بلا عنوان
ربع صدی زندگی میں بے شمار لوگوں سے ملاقاتیں رہیں۔ طبعی میلان شروع سے ایسا تھا کہ خود سے بڑے لوگوں میں اٹھنا بیٹھنا پسند رہا۔ مختلف فکر کے بلکہ طبقہ فکر کے افراد سے میل جول نے نسبتاً جلدی بالغ کر دیا۔ بزرگوں کی باتوں سے تاریخ میں جھانکنے کا شغف ہوا تو تاریخی کرداروں سے بھی آگاہی حاصل ہوتی رہی اور پھر اس قسم کے باقی لوگوں سے ملاقات کی خواہش پنپتی رہی جس کو وقتاً فوقتاً مختلف بزرگوں سے مل کے پورا کیا جاتا۔ ان گنت لوگوں سے ملاقات ہونے کے باوجود چند ایک گنی چنی ہی ایسی ہستیاں ہیں جن سے بندہ متاثر ہوا اور بے پناہ متاثر ہوا۔
غالباً دو ہزار انیس یا بیس کا کوئی خوبصورت دن تھا جب میرا رابطہ ایک ایسی شخصیت سے ہوا کہ میرے لیے جس کے تعارف کے لیے کئی ایک نسبتیں تھی۔ نئے رابطے کی خوشی سے سرشاری کی کیفیت طاری تھی۔ یونیورسٹی کا باقاعدہ آغاز کورونا کے بدترین دنوں کے بعد ہوا تو بالمشافہ ملاقاتیں شروع ہو گئیں۔
شفیق مزاج، حلیم الطبع، نرم خو، چہرے پہ مسکراہٹ سجائے ہر ایک کو ہی خاطر خواہ اہمیت دیتا یہ شخص مجھے پہلی نظر میں ہی بھا گیا۔ اگرچہ میری تربیت جس ماحول میں ہوئی سچی بات تو یہ ہے کہ اس وقت تک میں اس نفرت سے باہر نہیں نکل سکا تھا مگر کیا کریں کہ محسن نقوی ہی اس کیفیت کو بیان کر سکتا ہے
تیرے چہرے کی کشش تھی کہ پلٹ کر دیکھا
ورنہ سورج تو دوبارہ نہیں دیکھا جاتا
اپنی فطری سستی اور بے جا شرم کی بدولت کئی بار حاضری کی ہمت کی مگر کامیاب نا ہو سکا۔ بہرحال کلاسوں کا سلسلہ چل نکلا۔ اگرچہ میں دیگر کلاسوں میں شاذ و نادر ہی مگر واحد کلاس سید کی تھی جس سے کوتاہی ہوجاتی تو خود پر افسوس ہوتا تھا۔ کیونکہ اگر جامعہ کو جامعہ کہا جا سکتا ہے تو اس کی واحد وجہ میرے نزدیک ڈاکٹر عون ساجد نقوی صاحب ہیں۔
طلبہ کے مسائل کو فراخ دلی سے سننا اور حل کرنا ہو یا جوانوں کی ذہنی و فکری تربیت کے لیے مختلف قسم کی سرگرمیوں اور محافل کا انعقاد کرنا، فکر کے دریچوں کو وا کرنے کے لیے چبھتے ہوئے سوال کرنا ہو یا مدمقابل کے ذہن میں کچھ سوال چھوڑ کے رخصت ہونا، سب ڈاکٹر صاحب پہ ختم ہے۔ شدت پسندی اور تعصب کی فضا سے اٹے ہوئے ماحول کے پروردہ، جذبات اور جلد بازی کے عادی، شور شرابا اور ہلہ گلہ کے سوا زندگی کا تصور نا رکھنے والے جوانوں کو سوچنے جیسی عظیم نعمت سے نوازنا ہی ڈاکٹر صاحب کا کمال ہے۔
کسی جگہ غالباً احمد جاوید سے منسوب جملہ پڑھا تھا جو کچھ یوں تھا کہ ہمیں اختلاف کا سلیقہ سیکھنے کی ضرورت ہے اور یہ عملاً میں نے ڈاکٹر صاحب سے سیکھا۔ یہی نہیں بلکہ ان سے ہر ایک ملنے والے کو انہوں نے کچھ فکر منتقل کی ہے جو اگلے کے ظرف کے مطابق ظاہر ہوتی ہے۔ اردو اور فارسی ہی نہیں بلکہ دیگر معاشرتی علوم پر گہری دسترس، حالات حاضرہ پہ عمیق نگاہ اور تجزیہ کرنے کی بے مثال صلاحیت بھی آپ کو ممتاز بناتی ہے۔ الہٰیات ہوں کہ اقبالیات، تنقید ہو کہ تاریخ، مذہب ہو کہ فلسفہ جب آپ بولتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا کہ گویا اسی علم میں ہی ڈاکٹریٹ کر رکھا ہے۔
اگرچہ بہت سے لوگوں کی جانب سے اتہام و طنز و تشنیع اور تضحیک تک کا نشانہ بنے مگر آپ کے استقلال میں لغزش نہ آئی۔ ہمارے ایک بزرگ اگرچہ مزاحاً ڈاکٹر صاحب کو ”دیسی علی شریعتی“ کہتے ہیں مگر مجھے یہ اصطلاح ان کے لیے پسند آئی بلکہ میں ایسا ہی سمجھتا ہوں کہ جوانوں کی فکر کو بیدار کرنے کا جو کام ایران میں ڈاکٹر علی شریعتی نے کیا تھا وہ پاکستان میں ڈاکٹر عون ساجد نقوی کر رہے ہیں۔ بے پناہ مخالفت اور غلیظ ترین پروپیگنڈے کا تحمل اور بردباری سے سامنا کرتے ہوئے اپنے فرائض منصبی کو خاموشی اور نہایت ماہرانہ چابکدستی سے انجام دیتے ہوئے دیکھ کے کبھی کبھی سوچ میں پڑ جاتا ہوں کہ آخر اتنا حوصلہ انسان کا کیسے ہو سکتا ہے! اگرچہ چاند پہ تھوکنے والے ہزاروں کی تعداد میں بھی ہوں مگر چاند نے روشنی بکھیرنی ہی ہوتی ہے سو اسے فرق نہیں پڑتا اور تھوکنے والے کا اپنا منہ ہی گندا ہوتا ہے۔
آج اور اگر کبھی میں زندگی میں کامیاب ہو گیا تو اس دن بھی اس بات کا اعتراف کرنے سے ہرگز نہیں جھجکوں گا کہ اگر کسی کو حقیقی معنوں میں استاد کہا جاتا ہے تو وہ ڈاکٹر سید عون ساجد نقوی ہیں۔
آج اس عظیم شخصیت کا روئے زمین پہ آنے کا خوبصورت دن ہے۔ خدا کا شکر ہے جس نے ایسا دانشور ہمیں عطا کیا۔ یہ الگ بات کہ ہم زندہ لوگوں کی قدر نہیں کرتے اور مردہ پرست قوم ہیں۔ ایسے لوگوں کا وجود معاشرے کے لیے نعمت سے کم نہیں۔ علامہ طالب جوہری مرحوم کا یہ شعر آپ پہ صد فیصد درست بیٹھتا ہے
دیارِ حسن میں تجدیدِ عاشقی کے لیے
ہم ایسے لوگ ضروری ہیں ہر صدی کے لیے
خدا آپ کو ہمیشہ سلامت رکھے سیدی اور یونہی سدا علم و حکمت کے موتی بکھیرتے رہیں۔ آمین



