاشرتی ڈھانچوں کو تباہ و برباد کیا۔ ان جنگوں کی آڑ میں اُن کے قدرتی وسائل پر قبضہ جمایا اور دنیا بھر میں اپنی اقتصادی بالادستی کو مستحکم کیا۔ ایسے ممالک، جو بین الاقوامی فورمز پر جنگوں کی مذمت کرتے ہیں، خود اپنے مفادات کے لیے ظلم و ستم کی نئی داستانیں رقم کرتے دیکھے گئے ہیں۔
مغربی طاقتیں انسانی حقوق کی عالمی چیمپئن بن کر دنیا بھر میں ستم رسیدہ عوام کے حقوق کا دفاع کرتی ہیں، مگر یہی آمرانہ حکمرانیوں کو اپنی حمایت فراہم کرتے ہیں۔ اسرائیل اور کوریا جیسے ممالک کی جابرانہ جنگی پالیسیوں کی حمایت کرتے ہوئے نہ صرف بین الاقوامی ضمیر کا سودا کرتے ہیں بلکہ عالمی امن کے قیام کے اصولوں کی دھجیاں بھی بکھیرتے ہیں۔
دنیا کے دیگر حصوں میں بھی عالمی طاقتوں کی منافقت واضح ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے، جو کہ عالمی امن کے قیام کے لئے متحرک نظر آتے ہیں، درحقیقت عالمی طاقتوں کے مفادات کے تابع ہو چکے ہیں۔ سلامتی کونسل میں مستقل ارکان کی جانب سے ویٹو پاور کا استعمال، عالمی سطح پر جنگوں کی روک تھام میں رکاوٹ بنتا ہے۔ جب تک عالمی طاقتیں اپنی سیاست کی بنیاد پر مسائل کو ہوا دیتے ہوئے ان کو استعمال کرتی رہیں گی۔
دوسری جانب، عالمی سطح پر وسائل کی لامتناہی لوٹ مار اور جنگی معیشت کا تسلسل، عالمی امن کے قیام کے لئے ایک نیا چیلنج پیدا کر رہا ہے۔ توانائی کے وسائل، قدرتی معدنیات اور جغرافیائی حیثیت پر قبضہ جمانے کے لیے عالمی طاقتیں اپنی فوجی مداخلتوں کا جواز پیش کر رہی ہیں، لیکن اس کے نتیجے میں لاکھوں انسانوں کی زندگی اجیرن ہو گئی ہے اور وہ جنگوں میں بے گناہ جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔
میری ادنیٰ رائے کے مطابق عالمی امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ عالمی طاقتوں کی بدنیتی اور منافقت ہے۔ ان طاقتوں کی مفاداتی سیاست نے دنیا کو ایک طویل عرصے سے جنگوں، بربادیوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سامنا کروایا ہے۔ جب تک عالمی طاقتیں اپنے مفادات کی قیمت پر امن کی بات کرتی رہیں گی، تب تک کوئی حقیقی امن قائم نہیں ہو سکتا۔ عالمی سطح پر امن کا قیام تبھی ممکن ہے جب عالمی قوتیں اپنی سیاست، مفادات اور خود غرضیوں کو پس پشت ڈال کر انسانیت کی فلاح کے لیے حقیقی اقدامات اٹھائیں۔


